| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوستو
آج سے ایک مہینہ پہلے ایک تھریڈ میں بات پولیس کی ہو رہی تھی ، اس پر میں نے ایک پوسٹ کی تو منتظمین بھائی نے کہا تھا کہ اس پر نئی تھریڈ بنائیں ، میرے امتحانات قریب تھے ، اس لئیے معاملہ ٹلتا رہا ، اب اس حکم کی تعمیل کر رہا ہوں ، آپ سے گزارش ہے کہ اسے پورا پڑھئیے گا اور ساتھہ ساتھہ اپنی آرا سے آگاہ کرتے رہئیے گا ۔ پولیس کے بارے میں عوام کا مجموئی تاثر کیا ہے اس سے آپ سب بخوبی آگاہ ہیں ، پولیس کا نام آتے ہی تعن و تشنیع کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے اور رشوت خور سے لے کر پتا نہیں کیا کیا چند منٹ میں کہ دیا جاتا ہے ، اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں ، میڈیا ، سیاست دانوں اور مہنگائی نے مل کر عوام میں اس محکمہ کا ایک ایسا تاثر بنا دیا ہے کہ اب سبھی لوگ اسی عینک سے پولیس کو دیکھتے ہیں۔ میری اس تھریڈ کا Main source بہت سے پولیس والے ہیں جن سے مختلف اوقات میں حاصل شدہ مختلف معلومات اس تھریڈ کی بنیاد بنی ہیں ۔ اس پردے کے پیچھے کیا ہے ، خاص طور پر سپاہی سے لے کر انسپیکٹر تک جو لوگ ایماندار ہیں ان پر کیا گزرتی ہے ، رشوت کی بنیادی وجوحات کیا ہیں اور انہیں کیسے دور کیا جا سکتا ہے ، اور بھیڑیا نما پولیس والوں سے عوام کو کیسے بچایا جا سکتا ہے ، یہاں ان سب سوالوں کے جواب دئیے جائیں گے۔ آج کل تو پولیس والے مزے میں ہیں، پنجاب حکومت نے ان کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ وہ گزارے لائق زندگی گزارنے کے قابل ہو گئے ہیں ، لیکن اس اضافے سے پہلے ایک 27 سالہ ملازمت کے حامل کانسٹیبل کی تنخواہ 13/14 ہزار ماہانہ تھی جس میں ایک خاندان کا مہینہ بھر کا خرچ اس مہنگائی میں ناممکن نظر آتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ دیگر کسی بھی محکمہ میں ڈیوٹی پر اتنا خرچ کسی بھی ملازم کا نہیں ہوتا جتنا پولیس والے کا ہوتا ہے ، اس کی یہاں دو مثالیں دوںگا ۔ زاہد بحیثیت کانسٹیبل ایک تھانے میں Process server کے طور پر کام کرتا ہے ، اس کو حکومت کی جانب سے بیرون شہر جانے کی صورت میں ٹی اے ڈی اے دیا جاتا ہے جو کہ بمشکل اس کے دس دن کے خرچ کے برابر ہوتا ہے ، لیکن جب وہ شہر کے اندر تعمیل کے لیے جاتا ہے تو اسے ضرور مختلف علاقوں میں جانے کے لئیے بس ، ویگن وغیرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس کرایہ کی مد میں نیز مختلف افسران پولیس کو ان کی تاریخ پیشی سے آگاہ کرنے کے لئیے فون خرچ کی مد میں اس کے روزانہ تین سے پانچ سو روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ حکومت اسے ماہانا اوسط 4000 روپے اس کام کے لئیے الگ سے دیتی ہے ، اب بقایا رقم یا تو وہ اپنی تنخواہ میں سے خرچ کرے اور یا پھر کسی سے رشوت لے کیوں کہ اس نے اپنا گھر بھی تو چلانا ہے ۔ احمد علی ایک سب انسپیکٹر ہے اور اسی محکمہ میں ایک دفتر میں تعینات ہے ، اس کا مسئلہ سب سے عجیب ہے ، اس کے دفتر میں سٹیشنری ہر وقت ختم رہتی ہے اور محکمہ اسے بروقت اور حسب ضرورت سٹیشنری نہیں دیتا ، جبکہ جملہ کام جو اس کے ذمہ ہے اس کی بروقت تکمیل کا تقاضہ کرتا ہے ، اس صورت حال میں ، اسے کم از کم 1500/2000 کی سٹیشنری اپنی جیب سے ہر ماہ دفتر کے لئیے خریدنی پڑتی ہے جو کہ اسے کبھی بھی وصول ہونے کی کوئی امید نہیں کہ اگر محکمے کے پاس فنڈ ہوتا تو اسے اپنی جیب سے سٹیشنری منگوانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ رشوت نہیں لیتا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اپنے فرائضادا کر رہا ہے ۔ آئیے آپ کو ایک اور منظر دکھاتے ہیں ، یہ ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر ہے ، اچانک ایمرجنسی کا اعلان ہوتا ہے اور جملہ سٹاف کو یونیفارم میں اسلحہ کے ساتھہ کسی پوائنٹ پر اکٹھے ہونے کے لئیے کہا جاتا ہے ، ان اکٹھے ہونے والوں میں ساجد بھی ہے ، جس کی ابھی ایک ہفتہ پہلے شادی ہوئی ہے ، اس کا باپ فوت ہو چکا ہے اور گھر میں ماں ، بیوی ، اور تین بہنیں اسی کی تنخواہ پر گزر بسر کرتی ہیں ، ساجد بھی رشوت کو حرام سمجھتا ہے اور اسی لئیے پولیس لائن میں تعینات ہے ، کہ یہاں اس کا اپنی ڈیوٹی پر کوئی خرچ نہیں آتا ۔ شہر میں کسی مقام پر ایک ہجوم مشتعل ہو چکا ہے اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے ، پولیس جیسے ہی وہاں پہنچتی ہے ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلینگ کا حکم دیا جاتا ہے اور اس دوران کسی طرف سے ایک گولی آتی ہے اور ساجد کو شدید زخمی کر جاتی ہے ، اسے جلدی سے ہاسپٹل پہنچایا جاتا ہے لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوے شہید ہو جاتا ہے ، اب ہم تو اسے شہید کہ رہے ہیں لیکن پولیس ڈیپارٹمنٹ اسے شہید مانے گا تبھی اس کی موت کے بعد اس کی تنخواہ کا سلسلہ جاری رہ سکے گا ورنہ اس کی بیوہ اور والدہ پیسوں کے لئیے دفاتر کے چکر کاٹتی رہ جائیںگی ۔ اس کی بہنیں جو ہر ماہ اپنے بھائی کا انتظار کرتی تھیں کہ وہ ان کی فرمائشیں پوری کرنے کے لئیے گھر آئے گا ، اب گم سم اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتی رہ جائیںگی ، ان کے سر پر ہاتھہ رکھنے والا محبت کرنے والا بھائی تو اپنے سچے رب کے پاس چلا گیا ۔ کیا اس معاشرے میں ان کی ماں انہیں زمانے کی گندی نگاہوں سے بچا سکے گی ؟ ’’ جاری ہے ‘‘ یہ وہ حقائق ہیں جو میڈیا میں نہیں آتے کیوںکہ پولیس والوںکو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ، میرے کچھہ دوست پولیس میں ہیں ، انہی کے زریعے یہ واقعات معلوم ہوتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ پنجاب پولیس پردے کے پیچھے کیا ہے ’’ دوسرا اور آخری حصہ ‘‘ اوپر بیان شدہ چند جھلکیاںایسی ہیں جن سے آپ عام پولیس والے کی مالی اور دماغی پریشانی کا اندازہ کر سکتے ہیں ، اس کے ساتھہ ساتھہ اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کہ کسی نارمل انسان کو پاگل پن کی حد تک لے جانے کا باعث بن سکتی ہیں ۔ اسی ڈیپارٹمنٹ کےبارے میں ایک لطیفہ بھی سن لیں اور پھر جان لیں کہ جو شخص رشوت نہیں دینا چاہتا اس کو رشوت دینے اور لینے پر کیسے مجبور کیا جاتا ہے ۔ ایک شہر کی پولیس لائن میں ایک دن انچارج انسپیکٹر اپنے دفتر میں بیٹھا سپاہیوں کو چھٹیاںدے رہا تھا ، باری باری لائن میں لگے ہوے سپاہی اپنے نمبر پر آگے جاتے اور انچارج لائن محرر کی طرف دیکھتا ، لائن محرر مخصوص اشارے کی مدد سے کچھہ اسے سمجھاتا اور وہ تین سے بارہ دن کی چھٹیاں ان کو دے دیتا، انچارج انسپیکٹر ہر لڑکے کو بڑے پیار سے کہ رہا تھا کہ آئو بیٹا ہم چھٹی دیتے ہیں، سب کو دیتے ہیں ، ہم تو جس کو جتنی چھٹی چاہئیے ہو دیتے ہیں ،اسی دوران ایک سپاہی جس نے لمبی سی داڑھی رکھی ہوئی تھی اور پانچ وقت کا نمازی تھا اس کے سامنے پہنچا اور درخواست ان کے سامنے رکھی ، انسپیکٹر کہ رہا تھا ۔ کون کہتا ہے کہ ہم چھٹی نہیں دیتے ، سب کو دیتے ہیں ،مولوی کو دیکھا اور محرر کی جانب دیکھہ کر مولوی کو ڈانٹتے ہوے دیکھا اور کہا کسی کسی کو نہیں بھی دیتے ، تمہیں جرات کیسے ہوئی درخواست لے کر آنے کی ، دفع ہو جائو ، مولوی بے چارہ خاموشی سے باہر آ گیا ، اور ایک کانسٹیبل جو کہ ہر بات پر بڑی اور نادر و نایاب قسم کی گالیاں دینے کا عادی تھا ، اس کے پاس پہنچا اور انسپکٹر کا نام لیتے ہوے اسے کہا کہ مہربانی کر کے اس کنجر کو میری جانب سے 15/20 کراری کراری گالیاں دو میں اپنی زبان گندی نہیں کرنا چاہتا ، وہ سپاہی بھی مولوی کا دوست تھا ، بڑے جذبے سے یاری نبھائی ، یہاں بھی پس پردہ ایک گیم چل رہی تھی 600 روپے میں تین دن چھٹی ، 1000 روپے میں 6 دن چھٹی کا ریٹ مقرر تھا ، انسپکٹر لائن محرر کے اشارے کو دیکھتے ہوے سپاہی کی دی گئی رشوت کے مطابق انہیں چھٹیاں دے رہا تھا ، مولوی کی باری پر لائن محرر نے نفی میں اشارہ کیا اور اس پر محترم انچارج صاحب نے غصے کا اظہار کیا ۔ پولیس بطور سیاسی ہتھیار ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ معین قریشی کے دور کو چھوڑ کر ہر دور میں پولیس کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے ، میری اس بات سے شاید اختلاف بھی کیا جائے لیکن اس ڈیپارٹمنٹ کے لوگ جو کہتے ہیں اس کے مطابق پنجاب میں شہباز شریف خادم اعلی پنجاب کے موجودہ دور میں پولیس کو سیاسیوں کی کسی قسم کی مداخلت کا کم ہی سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک دو مثالوں کا کہا نہیں جا سکتا مجموعی طور پر حالات اس حوالے سے بہتر ہیں ۔ جن ادوار میں پولیس کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا گیا ان کی صرف ایک جھلک دیکھہ لیں ۔ ایس ایچ او کو ضلع ناظم کا فون آتا ہے ، اور وہ اس سےکہتا ہے کہ فلاں شخص مجھے دو دن میں اندر چاہئیے ، شکایت میرے آدمی تم تک پہنچا دیں گے ، اس کی تھانے میں اتنی چھترول ہونی چاہئیے کہ پھنے خانی بھول جائے ، اور اس فون کال کے تیسرے دن اخباروں میں ایک نیا سکینڈل کسی اپوزیشن سیاسی ورکر کے خلاف بکھرا نظر آتا ہے اور جب تک وہ بندہ پائوں پر گر کر توبہ نہیں کر لیتا اس وقت تک اس کی رہائی یا مار پیٹ میں کمی کا کوئی امکان نہیں ، یہ تو ماضی قریب کی بات ہے ایک پرانا ہتھکنڈا بھی دیکھ لیں ایک صحافی جو کہ ایک پسماندہ سے قصبے میں صحافت اور چھوٹی موٹی بلیک میلنگ سے اپنا پیٹپالتا تھا ، ایک دن علاقے کے ایم این اے صاحب کے خلاف خبر لگا بیٹھا ، MNA حکومتی پارٹی میں کافی اثر و رسوخ رکھتا تھا اور اسی کی سفارش پر اس کے رہائشی تھانے میں ایک نیا ایس ایچ او آیا تھا ، ایم این اے نے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ میں نہیں جانتا ، اس شخص کو میرے پائوں چوم کر مجھہ سے معافی مانگنی ہو گی ۔ اس صحافی نے ایک دوکان میں چھوٹا سا دفتر بنا رکھا تھا ، اس شام وہ اپنے دفتر پہنچا اور جیسے ہی لائٹ جلائی ایک لڑکی جو پہلے سے اس کی دوکان میں چھپی تھی ، اسے پکڑلیا اور شور مچا دیا ، بچائو بچائو کی آوازیں سن کر آس پاس کے لوگ پہنچے اور اسی وقت ’’اتفاق‘‘ سے ایس ایچ او صاحب بھی گشت کرتے کرتے وہاںپہنچ گئے ، قصہ مختصر اس صحافی نے رو پیٹکر معافی مانگتے ہوے اپنی جان بخشی کروائی ، لیکن اس وقت تک اس کی اتنی پٹائی تھانے میں ہو چکی تھی کہ اس کے لئیے کافی تھی ، ظاہر ہے کہ یہ سارا ڈرامہ SHO کا Preplanned تھا اور وہ لڑکی ایک نائکہ کی بیٹی تھی اس تعاون کے بدلے اس نے اس قصبے میں ایک مزید بے حیائی کا اڈا کھول لیا اور اسے پوچھنے والا کوئی نہ تھا ۔ آخر پولیس ان سیاسی افراد کے ہاتھوں میں کھیلتی کیوں ہے ، ایک ایس ایچ او کو دئیے جانے والے اختیارات دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ اپنے تھانے کے علاقے میں اس سے زیادہ Powerful شخصیت اور ہوتی ہی کوئی نہیں ، جن لوگوں سے اس نے روزانہ ڈیل کرنا ہوتا ہے وہ کروڑ پتی بھی ہوتے ہیں ، ان کے مقابلے میں 2003 میں ایک ریٹائرمنٹ کے قریب ایس ایچ او کی تنخواہ دیکھیں تو آپ کو ہنسی آئے گی ۔ 8750 روپے میں اپنی ڈیوٹی اور ان بے بہا اختیارات کو دیکھتے ہوے کوئی بھی شخص بے ایمانی کی زندگی اپنا سکتا ہے ، ایسے حالات میں جو لوگ رشوت نہیں لیتے ، انہیں ولی کہنا چاہئیے ۔ لیکن یہاںبہت مزے کی ایک بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے انسپیکٹر بھی ہیں جو کہ ایک تھانے سے دوسرے تھانے میں فٹبال بنے رہتے ہیں ، کبھی کبھی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں بھی ٹرانسفر کر دئیے جاتے ہیں ، لیکن وہ ایک پیشہ رشوت نہیں لیتے اور نہ ہی کسی سیاسی کی بات مانتے ہیں۔ ٹرانسفر کا لالچ اور خوف ، اعلی افسران کا دبائو ، اور علاقے سے بے عزت ہو کر نکالے جانے کا خوف بہت سے ایس ایچ او صاحبان کو سیاسی افراد کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کرتا ہے۔ درندگی سے بچائو اس درندگی سے بچائو کے بہت سے طریقے پاکستان میں معروف ہیں ، سب سے پہلے سیاسی تعلقات ، دوسرے نمبر پر قانون سے آگاہی ، تیسرے نمبر پر ہریشر گروپس کا قیام ، سیاسی تعلقات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ اوپر بیان کی گئی صورت حال سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، قانون سے آگاہی کی بابت بھی سنئیے ، ایک بڑے شہر میں ایک نوجوان سائیکل پنکچر لگانے کا کام ایک چھوٹی سی دوکان میں کرتا تھا ، وہ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر یہ کام کر رہا تھا ، بی اے کیا ہوا تھا اور اسے وکالت کا شوق تھا لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر باپ کی دوکان سنبھالنے بیٹھہ گیا تھا ۔ اس کو ایک دن کسی بات پور پولیس اٹھا کر تھانے لے گئی ، اور اچھی بھلی پٹائی لگانے کے بعد کچھہ دے دلا کر وہ چھوٹ کر آ گیا ، واپس آنے کے بعد اس نے اپنی جمع شدہ 12/15 ہزار کی رقم اٹھائی اور ایک وکیل کے زریعے ہائی کورٹ میں رٹ کر دی ، پولیس والے اتنے تنگ ہوے کہ اس سے معافی مانگی ، اور رازی نامہ کیا ، اس دن سے بجائے ڈرنے کے وہ پولیس والوں کو تڑی لگاتا پھرتا تھا کہ میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو ، گرچہ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں غیر سیاسی پریشر گروپس بنائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف قدرے بہتر پریشر گروپس کا کام کر رہے ہیں۔ رشوت کیسے ختم کی جائے، انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک انسان کو بنیادی ضروریات مہیا کر کے ہی معاشرہ اس سے اپنی اخلاقیات پر عمل درآمد کی توقع رکھہ سکتا ہے ، اپنے اپنے رینک کے لحاظ سے پولیس والوں کی تنخواہ بڑھائی جائے ، محترم شہباز شریف صاحب کا اعلان کردہ پیکیج بہت اچھا تھا لیکن بعد ازاں اس میں کانٹچھانٹکر کے اونٹکے منہ میں قدرے موٹے زیرے جتنا کر دیا گیا ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی پنجاب میں ایک سپاہی 25000 روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ہے ، دوسرا 18000 روپے اور تیسرا 13000 ، گرچہ کہ اب ان سب کو برابر کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ایسے کہ 25000 والے کو اور 18000 والے کو واپس 14500 پر لایا گیا ہے اور 13000 والے کو بھی 14500 ہی دئیے جا رہے ہیں ، جبکہ خادم اعلی پنجاب کے حکم کے مطابق 13000 والے سپاہی کو 19000 تک تنخواہ ملنی تھی، ان کو اگر عوام کا خادم بنانا ہے تو ان کی تنخواہ اتنی ضرور کریں کہ وہ با آسانی زندگی کی گاڑی دھکیل سکیں ۔ کافی بڑی تعداد خود ہی رشوت لینا چھوڑ دے گی ، اس کی بہترین مثال موٹر وے پولیس ہے ، اس میں آغاز میں اسی پولیس سے افراد بھیجےگئے ، بس ان کی سیلیکشن اور ٹریننگ میں ایمانداری اور قانون پسندی کو سامنے رکھا گیا ، اور آج پورا ملک جانتا ہے کہ موٹر وے والے رشوت نہیں لیتے ۔ اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم اور مزید قانون سازی کی اشد ضرورت ہے ، خاصطور پر اس محکمہ کے ملازمین کو جب جملہ مراعات دے دی جائیں تو انہیں کے لئیے بطور تجربہ ایک قانون بنایا جانا چاہئیے ، جس میں رشوت خوری کی سزا موت ہو اور مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے ، قانون پر عمل درآمد اسی طرحکروایا جائے جیسے موٹر وے والے بغیر بڑا چھوٹا دیکھے چالان کرتے ہیں ، انتہائی شفاف انکوائری کا بندوبست ہونا چاہئیے اور اینٹی کرپشن میں انتہائی پاک باز اور خوف الہی رکھنے والے افسران اور سپاہی تعینات کئیے جائیں ، عوام کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ رشوت طلب کئیے جانے پر رپورٹ کرنے کی ہمت اپنے اندرپیدا کر سکیں ۔ اگر ان اقدامات کو قانون کا حصہ بنا دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ رشوت جیسی لعنت اس محکمہ سے اور پھر بتدریج وطن عزیز سے مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ۔ پولیس میں یقین جانئیے کہ ظالم اور رشوت خوروں کی نسبت اچھے اور ایماندار افراد کی کثیر تعداد موجود ہے بس وہ یا تو اپنی اپنی جگہ ترغیبات کا مقابلہ کر رہے ہیں ، یا پھر ہمت ہار کر کونے کھدرے کی ایسی جگہوں پر پوسٹڈ ہیںجہاںانہیں نہ تو رشوت لینی پڑے نہ دینی ، ان لوگوں کو استعمال کرتے ہوے اس لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ Last edited by شاہ جی 90; 05-07-09 at 01:54 PM. |
|
|
|
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,605
کمائي: 40,475
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہم اس میڈیا اور سیاسدانوں کے چکروں میں آکر اپنوں کو ہی گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ شاہ جی میرا ایک دوست آرمی میں لیفٹینینٹ ہے اس کا مجھے کچھ دن پہلے میسج آیا تھا وہ کیا لکھتا ہوں وہ بھی یہاں شئیر کرتا ہوں اس وجہ سے شئیر کر رہا ہوں کیونکہ آجکل ہمارے اپنے لوگ ہماری فوج سے بھی بدزن ھوئے ھوئے ہیں برائے مہربانی اپنے سب دوستوں کو بتاؤ کے ہم تمہاری حفاظت کے لیئے ہیں ہم اپنے سینے پر گولیاں کھاتے ہیں ہم تم لوگوں کی امیدوں پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گےہم یہاں تم پر حکومت کرنے کے لیئے نہیں ہیں ہم تمہاری خدمت کے لیئے ہیں لیکن خدارا ہمیں اپنے دلوں میں زندہ رکھیئے گا ہمیں اپنی دعاؤں میں زندہ رکھیئے گاتم نہیں جانتے کہ اپنے ساتھی کی شہادت کی خبر سن کر کتنا درد ھوتا ہے ، میرے دوست کیپٹن معراج کے لیئے دعا کریں جس نے سوات میں جام شہادت نوش فرمایا۔ میں اپنے ان تمام جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں خواہ وہ فوج سے تعلق رکھتا ہو یا پولیس سے جو ہماری حفاظت کے لیئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے ہیں
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں تو ایک سادہ سا سپیشل ایجوکیشن ٹیچر ہوں بھائی
ہاںآنکھیں اور کان کھلے رکھتا ہوں اور وطن کی محبت میں جب دل انتہائی کڑھنے پر آ جاتا ہے تو دل کی بھڑاس نکال لیتا ہوں ، ویسے آپ کی بات سے خیال آیا کہ ہمیں بھی ایک ایجنسی کھولنی چاہئیے ، عاشقان پاکستان یا پاکستان لورز کے نام سے اور اس ایجنسی کا دوسرا ممبر بننے کی میں آپ کو دعوت دیتا ہوں، میں تو پہلا بن ہی چکا ہوں ۔ کیا خیال ہے |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رضی بھائی ، سرورق کے لئیے اپلائی کرنے پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں ،
واقعی مشرف دور نے پاک فوج کے امیج کو بھی بے انتہا نقصان پہنچایا ہے ، اس وقت ضرورت اس امر کی ے کہ عوام میں یہ احساس بیدار کیا جائے کہ چاہے فوج ہو یا پولیس ، اس میں کام کرنے والے بھی ہمارے ہی بھائی ہیں ، وہ بھی کسی ماں کے بیٹے ، کسی کے سر کا سہاگ اور کسی بہن کے بھائی ہوتے ہیں، ہمیں ان کا حوصلہ بڑھانا چاہئیے نہ کہ ان کو برا بھلا کہتے پھریں ۔ |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (04-07-09) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,605
کمائي: 40,475
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
برانڈنگ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اپیل |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
السّلام علیکم!
ملک کی خراب صورتِ حال میں کہ جب ہر شخص اپنے گھر میں رہنا پسند کرتا ہے وہاں ہماری فوج سرحد پر اور ہماری بدنصیب پولیس سڑکوں پر اہم عمارتوں پر مساجد اور چرچ اور امام بارگاہوں کے احاطے میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں کیا آپ جانتے ہیں کہ محرم، عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مختلف سیاسی جلسے اور جلوسوں میں جب ہمارے پولیس کے جانباز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں تیز دھوپ میں بارش میں کوئی نہیں ہوتا پانی پوچھنے والا نہ کھانا کھلانے والا 12 گھنٹے کی ڈیوٹی میں کافی اہلکار تھانے یا دفترپہنچنے کے لیے اپنے ذانی خرچ پر جاتے ہیں کنوینس الائنس اتنا ہوتا ہے کہ دو چار دن ہی نکال پاتے ہیں! |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
شاہ جی بہت اچھی اور سچی باتیں لکھیں ہیں آپ نے مگر یہ اچھی اور سچی باتیںآدھی اور ادھوری ہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی اس تھریڈ کے کم از کم تین حصے تو ہوںگے حصہ اول لکھہ دیا اور چار پانچ دن کی مصروفیت آ گئی ، اب حصہ دوئم لکھنا ہے دیکھیں کب تک لکھا جائے ، جب مکمل ہو گیا تو آپ کی جانب سے بھرپور تبصرہ چاہوںگا
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
میرے خیال سے یہ محکمہ ختم کر کے ایک نیو فورس لانی چاہیے۔
جیسے کہ اٹلی میں ہے دیہاتوں کے لیے لوکل پولیس۔۔Polizia di locale سٹی کے لیےاور اضلاع کے لیے Carabineary polizia ٹیکس کےلیے Guarda di finanza ان پر نظر رکھنے کے لیے Vigili
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات Last edited by شاہ جی 90; 05-07-09 at 01:58 PM. |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (05-07-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسافر بھائی، میری مصروفیت تو کل سے شروع ہونی تھی ، بس آج کچھ تھکاوٹ زیادہ محسوس کر رہا تھا ، اور سوچا تھا کہ اسے دو مذید حصوںمیں فرصت سے لکھوں گا لیکن آپ کی بات نے مجبور کیا کہ میاںایسی بھی کیا تھکاوٹ ، اٹھو اور لکھہ ڈالو ، سو اب تھریڈ مکمل ہے حصہ دوئم پڑھئیے آپ کے تبصرے کا انتظار رہے گا ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, پسند, واقعات, لوگ, نظر, محبت, معلوم, معاشرہ, معراج, اللہ, الزام, بہترین, بھائی, جام, حال, خون, خبر, دوست, دل, درخواست, روتا, شخص, عید, صحافت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نشئی بیوروکریٹ نے پولیس کو جوتے مار کر ایس ایس پی سندھ بدر کرا دیا | جاویداسد | خبریں | 0 | 28-11-10 06:41 PM |
| چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی | جاویداسد | خبریں | 0 | 24-11-10 06:25 PM |
| سوئی سدرن گیس کمپنی کی گیس کا استعمال 20 فیصد کم کرنے کی اپیل | جاویداسد | خبریں | 0 | 23-10-10 04:32 PM |
| پنجاب پولیس کے اشتہار میں بھارتی پولیس کا مونو گرام | محمدعمر | خبریں | 1 | 19-03-10 09:38 PM |
| مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی | وجدان | خبریں | 0 | 26-01-08 08:00 AM |