| 1971 اور مشرقی پاکستان ہمارا اس فورم کو شروع کرنے کا مقصد تاریخ کے اس افسوسناک اور دکھ بھرے حصے کو یاد رکھنا ہے جس کو اکثریت بھلا رہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 15 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | imran786leo (20-04-09), shafresha (15-04-09), slave of allah (29-07-09), فیصل ناصر (15-04-09), نورالدین (03-12-10), ملک بھائی (12-10-09), منتظمین (17-04-09), مرزا محمد فاروق (11-06-09), مرزا عامر (03-12-10), مسافر (08-07-09), ایس اے نقوی (10-08-09), ام غزل (17-04-09), راشد احمد (14-05-09), رضی (10-06-09), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن پاکستان کو تھوڑنے میں صرف بھٹا کا ہاتھ تھا ویسے بنگالی بھی کم نہ تھے
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (10-08-09) |
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (10-08-09) |
|
|
#18 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اقبال مرحوم تو "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" بھی لکھ گئے ہیں۔ دراصل اقبال محض ایک شاعر تھے، اللہ کے تنکوں میں سے ایک تنکا۔ قدرتِ الہیٰ نے مشیت الہیٰ کے مطابق اُن کا استعمال کیا اور بس۔ اُن کی شاعری میں رطب و یابس سبھی کچھ موجود ہے۔ ایک طرف علماءِ دین ہیں جو اقبالیات سے "مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاھی" پڑھتے ہیں تو دوسری جانب بائیں بازو کے مفکرین ہیں جو اقبالیات ہی کے ریفرینس کو لے کر امیروں کے کھیتوں کے تمام خوشانِ گندم کو جلانے کے درپے ہیں۔ اقبال ہمارے لیئے حجت نہیں! حجت صرف کتاب، اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عامتہ المسلمین و اھل الذکر ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | محمد نو ید (24-08-09), ایس اے نقوی (10-08-09) |
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے ضمننا علامہ اقبا ل کا ذکر کیا ۔ بطور حجت نہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ مسلمان قوم نہیں ملت ہے اور ملت وطن کی پا بندی سے ما وراء ہے۔ |
|
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (10-07-09) |
|
|
#20 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب سے پہلے تو اتنے دن غیر حاضر رہنے کی معافی۔ام طلحہ نے فرمایا ہے کہ دو قومی زبانیں ہوتیں تو اس وقت فتنہ پھیل جاتا جناب ایک اردو زبان رکھنے سے بھی فتنہ تو پھیلا اور 1948 میں پھیلا تو کیا ایک قومی زبان فتنہ روک سکی؟ اور آج کے بارے میں کیا خیال ہے جناب کا؟ جب سندھی قوم پرست،پنجابی قوم پرست،بلوچی قوم پرست،پختون قوم پرست اور دیگر قومیتیں صرف زبان کی بنیاد پر سیاست کر رہی ہیں ۔جناب اردو ایک قومیت یعنی یو پی۔سی پی کے رہنے والوں کی زبان تھی پاکستان جن علاقوں پر مشتمل تھا ان میں سے کسی قومیت کی زبان اردو نہیں تھی۔اور رہے قائد اعظم تو مادری زبان گجراتی ہونے کے باوجود ساری زندگی انگریزی بولتے رہے۔بنگالوں نے ہی قرارداد پاکستان پیش کی تھی وہ کیس پاکستان کے خلاف ہو سکتے تھے۔کوئی بتا سکتا ہے کی آرمی آپریشن شروع ہونے سے پہلے بنگالیوں نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا؟اور میں یہی تو کہ رہا ہوں کہ ہمارے حکمران ناعاقبت اندیش تھے انہی کی حماقتوں کی وجہ سے بنگالی ہم سے متنفر ہوئے۔ہم کسی کو نظر سے گرانے کی بات نہیں کر رہے بلکہ اپنے بزرگوں کی سیاست کا جائزہ لے رہے ہیں اور جہاں ہمیں لگتا ہے انہوں نے غلط کیا ہمیں تنقید کا حق ہے یہ ہستیاں مقدس نہیں ہیں جن کا کیا ہوا ہر کام اللہ کے فرمان کے مطابق ہو ان سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہمیں اس کا جائزہ لینے کا پورا حق ہے۔
Last edited by نوشاد احمد; 10-08-09 at 12:32 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-08-09), ایس اے نقوی (10-08-09) |
|
|
#21 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اشفاق بھائی سلام،
آپ کی بات کسی حد تک صحیح ہے! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (11-08-09) |
|
|
#22 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگریہ کہا جائے کہ پوری بنگالی قوم پاکستان کے خلاف ہو گئی تھی تو یہ مبالغہ آرائی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ بنگالی قوم کی اکثریت پاکستان کے خلاف ہو گئی تھی تو یہ بھی غلط بیانی ہو گی۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ بنگالی پاکستان کے خلاف کچھ وجوہات کی بنا پر ہو گئے تھے۔تاہم بنگالیوں کی اکثیریت پاکستان سے ویسے ہی محبت کرتی تھی جیسے پنجابی،سندھی،بلوچ یا پٹھان۔ اس بات کی دلیل پاکستان کی ایک طاقتور جماعت کے سربراہ اور مشہور عالم دین سید مودودی کی بات سے دے سکتا ہوں کہ جو ایک کتاب "استفسارات" میں 1973 میں چھپی ۔ یاد رہے انکی جامعت کی ذیلی تنظیم "البدر" اور"الشمس" نے 1971 میں پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ مکتی باہنی کے خلاف جنگ کی تھی۔اس لیے انکی بات کسی بھی مغربی پاکستانی سکالر' کہ جو گھر بیٹھے تبصرہ کرنے میں ماہر ہوتے ہیں' سے زیادہ موقر سمجھی جا سکتی ہے۔
سوال یہ اٹھ سکتا ہے کہ پھر آخر 1971 میں سقوط ڈھاکہ کیوں ہو گیا اگر بنگالیوں کی اکژیت پاکستان کے خلاف نہیں تھی تو؟ تو جناب جب اقلیت منظم ہو،اس کے پاس جدید ہتھیار ہوں اور پوری منصوبہ بندی ہو، جبکہ انکے مقابل اکثریت غیر منظم اور بکھری ہوئی، بغیر ہتھیاروں کے، اور بغیر منصوبہ بندی کے، لیڈر مد ہوش اور بے حیا ہوں تو اقلیت باآسانی اکثریت کو چت کر سکتی ہے ۔اور یہی مشرقی پاکستان میں ہوا۔ یاد کیجے کہ بلوچستان میں جاری آزادی کا بڑے سے بڑا جلسہ صرف ہزاروں تک محدود رہا اور وہ بھی نہ جانے کہاں کہاں سے اکھٹے کیے گئے۔ ۔ ۔ اگر باقی بلوچ بھی آزادی چاہتے ہیں تو یہ جلسہ لاکھوں کا کیوں نہیں ہو سکا؟ صرف اسی لیے کہ بلوچوں کی بڑی اکثریت آج بھی پاکستان سے محبت کرتی ہے۔ لیکن بے بس اور غیر منظم ہے جبکہ وہ چند لوگ تیزی سے منظم اورجدید ہتھیاروں سے لیس ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس بات کو تو آپ الگ کر دیجیے کہ بنگالیوں کی اکثریت پاکستان سے نفرت کرتی تھی۔ ہاں اگر کوئی پروپیگنڈہ پر زیادہ اعتبار کرنا چاہتا ہے تو اسکی مرضی۔ اب میں آتا ہوں دوسری بات کی طرف۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج اگر کوئی یہ کہہ دے کہ پاکستان کی موجودہ صرت حال کی ذمہ دار پاکستان کی انتظامیہ نہیں بلکہ صرف غیر ملکی سازشیں ہیں تو اسکی عقل پر ماتم ضرور کران چاہیے۔ چنانچہ ہم آج کی صورت حال کے تجربہ کو جب 1971 کے سقوط ڈھاکہ پر اپلائی کرتے ہیں تو حقیقت روز روشن کی طرح سامنے آ جاتی ہے۔
مگر یہ سانحہ صرف ایک دن میں ہی رونما نہیں ہو گیا۔ آخر کچھھ نہ کچھ تو عوامل تھے کہ جنہوں نے اس اقلیت کو سر اٹھانے کا موقع دیا۔اگر ہم اس اقلیت کو کہ جو پاکستان مخالف تھی صرف 20 پرسنٹ بھی تصور کر لیں تو بھی یہ ایک بہت بڑا حصہ بنتا ہے۔آخر کیوں یہ سانحہ ہوا؟ اتفاق کہ لیں کہ اس وقت کے پاکستان میں سیاسی طور پر سب سے زیادہ با شعور قوم خود بنگالی ہی تھے۔ اور لٹریسی ریٹ میں آگے۔بد قسمتی سے غربت میں بھی ہم سے آگے۔جب تعلیم اور غربت اکھٹی ہوتی ہے تو اگر خوشحالی لاتی ہے تو تباہی کے چانسز بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے آگاز میں ہی قائد کی تقریر کا تنازعہ کھڑا ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن کچھ بیماری۔ ۔ ۔ کچھ مہاجرین کی آمد۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر 1948 کی جنگ کشمیر نے انکو مہلت نہ دی کہ اس تنازعہ کا سد باب کر سکتے ۔لیکن مزید بد قسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں کالے انگریزوں کا اضافہ ہو گیا۔یہ کالے انگریز خود مغربی پاکستانوں کو حقیر سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ مزرقی پاکستانی تو کجا۔ ان کالے انگریزوں کے نزدیک معاہدے،کسی کی عزت نفس وغیرہ کوئی اہمیت کی حامل نہ تھی۔ اس کی مثال بلوچستان میں پہلی فوجی کاروائی، سردار نوروز خآن کے ساتھ قرآن پر صلح کے بعد اس کو پھانسی لگا دینا،وغیرہ جیسے واقعات۔ انہی عاقبت نا اندیشوں نے بنگال میں ابلتے طوفان کو مزید بڑھاوا دیا اور تماما بیوروکریسی مغربی پاکستان سے لگائی۔ کھیت ہم نے بویا ۔ ۔ ۔ ۔ تو فصل بھی ہم کو کاٹنی تھی۔بھارت کے لیے سنہری موقع تھا 1965 کی جنگ کا انتقام لینے کا۔اس نے 65 کی جنگ کے بعد سے ہی مشرقی پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کر دی تھی۔ مکتی باہنی اسکی سب سے بڑی مثال تھی۔ بھارت نے پاکستان کی ہر غلطی کو عوام کے سامنے پاکستان کی زیادتی بنا کر پیش کیا۔ حتیٰ کہ 1970 کے الیکشن آ گئے۔ مجیب خان جیت گیا ادھر پیپلز پارٹی کا بھٹو جیت گیا ۔ حق مجیب کا تھا کہ حکومت بنانے دی جاتی اور یہ پاکستان کو بچانے کا آخری موقع خود قدرت نے فراہم کیا تھا۔ اگر پاکستان کی حکومت اس کو دے دی جاتی تو شاید آج ہم ڈھاکہ ویزہ لے کر نہ جا رہے ہوتے۔ بھٹو صاحب نے فرمایا "کہ جوممبر ڈھاکہ جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا" اوریحییٰ سے ملی بھگت کر کے مجیب کو گرفتار کروا دیا۔ اس حرکت سے ہم نے وہ دروازہ بھی بند کر دیا کہ جس سے شاید بچنے کوے کوئی چانسز پیدا ہو جاتے۔ شراب کے نشے میں دھت یحییٰ خان ملک کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے جا رہا تھا اور اسکی عقل کام نہیں کر رہی تھی۔ مارچ 1971 میں مشرقی پاکستان میں آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ مکتی باہنی تب تک عوام الناس میں اپنی کمین گاہیں مضبوط کر چکی تھی۔بھارت کی مدد موجود تھی۔ بھارت نے ایسی جھوٹی ویڈیوز تیار کر کے بار بار میڈیا پر اور مشرقی پاکستان کے عوام میں تقسیم کیں کہ جن میں دعوای کیا گیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے بنگالی عورتوں کی اجتماعی زیادتی کی۔ بار بار کی ان ویڈیوز نے عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دی۔ مشرقی پاکستان میں سول نا فرمانی کی صورت حآل تھی۔ کہ اس پر جلتی پر تیل ہٹلرِ پاکستان جنرل نیازی نے ڈالا۔اس نے کہا کہ "ہم کو عوام نہیں ۔ ۔ ۔ بلکہ زمین چاہییے"۔ خاموش اکثریت اس قدر کنفیوز ہو چکی تھی کہ اسکی سمجھ سے باہر تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ مکتی باہنی اور افواج پاکستان کی آپس میں جھڑپیں ہونا شروع ہو گئیں۔جس کے نتجیے میں ایک بہت بڑی ہجرت (بقول انڈیا) انڈیا کی طرف ہوئی۔ انڈیا نے اس کا واویلہ مچانا شروع کر دیا۔ انڈیا نے مظلوم بنگالیوں کی مدد کے لیے مغربی پاکستان کی ناکہ بندی کر کے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ اندرونی خلفشار سے پریشان۔ ۔ ۔ عوام کی مدد کے بغیر ۔ ۔ ۔ ۔ مجبور پاکستانی افواج اپنی پوری جان لڑا دی۔ انڈیا باوجود کوشش کے مشرقی پاکستان پر قبضہ نہ کر پا رہا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے پولینڈ کی قرارداد کو نہ جانے کیوں ذوالفقار علی بھٹو نے پھاڑ ڈالا۔تاریخ شاہد ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو نہ جانے کیوں مغربی پاکستان کے باسیوں کو بے خبر رکھا جا رہا تھا۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ جب پاکستان کی افواج مکمل طور پر گھیرے میں آ چکیں تھیں تو مغربی پاکستان کے عوام کو سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد کے ترانے سنائے جا رہے تھے۔ جو وقت قوم کے باہر نکلنے کا تھا اس وقت قوم کو گھروں میں محصور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پاکستانی افواج کے حوصلے سر بلند تھے۔اس بات کی بھی تاریخ شاہد ہے۔ اور جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ شیر جرنیل جنرل نیازی نے پاکستانی افواج کے غیور جوانوں سے دھوکے سے ہتھیار ڈلوائے تھے۔ یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو جیت گئے۔ ہم ہار گئے۔ اس شرمناک موقع پر کہ جب اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی شکست ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ سب سے بڑی اسلامی فوج گھیرے میں آ چکی تھی ۔ ۔ ۔ لاکھوں پاکستانیوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مغربی پاکستان کے عوام کو خوشخبری سنا رہے تھے کہ پاکستان بچا لیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ 90 ہزار فوجی گرفتار کر لیے گئے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ تو ہونا ہی تھا
کشتہ شوند مسلماں افتاں شوند خیزاں از دست نیزہ بنداں یک قوم ہندوآنہ نعرہ اسلام بلند شد بستدستہ ادوار چرخ باد ازاں بار دگریک کہرشاں پیدا شود شہر عظیم باشد اعظم ترین مقتل صد کربلا چوں کربل باشد بخانہ خانہ رہبرز مسلماناں در پردہ یار آناں امداد دادہ بشداز عہد فاجرانہ مسلمانوں کی تقدیر لکھی جاچکی ہے
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-08-09), ایس اے نقوی (11-08-09) |
|
|
#25 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صرف زبان کو ہم وجہ ناچاقی نہیں کہ سکتے۔ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں تھا کہ اس پر گھر جدا کر لیے جاتے۔
قائد اعظم نے اگر کچھ کہہ بھی دیا تھا تو وہ کوئی حدیث تو نہ تھی کہ اس سے ہٹ کر کچھ نہ سوچا جاتا۔ وہ قائد اعظم کی اپنی ایک خواہش تھی، قائد اعظم کی خواہش تو بلوچستان کو صوبہ بنانے کی بھی تھی۔ لیکن بلوچستان کو صوبہ تو 1971 سے پہلے نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح اگر قائد کی تجویز اگر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہو رہی تھی تو بدل دیتے۔ بھیا قائد کے کہنے پر کونسا اس ملک کی قومی زبان اردو بن گئ؟ِ اس لیے میں نہیں سمجتا کہ اسمیں قائد کا ایک ذرہ برابر بھی قصور۔ ہاں انکا ایک قصور ضرور ہے کہ وہ اتنی جلدی چل دیئے اس دنیا سے۔ پاکستان کی بیوروکریسی، افواج کی ہائی کمان، اور اس وقت کے سیاست دان سبھی شریک جرم ہیں اس کے،۔ پاکستانی عوام کا بھی حصہ بنتا ہے کہ آخر کیوں ایسے لیڈرز لاتی ہے کہ جن کو ملکی سلامتی کا خیال ہی نہیں ہوتا۔ یہ ہم عوام ہی ہیں کہ جو برادری اور خاندان اور قوم کی بنیاد پر ووٹ دے کر ایسے افراد کو حکمران بناتے ہیں جو ملکی حمیت سے عاری ہوتے ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#26 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
میرے خیال میں قائد کی تجویز بہترین تھی مسئلہ یہ ہے کہ اس پر بیوروکریسی نے عمل نہیں کیا۔ اور میری نظر میں لسانی مسئلہ کا حل نہ ھونے میں قصور بیوروکریسی کا زیادہ اور کچھ حد تک بنگال میں موجود ہندو اساتذہ کا ہے |
||
|
|
|
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (22-08-09) |
|
|
#29 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
تاریخ کے خونی اور بے رحم صفحات تو ہمیشہ ویسے ہی رہیں گے۔ سچ تو آخر سچ ہے نا! |
|
|
|
|
|
|
#30 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,433
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,996 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اصل میں یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔ تلخ حقائق سے ابھی حقیقی سامنا نہیں ہوا ہوتا۔ مجھے یاد ہے ہم بھی اسی طرح جذباتی ہوا کرتے تھے۔ اور جب حقیقت سامنے آئی ہمارے آئیڈیلز کی تو بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔ تاہم اللہ سنبھالنے والا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ جس قدر بدنما ہے اسی قدر ہمارے پاکستان کی بھی۔ مگر آپ نے درست فرمایا کہ ہمارا "مطالعہ پاکستان" یا "مطالعہ اسلام" بیوروکریسی کے فراہم کردہ لٹیریچر پر ہوتا ہے۔ تاہم ہمارا فرض ہے کہ آج کے نوجوانوں کے سامنے آہستہ آہستہ "تصویر کا دوسرا رخ " بھی لاتے رہے ہیں تاکہ وہ لوگ کسی جذباتی دھچکے سے بچ سکیں۔ ورنہ میں نے اپنے ایک پنجابی دوست کو دیکھا ہے کہ جب سے وہ اپنی کاوشوں سے چند بد نام گوشوں سے آگاہ ہوا تب سے ہی وہ پاکستان سے بد زن ہو گیا۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔آمین
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کنعان, گذارش, پوسٹ, پاک, پاکستان, پاکستانی, ڈاکٹرنور, لوگ, لمحوں, چین, نماز, نظر, محبت, مسجد, معذرت, آج, اللہ, امریکہ, اردو, اسلام, اشعار, بھائی, جواب, دل, سیر, شہر, شاعری, شعر, عالم, صفحات, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|