| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
انسان کی ذندگی میں آنے والے تین ادوار بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں سے بچپن ہی وہ دور ہے جس کے پلٹ آنے کی سب تمنا کرتے ہیں۔یہ وہ دور ہوتا ہے جس میں کوئی فکر کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ بے فکری کا یہ عالم دُنیا و مافیھا اور فزکس کے سب مشکل مسئلے "وقت" کی قید سےآٓزاد ہوتا ہے۔ بچپن میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا، ابھی سو کر اُٹھے ناشتہ کیا، اسکول گئے، اسکول سے واپس آکر ہوم ورک کیا، سپارہ پڑھا، پھر باہر گلی میں کھیلنے چلے گئے۔ گلی کی حدود میں اس کائنات کو کوئی اصول کام نہیں کرتا تھا، مختلف کھیلوں کو کھیلتے کھلیتے شام ہوجاتی،جسم تھک کر چور ہوجاتے، پسینہ سر کے بالوں سے بہتا ہوا پیروں میں پہنی ہوئی چپلوں تک جا پہنچتامگر جب تک گھروں سے ایک دوسرے کے نام نا پکارے جاتے کوئی واپس جانے کا نام ہی نا لیتا۔
آہ! کیا زمانہ تھا وہ! آج یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کے کیوں نہ اپنے بچپن کی یادوں میں آپ لوگوں کو بھی شریک کروں؟ یہی خیال اس پوسٹ کے لکھنے کا سبب بنا۔آپ اس پر اپنی رائے دیجیئے گا اور اگر آپ نے اِن یادوں کو پسند کیا تو اس سلسلے پر مذید لکھوں گا، شکریہ و السلام علیکم! مجھے اپنے بچپن کی سب سے پہلی بات جو یاد ہے وہ ایک بوڑھی لنگڑی خاتون کا چہرہ ہے۔وہ اُس مکان کی مالکہ تھیں جہاں پر ہم کرائے پر رہتے تھے۔ وہ ہر وقت ایک لکڑی تھامے رہا کرتی تھیں یہ لکڑی ہی دراصل ان کی ٹانگ تھی۔وہ بہت اچھی خاتون تھیں محلے کے سارے بچے اُن کے گھر میں سیپارہ پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ کرائے دار ہونے کے ناتے ہمارا اُن کے گھر میں آنا جانا کچھ ذیادہ ہی تھا۔ مجھے یاد ہے کے وہ نیاز کی لیئے آئی ہوئی شیرینی میں سے مجھے کچھ نا کچھ دیتی رہتی تھیں۔ کرائے کے اُس گھر کے سامنے ایک پارک تھا "صابر پارک" نام کا۔ اس باغ کی سب سے اہم بات یہ تھی کے یہ پارک محلے کے ایک صاحب جن کا نام "صابر" تھا ،نے خود بنا کر عوام کے لیئے دان کردیا تھا۔ اس باغ کے چاروں کونوں میں چاربڑے بڑے درخت نما پودے تھے (میں اُن پودوں کا نام نہیں جانتا مگر صرف یہ یاد ہے کے اُن میں گلاب جیسے پھول لگتے تھے مگر اُن پھولوں کی خوشبو میں کڑواہٹ ہوتی تھی) یہ درخت نما پودے اتنے گھنے تھے کے "چُھپم چُھپائی" کھلیتے ہوئے ہم اُس کے اندر چھپ جاتے تھے۔ پارک کے چاروں طرف "ڈم ڈم" نامی پودے کی باڑھ تھی۔ محلے کے بڑے بچے آپس میں اس باڑھ کو کود کے پار کرنے کی شرطیں لگایا کرتے تھے۔ صابر صاحب کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے صابر پارک کی حالت باقی پارکوں کی طرح نہیں تھی۔ا س پارک میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی پودوں کی تبدیلی کا عمل شروع ہوجاتا۔ ایک مرتبہ جب مالی پرانے پودوں کی اُکھاڑ کر نئے ننھے منے پودے لگا رہا تھا میں نے دوسرے بچوں کی طرح پرانے پودوں کا "جن پر ابھی پھول کھلے ہوئے تھے" ایک ڈھیر جمع کرلیا اور اپنے بڑے بھائی کی مدد سے گھر لے آیااور گھر کے دلان میں اُن کا ڈھیر لگادیا۔ اماں "میری دادی" نے جب دیکھا تو بہت ناراض ہوئیں اور میری پٹائی کی ، میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے مجھے شاباشی کے بجائے ڈانٹ کیوں پڑ رہی ہے۔ اُس رات امی نے مجھے اپنے پاس لٹایا اور پیار سے سمجھایا کے اب ان پودوں کا وقت ختم ہو چکا ہے اور یہ کچھ ہی دنوں میں مرجھا جائیں گے۔ کیوں کے اب نیا موسم آرہا ہے۔ صبح سو کر اُٹھا تو معلوم ہوا کے میرے ناشتے میں "حلوا پوری"رکھی ہوئی تھی۔ یہ "اماں" کی طرف سے پٹائی کی تلافی تھی۔ حلوا پوری کھاتے ہوئے اماں کی طرف کن آنکھیوں سے دیکھا وہ چارپائی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہیں تھیں، میں دوڑ کر گیا اور اماں کے گلے لگ گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر رونے لگیںمجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیوں رو رہیں ہیں؟ وہ روتی جا رہیں تھیں اور مجھ پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی جارہیں تھیں، آہ! اُن کے ہاتھوں کا وہ لمس! صابر پارک محلے کا کمیونٹی سینٹر بھی تھا۔ چھوٹی موٹی تقریبات بھی یہیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ سُنا کے صابر پارک میں فلم دیکھائی جائے گی۔مُحلے کا کوئی گھر ایسا نہیں تھا جہاں اس بارے میں گفتگو نہ کی جارہی ہو، ہم سب دوست آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کے یہ "فلم" کیا ہوتی ہے؟ بلآخر جمعے کا دن آ پہنچا ، آج شام کو ہم سب پہلی مرتبہ فلم دیکھنے والے تھے۔ جمعے کے نماز سے واپسی پر گھر آتے ہوئے میں نے دیکھا کے کچھ لوگ کے برابر والی دیوار پر ایک بڑا سا سفید پردہ ٹانگ رہے ہیں، اس دیوار پر نیلے رنگ سے لکھا ہوا صابر پارک اس پردے کے پیچھے چھپ گیا تھا۔شام کو پارک میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ آس پاس کے علاقے کے لوگ بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ پورے پارک میں دریاں بچھیں ہوئیں تھیں، آگے والی دریوں پر سفید چاندیاں بچھیں ہوئیں تھیں، محلے کے معززین آگے گاﺅ تکیئے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ پارک کے قریبی رہائشی ہونے کے ناطے ہم لوگ اگلی صفوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاک کے ایک حصے میں خواتین اور دوسرے میں مرد حضرات بیٹھے ہوئے تھے۔ پارک کے بیچ میں ایک تین ٹانگوں والاعجبیب سا اسٹینڈ لگا ہوا تھا اور ایک شخص عجیب سی گول گول پہیے جیسی چیز اُٹھا کے ایک مشین"پروجیکٹر" میں فٹ کررہا تھا۔ پارک میں اضطراب بڑھتا جا رہا تھا ، بچوں کی خوشی قابل دیدنی تھی۔ پارک کے قریبی گھروں کو ہدایت کی گئی تھی کے وہ گھروں کے باہر کی روشنیاں نہ جلائیں۔پھر اچانک اُس مشین میں سے روشنی نکل کر سامنے کی دیوار پر پڑھنے لگی اور میںنے دیکھا کے سفید پردہ مذید دودھیا ہو گیا ہے۔ پھر اچانک اُس پردے پر کچھ نمبر لکھے ہوئے آنے لگے، بچے خوشی سے چیخنے لگے، محلے کے بڑوں نے ہمیں ڈانٹا شروع کردیا۔ پھر اچانک پردے پر ایک انسان نمودار ہوا ، میری آنکھیں حیرت سے پھٹی پڑ رہیں تھیں میں نے مڑکر اُس مشین کی طرف دیکھا اُس میں سے روشنی نکل کر دیوار پرلگے پردے پر پڑ رہے تھی اور وہاں پردے پر ایک خوب صورت انسان نظر آرہا تھا۔میں کبھی پردے اور کبھی مشین کو دیکھ رہا تھا۔ وہ انسان کس طرح اس مشین سے نکل کر پردے پر آگیا تھامیری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ پارک میں موجود لوگ دم سادھے بیٹھے پردے کو خوشی اور استعجاب سے دیکھے جا رہے تھے۔ میں نے خواتین والے حصے میں بیٹھی اپنی امی اور اماں کو دیکھا اماں کی تسبیح مسلسل گردش میں تھی۔پردے پر کبھی ایک اور کبھی بہت سارے انسان نمودار ہوتے اور غایب ہوجاتے ۔ قریب ایک گھنٹے کے بعد یہ ایڈونچر ختم ہوگیا اور پارک میں موجود لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹے لگے۔ میں نے عورتوں کی بھیڑ میں موجود اماں کی دیکھا اور اُن کی طرف دوڑ لگا دی ۔ میں نے اُن کی انگلی پکڑی اور ان سے پوچھا اماں وہ آدمی کون تھا ، ارے پاگل وہ "محمد علی تھا" ہمارے محلے کی ایک خاتون بولیں۔ اماں وہ آدمی اُس مشین میں رہتا ہے؟ میں نے انگلی سے پروجیکٹر کی طرف اشارہ کیا، مگر اماں نے سختی سے میرا ہاتھ تھاما اور منہ سے کچھ نہیں بولیں اور گھر کی طرف چل دیں۔ اُس رات اماں نے ہمیں قیامت کی نشانیوں کے بارے میں بتایا۔ بقول اماں کے یہ مشین بھی قیامت کی ایک نشانی ہے۔ میں نے اُن سے وعدہ کیا میں اب اُس مشین کے بارے میں کچھ نہیں پوچھوں گا، مگر رات بھر خواب میں مجھے وہ آدمی اور وہ مشین نظر آتے رہے ۔ نوٹ:کورنگی نمبر ایک پر واقع یہ پارک آج بھی موجود ہے مگر اُس کے چاروں طرف لگے پودے آج وہاں نہیں ہیں۔ ڈم ڈم ہٹا کر گرل لگا دی گئی ہے اور پارک کے ایک کونے میں ایک سیاسی جماعت کا آفس بنادیا گیا ہے۔ اب محلے کے لوگ وہاں نہیں آتے اور نا ہی بچے وہاں کھیلتے ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر صابر صاحب زندہ ہوتے تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا ۔ پاک کی قریبی دیوار پر لکھا "صابر پارک" اب بہت دھندلا گیا ہے اور اگر آپ یہ نا جانتے ہوں کے یہاں کیا لکھا ہوا تھا تو آپ اُسے پڑھ بھی نہیں پائیں گے، البتہ اُس سیاسی جماعت کا آفس اور اُس پر بنی اُن کے قائد کی تصویر آج بھی بہت چمک رہی ہے۔ میری یادوں کے اس سلسلے کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔ وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ" Last edited by shafresha; 18-04-09 at 01:36 AM. وجہ: دوسرے حصے کا لنک |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فیضان صديقی ,سندھ (08-02-10), فیصل ناصر (07-04-09), ھارون اعظم (15-02-10), نورالدین (30-03-10), منتظمین (16-04-09), waseemsv (08-04-09), Zullu230 (15-04-09), ام غزل (14-04-09), ابو عمار (25-12-09), تفسیر حیدر (27-08-09), جیو (07-04-09), رضی (09-04-09), سیپ (07-04-09), عارف اقبال (26-01-10), عبداللہ حیدر (07-04-09), عدنان دانی (26-01-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ تو لکھاری ہیں ضرور لکھیں
خاص طور میں منتظر ہوں |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ تحریر میری نظر سے آج ہی گزری ، بہت ہی عمدہ تحریر ہے جس میں بچپن کی اٹھکیلیوں کے علاوہ ، معصومیت اور نادانی بھی جھلکتی ہے اور انسانیت کا فرض نبھاتے صابر صاحب اور ذاتی فائدے میں لپٹی ہوئی سیاست بھی ۔
اس تحریر کو بالکل جاری رہنا چاہئیے ، مجھے تو بہت انتظار رہے گا اس کے اگلے باب کا۔ ایک اچھی تحریر پر میری طرف سے بہت بہت شکریہ۔ Last edited by ام غزل; 14-04-09 at 11:04 AM. |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
انشاء اللہ جلد ہی اپنی یادوں کے اس سلسلے کا دوسرا حصہ بھی پیش کروں گا۔ آپ لوگوں کی تنقید اور آراءکا منتظر ہوں! |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,984
کمائي: 56,117
شکریہ: 3,009
1,427 مراسلہ میں 3,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Shafresha جی بہت اچھی تحریر ہے ۔۔۔۔ میں تو پڑھتے پڑھتے اپنے بچپن کی یادوں میں کھو سا گیا تھا۔ کاش میرا بچپن لوٹ آتا۔
اور ام غزل جی میں نے آج پہلی بار محسوس کیا کہ آپ بھی بہت اچھا لکھ لیتی ہیں۔ کبھی کاغذ اورقلم اُٹھا کر لکھنے کی ہمت کیجیے نا! آپ کی تحریروں کا انتظار رہے گا۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذولو بھائی بھلا آپ نے اندازہ کیسے لگایا کہ میںبھی اچھا لکھ سکتی ہوں ویسے میری ایک دو اپنی تحریر ہیں پاک نیٹ پر۔
آپ کی آرا کا شکریہ ، کوشش کروں گی ۔
|
|
|
|
| ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (26-05-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر بہت عمدہ۔ کمال کر دیا آپ نے آپ کی تحریر پڑھتے ھوئے میں تو گم ہی ہو گیا مجھے محسوس بھی نہیں ہوا کہ میں کہانی پڑھ رہا ہوں مجھے اس طرح لگ رہا تھا کہ میں اس بچے کے ساتھ ہی ہوں اور اس کے منہ سے سن رہا ہوں لیکن صرف ایڈونچر لفظ نے مجھے احساس دلوایا کہ میں کہ کہانی پڑھ رہا ہوں کیوں کہ صرف اس لفظ سے بچے کے منہ سے معصومیت کا احساس نہیں ہوا۔ باقی کمال کردیا آپ نے مجھے تو گم کردیا تھا آپ کی اس تحریر نے ۔ میں آپکا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اسکا لنک بھیجا۔
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (26-05-09), عارف اقبال (26-01-10) |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھای تحریر کہ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے
اللہ تعالی نے آپ کو خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے اللہ تعالی آپ کی صلاحیتوں کوراہ حق میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمایئں ہماری درعاییں آپ کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح لکھتے رہیں۔۔۔ اور پاک نیٹ کی خوبصرتی میں اور نکھار لایئں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! Last edited by عدنان دانی; 26-01-10 at 05:44 PM. |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (26-01-10) |
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھای تحریر کہ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے
اللہ تعالی نے آپ کو خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے اللہ تعالی آپ کی صلاحیتوں کو راہ حق میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمایئں ہماری درعاییں آپ کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح لکھتے رہیں۔۔۔ اور پاک نیٹ کی خوبصرتی میں اور نکھار لایئں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Last edited by عدنان دانی; 26-01-10 at 05:41 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| Memories, ٹیک, پھول, پھولوں کی خوشبو, پوسٹ, پاک, پاگل, پسند, قید, لوٹے, چور, نماز, نظر, معلوم, آج, آدمی, انسان, بھائی, بچپن, بچوں, تحریر, تصویر, خواتین, دوست, غزل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی | گلاب خان | خبریں | 0 | 21-02-11 07:52 AM |
| Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ | Real_Light | شعبہ طب | 3 | 03-05-09 01:52 PM |
| سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے | عبدالقدوس | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 07-01-08 09:30 AM |
| واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:46 AM |
| جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 21-11-07 09:29 AM |