| 1971 اور مشرقی پاکستان ہمارا اس فورم کو شروع کرنے کا مقصد تاریخ کے اس افسوسناک اور دکھ بھرے حصے کو یاد رکھنا ہے جس کو اکثریت بھلا رہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 15 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | imran786leo (20-04-09), shafresha (15-04-09), slave of allah (29-07-09), فیصل ناصر (15-04-09), نورالدین (03-12-10), ملک بھائی (12-10-09), منتظمین (17-04-09), مرزا محمد فاروق (11-06-09), مرزا عامر (03-12-10), مسافر (08-07-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام غزل (17-04-09), راشد احمد (14-05-09), رضی (10-06-09), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#46 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان بھائی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، اور اسکے خلاف شریعت ہونے کا کوئی جواز نہیں، خود بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مکے سے محبت ایک نمونہ ہے جیسا کہ آپ نے بھی ذکر کیا، اس لئے اگر اقبال نے یہ کہہ دیا کہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ تو اس میں کوئی قباحت نہیں، کیوںکہ اس وقت اقبال کا وطن ہندوستان ہی تھا۔ وطن کی محبت کے ساتھ ساتھ اسلام اور ملت اسلام سے محبت مسلمان کا شعار ہے، اور مطلوب یہ ہے کہ وطن کی محبت اس پر غالب نہ آئے کیوں کہ اسلام جغرافیائی حدود کا پابند نہیں، تو جب تک وطن کی محبت ملت اسلامیہ کے خلاف نہیں تب تک اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اقبال کی فکر میں ملت اسلامیہ کی عالمگیریت کا سبق ہمیں جا بجا ملتا ہے ، چین و عرب ہمارا ہندو ستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا ایک اور ہم بات یہ کہ علاقائی اور وطنوں سے محبت بجا لیکن سوچ علاقائی نہیں بلکہ آفاقی اور عالمگیر ہونی چاہیے، انگلش کا ایک جملہ ہے کہ think globally and act locally لیکن جب بات اس کے برعکس ہو جائے صرف اپنا وطن ، علاقہ اور شہر ہی سوچ و فکر کا محور و مرکز بن جائے تو معاملات بگڑ جاتے ہیں ، تعصب جنم لیتا ہے پھر وطن کا پیرہن مذہب کا کفن بن جاتا ہے، آہستہ آہستہ یہ گھن کی طرح انسان، معاشرے اور قوم کو کھا جاتا ہے، شاید اسی جانب محسن احسان نے اشارہ کیا ہے کہ گھُن کی صورت یہ تعصب تجھے کھا جائے گا اپنی ہر سوچ کو محسن نہ علاقائی کر
__________________
محتاج اصلاح و دعا
Last edited by راجہ اکرام; 24-08-09 at 09:30 PM. |
|
|
|
|
|
#47 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے درست فرمایا راجہ اکرام صاحب۔ میرا بھی یہی منشا و مقصود تھا۔ شکریہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-08-09), فیصل ناصر (24-08-09), راجہ اکرام (24-08-09), رضی (04-11-10), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#48 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علامہ اقبال اور ان کے وطنیت سے متعلق اشعار کو لے کر ایک مکالمہ جو شروع ہو گیا ہے اس کے بارے میں عرض ہے کہ اقبال ایک جیتے جاگتے انسان تھے اور احساس کی دولت سے مالا مال تھے اسی لیے وہ اپنے زمانے کی بدلتی ہوئی صورت حال سے متاثر بھی ہوئے اور اسی احساس کے ساتھ ان کے اشعار کا رنگ بھی بدلتا رہا کہیں فرمایا ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے ۔ جو پیرہن ہے اس کا وہ مذہب کا کفن ہے کہیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا کہیں ملکہ برطانیہ کی تعریف میں اشعار لکھے کہیں وائسراے کی تعریف اشعار میں کردی کہیں مارکس کو نیست پیغمبر در بغل کتاب کہا کہیں لینن کی فریاد خدا کے حضور پیش کی کہیں تصوف کو اسلام کی سر زمیں میں اجنبی پودا کہا اور خود کی مرید ہندی کہ کر مولانا روم کو اپنا مرشد مانا۔الغرض اقبال کی شاعری میں ان کے احساسات کے مختلف رنگ ملتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ وہ شاعر ہی کیا جو احساس کی شدت نہ رکھتا ہو بس ہمیں کسی شاعر کے بارے میں یہ گمان نہیں کر لینا چاہیے کہ اس نے جو کچھ بھی کہا ہے ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔شاعری حجت نہیں ہوتی قران نے شاعری اور شاعروں مین سے اکثر کو گمراہ کہا ہے اور اہل مکہ کے الزام کے باوجود اس بات کی تردید کی ہے کہ قران شاعری ہے ۔اقبال ایک فلسفی تھے ان کا اصل کام ان کے خطبات ہیں جس میں ان کی فکر اصل رنگ میں نظر آتی ہے ان کی شاعری میں معاشرے کے متضاد نقطہ ہائے نظر رکھنے والوں کے لیے مواد موجود ہے اور یہی تناقض اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی شاعری حجت نیہں ہے ۔
|
|
|
|
|
|
#49 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,092
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت پرانی ہسٹری پڑھی ہوئی ھے ملک سپین ہی تھا یا کوئی اور یہ کنفرم کر لیں مگر ایسا ہی ہوا تھا میری یاد کے مطابق سپین ہی بن رہا ھے
__________________
Last edited by کنعان; 24-08-09 at 03:48 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#50 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اس پر اقبال کی ایک نظم بھی ہے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاں درست کہا کنعان نے ۔۔۔
علامہ اقبال اس مسجد میں اذان دی اور وہیں نماز بھی پڑھی اور نظم " مسجد قرطبہ" کے کچھ اشعار بھی لکھے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اسلام کی عالم گیریت کی بات کی جا تی ہے تو پھر ساراجہاں ہی ہمارا ہے تاہم جب معاملات زند گی کی بات ہو گی وہاں علاقہ، قبیلہ ، اور جغرافیہ تک محدود رہنا ہوگا۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#52 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اصل موضوع پر واپس آتے ہوئے ۔۔۔۔مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میرا مطالعہ سانحہ مشرقی پاکستان انتہائی ہی محدود اور میرے اپنے ذاتی خیالات پر مبنی ہے۔ مجھے اس واقعہ سے متعلق کوئی بھی تفصیل پڑھتے ہوئے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے میں چند صفحات پڑھ کر کتاب چھوڑ دیا کرتا ہوں۔
اسی وجہ سے میرے ذہن میں اکثر ایک سوال آتا ہے کہ بھٹو کی سلامتی کونسل والی تقریر سنیں تو عوامی زبان میں "مزا آ جاتا ہے"۔ کہاں وہ پاکستان کا نمائندہ بن کر آخری لمحوں تک لڑنے کا اعلان کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ نے اور چین نے پاکستان مخالف کسی قسم کی کوئی قراردار منظور نہیں ہونے دی (میری معلومات کے مطابق) حتی کہ پاکستان کو بچانے کے لیے اپنی قرارداد پر زور دیتے رہے۔ پھر ایسا کیا واقعہ ہو گیا کہ 15 دسبر کو آخری سانس تک لڑنےکا دعویٰ کرنے والی حکومت 16 دسمبر کو 90 ہزار فوجی بھارت کی تحویل میں دے بیٹھی؟ |
|
|
|
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان صاحب ۔۔
یہاں اس فورم پر آپ کس سے جواب مانگ رہے ہیں۔۔۔ جو اس سانحے کے ذمہ داراں تھے۔۔۔ وہ شا ید اب زندہ بھی نہ ہوں ۔۔۔ اور ہوں بھی تو کیا۔۔۔ ہمارے ہاں ۔۔۔ اس سے پہلے اس سطح پر کبھی احتساب ہوا ہے۔۔۔ کیا ؟ ۔۔۔ یہ تو ہم اپنا دل جلا رہے ہیں۔۔۔۔ تاریخ سے سیکھنا بہت اچھی بات ہے۔۔۔ مگر ۔۔۔ جب تاریخ الجھا و پیدا کردے تو پھرالجھنے کے فجائے آگے بڑھنا ہی بہتر ہوتا ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#54 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے ہی موضوع دیکھ کر میں نے سوچا شاید آپ میں سے کسی کو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سے دلچسپی ہو
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#56 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب بدر الزماں صاحب واقعی بھٹو کی تقریر تو عوامی تھی مگر جس حکومت کی وہ نمائندگی کر رہے تھے وہ عوامی نہیں تھی اور پھر پولینڈ کی قرارداد کو شاید سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان بچانے کے لیے تھی ہرگز نہیں اس میں بھی مشرقی پاکستان کو ایک خود مختار ریاست تسلیم کرنے کی بات کی گئی تھی۔اس کی تفصیل وسیم گوہر کی کتاب المیہ مشرقی پاکستان اور ذوالفقار علی بھٹو میں دیکھی جاسکتی ہے۔اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو بھٹو نے ڈھاکہ سے لاہور واپسی پر کہا تھا خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا مگر کیا پاکستان واقعی بچ گیا تھا؟ جواب واضح ہے۔
جالب نے اس دور میں کہا تھا: محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو Last edited by shafresha; 31-08-09 at 09:32 PM. وجہ: ایک حرف کی تصیح |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-08-09), نورالدین (03-12-10), حیدر (01-09-09), راجہ اکرام (01-09-09), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#57 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#58 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 665
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ لمبی لمبی باتیں بہت اچھی، مگر عملی زندگی کے لیے ایک سبق۔۔۔۔
اگر بطور قوم میں زندہ رہنا ہے اور اپنے بخیے حصے نہیں کروانے تو اسکی چابی "انصاف کی فراہمی" پر ہے۔ مولا علی علیہ السلام کا قول ہے کہ "معاشرہ کفر پر تو زندہ رہ سکتا ہے، ناانصافی پر نہیں۔" آج جب آپ مغرب کے کافرانہ معاشروں میں انصاف کا معیار دیکھیں تو آپ کو مولا علی علیہ السلام کے اس قول کی سچائی کا اندازہ ہو گا۔ ایک اور مثال کہ مشرف صاحب نے کراچی میں ایک گولی تک نہ چلائی مگر پھر بھی انکے 8 سالہ دور میں کراچی میں مکمل امن و امان اور ترقی کا دور دورہ رہا؟ تو مشرف صاحب کے پاس وہ کونسی جادو کی چھڑی تھی جس سے یہ معجزہ ظہور پذیر ہوا؟ جی، اس معجزے کا نام تھا "ضلعی حکومتی نظام" کہ جس کے بعد اہل کراچی کو پہلی مرتبہ انصاف میسر آیا اور انہیں محسوس ہوا کہ انکی تقدیر خود انکے ہاتھوں میں دی جا رہی ہے۔ اور اس سے قبل صفائی، پانی، اور ضلعی ترقی کے نام پر جو ٹیکس وہ ادا کیا کرتے تھے، اور جو سندھ کی صوبائی حکومت کے پاس ایسا جاتا تھا کہ کبھی پلٹ کر کراچی ہی نہیں آتا تھا، تو اس ضلعی حکومتی نظام نے اس سے جان چھڑائی۔ اگر واقعی ہمارے لیے 1971 کے سانحے میں کوئی سب سے بڑا سبق ہے، تو وہ یہ ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اگر یہ لعنت دور ہو گئی تو باقی لعنتیں خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی۔ |
|
|
|
|
|
#59 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,063
شکریہ: 26,778
3,501 مراسلہ میں 11,239 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو پھر اقبال نے جو علیحدہ وطن کا خواب دیکھا تو وہ کیا اپنی طرف سے بنائی گئی باتیں ہیں ۔ ویسے میں بھی یہی سمجھتا ہوں پاکستان کو بنانے میں حضرت اقبال کا ہاتھ نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے علیحدہ وطن کے بجائے ہمیشہ ملت کی یکجہتی کی بات کی ہے ۔ ان کی شاعری میں بھی اس ہی طرح کی باتیں ہیں ۔
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
|
|
#60 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک اور مثال کہ مشرف صاحب نے کراچی میں ایک گولی تک نہ چلائی مگر پھر بھی انکے 8 سالہ دور میں کراچی میں مکمل امن و امان اور ترقی کا دور دورہ رہا؟ تو مشرف صاحب کے پاس وہ کونسی جادو کی چھڑی تھی جس سے یہ معجزہ ظہور پذیر ہوا؟ مہوش جی آداب: مشرف دور میں کراچی میں کوئی گولی نہيں چلائی یہ بات آپ دل سے کہہ رہی ہیں یا ٹائم پاسیںگ کے لیے ؟؟؟؟ *کارساز میں کیا ہوا ؟؟؟ * وکیلوں کو زندہ کس نے جلایا ؟؟؟؟ یہ صرف مثال ہے پورے پاکستان مین خودکش حملے کس کے دور حکومت مین ہوئی وطن عزیز کی ماں،بیٹی، بھائی ، بیٹوں کو کس نے بیچا۔۔۔؟ مولا علی علیہ السلام زندہ ہوتے تو مشرف جیسے لوگوں کو اسی وقت پھانسی پر چرھادیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی آپ کی وہ بات بالکل تھیک ہے کہ پورپ والے اپنے ملک مین انصاف کی بناء پر امن سےرہ رہیے ہيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (03-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, گذارش, پوسٹ, پاک, پاکستان, پاکستانی, ڈاکٹرنور, لوگ, لمحوں, چین, نماز, نظر, محبت, مسجد, معذرت, آج, اللہ, امریکہ, اردو, اسلام, اشعار, بھائی, جواب, دل, سیر, شہر, شاعری, شعر, عالم, صفحات, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|