ذوالفقار علی بھٹو کی سیکورٹی کونسل میں تقریر۔ 15 دسمبر 1971
Zulfiqar Ali Bhutto-Security Council Speech (15th Dec 1971)
ذوالفقار علی بھٹو کی سیکورٹی کونسل میں تقریر۔ 15 دسمبر 1971
اسی کا ترجمہ اردو میں۔
"کل میرے گیارہ سالہ بیٹے نے مجھے کراچی سے ٹیلیفون کیا اور مجھ سے کہا کہ "پسپائی کے کاغذات کے ساتھ واپس مت آئیےگا"۔ "ہم آپکو اس طرح پاکستان میں دیکھنا نہیں چاہتے"۔ میں شکست کے کاغذات سیکورٹی کونسل سےنہیں لوں گا۔ میں جارحیت کو قانونی شکل دینے کا حصہ نہیں بنوں گا۔ سیکورٹی کونسل ناشائستہ اور شرمناک طریقےسے شکست خوردہ ہوئی ہے۔ چار دنوں سے ہم یہاں صلاح مشوروں میں مصروف ہیں، چار دنوں سے سیکورٹی کونسل اسکو غیرضروری طول دے رہی ہے " آخر کیوں؟"
کیونکہ مقصد ڈھاکہ کو توڑناہے۔ مقصد یہی ہے اور یہ مجھے شروع ہی سے بالکل صاف نظر آرہا تھا، ٹھیک ہے کیا ہوگا اگر ڈھاکہ توڑ دیا گیا؟، اور کیا ہوگا اگر مکمل مشرقی پاکستان توڑدیا گیا؟ کیا ہوگا اگر مکمل مغربی پاکستان توڑدیا گیا؟ کیا ہوگا اگر ہم سب کچھ صاف کردیں؟ ہم ایک نیا پاکستان بنائیں گے ہم ایک اچھا پاکستان بنائیں گے ہم ایک عظیم پاکستان بنائیں گے۔ سیکورٹی کونسل بالکل کم نظروں کی طرح برتاؤ کررہی ہے۔
کیا آپکو پتا ہے کہ آپ ایک ایسے نقطے پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہم بولیں گے " جومرضی میں آئے وہ کریں"۔ اگر اس سے پہلے کہ آپ سے اس نقطے پر پہنچیں ہم ایک معاہدہ کرسکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ "ٹھیک ہے ہم کچھ چیزوں کو کرنے کے لےتیار ہیں" لہذا اب کیوں "ہم"۔
کیا آپ ہم کو بندوقوں سے خاموش کروانا چاہتے ہیں۔ ہمارے آواز کو ہتھیاروں کے زریعے خاموش کروانا چاہتے ہیں۔ تو پھر کیوں ہم یہ بولیں کہ ہم آپ سے متفق ہیں کچھ کرنے کےلیے؟ اب آپ وہی کرنا چاہ رہے ہیں جو آپکی مرضی ہے۔ آپکا فیصلہ ہم کو باندھ نہیں سکتا۔ جو آپکی مرضی ہے وہی کریں؟ آپ کرسکتے ہیں کیوں کہ اگر آپ نے ہمارے لیےایک چھوٹی سی امید چھوڑی ہے ہم ہوسکتا ہے کہ پارٹی کی جگہ بنائیں۔
یہ میرے لیے اور میرے ملک کے لے انتہائی شرمدنگی کا باعث ہے اگر میں یہاں ایک لمحہ بھی غیرضروری ٹھرا۔ لیکن میں بائیکاٹ نہیں کررہا۔ زبردستی مسلط کرو!!! زبردستی مسلط کرو کسی بھی فیصلےکو۔ایسا بھیانک معاہدہ کرو جو ویرنالیعز کے معاہدے سے بھی بھیانک ہو۔
حملوں کو قانونی شکل دو، قبضوں کو قانونی شکل دو ان تمام چیزوں کو قانونی شکل دو جو14 یا 15 دسمبر 1971 سے پہلے تک غیر قانونی تھیں۔ میں معاہدہ نہیں کروں گا۔ ہم لڑیں گے، ہم واپس جاکر لڑیں گے۔ میرا ملک مجھے بلا رہا ہے۔ میں اپنا وقت یہاں سیکورٹی کونسل میں کیوں برباد کروں؟ میں جارہا ہوں ( کاغذ پھاڑتے ہوئے) "
ترجمہ بشکریہ : عرفان حیدر
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!