| 14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
منقولہ مشوہر ہے کہ انگریز سو سال پہلے کی سوچتا ہے تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑائیں آپ کو کوئی شک نظر نہیں آئے گا بر صغیر پاک وہند پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں جب انگریز نے قدم جمانے شروع کئے تو انکے پیش نظر تین بڑے مقاصد تھے برصغیر کے وسائل پر قبضہ کر کے یہاں پر رہنے والی قوموں کو غلامی کی زنجیریں پہنا کر ان پر حکومت کرنا اپنی تعلیم کے زریعے ایسے لوگ پیدا کرنا جو مسلمان اور ہندو ہونے کے باوجود بھی ذہنی طور پر انگریز ہوں انگریزیوں کو اپنے مقاصد کے حصول کےلئے جس قوم سے سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ مسلمان تھے مسلمانوں نے ٹیپو سلطان اور حیدر علی کے روح رواں بن کے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے شیطانی سیلاب کو روکنے کی ہر ممکن ہوشش کی اور انگریزوں کے خلاف آواز حق بلند کی جبکہ برصغیر کی دوسری قوم ہندو نے مسلمانوں کے خلاف ہر مرحلے پر انگریز کا ساتھ دیا یہی وہ حقائق تھے جن کی بناء پر انگریز نے آغاز ہی میں یہ بات محسوس کر لی تھی کہ برصغیر کے مسلمان اپنے عقائد جان دار روایات اور اسلامی تعلیمات کی بنا پر غلام نہیں بنائے جا سکتے اور اگر وہ عارضی طور پر چالاکی و عیاری کے زریعے غلامی کی زنجیر مین جکڑ بھی دیئے جائیں تب بھی ان میں خوئے غلامی پیدا نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایک مسلمان مفتوح بننا اپنی مومنانہ غیرت و حمیت کے منافی سمجھتا ہے یوں ان حالات کے پیش نظر انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کےلئے کئی برسوں کے مسلسل غور و فکر اور سوچ و بچار کے برصغیر میں ایسا نظام تعلیم رائج کیا جو افراد کےلئے انگریز کی غلامی کا زریعہ بنا
1835ٰ میں لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام کے نام نافذہونے والے اس نظام تعلیم کے جو اہم خدو خال تھے ان مٰں سر فہرست یہ بات شامل تھی کہ اس نظام تعلیم سے حقیقی اسلام کی تصویر مسخ کر کے غیر محسوس طریقے سے لادینیت کو فروغ دیا جائے گا اسلامی مدارس کے تحت ملنے والی اسلامی تعلیم کا گلا گھونٹا جائے گا لارڈ میکالے کے اس نئے نظام تعلیم کے فروغ کےلئے انگریز نے نوکری کا چکمہ دیا برصغیر میں یہ اعلان کیا کہ ملازمت کے دروازے ان افراد کےلئے کھلے ہیں جو ہماری نئی تعلیم سے آراستہ ہوں گے خود میکالے نے بھی اس موقع پر اپنی پالیسی کا مقصد صاف اور واضح انداز میں یوں بیان کیا اس زریعہ تعلیم سے ایسی نسل تیار کرنا ہے جو دیہی آبادیوں کےلئے مارے افکار و نظریات کی ترجمان ہو جو رنگ و نسل کے اعتبار سے بلا شبہ ہندوستانی ہو مگر فکر و نظر اور سیرت و اخلاق کے لحاظ سے خالص انگریز ہو انہیں نظریاے کے پیش نظر انگریز نے اس خطے میں ایسا نظام تعلیم رائج کیا جو اسلام اور مسلمانوں کےلئے زہر قاتل کا سبب بنا عیسائیت کے پرچار کےلئے بے حد موزوں ثابت ہوا چونکہ اس خطے میں انگریز کے عزائم کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اسلام اور مسلمان تھے اس لئے ان کا زیادہ تر ہدف بھی مسلمان ہی بنے قیام پاکستان میں دو قومی نظریہ ایک مخصوص اہمیت کا حامل ہے اس نظریے کے مطابق ہندو اور مسلمان دو جداگانہ حیثیت کی حامل اقوام تھیں مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے ایک جداگانہ تشخص اور تہزیب کے مالک ہیں اور ان دونوں کے نظریات میں زمین و آسمانن کا فرق ہے اپنی مذہبی روایات کے حوالے سے بھی یہ دونوں یکجا نہیں ہو سکتے ظاہر ہے کہ اسلام کا اپنا خاصنظریہ اور عقیدہ ہے اسلئے مسلمانان ہند نے یہ اعلان کر دیا کہ انکا مخصوصفلسفہ مذہب و اخلاق ہے جسے عملی طور پر نافذ کرنے کےلئے ایک علیحدہ خطہ زمین ہونا ضروری ہے جو اسلامی ریاست کہلائے اور دوقومی نظریہ کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ یہ تو ازل کا قانون فطرت بن کو موجود رہا ہے کبھی نیکی اور بدی کی صورت میں ظاہر یہ کہ دو مخالف قوتیں کبھی یکجا نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خواص اختیار کر سکتی ہیں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان جس طرح ہر شعبہ زندگی میں پیچھے دھکیلے گئے اور انکا استحصال کیا گیا اسکے خاتمے کےلئے برصغیر کے سرکردہ مسلم راہنمائوں نے مسلمانوں کے قومی تشکر کو ابھارنے کی انتھک کوششیں کیں علامہ اقبال نے اپنے ولولہ انگیز شاعری سے مسلمانوں کو فکر حریت ،قومی حمیت ،اخوت اور مساوات کا پیغام دیا اور ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا بو رنگ و نسل اور وطن کی بنیاد پر نہین بلکہ ایک خاص نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ 14 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا مگر قیام پاکستان کے مقاصد کے مخالفوں نے محلاتی سازشوں کے زریعے نہ ملک میںآئین بننے دیا ور نہہ ہی زندہ قوم کا قانون بلکہ اپنےآقا کے اشارے پر اسلامی نظریاتی مملکت کی تجربہ گاہ کی بجائے پہلے سے جاری غلامی اور فرسودہ قوانین کو قوم پر آزمایا کبھی سول بیوروکریسی اور کبھی مارشل لاء کے زریئعے اس اسلامی نظریاتی مملکت کے تشخص کو نقصان پہنچایا اندرون خانہ اور بیرون خانہ سازشوں کے اسیے جال بنے گئے کہ دنیا کی سب سے بڑی مملکت دولخت حصے کو نہ صرف الگ کرنے میں دشمنوں کی مدد کی بلکہ ایک لاکھ کی تعداد میں کیل کانٹے سے لیس ہوتے ہوئے بھی دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر نہصرف مسلم امہ بلکہ قوم کے ماتھے پر کلنک کا ایسا ٹیکہ لگایا جس کی مثال نہیں ملتی ایام پاکستان کےلئے کتنے لوگوں نے جام شہادت نوش کیا کتنے بچوں نے نیزے کی انیوں پر چڑھ کر اور عورتوں نے اپنے سہاگ لٹائے لاکھوں مسلمان مہاجر بنے ہنستے بستے گھر اجڑے خون کی ندیاں بہیں عورتوں کو اغوا کیا گیا مال و زر کو بیدردی سے لوٹا گییا قافلوں کے قافلے تہہ تیغ ہوئے مال ومویشی چھین لئے گئے یہاں تک کے مسلمان گھرانوں میں پڑا ہوا شام کا کھانا کھانے تک کی مہل نہ دی گئی ہندو اور اسکی دم چھلا سکھ قوم نے قیام پاکستان کے دوران جی بھر کے دل کی بھڑاس نکلای انکے ظلم اور بربریت کا نشانہ بننے والے ہی قیام پاکستان کی حقیقتوں سے واقف ہیں تاریخ کے اوراق ظلم و جبر کی ایسی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں اگست 1947ء میں ہندو اور سکھوں کے ظلم و جبر کی مثال نہیں ملتی مگر آج ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملے گا نسلی ،لسانی اور علاقائی تعصبات کو سرکاری سرپرستی میں فروغ ملا ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی ملکی ثقافت پر اغیار کی چھاپ نظر آتی ہے اسلامہ روایات کو دقیانوس قرار دے کر پس پشت ڈالا جا رہا ہے فحاشی ،عریانی اور بے ودگی کو فیشن کے طور پر اختیار کر کے فخر محسوس کیا جا رہا ہے امریکہ اور مغرب کی ایما پر ملکی قوانین کو بدلا جا رہا ہے جدت پسندی کی نام نہاد لہر پیدا کی جا رہی ہے ماٹو جاہد فی سبیل اللہ کا علم تھامنے والے ملکی دفاع کے نام پر نہ رف روٹیاں توڑ رہے ہیں بلکہ دشمنان اسلام کے آلہ کار بن کر مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں دہشت گردی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو پس زنداں کر رہے ہیں اللہ کا نام لینے والوں پر اسلامی مملکت کی زمین تنگ کی جا رہی ہے اصلاح کے نام پر بے ہودی اور لغو نظریات پھیلائے جا رہی ہیں نہ سرف سقو کابل اوت بغداد ان جلادوں کی ریشہ دوانیوں کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے کیا یہی دو قومی نظریہ کے مقاصد تھے؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں کیا اسی لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ک بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے بشکریہ حروف ۔کام تحریرمحترمہ قرۃ العین شفقت اٹلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میرے کچھ الفاظ دوستوں مذکورہ تحریر کا حوالہ دے دیا گیا ہے اور اعلی حکام سےمشورہ کے بعد پوسٹ کی گئی ہے اور دوستوں مذکورہ تحریر کے بعد بہت سے سوالات ذہن میں آئے گے عرض صرف یہ ہے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہورہا ہے کب تک ہم اپنے وطن میں جاری خون کی اس ہولی کو دیکھتے رہے گے آج اس قوم کے نوجوان باشعور ہیں پڑھے لکھے ہیں عقل و شعور رکھنے والے نوجوان باصلاحیت ہیں اور ملک میں جاری صورتحال سے بخوبی وقاف ہیں آج اس قوم کو پھر سے تحریک کی ضرورت ہے دوستوں 14 اگست کا دن آپ کو مجھ کو یہ احساس دلاتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ دیکھو مجھے دیکھو کس طرح آپ کے بڑے بزرگوں نے خون دے کر مجھے حاصل کیا تھا اے نادان قوم دیکھ کہ مجھے حاصل کرنے کےلئے نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری ہوئی کم سن شیر خوار بچوں کی گردنوں کو جسموں سے الگ کر دیا گیا ان کے جسم کو درمیان سے چیر دیا گیا خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے بزرگوں کو زندہ جلا دیا گیا اے قوم وہ وقت یاد کر جب میرا پرچم زمین پر گرنے لگتا تھا تو نوجوان تو نوجوان ضیعف العمر شخصبھی گرتا پڑتا مجھے زمین پر گرنے سے قبل تھام لیتا تھا اور آج انہی بزرگوں کی تم اولادیں ہو جو مجھے بڑے فخر کے ساتھ صبح صبح گھروں کی چھتوں پر گلیوں بازاروں میں پیار سے سجاتے ہو اور شام تک مین تم لوگوں کے پیروں تلے روندا جاتا ہوں دوستوں پاکستان کی پرچم ہم سے کہتا ہے خدارا میری قدر کرو میں نہیں چاہتا کہ مجھے پرھ سے وہ خون کی ہولی دیکھنی پڑے میرے سامنے پھر سے وہ مناظر ہوں دوستوں آج پاکستان کو ہماری ضرورت ہے اسکی اہمیت کو جاننا ہم سب کا فرض ہے ہم لوگوں کی سوچ اب یہ بن چکی ہے کہ جو مرضی ہوجائے بیرون ملک جا کر مزدوری کرنا ہے اکثر وبیشتر محفلوں میں یہ لفظ سنا جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا یار کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا ہم 14 اگست کے دن بڑی خوشی کے ساتھ جھندیاں لگاتے ہیں گاڑیوں پر پرچم لگاکر بازروں میں گھومتے ہیں شہروں میں چراغاں کرتے ہیں اور پھر شام تک وہی پرچم وہ ہی جھنڈیاں مارے پیروں تلے روندی جاتی ہے یہ دیا ہے ہم نے پاکستان کو خدا کے لئے جشن آزادی کا مطلب سمجھیں وہ نہ ہو کہ پھر سے تاریخ دہرائی جائے اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین
دوستوں تحریر مکمل ہو چکی ہے اور 14 اگست کی مناسبت سےلکھی گئی ہے شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 31-07-09 at 04:52 PM. |
|
|
|
| کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 07-08-09 | رضی | اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین | 150 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
تبصرہ تحریر مکمل ہونے کے بعد!
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (31-07-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
تحریر مکمل ہے تعاون کا بہت شکریہ
Last edited by ایس اے نقوی; 31-07-09 at 04:53 PM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر ورق کے لیے پیش کریں ۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (31-07-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
منتظمین کا شکریہ اور دوستوں کی رائے کا منتظر ہوں
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
منتظمین میں نے لکھا تھا کہ جس رکن کی تھریڈ پوسٹ میں تین سرخ آئی ڈی والے حضرات آ کر شکریہ ادا کریں گے اس رکن کو 1500 پوائینٹس انعام دیا جائے گا تو منتظمین میرا انعام کہاں ہے کیونکہ یہاں تو مجھے 4 سرخ آئی ڈیز والے حضرات نے آ کر شکریہ ادا کیا ہے اب مجھے انعام کون دے گا کہ میں خود کو ہی دوں اگر دوں تو کیسے؟ |
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (07-08-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جشن آزادی
آپکا انعام آپ تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ لیکن معذرت کے آپ کو اپنے انعام کے لیئے اعلان کرنا پڑتا ہے
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
Last edited by رضی; 08-08-09 at 01:34 AM. |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (08-08-09) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انجم جی کچھ خوف خدا کریں ۔۔۔ اپ کو اتنا بڑا جو انعام بھیجا تھا ان کاموں کے لیے ہی تو تھا۔۔۔ جب ختم ہو جائیں تو پھر کہ دیں ہم شاہ تو نہیں لیکن ڈبل کر سکتے ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (08-08-09), ایس اے نقوی (08-08-09) |
|
|
#9 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ویسے منتظمین رات کو رازی کو فون کر کے میں نے منع کیا تھا کہ ایسا کام نہ کرے کیونکہ ہم انتظامیہ مین شمار کئے جاتے ہیں ہم دے سکتے ہیں لے نہیں سکتے تعاون کا شکریہ اور اقتباس:
![]() ![]() ![]()
|
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, فرض, پوسٹ, پاک, پاکستان, قدم, لوگ, نوکری, نظر, مکمل, ممکن, آج, اللہ, انعام, اسلامی, اغوا, بچوں, تحریر, تعلیم, خون, خدا, دیکھو, شاعری, عقل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|