| 14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,124
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غلامی کی سیاہ رات جب کسی ملک، قوم یا معاشرے کو اپنے مہیب سایوں اور ظلم و جبر کے حصار میں گھیر کراپنے پنجے مظبوطی سے گاڑ لیتی ہے تو اُس قوم کے باسیوں کو جبر مسلسل سہنے کا عادی بنا کر اپنی طوالت کو صدیوں پر محیط بھی کر لیتی ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطری پر آزاد اور تغیر پسند پیدا کیا۔ جب اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ظلم و جبر سہنے کا عادی بنایا جاتا ہے تو ایک نہ ایک دن اُس کا ضمیر جاگ اُٹھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اُس کے دل میں حصول آزادی کی شمع آرزو ٹمٹمانے لگتی ہے۔ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کرتا ہے اور جراْت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظلم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ مظلوم، محکوم اور مجبورانسان کی انفرادی کوشش ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات اجتماعی طور پر کسی قوم یا معاشرے میں حصول آزادی کا شعور جاگ پڑتا ہے۔ ایسے میں غلامی کی سیاہ اور طویل رات کی اُلٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں برطانوی انگریزوں نے کلکتہ کی بندرگاہ سے ہندوستان کی سر زمین پر قدم رکھا تو کسے معلوم تھا کہ سوداگروں کے بھیس میں آنے والے یہ غیر ملکی گورے ایک دن پورے ہندوستان کے مالک بن جائیں گے۔ تجارت کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے ہندوستان کے معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا اور رفتہ رفتہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہندوستان کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنے زیر نگیں لاتے رہے۔ مغلیہ خاندان کے عیاش فرمانروا انگریزوں کی نت نئی چالوں کے سامنے بے بس ہوگئے اوربالاخر 1857 میں انگریزوں نے ایک طویل معرکے کے بعد دہلی کے لال قلعے پر برطانوی پرچم لہرا کر پورے ہندوستان کو اپنا غلام بنا لیا۔ غلامی کی طویل اور سیاہ رات نے اپنا سفر شروع کر دیا۔ ہندوستان کے باسیوں میں ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں آباد تھیں اور صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں۔ انگریزی حکومت کی عملداری کے بعد ہندوئوں نے انگریزوں سے اندرون خانہ خفیہ مراسم بڑھانے شروع کر دیے اور مسلمانوں کو ہر میدان میں پسماندہ رکھنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہو گئے۔ نتیجتآ ہندو دن بدن ہر میدان میں مسلمانوں کو پیچھے چھوڑنے لگے اور انگریزوں کے بعد دوسرے نمبر پر اثر و رسوخ کے مالک بن گئے۔
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو مسافر اپنی جان بچانے کےلئے ہاتھ پائوں مارنے لگتے ہیں۔ مسلمان جب احساس محرومی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنے لگے تو اُنہیں خود کو بچانے کی فکر پیدا ہونے لگی۔ سر سید احمد خان نے اس محرومی کو تیزی سے محسوس کرنا شروع کیا تو اُنہیں یہ خیال سوجھا کہ مسلمانوں کو اپنا موقف بیان کرنے کےلئے انگریزی تعلیم کی سخت ضرورت ہے۔ اُنہوں نے 1875 میں علی گڑھ کے مقام پر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کھولا جہاں مسلمان تعلیم کی روشنی سے بہرہ ور ہونے لگے۔ اس طرح سر سید احمد خان نے ہندوستان میں دو قومی نظریے کے شعور کو اُجاگر کرنے کی طرف پہلا عملی قدم اُٹھایا۔ اُن کے پیش رو مسلم رہنمائوں نے دو قومی نظریے کو مزید جلا بخشی۔ 1930 میں الہ باد میں عظیم فلسفی شاعر علامہ اقبال نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کےلئے ایک الگ مملکت قائم کرنے کا نظریہ پیش کیا۔ 1940 میں لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور 14 اگست 1947 کے دن عالمی نقشے پر پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا۔ یہی وہ دن تھا جس کے لئے مسلمانان ہند سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہر آواز پر لبیک کہا۔ تحریک پاکستان قومی یکجہتی اور حصول مقصد کی خاطر بیک زبان ہو کر ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی ایک ایسی مثال ہے جو ہماری آئیندہ آنے والی نسلوں کے سر فخر سے بلند رکھے گی۔ اگر ہم پاکستانی کی باسٹھ سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جن مقاصد کےلئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا اُن پر ابھی تک نیک نیتی سے عملدرآمد کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ حکمران اور عوام ہر سال یوم آزادی کے موقع پر اس عہد کو دہراتے ہیں کہ ہم پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے لیکن ہنوز دلی دور است کے مصداق ان مقاصد کے پورا ہونے میں دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے بنیادی نظریات پر حرف بہ حرف عمل کرنے کےلئے فضا ہموار کرنا حکومتی حلقوں کا کام ہے لیکن جو بھی حکومت آتی ہے خواہ وہ جمہوری ہو یا آمریت وہ صرف اور صرف اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف رہتی ہے۔ بیرون ملک سے قرضے لے لے کر ڈنگ ٹپائو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ نچلی سطح پر عوام کی فلاح و بہبود اور سہولیات پہنچانے سے بڑی حد تک الرجک ہوتے ہیں۔ عوام پر نت نئے ٹیکس لگا کر مسائل میں مزید اضافہ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور یہ بات بھی باعث ندامت ہے کہ پاکستان ایک ایسا غریب ملک ہے جس کے حکمرانوں کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہی نظام ہے۔ اور پاکستانی عوام کو ایک رعایا کی حیثیت حاصل ہے جو بادشاہ کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ جس ملک کے حکمران ایئر کنڈیشنڈ گھروں اور دفتروں میں رہتے ہوں ائیر کنڈیشنڈ کاروں میں سفر کرتے ہوں۔ جس عوام کی خون پسینے کی کمائی سے اُنہیں دنیا کی ہر سہولت اور عیاشی کا ہر سامان اُن کی دہلیز پر ہمہ وقت میسر ہو اُنہیں کیا احساس ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں ہر روز کتنے غریب اور بے سہارا بچے، بچیاں، بوڑھے اور جوان بھوک و افلاس سے تنگ آکر خود کشیاں کر لیتے ہیں۔ آمرانہ و شاہانہ ذہنیت اور سوچ رکھنے وا لے یہ حکمران کیا جانیں کہ صحرائے تھر میں بسنے والے پاکستانی عوام آگ برساتی دھوپ اور تپتی ریت پر کس طرح اپنے شب و رز گزارتے ہیں۔ اور کس طرح اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر بارش کے پانی سے بھرے جوہڑوں اور تالابوں سے گندا اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے ان بے حس حکمرانوں کو کیا خبر کہ 14 اگست 1947 کا سورج دیکھنے کےلئے ہمارے آبائو اجداد نے کتنی تکلیفین اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آگ اورخون کے دریا سے بچ کر پاکستان پہنچنے والوں کی دل دہلا دینے والی داستانیں سُن سُن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کسی کو زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔ کسی کے جسمانی اعضا کاٹ کر اذیتیں دی گئیں۔ وحشی ہندئووں اور سکھوں نے نوجوان لڑکیوں پر اُن کے والدین اور بھائوں کے سامنے جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے بے دست و پا قافلوں کو لوٹنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا یا جلا دیا گیا ۔ کیا وہ لوگ کوئی دیوانے تھے اور پاگل یا ذہنی معذور تھے۔ نہیں! وہ ہرگز ایسے نہیں تھے۔ جب کوئی انسان کسی منزل کو پانے کےلئے نیک نیتی اور خلوص کے بے پایاں جذبے کے تحت ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو کر اپنے قدم بڑھانے شروع کرتا ہے تو بادی النظر میں وہ واقعی دیوانہ اور پاگل لگتا ہے اس لئے کہ اُس کے سامنے اُس منزل کا حصول ہوتا ہے جو اُسے دنیا و مافیہا سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ حصول منزل کے اس غیر متزلزل جذبے کے تحت بے خوف و خطر آگے بڑھتا ہے اور بڑی سے بڑی رکاوٹ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ یہی وہ دیوانہ پن تھا جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کی صُبح دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی نظریاتی مملکت “پاکستان“ کے نام سے ابھر کر سامنے آئی اور آج ہم اُنہی آبائو اجداد کی بیمثال اور لا زوال قربانیوں کے باعث آزاد فضائوں میں سانسیں لے رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے عوام سے ایکبار پھر اُسی دیوانے پن کی ضرورت ہے جو اُسے وہ شکل دے سکے جس کا خاکہ علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھا تھا۔ آج کل بجلی کا دور دورہ ہے اور شمعیں جلانا ماضی کا قصہ بن چکا ہے پھر بھی اکثر اوقات ساون کے مہینے میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ آپ کے برآمدے میں لگے ہوئے بلب پر پروانے دیوانہ وار جھپٹتے ہیں اور جل کر مر جاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ پروانے کیوں جان دے دیتے ہیں؟ وہ کونسا جذبہ ہے جس کے تحت وہ جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے؟ روشنی کا عشق ! جی ہاں ۔۔۔! یہی وہ جذبہ عشق ہے جوعاشق کو دیوانہ کر دیتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی شمع تھی جس کی روشنی سے اُنکا سارا جسم روشن تھا۔ پاکستان ایک ایسی خوشبو تھی جس سے اُن کے جسم معطر تھے۔ پاکستان وہ آرزو تھی جو ہر مسلمان کے دل میں مچل مچل کر اُسے بے قرار رکھتی تھی۔ پاکستان ایک پھول تھا جس پر کروڑوں بھنورے اپنی جانیں، جائدادیں، مال و متاع، کاروبار اور حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی قربان کر نے کے لئے تیار رہتے تھے۔ جب وقت آیا تو ہمارے آبائو اجداد نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ پاکستان کو کو ایکبار پھر اُسی جوش و ولولے کی ضرورت ہے جس سے اجتماعی اور قومی سطح پر عشق کی ایسی لہر بیدار ہو جس میں ہر پاکستانی خود کو شامل کر کے حصول منزل کی طرف بلا خوف و خطر قدم بڑھائے۔ وہ منزل کیا ہے؟ وہ کون سی شمع ہے جس کو روشن کرنا ہے؟ وہ کونسی کلی ہے جس نے کھل کر سارے گلشن کو معطر کرنا ہے! فقط ایک اسلامی فلاحی مملکت! یہی وہ خواب ہے جس کو تعبیر ملنا باقی ہے۔ اس کے لئے سب سے ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ اپنے دلوں میں پاکستان سے عشق کی لہر کو بیدار کیا جائے۔ حافظ عابد انور کی ایک خوبصورت نظم تمام پاکستانیوں کی نظر کرتا ہوں:۔ اے وطن! تجھ کو سلام میرے پرکھوں کے چمن تجھ کو سلام اے مرے پاک وطن تجھ کو سلام ہجرت نو کی کرامات ترے نام سے ہیں میرے آبا کی روایات ترے نام سے ہیں لاکھوں اسلام پسندوں کی نگاہ کا مرکز بھیگتی شب کی عبادات ترے نام سے ہیں نیک روحوں کی چلن تجھ کو سلام اے مرے پاک وطن! تجھ کو سلام مرے قائد کی ہر آواز ہوائوں میں تری روشنی فن کی تگ و تاز ادائوں میں تری تری بے مثل ہوائیں ترے بے مثل پہاڑ جاگتے ہیں ترے شہباز فضائوں میں تری میرے اقبال کے فن تجھ کو سلام تجھ سے رخشندہ ہے آزادیِ ملت کا وقار تجھ سے تابندہ ہے وحدت کا اخوت کا حصار تو کہ ہر ایک مسلمان کے دل کی دھڑکن چار سو پھیل رہا ہے تری چاہت کا خمار ہیر و لیلیٰ کے بدن تجھ کو سلام اے مرے پاک وطن! تجھ کو سلام کامیابی کے ہر اک گام پر خوش ہوتے ہیں لاکھوں دیوانے ترے نام پہ خوش ہوتے ہیں ان کی ہر صبح ترے نام سے ہوتی ہے شروع لاکھوں فرزانے ترے نام سے خوش ہوتے ہیں جسم مومن کے دہن تجھ کو سلام اے مرے پاک وطن! تجھ کو سلام ہر مسلمان ترقی پر کمر بستہ ہے چشم امید تری ذات سے وابستہ ہے ایٹمی زور ترا سب کےلئے مشعل راہ خون تازہ ہے ترا، خوب تر دستہ ہے اپنی حالت میں مگن، تجھ کو سلام اے مرے پاک وطن! تجھ کو سلام پاکستان پائیندہ باد۔ Last edited by Zullu230; 14-08-09 at 04:53 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا | champion_pakistani (14-08-09), منتظمین (14-08-09), ایس اے نقوی (14-08-09), راجہ اکرام (14-08-09), رضی (14-08-09) |
| کمائي نے Zullu230 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 14-08-09 | رضی | اے مرے پاک وطن! تجھ کو سلام | 130 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,016
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے champion_pakistani کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کی جائے۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہار چمن دل ۔۔۔۔۔۔ میرا پاکستان پاکستان زندہ باد
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
15 اگست کے لیے شیڈول کر دی گئی ہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذوالفقار بھائی بہت خوبصورت تحریر ہے
اللہ آپ کی صلاحیتوں میںاضافہ فرمائے۔۔ آمین پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ پائندہ باد |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,124
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (14-08-09), رضی (14-08-09) |
![]() |
| Tags |
| فن, کالج, پھول, پاکستان, پاکستانی, پاگل, پسند, قدم, قصہ, لوگ, چاہت, منصوبہ, مسائل, مشعل, معلوم, آج, اللہ, انسان, اسلامی, تعلیم, خون, خبر, عشق, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 13-12-09 12:55 AM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-10-08 12:03 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 0 | 19-08-07 02:17 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |