وطن کی محبت
وطن کی محبت
اپنی زمین سے کسے پیار نہیں بے شک ہر محبِ وطن کو ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ بلکہ ہمارے ملک کے ڈگری ہولڈر بے روزگار نوجوان اکثر نوکری نہ ملنے پر ہر در سے مایو س ہو کر اکثر جنجلاہٹ میں یہ بول پڑتے ہیں کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے سوائے غربت بےروزگاری بدامنی مہنگائی کے لیکن اگر ایک پل کے لیے ہم سوچیں اور ارض پاک وطن کی
ٹھنڈی ہوا میں سانس لیں تو اس بات کا جواب مل جائے گا اس ملک نے ہمیں دی ہے آزادی اور آزادی کی قدر کیا ہے کوئی پنجرے میں بند پنچھی سے پوچھےکسی جیل میں بند قیدی سے پوچھیں افریقہ کے ان سیاہ فام انسانوں سے پوچھیں جن کی عزتِ نفس کو بہت سالوں تک انگریز کچھلتے رہے۔ لیکن ہمیں قدر کیوں ہو آزادی کی ہم تو آزاد پیدا ہوئے ہم نے ایک آزاد ملک میں آنکھ کھولی یقین مانیں ہمیں اپنی آزادی کی قدر نہیں ہے ہم مسلمان ہیں شکر الحمدللہ ایک آزاد ملک میں رہ رہے ہیں اگر ہم انڈیا میں موجود مسلمانوں کے بارے میں سوچیں کہ کس کرب اور اذیت میں وہ جی رہے ہین یہ تو وہی جانتے ہیں ہم اگر یہ سوچیں کہ ہم نے اپنے وطن کو کیا دیا اس آزادی کے بدلے تو شاید ہمارے پاس جواب نہیں ہو گا کیا ہم نے ملک کی بقاء کے لیے کوئی قربانی دی ہے ؟ کیا ہم نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا کیا ہے؟ ”شاید نہیں“ ابھی دیر نہیں ہوئی ہم ایئر فورس کا پائلٹ بن کر یا
پاکستان آرمی کا سپاہی بن کر دشمن کی جان لے بھی سکتے ہیں اور وقت پڑنے پر جان دے بھی سکتے ہیں ضرورت ہے آج اُسی جوش اور ولوے کی جو ہمارے نشانِ حیدروں کے پاس تھا ہم ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان ، جرنلسٹ بن کر بھی اس ارض پاک کا قرض ادا کر سکتے ہیں۔ آج ہمارے ملک کو پھر میجر عزیز بھٹی، راشد منہاس، اور ایک نئے ڈاکٹر عبدالقدیر ایک نئی فاطمہ جناح ایک نئے لیاقت علی خان کی ایک نئے سرسید احمد خان کی ضرورت ہے!
میری طرف سے میرے تمام ہم وطن بھائی بہنوں کو آزادی کا جشن مبارک ہو!
Last edited by مباح; 03-08-09 at 04:51 PM.
|