| 1971 اور مشرقی پاکستان ہمارا اس فورم کو شروع کرنے کا مقصد تاریخ کے اس افسوسناک اور دکھ بھرے حصے کو یاد رکھنا ہے جس کو اکثریت بھلا رہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بات ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ 1940 میں لاہور میں قرارداد پاکستان مولوی اے کے فضل حق نے پیش کی تھی اور وہ ایک بنگالی تھے اس کے علاوہ بھی بنگالی مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں اسا لیئے حصہ لیا تھا کہ وہ کلکتہ کے ہندو بنیوں کے ظلم و ستم سے نجات چاہتے تھے اسی لیئے انھوں نے محمد علی جناح کو مکمل تعاون فراہم کیا اور آزادی کی خاطر بنگال کی تقسیم مشرقی اور مغربی حصوں کی صورت میں برداشت کی ۔مگر ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ جناح صاحب جب بنگال کے دورے پر گئے تو کہا پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی۔آپ بتائیے کہ 56 فیصد کی آبادی پر 2 فیصد کی زبان مسلط کر نا کہاں کا انصاف تھا؟ آپ کو معلوم ہو نا چاہیئے کہ اس بات پر وہاں جو مظاہرے ہوئے اس میں مجیب طا لب علم کے طور پر پہلی مرتبہ گرفتار ہوا تھا۔کیا پاکستان کی قومی زبانیں دو اردو اور بنگالی نہیں ہو سکتی تھیں؟ مگر حماقت اور طاقت کے استعمال کی سیاست کے ذریعے پہلے دن سے ہی نفرت کی بنیاد رکھ دی گئی اور پہلے دن سے ہی انھیں کالے بھوکے ننگے بنگالی اور نان مارشل قوم کہ کر ان کی تاریخ روایات تہذیب و ثقافت کا مذاق اڑایا جا تا رہا۔اور جب اسی نان مارشل قوم سے ہماری پاک آرمی کا واسطہ پڑا تو 16 دسمبر کا وہ سیاہ دن ہماری تاریخ کا حصہ بن گیا جس سے آج بھی کوئی سبق سیکھنے کے لیئے تیار نہیں ہے اور سیاسی اور عسکری قیادت مصر ہے کہ ہم پرانی غلطیاں ہی دھرائیں گے چاہے اس کے لیئے ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان ہی کیوں نہ برداشت کر نا پڑے۔حقیقت یہ ہے کہ بنگالی محب وطن تھے اور دل سے پاکستان کی خیر خواہی چاہتے تھے مگر ہم نے ہی انھیں تسلیم نہ کیا اس کے بعد کیا ہم بنگالیوں سے شکوہ کر سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف تھے؟
|
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | imran786leo (20-04-09), shafresha (15-04-09), slave of allah (29-07-09), فیصل ناصر (15-04-09), نورالدین (03-12-10), ملک بھائی (12-10-09), منتظمین (17-04-09), مرزا محمد فاروق (11-06-09), مرزا عامر (03-12-10), مسافر (08-07-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام غزل (17-04-09), راشد احمد (14-05-09), رضی (10-06-09), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
شکریہ جناب،
آپ کی بات ایک تاریخی تلخ حقیقت ہے۔ آپمید ہے کے آپ مذید دلائل کے ساتھ اپنے موقف کر پیش کریں گے۔ شکریہ! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,621
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
برابر کےشرق تھے بنگالی بھی کوئی مظلوم نہیں تھا انہوں نے بھی بہت ظلم کیے ہیں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر ورق کے لیے اپلائی کریں ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (10-08-09), رضی (10-06-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ پوسٹ مزید وضاحت چاہتی ہے ،لیکن ایک اچھا موضوع ہے ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (10-08-09), رضی (10-06-09) |
|
|
#6 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 17
کمائي: 409
شکریہ: 3
8 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قائد اعظم کی فراست کو حماقت سے تعبیر کرنا اچھی بات نہیں قائد اعظم کا مقصد یہی تھا کہ ایک ایسی زبان ہو کہ جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور اس میں علاقائی تعصب نہ ہو اگر بنگالی بھی قومی زبان قرار پاجاتی تو پنجاب بلوچستان اور سند و سرحد میں بھی تحریکیں شروع ہو جاتیں دوسری بات محترمہ یہ کہ بنگال کے فسادات کے پیچھے بہت سے اسباب ہیں کاش کچھ مطالعہ کر کے اپنی رائے دیتیں اس حوالے سے بنگالیوں میں بہت زیادہ نیشنلزم اور اجتماعی سوچ کا فقدان اور دوسری طرف اسٹیٹ کے بیشتر اداروں پر پڑھے لکھے ہندووں کا تسلط تھا جو کہ مسلسل زہر پھونک رہے تھے اس میں بھارتی ایجنسی را کی سازشیں اور بنگالیوں کی سادگی اور جہالت بھی نہایت بھر پور انداز سے کارفرما بھی تھی لہذا گذارش ہے کہ قائد اعظم کے حوالے سے ایسا بھونڈا تبصرہ کرنے سے اجتناب کریں
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ابن قلم کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (08-07-09), ھارون اعظم (19-10-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام طلحہ (08-07-09), رضی (10-06-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
جناب من، محترم اشفاق صاحب کے کثیر الامطالعہ ہونے کا تو میں ذاتی طور پر گواہ ہوں۔ ہم دراصل اپنے "محبوب سیاسی قائدین" کو بھی "مذہی شخصیات" کا درجہ دیتے ہیں۔ لہذا اُن بارے میںکسی قسم کا تبصرہ برداشت نہیں کرسکتے۔ برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم میں کامیابی دلوانے والی "چرچل" کو ان کی قوم نے دوبارہ منتخب نہیں کیا، کیوں کے وہ لوگ سیاسی شخصیات کو "دیو مالائی" روپ نہیںدیتے، ہم ہندو پاک کے رہنے والے اس علت کا شکار ہیں۔ دیکھ لیجیئے مسڑ گاندھی انڈیا میں "مہاتما گاندھی" کا روپ دھار چکے ہیں۔ اب اُنکے اقوال کو وہاں مقدس الفاظکا درجہ دیا جاتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے دوستوں نے فرمایا کہ قائد اعظم کی فراست تھی کہ ایسی زبان قومی بنے جو سب کو قابل قبول ہو۔میرا کہنا ہے کہ کیا اردو بطور قومی زبان بنگالیوں کو جو پاکستان کی آبادی کا 56 فیصد تھے قابل قبول تھی؟ او کیا اردو زبان کے حولے سے یو پی سی پی سے آئے مہاجرین کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا تھا؟ کیا فقط زبان کی بنیاد پر ایم کیو ایم ،اور دیگر صوبائی زبانوں کے حوالے سے نیشنلسٹ تنظیموں کا قیام پا کستان میں نہیں ہوا؟فرمایا گیا کہ بنگالیوں میں نیشنلزم کا فقدان تھا۔کیا قرار داد پاکستان کسی پنجابی نے پیش کی تھی؟ اور کیا 1971 تک انھوں نے ڈسٹرک کمشنر سے لے کر گورنر تک اکثر دیگر قومیتوں کے لو گوں کو فقط اس لیئے برداشت کیا کہ ان کے ذہنوں میں ہندوون نے قبضہ جمایا ہوا تھا؟اگر اسٹیٹ کے بیشتر اداروں پر ہندووں کا اثر تھا جو مسلسل زہر پھونک رہے تھے تو کیا حکومت پاکستان نے ان کی جگہ ایسے لوگوں کا تقرر کیا جو نظریہ پاکستان سے سرشار تھے؟ کیا بنگالیوں نے حکومت کو منع کیا تھا اس کام سے؟آپ بتائیے کہ اور کیا اسباب تھے سقوط بنگال کے؟ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ بنگالوں نے فوج کشی سے پہلے بھی کوئی قتل عام کیا ہو؟حضور فرماتے ہیں کہ بھارتی ایجنسی را کا کردار تھا۔سوال یہ ہے کہ ہماری ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں انھیں روکنے کے لیئے؟حضور فرماتے ہیں کہ بنگالی جاہل تھے۔جناب یہی تو سوچ تھی جو مغربی پاکستان کے حکمرانوں میں تھی۔کیا بنگالی لیڈر حسین شہید سہروردی جاہل تھے جنہیں کچھ عرصے کے لیئے پاکستان کا وزیر اعظم بنایا گیا؟ کیا خواجہ ناظم الدین جایل تھے؟جن کی حکومت کو فالج زدہ غلام محمد نے چلتا کیا؟میری گزارش ہے کہ صرف تبصرہ نہ کریں دلائل بھی دیں تاکہ آپ کا موقف واضح ہو سکے ۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 17
کمائي: 409
شکریہ: 3
8 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے جذباتی ہو کر احمقانہ خیالات پھینکنے سے بہتر ہے بنگال کی علیحدگی کے موضوع پر سنجیدہ ،غیر جانبدار اور گہرایی سے مطالعہ فرمالیں دوسرا یہ فورم پاکستان کی بجایے انڈین سوچ کی عکاسی زیادہ کر رہا ہے
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یہ کون سی اُردو ہے جناب؟
![]() اقتباس:
آپ کا یہ جملہ سراسر زیاتی پر مبنی ہے کسی ایک ممبر کی سوچ کو آپ پورے فورم پر نہیں لاگو کرسکتے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابنٍ قلم آپ اپنی رائے دے رہے ہیں یا کوئی الزام لگا رہے ہیں ذرا یہ بھی واضح کریں ،
شکریہ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب ہم کسی مصیبت کا شکار ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ نہ ہوتا تو وہ ہوتا۔
میں نے کئی کالم نگاروں کو یہ لکھتے دیکھا تھا کہ اگر قومی زبان عربی ہوجاتی تو پاکستان نہ ٹوٹتا اور ہم عرب ممالک کیصف میں کھڑے ہوجاتے یا اگر لیاقت علی خان امریکہ کادورہ نہ کرتے اور روس کا دورہ کرلیتے تو پاکستان نہٹوٹتا اور آج ہم امریکی شر سے محفوظ رہتے۔ بعض صحافی یہ بھی کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی سرحدیں نہیںملتیں تھیں اس لئے مشرقی پاکستان کا رہنا غیر فطری تھا حالانکہ تاریخگواہ ہے کہ مسلمانوں سے عرب میں بیٹھ کر برصغیر اور یورپ پر کامیابی سے حکومت کی ہے۔لکیر پیٹنا ہماری عادت بن چکی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب آپ انصاف نہیں کریں گے، لوگوں کو مساوی حقوق نہیں دیں گے تو ان میں ایک بے چینی آجائے گی۔ آپ ایک صوبے کو تو ترقی دے رہے ہیں اور دوسرے صوبے کو اس سے محروم رکھ رہے ہیں تو احساس محرومی تو پیدا ہوگی اور یہی احساس محرومی کسی بڑے بحران کو جنم دیتی ہے۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (19-10-09), منتظمین (14-05-09), مسافر (08-07-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام غزل (15-05-09), ابرارحسین (31-05-09), رضی (10-06-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بالکل درست ہےکہ ایک قومی زبان کا رائج کرنا ہی قائد اعظم کی فراست تھی۔ اگر دو زبانیں قومی زبان کے طور پر رائج ہو جاتیں تو اسی وقت ایک فتنہ کھڑا ہو گیا ہوتا۔بنگالی اگر قومی زبان ہو سکتی تو سندھی، بلوچی، پنجابی، پشتو اور کشمیری کیوں نہیں۔ اور اردو کسی قومیت کی زبان تو نہیں تھی۔ یہ وہ نیوٹرل زبان تھی جو کسی قومیت کی نہیں پاکستانی قوم کی ترجمان تھی۔ اس میں قائد اعظم کا کوئی مفاد ہوتا تو وہ اردو کے بجائے گجراتی کا انتخاب نہ کرتے؟؟
اگر بنگالیوں نے پاکستان کو دل سے قبول کیا ہوتا تو زبان کا جھگڑا ہی نہ کھڑا کیا جاتا۔پاکستان توڑنے والے تو اس زمانے کے حکمران ہیں جنہوں نے صرف کرسی کی جنگ کیلئے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ بلند کیا تھا۔ جن مظلوم بنگالیوں کی بات ہو رہی ہے انہوں نے کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے۔ جن بنگالی عورتوں اور مردوں نے پاکستانی مردوں عورتوں سے شادی کی ہوئی تھی، اپنے ہاتھوں سے پاکستانی بیوی یا شوہر کا خون بہایا تھا۔جو اپنے شریک حیات کے نہ ہوئے وہ ایک ملک کے کیا ہوتے۔یہ تو انڈین پراپیگنڈا ہے جس کے تحت پاکستان میں نفرتیں بھڑکائی جا رہی ہیں۔ جس ملک کے بنانے والے کو ہی نظر سے گرا دیا جائے اسکی نئی نسلوں کی خوب تربیت ہو رہی ہے حب الوطنی کی۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
نوشاد صاحب آپ کی کچھ باتیں ضرور درست نہیں مگر ساری نہیں کسی بھی معاملے پر سیر حاصل بحث تب ہی ہو سکتی ہے جب آپ غیر جانب دار ہو کر سوچیں جس کا کہ آپ کے ہاں انتہاہی فقدان نظر آ رہا ہے
یہ ضرور ہے کہ 1- یہ ایک عالمی سازش تھی 2- اس سازش میں ہمارے لیڈروں نے مقدور بھر حصہ بلکے بھرپور حصہ لیا ( چاہیے دانستہ یا نا دانستہ( |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کسی بھی علمی بحث میں ضروری ہو تا ہے کہ مثبت اختلاف ہو اور بات کو دلائل کے سا تھ پیش کیا جا ئے۔
نیز نیت کسے اچھے نتیجے پر پہنچنا ہو نہ کہ بحث برائے بحث سا نحہ مشرقی پا کستان پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے کا فی کتب بھی موجو د ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ فرد یا ادارہ اپنی غلطی یا کو تا ہی ما ننے کو تیا ر نہیں۔ جب اس سطح کا سا نحہ ہوتا ہے تو یقینا دشمن اپنے غلیظ عزائم کو تعبیر دینے کیلئے لو گوں کے جذبا ت کو استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں جب فرد اور ادارے ایک قوم نہیں بلکہ ایک ملت بن کر سوچتے ہیں تو پھر وہ مقبا بلہ ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ ہم نے اب تک نہ قوم بن کر سوچا ہے نہ ملت بن کر۔ ملت کے تصور تک پنچنے کیلئے پہلے ایک مضبوط اور مربوط قوم بننا ضروری ہے۔ ہم تک ابھی پنجابی، پٹھان ، بنگالی وغیرہ ہیں۔ ملت تو دور کی با ت ہے۔ اپنی تا ریخ سے سیکھنا اچھی با ت ہے مگر جب تا ریخ الجھا ئو پیدا کر دے تو بحث بر ا ئے بحث کے بجا ئے آ گے کی طرف دیکھیں۔ مسلمان قوم نہیں۔ ملت ہے۔ اقبال تو وطن کے با رے میں کہ گئے ہیں ان تا زہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, گذارش, پوسٹ, پاک, پاکستان, پاکستانی, ڈاکٹرنور, لوگ, لمحوں, چین, نماز, نظر, محبت, مسجد, معذرت, آج, اللہ, امریکہ, اردو, اسلام, اشعار, بھائی, جواب, دل, سیر, شہر, شاعری, شعر, عالم, صفحات, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|