واپس چلیں   پاکستان کی آواز > Web Masters > Business




دولت کیا ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-03-10, 07:57 PM   #16
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,400
کمائي: 20,592
شکریہ: 2,607
973 مراسلہ میں 2,109 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکیل احمد مراسلہ دیکھیں
یہ لوگ لوٹنے آئے ہیں انہیں کیا غرض ہو سکتی ہے۔ میرا چھوٹا بھائی strategy gamesکا بڑا شوقین ہے۔ میں اسے دیکھتا ہوں کس طرح زمینی وسائل کے حصول اور ان کی مناسب تقسیم کے بعد وہ کھیل ہی کھیل میں ایک مضبوط سلطنت بنا لیتا ہے جس کا خزانہ بھرا ہوا اور جس کا دفاع ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔ فاروق صاحب نے جو باتیں کی ہیں وہ اس کھیل کو دیکھ کر کئی دنوں سے میں ذہن میں‌ ابھر رہی تھیں لیکن واضح سوچ کی شکل اختیار نہیں‌کر رہی تھیں۔ بڑی بنیادی اور غور طلب باتیں کی ہیں۔ امید ہے اس بارے میں‌ہمارے علم میں مزید اضافہ بھی کریں گے۔بہت شکریہ
باقی باتیں چھوڑیں آپ کا بھائی کونسی گیم کھیلتا ہے؟
محمدمبشرعلی آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-08-10, 07:13 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرا مقصد اس دھاگہ سے یہ دیکھنا اور بتا نا ہے کہ دولت کیا ہے؟

ایک بار غور سے دیکھتے ہیں اور یہاں‌لکھتے ہیں‌کہ دولت کیا ہے۔ وہ کیا چیز ہے جس کی ہم سب کو بہت زیادہ ضرورت ہے؟ کیا وہ روپیہ ہے ، ڈالر، پاؤنڈز ہیں ، سونا چاندی ہے؟ یا پھر روٹی ، کپڑا اور مکان اور سب سے بڑھ کر انسان؟

پاکستان کے عوام کی سب سے بڑی ضرورت "خوراک" ہے۔ جس کا بیشتر حصہ پاکستان ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پوشاک ہے۔ جس کا بیشتر حصہ پاکستان ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مکان ہے۔ جس کی مٹی ، گارا، سیمنٹ پاکستان ہی میں پیدا ہوتا۔

مکانوں کے بنانے اور استعمال کرنے کے لئے، انسانوں کی کمی نہیں، خوراک کے پیدا کرنے کے لئے انسانوں کی کمی نہیں۔ اور پوشاک کے بنانے اور پہننے کے لئے انسانوں کی کمی نہیں۔ تو پھر وہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے انسان غریب ہیں اور غریب تر ہوتے جارہے ہیں؟

اس کا جواب ہے ۔ 1 دولت کی کردش کی کمی اور 2 ۔ دولت کی گردش کو کم کرنے کے لئے بیرونی قرضوں پر انحصار۔

دولت کیگردش کی کمی:

آپ اپنی مثال لیجئے۔ اگر آپ کے گھر کی آمدنی چار گنا ہوجائے یعنی آپ کے گھر کے ہر فرد کو کچھ اچھا کرنے کا کام مل جائے تو کیا آپ زیادہ بہتر زندگی گذار سکیں گے؟ کیا آپ کے پاس آسائشات بہتر ہونگی؟ کیا آپ کا ٹی وی جاپانی، کار جاپانی، فون یوروپی، اور اسی طرح‌کی دوسری تعیشات غیر ملکی ہونگی یا پھر پاکستانی ہونگی؟

آپ کا جواب ہوگا کہ پاکستانی ٹی وی، پاکستانی کار، پاکستانی فون تو موجود ہی نہیں۔ یہی آپ کی غربت کا جواب ہے۔ آپ کام نہیں کرتے۔ اور اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت بھی کچھ نہیں کرتی۔

حکومت آپ کو خوش رکھنے کے لئے "ایک ملک" سے قرضہ لے کر دوسرے ملک سے فون خرید کر آپ کو دے دیتی ہے۔ کیوں‌ کہ آپ کے پاس اتنی خوراک نہیں کے اس کو بیچ سکیں۔ تو اس کا علاج کیا ہے؟

بڑے پیمانے پر حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے کہ پرائیویٹ کمپنیاں ملک کے اندر، فون، کار، موٹر سائیکل اور دوسری اشیاء بنانے کے کارخانے لگاسکیں۔ تاکہ "دولت" مینو فیکچر ہوسکے ۔ یہ آج کی ضرورت ہے۔ الیکٹرانکس کے شعبے میں پاکستان بہت آسانی سے آگے جاسکتا ہے۔

لیکن ہم کو یہ نہیں‌بھولنا چاہئے کہان تمام اشیاء کے حصول کے بعد بنیادی دولت صرف "خوراک" ، "پوشاک" ، " مکان" اور "انسان" ہیں۔ لہذا مزید خوراک پیدا کرنے کے لئے ، مزید پوشاک بنانے کے لئے اور مزید مکان تعمیر کرنے کے لئے۔ کاروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا پاکستان میں دولت موجود ہے؟
اس کا جواب ہے کہ ہاں ، پاکستان میں میں دولت تو موجود ہے لیکن وہ خواص کے ہاتھوں‌میں جمی ہوئی ہے۔ ان کے مکانوں میں، ان کے کھیتوں‌میں۔ سونے چاندی کے ڈھیروں میں۔ لیکن اس دولت کا کوئی فائیدہ عام آدمی کو نہیں۔ یعنی پاکستان میں دولت کا ایک بہت بڑا انجماد ہے۔ اس منجمد دولت کو پگھلا نے کی ضرورت ہے۔ اور پھر اس کو گردش دینے کی۔

دولت کے انجماد کو کیسے پگھلایا جاسکتا ہے ۔
آپ دولت وہیں سے پگھلا سکتے ہیں جہاں یہ منجمد ہے۔ ایک غریب آدمی کے پاس دولت نہیں‌ہے۔ وہ صرف کام کرسکتا ہے۔ لہذا دولت کو پگھلانے کا عمل وہاں سے شروع کیا جائے جہاں پر دولت کا انجماد ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کے پاس اربوں روپے ہیں۔ پھر وہ لوگ جن کے پاس کروڑوں روپے ہیں۔ اس کا مقصد یہ نہیں‌کہ ان لوگوں‌کو جو امیر ہیں غریب کردیا جائے، اس کا مطلب ہے کہ ان امیر لوگوں‌کی امار برقرار رہے جہاں‌تک ممکن ہے فضل رہے اور عام آدمی بھی روپے کی اس گردش سے فائیدہ حاصل کرسکے

دولت کے انجماد کو توڑنے اور اس کی گردش بڑھانے کے گر:
الف۔ پہلے ارب بتیوں کی دولت پگھلائی جائے۔ بہت بڑے بڑے منصوبے بنائے جائیں ، جیسے شہروں کے سائز کو دگنا کرنا، بڑی مصنوعات کے کارخانے، بڑے بنکوں‌کا قیام۔

پبلک ورکس کا اضافہ: ہر شہر کو پلان کرکے دگنا کیا جائے۔
1۔ آپ اپنے شہر سے باہر نکل کر دیکھئے۔ آپ کو ایسے وسیع و عریض‌قطع اراضی مل جائیں گے جن پر کچھ نہیں ہوتا، یعنی نہ فصل ہے اور نہ ہی آبادی۔ حکومتی سطح پر شہروں سے قریب ان زمینوں کو خریدا جائے یا حکومتی زمینوں‌کو چنا جائے اور ان زمینوں کو ایک اچھا پلان بنا کر ایسے لوگوں کو الاٹ‌کیا جائے جو ان زمینوں کو 5 سے 10 سال کے عرصے میں ڈویلپ کرکے ، 15 سال میں بیچ دیں۔ ورنہ زمین کسی اور کو الاٹ کردی جائے۔ اس مقصد کے لئے زمین ان لوگوں کو معاوضہ کے ساتھ اس شرط پر دی جائے کہ وہ زمین کو رہائش کے قابل کرنے کا ایک جامع پلان ، ٹائم ٹیبل کے ساتھ جمع کریں۔ اگر ٹائم ٹیبل کی مناسب پابندی نہ ہو تو یہ الاٹمنٹ مناسب قسم کی شرطوں‌پر منسوخ‌کردیا جائے اور منصوبے کو نیلام کردیا جائے۔ ضروری ہے کہ زمین حاصل کرنے والا، اس زمین کو مقررہ وقت کے اندر اندر رہائش کے قابل بنائے گا۔ اور اس قابل بنا کر ٹائم ٹیبل کے اندر اند بیچ دے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ زمین اپنے وقت پر مکمل ڈیویلپ ہوگی اور بک جائے گی۔ اس کے لئے تفصیلی ٹائم ٹیبل ہو جس میں مہینہ با مہینہ کام کا اندراج ہو۔ اس کا یقین اس طرح‌بنایا جائے کہ اگر زمین پر ٹائم ٹیبل کے مطابق کام نہیں ہوتا تو اس پر جرمانہ عائید کیا جائے ۔ اور جرمانے کی رقم اصل قیمت سے بڑھ جانے کی صورت زمین ضبط کرکے اس کو نیلام کردیا جائے۔ رقوم کی ادئیگی۔ بنکوں کو ضمانتی بنا کر کی جائے، نہ کہ ڈائریکٹلی زمین ڈویلپ کرنے والے کو۔ اس طرح کسی قسم کی جرمانے کی رقم بنک رکھ کر سرکار کو ادا کرسکتا ہے۔ ایسے پلان تیار کئے جائیں جن میں بڑے مکانات کی تعداد اور اس کے ساتھ چھوٹے مکانات کا تناسب اس طرح‌ہو کہ کمیونٹی کو سروس فراہم کرنے والے اس کے آس پاس رہ سکیں۔ یہ کام اس طرح کیا جائے کہ آئندہ 30 سے 50 سال میں تمام شہر میں 10 سے 30 فی صد مکانات کی تعداد میں اضافہ ہوجائے۔

اس کے نتیجہ میں کتنے اسکول بنیں گے۔ ، کتنے پارک بنیں گے، کتنے گھر بنیں گے۔ بنک بنیں گے، مارکیٹیں‌ بنیں‌گی اور کتنی بجلی کی دکانیں، پلمبر کی دکانیں۔ پینٹ‌کی دکانیں اور اسی طرح کی دوسری اشیاء کی دکانیں بنیں گی۔ جس سے بے تحاشہ لوگوں‌کو روزگار ملے گا اور اس طرح‌دولت کا انجماد پگھلاؤ میں تبدیل ہوگا۔

جاری ہے۔ خیالات کا اظہار کیجئے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), نورالدین (07-08-10), مرزا عامر (07-08-10), احمد بلال (08-08-10)
کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
07-08-10 نورالدین معاشی واقتصادی معلومات پر 100
پرانا 07-08-10, 07:57 PM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,057
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,360 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Smile

اس سلسلے میں زید حامد کا پروگرام کا ذکر سنا تھا
گو کہ بعض کی نظر میں وہ مشکوک ہے
مگر میں جس پروگرام کی بات کر رہا ہوں براس ٹاک
YouTube - ‪Zaid Hamid on Gold Currency - Part 1‬‎
YouTube - ‪Zaid Hamid On Gold Currency - Part 2‬‎
اس میں اس نے کرنسی نوٹ کی تخلیق پر بحث کی تھی
اور ثابت کیا تھا
کرنسی نوٹ دراصل استعماری اور استحصالی نظام کی ایجاد ہيں

تا کہ غریب کو اصل دولت تخلیق کر نے پر لگا دیا جائے یعنی خوراک ، اور بنیادی ضروریات کی چیزیں
اور امیر طبقہ محض نمبروں کے گیم سے بیٹھے بیٹھے کمائے جیسے اسٹاک ایکسچینج ، بنک ، انشورنس وغیرہ

غالباً کچھ اسی قسم کے خیالات تھے
اس قسم کے موضوع کو میں نے پہلی بار سنا تھا
اور بات دل میں اتر جانے والی کہی تھی ۔ ۔

باقی اللہ جانتا ہے کہ کیا ہے حقیقت

بہر حا ل فاروق صاحب خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی اس موضوع کو اٹھایا
مزید معلومات کا منتظر ہوں ۔

__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔

Last edited by نورالدین; 07-08-10 at 08:12 PM. وجہ: ویڈیو لنک
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-08-10), کنعان (08-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 08:14 PM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جمی ہوئی دولت کو پگھلایا جائے۔

دوسرا گر:
یہ جانتے ہوئے کہ ملک میں‌دولت موجود ہے۔ لیکن اس کی گردش نہیں‌ہے۔ اس دولت کی گردش میں اضافہ کے لئے ضروری ہے کہ اس منجمد دولت کو پگھلایا جائے۔ اور اس کو گردش دی جائے۔ اس گردش کی سمت ایک طرف تو امیر آدمی سے غریب آدمی کی طرف ہے ، جس کی مثال اوپر دی گئی ہے کہ بڑے بڑے رہائشی منصوبے بنائیں جائیں۔ لیکن دولت کو ایک دوسری طرح‌گردش دینے کی بھی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح‌کہ لوگوں کہ پاس بہت بڑی بڑی جائیدادیں ہیں۔ جو کہ منجمد ہوئی دولت ہے۔ اس دولت کا عشر عشیر بھی گردش میں‌نہیں‌ہے۔ ضروری ہے کہ رہائشی مکانات کے مالکان ان کے ٹیکس ادا کریں۔ ٹیکس کی موجودہ شرح بہت کم ہے۔ اس میں اضافہ کیا جائے۔ اس طرح کہ ہر سال مکان یا جائیداد کی قیمت کا تعین کیا جائے اور زکواۃ کے نصاب کی رقم سے زائید ی قیمت کا ڈھائی فی صد، بطور زکواۃ یا ٹیکس سالانہ وصول کیا جائے۔ اس طرح وہ لوگ جو آمدنی پر ٹٰیکس ادا نہیں‌کرتے وہ اپنی جائیداد پر ٹیکس ادا کریں ۔ اس طرح 40 سال کی مدت میں ہر مکان ، ہر جائداد پر 100 فی صد رقم حکومتی خزانے میں واپس۔ اس ضمن میں ان افراد کو رعایت دی جائے جو لوگ ریٹائر ہوگئے ہیں۔ لہذا جب بھی یہ جائیداد ٹرانسفر ہو۔ اس پر ٹیکس عائید کیا جائے۔ کچھ نہ کچھ۔

اس طرح دولت مند کی منجمد دولت کو حکومت کی طرف گردش دی جائے تاکہ ہر 50 سال میں یا 100 سال میں زمین کو اور اس پر بنی ہوئی تجاوزات کو دوبارہ پٹہ پر نئے ذمہ دار کو دیا جائے۔ اہمیت ہے دولت کی گردش بڑھانے کی۔ نہ کہ لوگوں‌کو تکلیف دینے کی۔ یہ حساب اس طرح‌کیا جائے کہ صرف ضرورت سے زائید رقم کو پگھلایا جائے نہ کہ انسانوں کو زندہ درگور کردیا جائے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), نورالدین (07-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 08:16 PM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زید حامد کا یہ پروگرام بھی دیکھا ہوا ہے، اور کرنسی کو دولت کے لئے گردش دینے کے عمل سے بھی واقف ہوں ، اس کا مقصد ہے کہ کاغذی نوٹوں کے نظام کو ختم کیا جئاے۔ جبکہ میرا مقصد یہ نہیں۔ میرا مقصد ہے روپے یعنی دولت کی گردش میں اضافہ کیا جائے۔ ہر قسم کی معلومات کا دعوی نہیں‌کرتا۔ مقصد یاروں کو سر کھجانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 07-08-10 at 08:39 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (07-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 09:16 PM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منجمد دولت کا پگھلاؤ۔ کیوں؟

2:2 ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ
(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے
2:3 الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّـلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ (یعنی دولت کے بہاؤ میں اضافہ کرتے ہیں)۔

کاروں پر ٹیکس ۔
کاروں کی قیمتوں کا تعین کیا جائے اور ان پر نصاب سے زائید رقم پر مناسب ٹیکس عائید کیا جائے۔ یعنی زکواۃ۔ جو ہر سال واجب الادا ہو۔ جس کی کم سے کم قیمت ڈھائی فی صد سالانہ ہو۔
اس کے علاوہ جو شخص بھی کار چلاتا ہے ، دوسرے کے لئے خطرے کا باعث بنتا ہے۔ لہذا ہر شخص کے لئے کار انشورنس جو دوسرے کے جان و مال کے لئے ادا کیا جائے لازمی قرار دیا جائے۔ اس کی رقم کم از کم آج کے حساب سے 4 تا 8 ہزار روپے سالانہ ہو۔ اس طرح انشورنس کمپنیوں کے کاروبار میں اضافہ، اس پیشہ سے منسلک لوگوں کے لئے مزید نوکریاں اور اس طرح روپے کی گردش میں اضافہ۔ مناسب قوانیں بنائے جائیں اور ان کا نفاذ‌کیا جائے تاکہ انشورنس کمپنیاں اس آمدنی کو اسی مقصد کے لئے خرچ کریں یا تنخواہین دینے کے لئے۔ ایک خاص فی صد سے زائید منافع پر انشورنس کی مینیجمنٹ‌کی طرف جانے پر پابندی ہو۔ تاکہ ایسی رقم صرف تنخواہوں کی ادائیگی یا انشورنس کمپنی کی ذمہ داریوں‌کی ادائیگی کے لئے مختص ہو۔

پولیس ، لائسنس کے ساتھ ساتھ ، انشورنس بھی چیک کرے۔ اور نہ موجود ہونے پر چالان۔ جو کہ بینک میں ادا کیا جائے ۔ عدم ادائیگی کی صورت میں کار ضبط کرکے بیچ دی جائے۔ اس چالان سے ایک ھصہ پولیس والے کو ادا کیا جائے۔ اگر ہر کاروبار میں سیلز مین کو کمیشن ملتا ہے تو سب سے بڑا کاروبار امن عامہ کا نفاذ‌ہے کہ اس کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ لہذا پولیس والے کو اس کا حصہ یعنی کمیشن ضرور ملنا چاہئیے۔ اس قانونی حصہ کے بعد رشوت کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 11:44 PM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منجمد دولت کا پگھلاؤ۔ کیوں؟
59:7 مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے سو وہ ہے اللہ کا اور اس کے رسول کا اور رسول کے أَهْلِ الْقُرَى (حکومتی مددگاروں) کا اور ہے یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ نہ کرتا رہے وہ گردش تمھارے مالداروں کے درمیان ہی اور جو کچھ دے تمھیں رسول سو اسے لے لو اور جس سے روک دے تم کو رسول، پس رک جاؤ (اس سے)۔ اور ڈرو اللہ سے۔ بلاشبہ اللہ بہت سخت ہے سزا دینے میں۔

اللہ تعالی کا مقصد ہے مالداروں کے درمیان ہی دولت کی گردش کو کم کرے اور اس گردش کو یتیموں اور مسکینوں (ملازمت پیشہ) اور مسافروں کے لیے بڑھائے۔ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ آات کی تفاسیر نہیں ہیں بلکہ جابجا ان آیات کو لکھتا جارہا ہوں جن سے ان نظریات و خیالات میں استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ یہ فرقوں‌کی جنگ نہیں‌ہے بلکہ ہر آدمی تک دولت کی مناسب مقدار پہنچانے کی کوشش ہے ۔ اس کے کام سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

ضروری ہے کہ ملک کے ہر شعبے میں‌دولت کے بہاؤ کو آسان بنایا جائے اور اس کے انجماد کو کم کم سے کم کیا جائے۔ جو رقوم اور آمدنی حکومت کو اوپر حاصل ہوئی ہے اس کو تنخواہیں دینے ، شاہراہیں بنانے ، کارخانوں کے لئے آسان قرضہ دینے میں استعمال کیا جائے۔ تاکہ یہی روپیہ دوبارہ استعمال ہوسکے۔ حکومت کا مقصد ہے زیادہ سے زیاد ہ ‌ خرچ ۔ بچت کے نام پر روپے کا انجماد نہیں۔ پاکستان اپنی سبزی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ضائع کردیتا ہے۔ کسی بھی شہر کی سبزی منڈی کے قریب یہ دیکھا جاسکتا ہے۔ بچت کرنی ہے تو "خوراک" کی کیجئے۔ ایسے کارخانے لگائیے جہاں "خوراک" کو کیمیکل سے پراسس کرکے محفوظ‌کیا جاسکے۔ ہر طرح کیک سبزی خشک کرکے محفوظ کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ہر طرح کا کھانا بند ڈبوں مین محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ ایسے کھانے کی مانگ ان ممالک میں بہت زیادہ ہے جو خوراک میں خود کفیل نہیں۔ اس میں غریب ممالک بھی شامل ہیں اور امیر بھی۔ فوڈ پراسیسنگ کے ایسے پلانٹ دفاعی نکتہء نظر سے بھی اہم ہیں‌۔ حالت جنگ میں انسانوں اور فوجیوں کے لئے "ایٹم بم"‌سے بڑھ کر "خوراک" کے ایمونیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کے کھانے کی سپلائی حالت جنگ میں 15 تا 40 دن سے زائید کی نہیں‌ہے۔ سال بر کے قحط کا کوئی تصور بھی نہیں‌کرسکتا۔ فوڈ پراسیسنگ انڈسٹریز کا پھیلاؤ۔ پاکستان اپنی ضرورت کا خوردنی تیل بہت کم پیدا کرتا ہے۔ پاکستان میں چراگاہیں تو بہت ہیں لیکن دودھ دینے والی گائیں نہیں۔ ڈیری پراڈکٹس کی پیداوار میں‌ اضافہ سے خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ زیتون کا درخت بہت سے علاقوں‌ میں بآسانی اگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح زیتون اور زیتون کے تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سب منجمد دولت کے پگھلاؤ یعنی جائیداد پر ٹیکس، کاروں پر ٹٰکس اور انسورنس کی وصولی اور منافع پر ٹیکس سے حاصٌ شدہ آمدی سے ہوگا۔

اس تمام کام کو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی معلومات کو مکمل کمپیوٹرازڈ‌کیا جائے۔ ہونے والی آمدنی کی مدد سے نجی کمپنیوں کو حکومت ٹھیکے دے کہ وہ ان اداروں‌کے ڈیٹا کو بہتر طریقہ سے عوام اور اداروں دونوں کو فراہم کرے۔ اس طرح‌مزید کام کاج کے مواقع پیدا کئے جائیں۔

ہیلتھ انشورنس:
کم سے کم منافع کی بنیاد پر ایسی کارپوریشنز کے قیام کی حوصٌہ افزائی کی جائے جو عوام کو ہیلتھ انشورنس فراہم کریں۔ تاکہ بیماریکی صورت میں علاج ممکن ہوسکے۔ اس طرح‌ ڈاکٹرز کی آمدنی میں‌اضافہ اور اس کے نتیجے میں حکومت کے تیکسز میں‌اضافہ۔ اور عام آدمی کی صحت بہتر تر۔ اس طرح کا انشورنس ایسا ہی ہے جیسے کہ لوگ کمیٹی ڈالتے ہیں کہ آج میری اور اگلے مہینے تیری۔ یہ کام ہسپتال بھی شروع کرسکتے ہیں۔ کہ ایک مقررہ سالانہ رقم لے کر وہ علاج مفت فراہم کریں۔ یہ رقم ہر شخص کی کمپنی ادا کرے اور یہ رقم آمدنی میں سے خرچہ کی مد میں‌گھٹا دی جائے۔

روپے کے بہاؤ کو بہتر بنانے کی ہم کئی ترکیبیں دیکھ رہے ہیں۔ اس سے غربت میں کمی اور ہر شخص تک پیسے کی روانی ۔

دولت کے انجماد پیدا کرنے والے عناصر کو کم کیا جائے:
دولت کے انجماد کی سب سے بڑی وجہ ہے خوف۔ یہ خوف ہے بڑھاپے میں غریب رہ جانے کا۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنا ہر روپیہ بڑھاپے کے لئے جوڑتے ہیں یا پھر اولاد پر انحصار کرتے ہیں۔ جبکہ اولاد خود انہی مشکلات کا شکار ہوتی ہے جس کا ماں باپ ہوتے ہیں۔ یعنی معاشرہ میں دولت کا انجماد اور کم آمدنی۔ بہت سے افراد کے پاس ضرورت کا پیسہ نہیں ہوتا لہذا یہ افراد اپنے ہی گھر میں اپنے بوڑھے والدین کو رکھتے ہیں۔ لیکن بڑھاپے کے باعث یہ افراد کچھ کام نہیں کر سکتے۔ ایسے افراد جو ایک خاص‌عمر سے زائید ہون اور کام کے قابل نا ہوں ۔ ان کو ماہانہ ایک رقم ادا کی جائے۔ تاکہ یہ لوگ اس مدد سے اپنے کفالت کرنے والے افراد کی مدد کرسکیں۔ اس رقم کا تخمینہ لگا کر ان مسکین افراد کے لئے درکار رقم کا کچھ حصہ تنخواہ دار طبقہ سے ان کی آمدنی سے اور کاروباری طبقہ سے ان کی آمدنی سے وصول کیا جائے اور اس طرح غریب بے سہارا افراد کی کچھ نہ کچھ مدد کی جائے۔ اس طرح‌ایک انسان کے دل میں اس خوف میں‌کمی ہوگی کہ بڑھاپے میں کیا کرے گا اور وہ اپنی رقم بہتر طور پر اپنی اولاد پر خرچ کرسکے گا۔ اس طرح دولت کے انجماد میں‌کمی واقع ہوگی۔

تعلیم کی مفت فراہمی پر ٹیکس:
ہر جائیداد سے ٹٰیکس کا ایک حصہ وصول کرکے تعلیمی اداروں کے فروغ اور ان اسکولوں‌کی تعداد میں اضافے پر خرچ کیا جائے۔ تاکہ اسکولوں‌کی تعداد میں اضافہ ہو اور مقامی ٹیکس سے اسکول چلتے رہیں۔ اس طرح‌لوگوں کو مزید نوکریاں اور بچوں کو تعلیم حاصٌ ہوگی۔ اس نیک مقصد کے لئے کون اپنی جائیداد پر ٹیکس میں سے کچھ نہ دے گا؟

ممکن ہے آپ میں‌سے کچھ حضرات میرے نکات سے متفق نہ ہوں۔ یا یہ سمجھتے ہوں‌کہ ایسے پروگرام یا پلان پہلے سے موجود ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے پلان بڑی حد تک موجود نہیں۔ ان پر دل لگا کر مھنت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ دولت کے انجماد میں کمی ہو اور دولت کا بہاؤ بہتر ہو۔ مزید اسکول، مزید مکان، مزید خوراک، مزید پوشاک، مزید تیل کی پیداوار۔ مزید بجلی، مزید صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات میسر ہوں۔

کپڑے کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کی ضرورت:
پاکستان بے تحاشہ کپڑا تیار کرتا ہے لیکن اس کی ایکسپورت بہت کم ہے۔ اسی طرح‌ کاروں‌کی ایکسپورٹ بہت کم ہے۔ اس ایکسپورٹ‌کو بڑھانے کے لئے ہر بڑے شہر میں بڑے نمائشی ہال تعمیر کئے جائیں تاکہ ان میں نمائشوں کا انعقاد ہوسکے۔ بیرونی ممالک مین تاجروں‌کو دعوت دی جائے کہ وہ یہاں آئیں اور ان نمائشوں کو دیکھیں تاکہ پاکستانی مصنوعات خرید کر اپنے ملک لے جائیں۔ اسی طرح‌دوسری مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں میں پہنچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ تاکہ پاکستانی مصنوعات کی بیرونی ممالک میں مانگ ہو۔ سلے سلائے کپڑے کی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے لیکن پھر اس کی ایکسپورٹ‌کم۔ اس کو بڑھانے کے لئے حکومتی سطح پر توجہ کی ضرورت ہے۔

جاری ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), نورالدین (08-08-10), مرزا عامر (08-08-10)
پرانا 07-08-10, 11:47 PM   #23
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,167
کمائي: 167,083
شکریہ: 9,672
7,363 مراسلہ میں 22,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مکمل کر کے سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), نورالدین (08-08-10)
پرانا 08-08-10, 12:33 PM   #24
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,057
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,360 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Question


ما شا اللہ فاروق صاحب بہت اچھی باتیں بتائيں
کافی کچھ سمجھ میں ار ہا ہے

انشورنس کے متعلق اشکال ہيں میرے ذہن میں ۔

انشورنس میں بھی تو پیسہ ایک ہاتھ میں منجمد ہو رہا ہوتا ہے
۱۰ فیصد لوگوں کو مصیبت کے نام پر پیسہ دے کر
۹۰ فی صد لوگوں کا پیسہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر
ایک گروپ کے ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہوتا ہے

ذرا اس کی وضاحت کر دیں ۔ ۔
ساتھ ہی یہ بھی بتا دیں کہ
کہ عشر کیا ہے ؟
کیا یہ انشورنس کا متبادل ہو سکتا ہے ۔ ۔
جزاک اللہ
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-08-10, 01:35 PM   #25
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,473
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اصل میں ہم ترقی کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-08-10, 05:01 PM   #26
Senior Member
 
Nasiwise's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,649
کمائي: 39,680
شکریہ: 1,745
1,466 مراسلہ میں 4,491 بارشکریہ ادا کیا گیا
Nasiwise کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے کا انحصار یا دار مدار ہندوستانی روپے پر ہوسکتا ہے؟ آخر ہندوستان بھی تو سب کچھ بناتا ہے تو اس سے مال کیوں نہیں خریدا جاسکتا؟ کوئی صاحب اس پر روشنی ڈالیں، گو کہ توقع نہیں‌ہے کہ ان سوالات کا جواب کسی کو معلوم ہو۔
Name:  gdpit_com_96762789_544.gif
Views: 31
Size:  37.9 KB

پیسے یا بنک نوٹ کی قیمت کاانہصار بھروسے پر ہے۔ جو شخص آپکو یہ پیسے دے رہا ہے، جس بینک نے یہ پیسے یا نوٹ ایشو کیے ہیں اور جو ملک اس بنک کا مالک ہے ان سب پر بھروسے سے اس کی قیمت قائم ہوتی ہے ۔ پیسہ یا دولت کوئی سونے جیسی قیمتی دھات نہیں بلکہ ایک باہمی بھروسے اور اعتبار کا نظام ہے۔ چاہے آپ اپنا ادائیگی کا وعدہ کاغذ، سونے یا کسی مٹی کے ٹکڑے پر لکھیں، اس بات کی نہیں بلکہ اصل اہمیت تو اس بات کی ہے لینے والا اس پر بھروسہ کرتا ہے یا نہیں۔

بنک نوٹ چاہے وہ روپے کے ہوں یا ڈالر کے، در اصل ان کوئی کاغذی قیمت نہیں کیونکہ وہ تو صرف ان کے مالک کو ادائیگی کے وعدے کا ثبوت ہیں۔

آپ جب ڈالر کے عوض اپنی اشیا بیچتے ہیں یا مزدوری کرتے ہیں تو آپ بھَروسا کرتے کہ امریکہ کے وزیر خزانہ ڈالر کے اتنے نوٹ نہیں چھاپے گا کہ جب آپ اپنے ڈالر خرچ کریں گے تو ان کی قیمت جس کاغذ کے ٹکڑے پر وہ چھاپےگے ہیں ان سے بھی کم نہیں ہو جائے گی۔

دنیا میں بھروسے کے لحاظ سے ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی تو کوئی خاص قیمت یا اہمیت نہیں اسلیے ڈالر کے بجائے اسپر پاکستانی روپے کا انحصار یا دار مدار نہیں ہوسکتا ہے؟
__________________
Nasiwise آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Nasiwise کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-08-10), کنعان (08-08-10), نورالدین (08-08-10), مرزا عامر (08-08-10)
پرانا 08-08-10, 10:18 PM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,245
کمائي: 25,821
شکریہ: 6,458
2,595 مراسلہ میں 7,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کرنسی:
ڈالر یا روپیہ صرف ایک معاہداتی ریکارڈ ہے۔ تاکہ دولت کو گردش دی جاسکے۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں۔

انشورنس:
پہلے انشورنس کا ڈیزائین سمجھتے ہیں۔ پھر اس سے فائیدہ اٹھانے والوں کی بات کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر انشورنس، ایک طرح‌کی کمیٹی ڈالنا یا رسک کو کم کرنا ہے۔ فرض‌کیجئے کہ پاک ڈاٹ‌نیٹ کے تمام پڑھنے والوں میں‌سے 100 اس بات کے لئے تیار ہوجاتے ہیں کہ سب مل کر ہر مہینے اپنی آمدنی میں سے 100 روپے یعنی کل دس ہزار روپے ایک ہی اکاؤنٹ‌میں‌ڈالیں‌گے اور یہ روپیہ اگر کوئی بھی فرد جو اس میں شریک ہے بیمار ہوا تو اس کی دوا اور دارو اور علاج معالجہ اس اکاؤنٹ‌میں سے دیا جائے گا۔ گویا امداد باہمی کی شرط پر لوگ اکاؤنٹ‌میں‌ پیسہ ڈالتے رہیں گے اور اس طرح‌ ان سب کو پتہ ہے کہ سب ایک ساتھ بیمار نہیں‌پڑ سکتے ۔ لہذا یہ ہم سب کو ایک طرح کی انشورنس ہے کہ اگر بیمار پڑے تو فنڈز موجود ہیں۔ یہ تو ہوا فائیدہ۔ ایسی امداد باہمی کی سادہ سے مثال بالکل بھی غیر اسلامی یا غیر قرآنی نہیں‌ہے ۔ امداد باہمی یعنی ایک دوسرے کی مدد اور خاص‌طور پر غریوبوں کی مدد کی آیات الحمد للہ قرآن مجید میں‌بہت ہیں۔ پھر بھی ریفرنس بعد میں۔

اب اس کی قباحتوں‌ پر غور کرتے ہیں:
اگر سب لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف صحتمند لوگ نہیں‌بلکہ چالاکی سے غیر صحتمند لوگ صرف فائیدہ اٹھانے کی غرض سے چلے آرہے ہیں تو کیا کریں؟ فنڈ‌کو 51 فی صد یعنی اکثریت کے غیر مطمئن ہونے کی وجہ سے توڑا جاسکتا ہے اور باقی رقم واپس کی جاسکتی ہے۔ اس طرح‌ جو رقم بھی پہلے سال میں خرچ ہوئی اس کے بعد کی رقم واپس مل سکتی ہے۔ فرض‌کیجئے کہ سال میں ایک لاکھ بیس ہزار روپے جمع ہوئے اور سال کے آخر میں بیماریوں کی وجہ سے صرف 50 ہزار روپے بچے تو 10 افراد کو 500 روپے کے حساب سے ادائیگی ہوگی لیکن 700 روپے کس مد میں‌گئے؟ یہ خرچ ہوئے آپ کو اس بات کی انشورنس فراہم کرنے میں کہ اگر آپ ہوتے بیمار ہونے والوں میں تو آپ پر خرچ ہوتے۔

اس طرح مزید کئی مسائیل جنم لیتے ہیں کہ اگر زیادہ لوگ بیمار پڑ گئے تو کیا ہوگا۔
رقم ختم ہوگئی تو کیا ہوگا۔
اس سکیم میں شامل ہونے والے افرا د اگر بہت زیادہ بڑھ گئے تو کیا ہوگا۔
ان تمام مسائیل کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مناسب قانون سازی کی جائے تاکہ جو لوگ اس فنڈ کو مینیج کرنے پر رکھے جائیں ان کو ایمانداری کا صلہ اچھی آمدنی اور بے ایمانی کا صلہ ساری جائیداد کی ضبطی اور جیل وغیرہ ۔

بہت سے ممالک انشورنس کو بہت قریب سے ریگولیٹ‌کرتے ہیں۔ اور مینیجمنٹ کے منافع پر حد لگائی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے زیادہ منافع، عوام کے فنڈ سے نہیں‌لیا جاسکتا۔ جو لوگ اس کے بارے میں مزید پڑھنا چاہتے ہیں وہ انٹر نیٹ‌ پر اور اچھی کتب سے مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ بنیادی طور پر انشورنس کو اچھی طرح چلایا جائے تو یہ بالکل بھی غیر اسلامی کاروبار نہیں۔ لیکن اگر کسی بھی کام کو بے قاعدگی سے کیا جائے تو وہ قانونی، مذہبی اور اخلاقی نگاہ سے گرا ہوا کام ہے۔

امید ہے اس مختصر سے تعارف سے آپ سب کی سمجھ میں انشورنس اور اس کے مقاصد آ گئے ہونگے۔

والسلام

جاری ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-08-10), نورالدین (09-08-10), منتظمین (09-08-10), مرزا عامر (08-08-10), ابرارحسین (09-08-10)
جواب

Tags
arabic, color, free, ہے۔, کیپٹل ازم, کس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, چین, نظر, موٹر سائیکل, معلوم, آج, اللہ, انسان, بھائی, بچپن, جواب, خوش, شخص, علم, غور, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger