| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 778
کمائي: 15,189
شکریہ: 1,393
483 مراسلہ میں 1,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پچھلے کئی سال سے ، ڈنمارک میں اسلام اور نبی اسلام کے نام پر جس طرح گند اچھالا جا رہے اس سے تو اب پورا عالم آشنا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ، ڈینش سیاستدان، رہنما اور سماج کے ٹھیکدار کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے جب وہ آزادی اظہار، سماج، تہذیب و ثقافت کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ نہ بنائیں اور ان کی دل آزاری نہ کریں۔ اس صورت حال کی وجہ سے ڈنمارک میں رہنے والے مسلمان ایک شدید ذہنی و روحانی اذیت میں مبتلا ہیں۔
یوں تو ڈینش میڈیا، سیاستدان اور سماج و ثقافت کے ڈینش ٹھیکدار آئے دن مسلمانوں کے خلاف، مختف حیلے بہانوں سے زہر اگلتے رہتے ہیں بیکن پچھلے چند ایک ہفتوں سے ا±ن کے اس عمل میں پھر تیزی آ گئی ہے۔ پہلے مسلمان خواتیں کے حجاب باندھنے، نام نہاد جبری شادیوں اور مسلمان بچوں کی گھریلو پرورش اور اسلامی پرائیویٹ سکولوں کے حوالے سے سیاستدان ڈھول پیٹتے اور لوگوں کو بتاتے رہے کہ یہ سب کچھ ڈینش معاشرے میں ایک متوازی سماج کی نموداری ہے اور اسے ابھی ہی سے ختم کردیا جانا چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ڈنمارک میں مسلمان ایک پرامن اور امن پسند برادری ہے، ڈینش سیاستدان اور خاص کر حکومت کی حامی، غیر ملکیوں مخالف، سخت گیر رویہ رکھنے والی، ڈینش پیپلز پارٹی کا رویہ تو اخلاق و اعتدال اور درگزری کی ساری حدیں عبور کر چکا ہے۔ ویسے تو خود حکومتی پارٹی وینسٹرا بھی اس اس معاملے میں کچھ پیچھے نہیں اور نہ صرف کابینہ کے کئی ایک وزرائ بلکہ خود وزیر اعظم آنڈرس فوگ راسموسن بھی کئی بار مسلمانوں کے حوالے یوں کب کشائی کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح اسے اشتعال انگیزی سے کم نہیں سمجھی جا سکتی۔ آج کل ڈینش وزیر بہبود ، کارین ایسپرسن اور خود حکمران وینسٹرا پارٹی کے سیاسی امور کی ترجماں انگر سٹوئیبرگ کی جانب سے جو بیانات آ رہے ہیں ان میں “ اسلام ازم ، اسلامی ریڈیکل ازم اور دہشتگردی “ کے نام نہاد خوف سے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ سبھی کچھ ڈینش معاشرے میں پھیل رہا ہے اور اس کی تدارک کیا جانا لازمی ہے۔ انتہا پسندی ، دہشتگردی اور وہ بھی دین و مذہب کے نام پر کسی بھی طرف سے کیوں نہ ہو، کی مذمت کی جانی چاہیے اور اس کی مزاحمت کی جانی چاہیے لیکن اگر کسی سماج میں ایک پرامن اور امن گر اقلیتی برادری کو بحیثیت مجموعی یوں مورد الزام ٹھہرایاجاتا رہے جیسا کہ ڈنمارک میں اب ایک معمول کا وطیرہ بنا دیا گیا ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ اقلتی برادری یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ اس کے خلاف، اس کے دین و مذہب اور رنگ و نسل کے حوالے سے اپنایا گیا رویہ ، ایک دانستہ متعصبانہ فعل ہے۔ آج کل ڈنمارک میں مسلمان بچوں کے ختنوں کے حوالے سے ایک نیا شوشہ بلکہ فتنہ زیر بحث ہے اور ڈینش مجلس اخلاقیات کے چیئرمین سمیت، بچوں کے امور کی کونسل اور متعدد پیشہ ور ماہرین نے لڑکوں کے ختنے کرائے جانے کو سخت قابل تنقید قرار دیتے ہوئے ،مطالبہ کر کیا ہے کہ جب تک لڑکے پندرہ سال کے نہیں ہوجاتے ا±ن کے ختنے کرائے جانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ ڈینش مجلس اخلاقیات کے چیئرمین اور بچوں کے امور کی کونسل، دونوں کا کہنا بے کہ ڈنمارک میں لڑکیوں کے ختنے کرائے جانے پرقانونی پابندی ہے لیکن لڑکوں کے ختنوں کی اجازت ہے۔ بچوں کے امور کی کونسل کی چیئرمین شارلاٹے گولڈبرگ کا کہنا ہے بچیوں کے ختنوں پر قانونی پابندی ہونا اور مذہب کے نام پر لڑکوں کے ختنوں کی اجازت ہونا جنسی بنیادوں پر تفریق ہے جو کہ کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ ڈنمارک میں مسلمان اور یہودی خاندانوں میں لڑکوں کے ختنے کرائے جاتے ہیں اور یہودی مذہبی روایات کے تحت کسی یہودی خاندان میں لڑکے کےپیدا ہونے کے آٹھ دن بعد ا±س کے ختنے کرادیا جانا ایک لازمی مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف مسلمان گھرانوں میں اس کے لیے کوئی وقت یا مدت تو متعین نہیں لیکن لڑکے کے ختنے جلد از جلد کرادیئے جانا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ یہودیوں میں بحیثیت مجموعی یا ان کے کسی فرقے میں انفرادی طور پر یہ مکروہ روایت نہیں پائی جاتی کہ یہودی بچیوں کے بھی ختنے کرائے جاتے ہوں۔ اس کے برعکس بعض افریکی مسلمانوں میں یہ رسم موجود ہے جو کہ سراسر ایک ثقافتی رسم ہے اور دین اسلام کے ساتھ اس کا کوئی مذہبی تعلق نہیں۔ ڈنمارک میں صومالیہ کے بعض مسلمان بھی اس روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنی لڑکیوں کے ختنے کراتے رہے ہیں لیکن اب ایسا کئے جانے پر ڈنمارک میں نہ صرف قانونی پابندی ہے بلکہ اگر کوئی بیرون ملک جاکر اپنی کمسن لڑکیوں کے ختنے کراکے ڈنمارک واپس آتا ہے تو اس کا یہ فعل قابل سزا ہے اور وہ ثابت ہو جانے پر تعزیراتی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ ڈنمارک میں یہودیوں کی سب سے بڑی اور اہم ترین مذہبی تنظیم ، المعروف ، موسوی دینی برادری کے ربّی یعنی مذہبی رہنما بیٹ لیکسنر نے کرسچلی ڈاو¿ بلیڈٹ کو بتایا ہے کہ پیدائش کے آٹھ دن بعد یہودی لڑکوں کا ختنہ کرایا جانا ایک مذہبی فریضہ ہے اور یہودی امت یہ فرض پچھلے تین ہزار سال سے پورا کرتی چلی آ رہی ہے۔ اور یہاں تک کہ مذہبی لحاظ سے غیر متحرک یہودی خاندان بھی اس فرض کو پورا کرتے ہیں۔ ڈنمارک میں ایک ایسے وقت پر جب مسلمانوں مخالف پہلے ہی سرکاری و غیر سرکاری سطحوں پر اور پھر میڈیا میں طرح طرح سے الزام تراشیوں کے ڈھول پیٹے جا رہے ہیں، وہاں اب لڑکوں کے ختنوں پر پابندی لگائے دیئے جانے کا اچانک مطالبہ، مسلمانوں اور یہودیوں، دونوں کے لیے نہ صرف حیرت و اچنبے کا معاملہ ہے بلکہ یہ دونوں برادریاں اسے اپنے مذہبی حقوق و عقائد اور اقدار پر حملہ سمجھنے میں بھی حق بجانب ہیں۔ مسلمان اور یہودی لڑکوں کے ختنوں پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کرنے والی ڈینش مجلس اخلاقیات، بچوں کے امور کی کونسل اور پیشہ وہ ماہرین شائد یہ بات بھول رہے ہیں کہ ان کا یہ بیہودہ اور اشتعالانہ مطالبہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی یہ مطالبہ کرے کہ عیسائی بچوں کے بپتسمہ پر پابندی ہونی چاہیے۔ ڈینش سیاسی پارٹیاں بھی لڑکوں کے ختنوں پر جاری بحث مباحثوں میں شامل ہیں اور ایک دوسری پر بازی لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ غیر ملکیوں اورخود اپنے آپ کو مسلمانوں کے خلاف قرار دینے والی ، حکومت کی حامی، ڈینش پیپلز پارٹی کی صحتی امور کی ترجمان، سیلوٹ بلیسٹ بھی اس کی حامی ہیں کہ لڑکوں کے ختنوں پر پابندی ہونی چاہیے اور تعجب تو اس بات پر ہے کہ لیبرل الائنس پارٹی جس کے سربراہ عربی النسل ، ناصر خضر جو بذات خود اسلامی پس منظر رکھتے ہیں وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ لڑکوں کے ختنوں پر پابندی ہونی چاہیے۔ اور حب اختلاف کی سب سے بڑی، سوشل ڈیموکریٹ کی سماجی امور کی ترجمان میٹے فریڈرکسن بھی ایسا ہی چاہتی ہیں۔ حکمران وینسٹرا پارٹی کی امور صحت کی ترجمان ایلین ٹرانے نو¿ربی، اس سلسلے میں اب وزارت صحت سے رجوع کرنے والی ہیں جبکہ حکوومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی کی سماجی امور کی ترجمان ویوی کیئر تو اس معاملے کو باقاعدہ بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جبکہ بائیں بازو کی ایس ایف پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ہی کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ ہماری نظر میں لڑکوں کے ختنوں پر پابندی کے حوالے سے یہ ساری بحث جو سیاسی حلقوں اور میڈیا میں جاری ہے یہ کیا رنگ دکھائے گی ، یہ تو آنے والا قوت ہی بتائے گا لیکن ایک بات صاف عیاں ہے کہ اس بحث کا مقصد اس کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ ڈنمارک میں مسلمانوں کو ان کے دین و مذہب سے دور کردیا جائے۔ ڈینش سیاسی حلقوں ، ڈینش مجلس اخلاقیات، بچوں کے امور کی کونسل اور نام نہاد پیشیہ ور ماہرین بیشک کچھ بھی کہیں، مسلمان اور یہودی، دونوں دینی برادریاں اپنے لڑکوں کے ختنے کرائے جانے سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہو سکتیں۔ اور یہ بات ڈینش سیاستدان، نام نہاد ماہرین اور میڈیا والے بھی جانتے ہیں کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام سے لیکر ااب تک یہودیوں میں اور پھر چودہ سو سال سے لے کر اب تک مسلمانوں لڑکوں کے ختنے کرائے جانے کا جو فریضہ ادا کیا جا رہا ہے وہ ایک دینی، تاریخی، تمدنی و ثقافتی ایسی ٹھوس اقدار میں شمار ہوتا ہے جو جہودیوں اور مسلمانوں کے مشترکہ ورثے میں سر فہرست ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اپنے اجداد کے اس ورثے کی مشترکہ حفاظت کے لیے ڈنمارک میں مسلمان اور یہودی، دونوں دینی برادریاں، کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیں گی اور ڈینش سیاستدانوں کی بیہودہ یاواگوئی اور نام نہاد پیشہ ور ماہرین کی بے تکی تاویلوں اور ڈینش مجلس اخلاقیات کے اس غیر اخلاقی مطالبے کا، ڈینش آئین اور عالمی حقوق الانسان کی روشنی میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔اور اسی میں ان کے دینی و ذاتی تشخص کی بقا ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس ہی قسم کا اُبال جرمنی میں بھی آتا رہتا ھے مگر یہاں کی یہودی لابی بہت تگڑی ہے ، وہ اس بات کو زیادہ نہیں چلنے دیتی اور سیاستدانوں کو خاموش کرا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنے عقائد میں دخلاندازی بالکل برداشت نہیں کرتے -
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا | چیتا چالباز (01-01-09), میاں شاہد (27-12-08) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-01-09), چیتا چالباز (01-01-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 244
کمائي: 5,308
شکریہ: 243
175 مراسلہ میں 383 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جرمنی میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد 30 لاکھ سے بھی زیادہ ہے ۔ مگر سیاسی اثر ورسوخ نہ ہونے کے برابر ہے ، جبکہ یہودیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم ہے ۔
مسلمان متحد ہو کر مستقل مزاجی سے اس معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں اب تک ناکام رہے ھیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے ۔ اسلیے کسی سے کیا گلہ ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-01-09), چیتا چالباز (20-01-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ایک اچھی، معلوماتی اور بامقصد تحریر لکھنے پر آپ کو میری طرف سے مبارک باد قبول ہو۔
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | چیتا چالباز (08-03-09) |
![]() |
| Tags |
| فرض, پسند, ڈنمارک, وزیر, مقابلہ, الزام, اسلام, اسلامی, بچوں, تحریر, جواب, جلد, حال, خلاف, دل, سال, عالم, صومالیہ, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 05:54 PM |
| امریکا سمیت 3 ملکوں کے سربراہوں کو عدالتوں نے استثنٰی نہیں دیا | گلاب خان | خبریں | 0 | 26-09-10 03:24 AM |
| اسرائیلی درندوں کی “غزہ“ میں بربریت(تصویروں کی زبانی) | ایکسٹو | خبریں | 7 | 27-01-09 11:19 AM |
| میثاق جمہوریت پر عمل ہو اتو زرداری اور نواز شر یف کی حمایت کروں گا،اچکزئی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 03:33 AM |
| سوات: پختون نوجوانوں اور بزرگوں کی متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 04-12-07 11:06 AM |