|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
آج کل پاکستان میں ڈالر کی پرواز ، پاکستان میں ڈالر کی کمی اور آئی ایم ایف سے ڈالر کے قرضہ کا حصول، ملک میں زر مبادلہ کی کمی، وغیرہ کے بارے میں بہت بات ہورہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ قرضہ آجائے گا تو معاشی ھالت بہتر ہو جائے گی۔ پاک روپے کا انحصار ڈالر پر ہے۔
تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ دولت کیا ہے؟ ڈالر ہی کیوں ضروری ہے؟ کیا یہ بھی کوئی پیراڈایم یعنی بندروں والی روایت ہے کہ ہم کئے جارہے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیںکہ کیوں کئے جارہے ہیں؟ کیا ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے کا انحصار یا دار مدار ہندوستانی روپے پر ہوسکتا ہے؟ آخر ہندوستان بھی تو سب کچھ بناتا ہے تو اس سے مال کیوں نہیں خریدا جاسکتا؟ کوئی صاحب اس پر روشنی ڈالیں، گو کہ توقع نہیںہے کہ ان سوالات کا جواب کسی کو معلوم ہو۔ جذباتی جواب سے پرہیز کیجئے۔ صرف معلوماتی جواب درکار ہے ![]() والسلام |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم تو میرا بھی ناقص ہی ہے لیکن میرا اندازہ ہے کیونکہ ڈالر کی پوری دنیا پر مناپلی ہے اسلئے کہیں سے بھی کچھ بھی خریدتے ہوئے ہمیں ڈالر کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ انڈیا سے دشمنی کے باعث اس انداز میں کاروبار نہیں ہو سکتا اور شائد باقی ممالک بھی ڈالر کے ہی محتاج ہیں ۔اس بارے مستند معلومات کا مجھے بھی انتظار رہے گا۔
اتنا اچھا تھریڈ شروع کرنے کا شکریہ۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بظاہر تو جذبات ہیں کہ پاکستانی انڈیا سےروایئتی دشمنی رکھتے ہیں ۔ لیکن اس سوال کا فوکس یہ نہییں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ---------- دولت کیا ہے ؟ ------------ کیا ڈالر دولت ہے؟ کیا پاکستانی روپے کی بنیاد ڈالر ہونا چاہئے ؟ یا یہ کہ دولت کچھ اور ہی ہے اور پاکستانی روپے کی بنیاد صرف دولت ہونی چاہئے؟
میں سمجھتا ہوںکہ نہ صرف عام پاکستانی بلکہ اعلی ترین پاکستانی بھی ڈالر اور زر مبادلہ کہ چکر میں پڑ کر یہ بھول گئے ہیں کہ روپیہ ، ریال ، ڈالر صرف اور صرف اسکیل ہیں ، فٹے ہیں ، پیمانے ہیں دولت کو ناپنے کے۔ اس کی مثال ہے کپڑ، کہ آپ کپڑے کو "اپنے گز" سے ناپیں یا "دوسرے کے میٹر" سے ۔ کپڑا، کپڑا ہی رہے گا۔ ہم یہاںبہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ "ہمارا گز" یا "تمہارا میٹر" دونوں پیمانے ہیں۔ کپڑا ناپنے کے۔ اسی طرح ڈالر ، روپیہ، ریال، وغیرہ تو صرف اور صرف پیمانے ہیں یعنی گز اور میٹر ہیں۔ جس طرح گز اور میٹر ---- کپڑا ناپتے ہیں، اسی طرح ، ریال ، روپیہ، ڈالر، دولت ناپتے ہیں۔ تو یہ دولت ہے کیا؟ کیا وولت ہمارے پاس ہے؟ یا ہم دوسروں سے ان کی دولت ناپنے کے پتر لے لے کر خوش ہورہے ہیں؟ آپ میں سے کوئی بھائی اس پر معلوماتی یا فلسفیانہ روشنی ڈالے۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (12-11-08) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
بھائی ڈالر اس لیے مانگتے ہیں کہ کل کو خود بھی تو ان کے ملک میںبھاگنا ہے تو پھر پہلے ہی کیوں نا اپنی پوزیشن کو مضبوط بنایا جائے ۔وگرنہ چین جیسا ملک اپنی کرنسی میں لین دین کرسکتا ہے تو ان کو بھی سوچنا چاہیے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
ملک سے بھاگنا ایک انفرادی فعل ہوا۔
قومی دولت کیا ہے جس کا پیمانہ روپیہ ہے؟ ملک سے ڈالر نکل رہا ہے تو روپے کی قیمت کم ہورہی ہے۔ کیا پاکستان کی دولت بھی کم ہورہی ہے؟ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ، آپ کا پوائینٹ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ ہے کہ دولت کیا ہے۔
اگر ہم کو اس کا جواب مل جائے تو بجائے ڈالروں کے پیچھے بھاگنے کے ہمارے سیاستدان اور 32 خاندان دولت کے پیچھے بھاگ سکیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
کمائي: 546
شکریہ: 18
20 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال کافی دلچسپ ہے لیکن اس کا جواب مجھے بھی نہیں معلوم۔ والد صاحب نے بچپن میں بتایا تھا کہ کاغذ کا ٹکڑا جسے نوٹ کہتے ہیں اصل میں سونے کا متبادل یا اس کی رسید ہے جو حکومت کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ واقعی سوچنے والی بات ہے کہ اگر حکومت کے پاس نوٹ کے بقدر سونا موجود ہے تو روپے کی قیمت کیوں گر رہی ہے اور کاغذی ڈالروں کی بجائے اصل دولت کیسے کمائی جائے۔ فاروق صاحب آپ ہی کچھ بتائیے، میری معلومات یہاں بس ہو جاتی ہیں۔
|
|
|
|
| شکیل احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (13-11-08) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
شکیل صاحب، آپ نے دونوں باتیں درست فرمائی ہیں 1۔ کہ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کو نہیںمعلوم کے دولت کیا ہے۔ 2۔ پاکستان کے روپے کی ایک تاریخہے جس کی بنیاد پر اس کا تعلق سونے سے قرار دیا جاتا تھا۔ میں ان سوالوں کے جوابات ضرور دوں گا۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے سب کو اندازہ ہوجائے کہ ہم کو اس سوال کے معنی بھی نہیں معلوم ۔ اس کےبعد انشاء اللہ تعالی ضرور بالضرور ، "ایک قوم کی دولت" پر روشنی دالوں گا۔ تاکہ آپ سب بھی میرا ساتھ دے سکیں۔ سمجھنے میں بھی اور سمجھانے میںبھی۔ یہ مرحلہ بہت ضروری ہے۔
والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (13-11-08), شاہد جمیل حفیظ (13-11-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 133
شکریہ: 64
77 مراسلہ میں 124 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دولت وہ شئے ہے جس سے آپ اپنی ضرورت کی اشیاء حاصل کر سکتے ہے
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
عارف آپ نے درست کہا کہ آپ اپنی ضرورت کی اشیاء دولت سے ھاصل کرسکتے ہیں۔ یعنی دولت کہیں ہے اور اس کا پیمانہ روپیہ، ڈالر ، یورو اور ریال ہے۔ آپ اس پیمانہ کے استعمال سے اپنی ضرورت کی اشیائ ھاصل کرسکتے ہیں۔ یہ پیمانہ چھوٹا اور بڑا ہوتا رہتا ہے ۔ روپے کی قیمت افغانی تک گر سکتی ہے۔ اگر آپ کے پاس 1 لاکھ روپیہ ہے تو کیا آپ کے پاس دولت ہے؟ کل اگر اسی لاکھ روپے کی ایک روٹی آئے تو کیا آپ کے پاس دولت ہے؟ افغانستان اور عراق کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ زمبابوے کی مثال بناء کسی جنگ کے آپ کے سامنے ہے کہ جب وہاں برٹش "دولت" کے ساتھ رہتے تھے تو انکے ایک روپے کی روٹی آتی تھی اور جب برٹش دولت لے کے بھاگ گئے تو ایک کروڑ میں ایک روٹی آتی تھی ۔ تو یہ دولت کیا ہے جو کوئی لے کر بھاگ سکتا ہے؟
اگر دولت زرمبادلہ ہے یا ڈالر ہے اور ڈالر کی قیمت گر جائے تو کیا پاکستانی روپے کی قیمت بھی گر جائے گی؟ بذات خود دولت کیا ہے؟ جسے آپ لے کر بھاگ سکیں، یہ ہے اصل سوال۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | شاہد جمیل حفیظ (13-11-08), عبدالقدوس (13-11-08) |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: کسی کی یادوں میں
مراسلات: 80
کمائي: 1,400
شکریہ: 128
38 مراسلہ میں 89 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی کی طرف سے بھی اصل سوال کا جواب نہیںملا
مجھے بھی انتظاررہے گا جواب کا |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
کمائي: 546
شکریہ: 18
20 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشہور ماہرِ معاشیات آدم سمتھ نے دولت کی تعریف Defination یوں کی ہے:
"the annual produce of the land and labour of the society" وکی پیڈیا پر مزید تفصیل دیکھیے: Wealth - Wikipedia, the free encyclopedia |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
جی ، آپ نے ٹھیک فرمایا۔ ایک قوم کی دولت کی تعریف کے بعد سے کیپٹل ازم تک یہ تعریف کئی بار بدلی ہے۔
بنیادی طور پر خزانہ ، زمین سے اگنے والی ، زمین سے نکلنے والی اور زمین پر اٹھائے جانے والی اشیا کو کہا جاتا ہے۔ جن کا بنیادی نام خزائن الارض ہے ۔ اللہ تعالی ہم کو یہ حکمت کی بات اپنے ایک رسول کی مدد سے بتاتے ہیں۔ لیکن یہ خزانے دولت جب بنتے ہیں جب ان کو انسان کام میں لاتا ہے۔ یعنی ان خزانوں سے کچھ بناتا ہے۔ تو دولت ہوئی خزائن الارضکا انسان کا کام میں لانا اور اس سے کچھ بنانا یعنی پروڈیوس کرنا۔ آپ دیکھئے حجرت یوسف علیہ السلام کا یہ واقعہ: 12:54 وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ اور بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا: (اے یوسف!) بیشک آپ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے) 12:55 قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَآئِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: (اگر تم نے واقعی مجھ سے کوئی خاص کام لینا ہے تو) مجھے زمینِ کے خزانوں پر (وزیر اور امین) مقرر کر دو، بیشک میں (ان کی) خوب حفاظت کرنے والا (اور اقتصادی امور کا) خوب جاننے والا ہوں گویا شرط یہ طے پائی کی خزائن الارض ہوں۔ اور وہ ایسے لوگوںکے ہاتھوں میں ہوں جو کہ علیم ہوں یعنی جانتے ہوں اور حفاظت کرنے والے ہوں کہ ان خزانوںسے کیسے پروڈیوس کیا جائے گا، وہی لوگ دول کا ادراک رکھتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ ، یہ کونسی نئی بات ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ دولت : 1۔ زمین سے اگنے والی اشیاء (غلہ، اجناس اور اس کے نتیجے میں مویشی وغیرہ) 2۔ زمین پر بنائے جانی والی اشیاء (عمارات، فیکٹری وغیرہ) 3۔ زمین سے نکلے والی اشیاء (معدنیات، پانی، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بجلی وغیرہ ) ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، لیکن اگر آپ غور سے دیکھئے تو ہمارے حکومتی برسر اقتدار ٹولے کا سارا زور اس دولت کو بڑاھانے میں نہیں ہے۔ ہمارا فوکس ہے زیادہ سے زیادہ ڈالر جمع کرنے میں ۔ مثال کے طور پر دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کو ہم ادھار پر اپنا کپڑا بیچ سکتے ہیں اور ان کے خزائن الارض ، جیسے لوہا، تانبا، جست، گیس، پیٹرول وغیرہ اس کپڑے کے عوض اپنے ملک میںلا سکتے ہں۔ اس کے لئے کسی ڈالر کی ضرورت نہیں۔ ان خزئن الارض سے ہم اشیاء بنا کر دوبارہ بہت سے ممالک کو ایکسپورٹ کرسکتے ہیں۔ پھر سب سے بڑی دولت ہماری خوراک کی پیداوار ہے، جس کو ہم مزید بڑھا سکتے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں مکانوں کی کمی ہے۔ اس خوراک کی مدد سے اور اس ملک کے باشندوں کی مدد سے مزید مکانات بناکر زمین پر دولت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو زمین اور انسانوں کی سالانہ پروڈیوس ہی دولت ہے۔ ہمارا سارا زور ہے اس دولت کے بہاؤ کو منجمد کردینے میں یعنی بچت میں۔ بچت روپے کی نہیں بلکہ خوراک اور خزائن الارضکی کرنی چاہیئے اور روپے کے بہاؤ میںاضافہ تاکہ ہر شخص کو کام میسر آئے اور بہ آسانی ضرورت کی اشیاء حاصل کرسکسے۔ ادھار پر ڈالر لینے اور ضائع کرنے کی مزید مثالیں بعد میں۔ والسلام |
|
|
|
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 02-12-08 | ندیم رفیع | A NICE POINT | 100 |
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
کمائي: 546
شکریہ: 18
20 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ لوگ لوٹنے آئے ہیں انہیں کیا غرض ہو سکتی ہے۔ میرا چھوٹا بھائی strategy gamesکا بڑا شوقین ہے۔ میں اسے دیکھتا ہوں کس طرح زمینی وسائل کے حصول اور ان کی مناسب تقسیم کے بعد وہ کھیل ہی کھیل میں ایک مضبوط سلطنت بنا لیتا ہے جس کا خزانہ بھرا ہوا اور جس کا دفاع ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔ فاروق صاحب نے جو باتیں کی ہیں وہ اس کھیل کو دیکھ کر کئی دنوں سے میں ذہن میں ابھر رہی تھیں لیکن واضح سوچ کی شکل اختیار نہیںکر رہی تھیں۔ بڑی بنیادی اور غور طلب باتیں کی ہیں۔ امید ہے اس بارے میںہمارے علم میں مزید اضافہ بھی کریں گے۔بہت شکریہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شکیل احمد کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (14-11-08), نورالدین (07-08-10), ندیم رفیع (02-12-08), مرزا عامر (07-08-10), ابرارحسین (08-08-10) |
![]() |
| Tags |
| arabic, color, free, ہے۔, کیپٹل ازم, کس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, چین, نظر, موٹر سائیکل, معلوم, آج, اللہ, انسان, بھائی, بچپن, جواب, خوش, شخص, علم, غور, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|