| 1971 اور مشرقی پاکستان ہمارا اس فورم کو شروع کرنے کا مقصد تاریخ کے اس افسوسناک اور دکھ بھرے حصے کو یاد رکھنا ہے جس کو اکثریت بھلا رہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 15 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | imran786leo (20-04-09), shafresha (15-04-09), slave of allah (29-07-09), فیصل ناصر (15-04-09), نورالدین (03-12-10), ملک بھائی (12-10-09), منتظمین (17-04-09), مرزا محمد فاروق (11-06-09), مرزا عامر (03-12-10), مسافر (08-07-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام غزل (17-04-09), راشد احمد (14-05-09), رضی (10-06-09), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() |
جناب ہم تو یہ کہیں گے کہ اگر کوئی تجزیہ کرنے والا انصاف سے تجزیہ کرے تو ۔۔۔۔۔؟
صاف نظر آتا ہے کہ عالمی سطح کی اس سازش میں پاکستانی سیاستدانوں سے لے کر بیوروکریسی بھی شامل تھی ۔ بنگالی آج بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ اگر مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کے ساتھ ظلم ہوا تو اسکی وجہ بھی یہی تھی کہ عوام اور فوج کو ایکدوسرے سے بدزن کیا جائے ۔ اور آخر کار اپنوں کی سازشوں نے کام دکھایا میں تو کہتا ہوں بنگلہ دیش بنانے والے 3 بڑے کردار تھے 1-بھٹو 2- مجیب الرحمن 3- اندرا گاندھی اللہ کی شان کے تینوں کا انجام بہت ہی المناک ہوا ۔۔۔۔۔۔۔؟ باقی کردار چاہے وہ فوج سے ہوں یا عوام سے انکو بے نقاب کر کے عبرت کا نشان بنایا جاتا ۔۔۔۔؟ ہم کو اب بھی کوشش کرنی چاہئے ۔۔۔؟ اگر دیوار برلن گر سکتی ہے تو پھر پاکستان اور بنگلہ دیش ایک کیوں نہیں ہو سکتے ۔۔۔؟ |
|
|
|
| مسافر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (14-08-09) |
|
|
#32 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
میری جان آج کے پاکستان اور بنگلہ دیش میں" بُعد المشرقین " ہے۔ دیوار برلن ایک شہر کے بیچوں بیچ کھڑی ایک دیوار تھی جبکے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے، ٹیکنکلی اب کسی بھی قسم کا ادغام مشکل ہی نہیںناممکن ہے! |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (14-08-09), رضی (14-08-09) |
|
|
#33 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں بدر صاحب سے متفق ہوں۔اور یہی سمجھتا ہوں کہمشرقی پاکستان کی علیحدگی میں سیات دان،فوج او ر بیورو کریسی سب شریک تھے بس میرا کہنا یہ ہے کہ قائد اعظم بھی سیات دان تھے کوئی خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر نہیں کہ غلطی نہ کر سکیں ۔اور وقاص صاحب جناب مطالعہ پاکستان تو بطور مضمون ضیائ الحق نے شروع کروایا تھا اور نظریہ پاکستان کا سیاسی استعمال یحیی خان نے کیا تھا ریکارڈ درست کریں۔
|
|
|
|
| نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (18-08-09) |
|
|
#34 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تاریخ ایک انتہائی بد قسمت مضمون ہے۔ ہمیشہ سے عوام کی ظرح یہ بھی بادشاہوں اور انکے حواریوں کے جبر کا شکار رہی ہے۔ ہر بادشاہ اپنے حواریوں کی مدد سے اپنی من مانی تاریخ لکھواتا رہا ہے۔جس میں وہ اپنئ اچھایاں ظاہر کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔ پاکستان کی ایک دوسری بد قسمتی یہ رہی ہے کہ ہر آنے والا نیا بادشاہ اپنے پیش رووں کے اچھے اعمال کے ساتھ ساتھ انکے برے کارنامے بھی چھپاتا ہے۔یہی المیہ پاکستان کی 1971 کی جنگ کے سلسلہ میں بھی ہے۔
ہماری نسل کے سامنے ادھوری تاریخ پیش کی جاتی ہے کہ جس میں صرف اور صرف بھارت کو قصور وار ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اپنا دامن بچا لیا جاتا ہے۔ تاہم سچائی چھپائے جانے کے باوجود مختلف جگہوں پر بکھری پڑی ہے۔ اور کوئی بھی عقل مند جذباتیت اور وطن پرستی کے تباہ کر دینے والے خیالات سے بالاتر ہو کر جب ان سچائیوں کا مطالعہ کرتا ہے تو حقیقت عیاں ہو کر سامنے ا جاتی ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ واپس آتا ہے یا نہیں ۔یہ کوئی اہم سوال نہیں۔ ہر وہ کہ جس تعلق مصطفوی دین سے ہے خواہ وہ چین میں رہتا ہو یا بھارت میں.....پاکستان میں رہتا ہو یا بنگلہ دیش میں ......امریکہ میئں رہتا ہو یا نیو گنی میں ۔....اسکا تعلق ایک ہی وطن سے ہوتا ہے اور وہ وطن اسلام ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ باوجود عوامی لیگ کی بھرپور پاکستان دشمنی اور بھارت نوازی کے ۔۔۔۔بنگلہ دیش آج بھی پاکستان سئے زیادہ نزدیک ہے اور بھارت سے بہت دور ہے۔ سرحدوں کا ایک ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ مسئلہ دلوں کا ایک ہونا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#35 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں پہلے بھی یہ بات کہیں کہ چکا ہوں کہ مسلماں قوم نہیں ۔۔۔ وطن اور جغرافیہ کی پابندی قوم کیلئے ہوتی ہے۔۔۔ مسلمان تو ایک ملت ہیں اور ملت جغرافیا ئی حدود کی پا بند نہیں ہوتی۔۔۔ ۔۔ |
|
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن حسن (23-08-09) |
|
|
#36 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,092
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم برادرم نہایت معذرت کے ساتھ جب علامہ اقبال نے یہ نظم لکھی تھی " سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا " اس وقت پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا ہندوستان ہی تھا 1938 میں علامہ اقبال کی انتقال لاہور میں ہوا تھا اور 1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا تھا علامہ اقبال کی طرف سے نظم کی غلط فہمی دور کر لیجئے والسلام |
|
|
|
|
|
|
#37 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ کنان بھائی
بہت خوب شاہد بھائی کو چاہئے اپنی اصلاح کرلیں |
|
|
|
|
|
#38 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
میرے بھائی کیا آپ یہ سجھ رہے ہیں کے میں اتنی بڑی تاریخی حقیقت سے ناواقف ہوں؟ ![]() میرے جواب کو سوال کے تناظر میں دیکھ کر سمجھنے کی ضرورت ہے، مجھے اُمید ہے کے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے! |
|
|
|
|
|
|
#39 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,092
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,387 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم بھائی صاحب
جو آپ نے نور صاحب کا پوسٹ کیا ہوا شعر کوٹ کر کے یہ شعر لکھا تھا اس تناظر کے حساب سے میں نے جو انفارمیشن دی وہ بہت ضروری تھی کیونکہ آپ ایک اکیلے نہیں بہت جگہ یہ سوال اٹھایا جاتا ھے کہ علامہ اقبال نے یہ کہا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا وہ اچھا مسلمان تھا اس نے یہ کیوں نہیں کہا کا سارے جہاں سے اچھا پاکستان ہمارا ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ھے کہ سوال کرنے والا خور کنفیوز ہوتا ھے جب اسے کوئی جواب نہیں مل رہا ہوتا اور جب اس کو جواب مل جائے تو پھر اسی طرح کرتا ھے کہ آپ نے میرا سوال نہیں سمجھا۔ تو اس کے لئے عرض ھے بھائی صاحب آپ کا یہ کہنا جس کو آپ تناظر کہ رہے ہیں آپ وہ اشو پورا کریں اور ہمیں سمجھانے کو آسان کوشش کریں۔ یہ کوئی بات نہیں ہوتی کہ ہم آپ کا تناظر سمجنے میں غلطی کی۔ آپ سب کچھ جانتے ہیں لیکن یہاں آپ اپنا منظر پورا بیان کریں تاکہ آپ کا موقف کیا تھا اس کو جاننے کا موقع ہمیں ملے۔ ہو سکتا ھے جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ ہم نہیں جانتے آپ کے موقف کا منتظر رہوں گا والسلام |
|
|
|
|
|
#40 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
میرا جواب اب بھی وہی ہے جو میں نے ڈاکٹر نور صاحب کو دیا تھا: "ڈاکڑ نور صاحب سلام، اقبال مرحوم تو "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" بھی لکھ گئے ہیں۔ دراصل اقبال محض ایک شاعر تھے، اللہ کے تنکوں میں سے ایک تنکا۔ قدرتِ الہیٰ نے مشیت الہیٰ کے مطابق اُن کا استعمال کیا اور بس۔ اُن کی شاعری میں رطب و یابس سبھی کچھ موجود ہے۔ ایک طرف علماءِ دین ہیں جو اقبالیات سے "مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاھی" پڑھتے ہیں تو دوسری جانب بائیں بازو کے مفکرین ہیں جو اقبالیات ہی کے ریفرینس کو لے کر امیروں کے کھیتوں کے تمام خوشانِ گندم کو جلانے کے درپے ہیں۔ اقبال ہمارے لیئے حجت نہیں! حجت صرف کتاب، اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عامتہ المسلمین و اھل الذکر ہیں۔ والسلام" |
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (04-11-10) |
|
|
#41 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقبال نے جو کہا کہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" اور یہ بھی کہ " آج کے خداؤوں میں بڑا خدا وطن ہے" دونوں ہی سچ ہیں اور عین اسلام کے مطابق ہیں ۔ ان میں کوئی تناقض یا Contradictionنہیں۔ ڈاکڑ نور اور سافریشہ بھائی درست کہہ رہے ہیں ۔ اگر کہیں تو میں وضاحت بھی کر سکتا ہوں۔
|
|
|
|
|
|
#42 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہل علم کی محفل میں مجھ نا چیز کے لئے لب کشائی کی جسارت چنداں مناسب نہیں لیکن
میرے خیال میں اقبال کی فکر ہمیشہ ایک سی نہیں رہی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے فکر اقبال تین ادوار سے گزری ہے، اس لئے مختلف طرح کی شاعری دیکھنے میں ملتی ہے میرے خیال میں اس طرح کے اشعار ان ابتدائی ایام میں کہے ہیں جب ان کی زندگی میں انقلاب نہیںآیا تھا زندگی کے آخری سالوں میں جو کہ ان کی فکری ارتقاء کا تیسرا اور آخری مرحلہ ہےاس میں اس طرح کی وطن پرستی کے اشعار نہیںملتے تب ان کی فکر جغرافیائی حدود سے ما وراء ہو چکی تھی لہذا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو شاید کنفیوژن دور ہو جائے لیکن اس کے باوجود یہ بات مسلم ہے کہ اقبال یا قائد اعظم ہمارے لئے معیار حق نہیں ہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#43 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ راجہ اکرام صاحب۔آپ نے درست کہا کہ اقبال کی شاعری ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اپنے عروج تک پہنچی اور آپکا یہ کہنا بھی درست ہے کہ اقبال یا قائد اعظم کے اقوال ہمارے لیے کوئی حجت نہیں ہیں۔ بہت کم لوگوں میں یہ بات کہنے کی جرات ہوتی ہے۔
تاہم میں پھر کہوں گا کہ اقبال کا نظریہ وطن اس نظریہ وطن سے بہت مختلف تھا جو آج ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اقبال کے دونوں اشعار کہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" اور "آج کے خداؤوں میں بڑا خدا وطن ہے" دونوں ہی عین اسلام کے مطابق باتیں ہیں۔ ان میں کسی قسم کا کوئی تناقض یاcontradictionنہیں۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (24-08-09) |
|
|
#44 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام دین فطرت کہلاتا ہے اور اسکا کوئی بھی حکم فطرت کے خلاف نہیں ۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جس جگہ وہ پیدا ہوتا ہے ۔ ۔۔ پلتا ہے۔ ۔ ۔ ۔بڑھتا اور اور پھلتا پھولتا ہے۔ ۔۔ ۔ کودتا اور کھیلتا ہے ۔ ۔۔ اس کے بچپن کے دن گزرے ہوتے ہیں ۔۔۔۔اس کو اس علاقہ سے ایک محبت ہوتی ہے۔ خواہ وہ علاقہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہوایک انسیت ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ نبئی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مکہ کے باسیوں نے بہت تکلیف دی حتیٰ کہ آپکو ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑ گیا۔لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے بہت محبت تھی اور آپ مدینہ کی بے سر و سامانی کے عالم میں بھی مکہ کو یاد رکھتے تھے اور جب ایک بار مکہ میں قحط پڑا تو آپ نے وطن کی محبت میں کفار مکہ کو غلہ بھی بھجوایا۔ قران کی کئی ایات میں اس محبت کی طرف اشارہ موجود ہے۔
اقبال کو بھی وہی محبت تھی اپنے وطن سے اور اسی فطری محبت کا اظہار انہوں نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کی صورت میں کیا ۔ ادھر دوسرے طرف انسان کے ساتھ ساتھ ہمارے اوپر ایک اور ذمہ داری بھی عاید ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ہم مسلماں بھی ہیں ۔ اسلام پوری دنیا کے لیے بھیجا گیا۔اور یہ ہماری ذمی داری بنائی گئی کہ ہم اس پیغام کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچا دیں۔ تو اسی لیے وطن کی محبت کو ایک خاص حد میں رکھا گیا تاکہ کہیں وطن کی محبت ہمکو اسلام کا پیغام باہر دنیا تک پہنچانے سے نہ روک دے۔ یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام نے باوجود اپنے وطن سے محبت کے ہزاروں میل کا سفر طے کیا اور ہندوستان، چین، سپین و یوروپ وغیرہ پہنچے اور وہیں وفات پائی۔ دوسری وجہ یہ بھی ہی کہ اسلام ہم کو جغرافیائی حدود سے نکال کر عالمی حدود میں لانا چاہتا تھا۔ اسی وجہ سے علاقائی رشتہ اخوت قائم نہیں کیا گیا بلکہ اسلامی رشتہ اخوت قائم کیا گیا۔ اور اسلام کو کسی خاص علاقہ کے بجائے پوری دنیا کا دین قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے سے قبل تک باوجود اس کے کہ ہر علاقہ میں مختلف مسلم حکمرانوں کی حکومت تھی ۔۔۔بلاد اسلامیہ میں داخل ہونے کے لیے کسی ویزہ یا اجازت کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ اور ہر مسلمان دوسرے علاقے کو اپنا علاقہ ہی تصور کرتا تھا اور کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہ کرتا تھا۔ اگر علاقائی قومیت کی بنیاد پر اسلام کی تقسیم ہو جاتی (جیسا کہ آج کل ہے)تو پھر مسلمان ایک جسد واحد نہ بن پاتے اور ملت اسلامیہ پارہ پارہ ہو جاتی۔ لیکن بد قسمتی سے اس دور میں کچھ نعرے اس طرح کے بھی لگے کہ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں اور انگریز کو یہ ملک چھوڑ کر چلے جانا چاہیے (کانگریس کے زیر اثر مسلمان) اسی نظریہ پر علامہ اقبال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "آج کے خداؤؤن میں بڑا خدا وطن ہے" " ہو جس کا یہ پیرہن ، ملت کا وہ کفن ہے" جس کا طلب یہی بنتا ہے کہ اگر آپ وطن کی محبت کو بڑہا کر اسکو ناروا حساب میں لے آئییں گے تو پھر ملت اسلامیہ ہی ختم ہو جائے گی۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#45 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان بھائی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، اور اسکے خلاف شریعت ہونے کا کوئی جواز نہیں، خود بنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مکے سے محبت ایک نمونہ ہے جیسا کہ آپ نے بھی ذکر کیا، اس لئے اگر اقبال نے یہ کہہ دیا کہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ تو اس میں کوئی قباحت نہیں، کیوںکہ اس وقت اقبال کا وطن ہندوستان ہی تھا۔ وطن کی محبت کے ساتھ ساتھ اسلام اور ملت اسلام سے محبت مسلمان کا شعار ہے، اور مطلوب یہ ہے کہ وطن کی محبت اس پر غالب نہ آئے کیوں کہ اسلام جغرافیائی حدود کا پابند نہیں، تو جب تک وطن کی محبت ملت اسلامیہ کے خلاف نہیں تب تک اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اقبال کی فکر میں ملت اسلامیہ کی عالمگیریت کا سبق ہمیں جا بجا ملتا ہے ، چین و عرب ہمارا ہندو ستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا ایک اور ہم بات یہ کہ علاقائی اور وطنوں سے محبت بجا لیکن سوچ علاقائی نہیں بلکہ آفاقی اور عالمگیر ہونی چاہیے، انگلش کا ایک جملہ ہے کہ think globally and locally لیکن جب بات اس کے برعکس ہو جائے صرف اپنا وطن ، علاقہ اور شہر ہی سوچ و فکر کا محور و مرکز بن جائے تو معاملات بگڑ جاتے ہیں ، تعصب جنم لیتا ہے پھر وطن کا پیرہن مذہب کا کفن بن جاتا ہے، آہستہ آہستہ یہ گھن کی طرح انسان، معاشرے اور قوم کو کھا جاتا ہے، شاید اسی جانب محسن احسان نے اشارہ کیا ہے کہ گھُن کی صورت یہ تعصب تجھے کھا جائے گا اپنی ہر سوچ کو محسن نہ علاقائی کر |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, گذارش, پوسٹ, پاک, پاکستان, پاکستانی, ڈاکٹرنور, لوگ, لمحوں, چین, نماز, نظر, محبت, مسجد, معذرت, آج, اللہ, امریکہ, اردو, اسلام, اشعار, بھائی, جواب, دل, سیر, شہر, شاعری, شعر, عالم, صفحات, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|