واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


جشن آزادی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-07-09, 10:04 PM   #1
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جشن آزادی

جشن آزادی

منقولہ مشوہر ہے کہ انگریز سو سال پہلے کی سوچتا ہے تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑائیں آپ کو کوئی شک نظر نہیں آئے گا بر صغیر پاک وہند پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں جب انگریز نے قدم جمانے شروع کئے تو انکے پیش نظر تین بڑے مقاصد تھے برصغیر کے وسائل پر قبضہ کر کے یہاں پر رہنے والی قوموں کو غلامی کی زنجیریں پہنا کر ان پر حکومت کرنا اپنی تعلیم کے زریعے ایسے لوگ پیدا کرنا جو مسلمان اور ہندو ہونے کے باوجود بھی ذہنی طور پر انگریز ہوں انگریزیوں کو اپنے مقاصد کے حصول کےلئے جس قوم سے سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ مسلمان تھے مسلمانوں نے ٹیپو سلطان اور حیدر علی کے روح رواں بن کے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے شیطانی سیلاب کو روکنے کی ہر ممکن ہوشش کی اور انگریزوں کے خلاف آواز حق بلند کی جبکہ برصغیر کی دوسری قوم ہندو نے مسلمانوں کے خلاف ہر مرحلے پر انگریز کا ساتھ دیا یہی وہ حقائق تھے جن کی بناء پر انگریز نے آغاز ہی میں یہ بات محسوس کر لی تھی کہ برصغیر کے مسلمان اپنے عقائد جان دار روایات اور اسلامی تعلیمات کی بنا پر غلام نہیں بنائے جا سکتے اور اگر وہ عارضی طور پر چالاکی و عیاری کے زریعے غلامی کی زنجیر مین جکڑ بھی دیئے جائیں تب بھی ان میں خوئے غلامی پیدا نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایک مسلمان مفتوح بننا اپنی مومنانہ غیرت و حمیت کے منافی سمجھتا ہے یوں ان حالات کے پیش نظر انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کےلئے کئی برسوں کے مسلسل غور و فکر اور سوچ و بچار کے برصغیر میں ایسا نظام تعلیم رائج کیا جو افراد کےلئے انگریز کی غلامی کا زریعہ بنا
1835ٰ میں لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام کے نام نافذ‌ہونے والے اس نظام تعلیم کے جو اہم خدو خال تھے ان مٰں سر فہرست یہ بات شامل تھی کہ اس نظام تعلیم سے حقیقی اسلام کی تصویر مسخ کر کے غیر محسوس طریقے سے لادینیت کو فروغ دیا جائے گا اسلامی مدارس کے تحت ملنے والی اسلامی تعلیم کا گلا گھونٹا جائے گا لارڈ میکالے کے اس نئے نظام تعلیم کے فروغ کےلئے انگریز نے نوکری کا چکمہ دیا برصغیر میں یہ اعلان کیا کہ ملازمت کے دروازے ان افراد کےلئے کھلے ہیں جو ہماری نئی تعلیم سے آراستہ ہوں گے خود میکالے نے بھی اس موقع پر اپنی پالیسی کا مقصد صاف اور واضح انداز میں یوں بیان کیا
اس زریعہ تعلیم سے ایسی نسل تیار کرنا ہے جو دیہی آبادیوں کےلئے مارے افکار و نظریات کی ترجمان ہو جو رنگ و نسل کے اعتبار سے بلا شبہ ہندوستانی ہو مگر فکر و نظر اور سیرت و اخلاق کے لحاظ سے خالص انگریز ہو انہیں نظریاے کے پیش نظر انگریز نے اس خطے میں ایسا نظام تعلیم رائج کیا جو اسلام اور مسلمانوں کےلئے زہر قاتل کا سبب بنا عیسائیت کے پرچار کےلئے بے حد موزوں ثابت ہوا چونکہ اس خطے میں انگریز کے عزائم کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اسلام اور مسلمان تھے اس لئے ان کا زیادہ تر ہدف بھی مسلمان ہی بنے

قیام پاکستان میں دو قومی نظریہ ایک مخصوص اہمیت کا حامل ہے اس نظریے کے مطابق ہندو اور مسلمان دو جداگانہ حیثیت کی حامل اقوام تھیں مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے ایک جداگانہ تشخص اور تہزیب کے مالک ہیں اور ان دونوں کے نظریات میں زمین و آسمانن کا فرق ہے اپنی مذہبی روایات کے حوالے سے بھی یہ دونوں یکجا نہیں ہو سکتے ظاہر ہے کہ اسلام کا اپنا خاص‌نظریہ اور عقیدہ ہے اسلئے مسلمانان ہند نے یہ اعلان کر دیا کہ انکا مخصوص‌فلسفہ مذہب و اخلاق ہے جسے عملی طور پر نافذ کرنے کےلئے ایک علیحدہ خطہ زمین ہونا ضروری ہے جو اسلامی ریاست کہلائے اور دوقومی نظریہ کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ یہ تو ازل کا قانون فطرت بن کو موجود رہا ہے کبھی نیکی اور بدی کی صورت میں ظاہر یہ کہ دو مخالف قوتیں کبھی یکجا نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خواص اختیار کر سکتی ہیں
1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان جس طرح ہر شعبہ زندگی میں پیچھے دھکیلے گئے اور انکا استحصال کیا گیا اسکے خاتمے کےلئے برصغیر کے سرکردہ مسلم راہنمائوں نے مسلمانوں کے قومی تشکر کو ابھارنے کی انتھک کوششیں کیں علامہ اقبال نے اپنے ولولہ انگیز شاعری سے مسلمانوں کو فکر حریت ،قومی حمیت ،اخوت اور مساوات کا پیغام دیا اور ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا بو رنگ و نسل اور وطن کی بنیاد پر نہین بلکہ ایک خاص نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی۔

14 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا مگر قیام پاکستان کے مقاصد کے مخالفوں نے محلاتی سازشوں کے زریعے نہ ملک میں‌آئین بننے دیا ور نہہ ہی زندہ قوم کا قانون بلکہ اپنے‌آقا کے اشارے پر اسلامی نظریاتی مملکت کی تجربہ گاہ کی بجائے پہلے سے جاری غلامی اور فرسودہ قوانین کو قوم پر آزمایا کبھی سول بیوروکریسی اور کبھی مارشل لاء کے زریئعے اس اسلامی نظریاتی مملکت کے تشخص کو نقصان پہنچایا اندرون خانہ اور بیرون خانہ سازشوں کے اسیے جال بنے گئے کہ دنیا کی سب سے بڑی مملکت دولخت حصے کو نہ صرف الگ کرنے میں دشمنوں کی مدد کی بلکہ ایک لاکھ کی تعداد میں کیل کانٹے سے لیس ہوتے ہوئے بھی دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر نہ‌صرف مسلم امہ بلکہ قوم کے ماتھے پر کلنک کا ایسا ٹیکہ لگایا جس کی مثال نہیں ملتی
ایام پاکستان کےلئے کتنے لوگوں نے جام شہادت نوش کیا کتنے بچوں نے نیزے کی انیوں پر چڑھ کر اور عورتوں نے اپنے سہاگ لٹائے لاکھوں مسلمان مہاجر بنے ہنستے بستے گھر اجڑے خون کی ندیاں بہیں عورتوں کو اغوا کیا گیا مال و زر کو بیدردی سے لوٹا گییا قافلوں کے قافلے تہہ تیغ ہوئے مال ومویشی چھین لئے گئے یہاں تک کے مسلمان گھرانوں میں پڑا ہوا شام کا کھانا کھانے تک کی مہل نہ دی گئی ہندو اور اسکی دم چھلا سکھ قوم نے قیام پاکستان کے دوران جی بھر کے دل کی بھڑاس نکلای انکے ظلم اور بربریت کا نشانہ بننے والے ہی قیام پاکستان کی حقیقتوں سے واقف ہیں تاریخ کے اوراق ظلم و جبر کی ایسی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں اگست 1947ء میں ہندو اور سکھوں کے ظلم و جبر کی مثال نہیں ملتی
مگر آج ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملے گا نسلی ،لسانی اور علاقائی تعصبات کو
سرکاری سرپرستی میں فروغ ملا ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی
ملکی ثقافت پر اغیار کی چھاپ نظر آتی ہے
اسلامہ روایات کو دقیانوس قرار دے کر پس پشت ڈالا جا رہا ہے
فحاشی ،عریانی اور بے ودگی کو فیشن کے طور پر اختیار کر کے فخر محسوس کیا جا رہا ہے
امریکہ اور مغرب کی ایما پر ملکی قوانین کو بدلا جا رہا ہے
جدت پسندی کی نام نہاد لہر پیدا کی جا رہی ہے
ماٹو جاہد فی سبیل اللہ کا علم تھامنے والے ملکی دفاع کے نام پر نہ رف روٹیاں توڑ رہے ہیں بلکہ دشمنان اسلام کے آلہ کار بن کر مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں
دہشت گردی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو پس زنداں کر رہے ہیں
اللہ کا نام لینے والوں پر اسلامی مملکت کی زمین تنگ کی جا رہی ہے
اصلاح کے نام پر بے ہودی اور لغو نظریات پھیلائے جا رہی ہیں نہ سرف سقو کابل اوت بغداد ان جلادوں کی ریشہ دوانیوں کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے
کیا یہی دو قومی نظریہ کے مقاصد تھے؟
ہر گز نہیں
ہر گز نہیں
کیا اسی لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
ک بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

بشکریہ حروف ۔کام تحریرمحترمہ قرۃ العین شفقت اٹلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میرے کچھ الفاظ

دوستوں مذکورہ تحریر کا حوالہ دے دیا گیا ہے اور اعلی حکام سےمشورہ کے بعد پوسٹ کی گئی ہے اور دوستوں
مذکورہ تحریر کے بعد بہت سے سوالات ذہن میں آئے گے
عرض صرف یہ ہے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہورہا ہے کب تک ہم اپنے وطن میں جاری خون کی اس ہولی کو دیکھتے رہے گے آج اس قوم کے نوجوان باشعور ہیں پڑھے لکھے ہیں عقل و شعور رکھنے والے نوجوان باصلاحیت ہیں اور ملک میں جاری صورتحال سے بخوبی وقاف ہیں آج اس قوم کو پھر سے تحریک کی ضرورت ہے دوستوں 14 اگست کا دن آپ کو مجھ کو یہ احساس دلاتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ دیکھو مجھے دیکھو کس طرح آپ کے بڑے بزرگوں نے خون دے کر مجھے حاصل کیا تھا
اے نادان قوم دیکھ کہ مجھے حاصل کرنے کےلئے نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری ہوئی
کم سن شیر خوار بچوں کی گردنوں کو جسموں سے الگ کر دیا گیا ان کے جسم کو درمیان سے چیر دیا گیا
خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے بزرگوں کو زندہ جلا دیا گیا اے قوم وہ وقت یاد کر جب میرا پرچم زمین پر گرنے لگتا تھا تو نوجوان تو نوجوان ضیعف العمر شخص‌بھی گرتا پڑتا مجھے زمین پر گرنے سے قبل تھام لیتا تھا اور آج انہی بزرگوں کی تم اولادیں ہو جو مجھے بڑے فخر کے ساتھ صبح صبح گھروں کی چھتوں پر گلیوں بازاروں میں پیار سے سجاتے ہو اور شام تک مین تم لوگوں کے پیروں تلے روندا جاتا ہوں دوستوں پاکستان کی پرچم ہم سے کہتا ہے خدارا میری قدر کرو میں نہیں چاہتا کہ مجھے پرھ سے وہ خون کی ہولی دیکھنی پڑے
میرے سامنے پھر سے وہ مناظر ہوں
دوستوں آج پاکستان کو ہماری ضرورت ہے اسکی اہمیت کو جاننا ہم سب کا فرض ہے ہم لوگوں کی سوچ اب یہ بن چکی ہے کہ جو مرضی ہوجائے بیرون ملک جا کر مزدوری کرنا ہے اکثر وبیشتر محفلوں میں یہ لفظ سنا جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا یار کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا ہم 14 اگست کے دن بڑی خوشی کے ساتھ جھندیاں لگاتے ہیں گاڑیوں پر پرچم لگاکر بازروں میں گھومتے ہیں شہروں میں چراغاں کرتے ہیں اور پھر شام تک وہی پرچم وہ ہی جھنڈیاں مارے پیروں تلے روندی جاتی ہے یہ دیا ہے ہم نے پاکستان کو
خدا کے لئے جشن آزادی کا مطلب سمجھیں وہ نہ ہو کہ پھر سے تاریخ دہرائی جائے

اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین
دوستوں تحریر مکمل ہو چکی ہے اور 14 اگست کی مناسبت سےلکھی گئی ہے شکریہ

Last edited by ایس اے نقوی; 31-07-09 at 04:52 PM.
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-07-09), فیصل ناصر (08-08-09), منتظمین (31-07-09), محمدعدنان (31-07-09), wajee (31-07-09), yashaka (07-08-09), خرم شہزاد خرم (31-07-09), رضی (07-08-09)
کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
07-08-09 رضی اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین 150
پرانا 30-07-09, 10:39 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,134
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تبصرہ تحریر مکمل ہونے کے بعد!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-07-09, 04:27 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تحریر مکمل ہے تعاون کا بہت شکریہ

Last edited by ایس اے نقوی; 31-07-09 at 04:53 PM.
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 31-07-09, 05:57 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-07-09, 07:30 PM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین کا شکریہ اور دوستوں کی رائے کا منتظر ہوں
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-08-09, 10:34 PM   #6
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


منتظمین میں نے لکھا تھا کہ جس رکن کی تھریڈ پوسٹ میں تین سرخ آئی ڈی والے حضرات آ کر شکریہ ادا کریں گے اس رکن کو 1500 پوائینٹس انعام دیا جائے گا تو منتظمین میرا انعام کہاں ہے
کیونکہ یہاں تو مجھے 4 سرخ آئی ڈیز والے حضرات نے آ کر شکریہ ادا کیا ہے اب مجھے انعام کون دے گا کہ میں خود کو ہی دوں اگر دوں تو کیسے؟
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (07-08-09)
پرانا 07-08-09, 11:53 PM   #7
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین

جشن آزادی
آپکا انعام آپ تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ لیکن معذرت کے آپ کو اپنے انعام کے لیئے اعلان کرنا پڑتا ہے
__________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

Last edited by رضی; 08-08-09 at 01:34 AM.
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 08-08-09, 01:26 AM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم جی کچھ خوف خدا کریں ۔۔۔ اپ کو اتنا بڑا جو انعام بھیجا تھا ان کاموں کے لیے ہی تو تھا۔۔۔ جب ختم ہو جائیں تو پھر کہ دیں ہم شاہ تو نہیں لیکن ڈبل کر سکتے ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-08-09), ایس اے نقوی (08-08-09)
پرانا 08-08-09, 09:51 AM   #9
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
انجم جی کچھ خوف خدا کریں ۔۔۔ اپ کو اتنا بڑا جو انعام بھیجا تھا ان کاموں کے لیے ہی تو تھا۔۔۔ جب ختم ہو جائیں تو پھر کہ دیں ہم شاہ تو نہیں لیکن ڈبل کر سکتے ہیں۔
ارے ارے منتظمین آپ تو ڈبل کرنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں اسکا مطلب ہے کہ ڈبل شاہ اکیلا نہیں تھا
ویسے منتظمین رات کو رازی کو فون کر کے میں نے منع کیا تھا کہ ایسا کام نہ کرے کیونکہ ہم انتظامیہ مین شمار کئے جاتے ہیں ہم دے سکتے ہیں لے نہیں سکتے
تعاون کا شکریہ
اور
اقتباس:
جب ختم ہو جائیں تو پھر کہ دیں ہم شاہ تو نہیں لیکن ڈبل کر سکتے ہی
ں۔

ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, فرض, پوسٹ, پاک, پاکستان, قدم, لوگ, نوکری, نظر, مکمل, ممکن, آج, اللہ, انعام, اسلامی, اغوا, بچوں, تحریر, تعلیم, خون, خدا, دیکھو, شاعری, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:36 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger