واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


وہ کاغذ کی کشتی! "پانچواں حصہ"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-05-09, 11:21 PM   #1
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default وہ کاغذ کی کشتی! "پانچواں حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "پانچواں حصہ"

میری بچپن کی یادوں پر مشتمل یہ مضمون میری پچھلی تحاریر کا تسلسُل ہے۔ آپ سے اِن پر تنقید و توصیف کی گذارش ہے۔

شکریہ ، و السلام علیکم!

اس سلسلے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں:
وہ کاغذ کی کشتی!

اس سلسلے کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں:
وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ"

اس سلسلے کا تیسرا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں:
وہ کاغذ کی کشتی! "تیسرا حصہ"

اس سلسلے کا چوتھا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں:
وہ کاغذ کی کشتی! "چوتھا حصہ"

میرے زندگی کے ابتدائی سالوں کی کچھ شخصیات ایسی ہیں جو بوجوہ اب تک بُھلائے نہیں بھولتیں۔ مثلا
۱۔ عمیر ( میرے بچپن کا دوست)
۲۔ دل تراش( ایک ہیجڑا)]
۳۔ کنوارے بابا (ایک حکیم صاحب)
۴۔ خالو پھوپھا (عُرفیت تبدیل کردی ہے)
۵۔ منظر عابدی (میرے ٹیوشن کے اُستاد اور دوست)

پچھلی مرتبہ میں نے دل تراش کے بارے میں کچھ باتیں کیں تھیں۔
آج کی گفتگو ابا جی (کنوارے بابا) کے نام!

اُن کا گھر ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا درمیان میں محض ایک روڈ کا فاصلہ حائل تھا۔ علاقے کے دیگر مکانات کی طرح اُنکا مکان بھی 120 گز کا تھا مگر کارنر کا ہونے کی وجہ سے کچھ مزید جگہ جو تقریبا 60 گز بنتی ہے اُن کے غیر قانونی تصرف میں تھی۔ اُن کا پوتا سید عارف حسین میرا محلے کا سب سے اچھا دوست تھا۔ اُن کے مکان میں بنے تین کمروں اور ایک باورچی خانے کے علاوہ جتنی بھی جگہ تھی وہ دراصل ایک باغ تھا۔ اس چھوٹے سے باغ میں قسم قسم کی جڑی بوٹیاں، اور پودے اُگے ہوئے تھے۔ اپنی زندگی میں گھیکوار کا پودہ پہلی مرتبہ میں نے اسی باغ میں دیکھا تھا۔

اُن کے گھر کے باہر "سید بُنیاد حسین " کی تحتی لگی ہوئی تھی۔ اگرچہ وہ بُنیادی طور پر ایک حکیم ہی تھے اور لوگ اُنہیں "ابا جی" کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ اُن کے مطب کا کوئی وقت نہیں تھا مریض جب چاہے دوا لے سکتا تھاسوائے دوپہر کے قیلولے کے جب وہ ظہر کے بعد آرام کیا کرتے تھے۔ میں اکثر عارف کے ساتھ اُن کے مطب میں گُھس جاتا ، طرح طرح کی کانچ کی برنیوں میں بھر ہوئی جڑی بوٹیاں اور بوتلوں میں بھرے ہوئے عرقیات ، ایک عجیب سے ناگوار سی بو اُن کے مطب کی خاصیت تھی۔ میں اور عارف اُن کے مربہ جات کے دشمن تھے، جب وہ گہری نیند سو جاتے تو عارف میرے گھر آکر مجھے آواز دیتا اور ہم دونوں عارف کی امی (مزاج کی بہت سخت مگر دل کی نرم ہیں) سے چُھپ کر اُن کے مطب میں داخل ہوجاتے اور سیب اور گاجر کا مربہ چُرا کر کھاتے۔ ہمیں اس مشن میں کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔

اُن کے باغ میں چھوٹے موٹے پودوں اور جڑی بوٹیوں کے علاوہ انجیر، گوندنی اور املی کا درخت تھا۔ انجیر کے درخت کی لکڑی مظبوط نہیں ہوتی لہذا ہم دونوں گوندنی کے درخت کی شاخوں کو لکڑی سے زور زور سے مارتے اور نیچے گرنے والی گوندنیوں کو جمع کرکے خوب مزے سے کھاتے۔ " املی کے درخت پر جن رہتے ہیں میرے کانوں میں اماں کی بات گونجتی" لہذا اس چھوٹے سے باغ کا وہ واحد درخت تھا جو ہمارے دست بُرد سے محفوظ تھا۔اباجی کی نظروں میں ہم دراصل اُن کے باغ کے رکھوالے تھے جو مُحلے کے آوارہ لڑکوں سے اُن کے پودوں اور درختوں کو بچاتے تھے۔

گھر کے بالکل سامنے ہونے کی وجہ سے اُن کے گھر آنے والے مریضوں کی آمدورفت ہم سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔میرے والد حکمت کو ایک "سست طریقہ علاج " ہونے کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے، لہذا میں نے کبھی اُن کی دوائی استعمال نہیں کی البتہ اماں کبھی کبھار اُن سے کچھ پُڑیائیں منگوا کر کھایا کرتیں تھیں۔

ہمار ے محلے میں واقع صابر پارک کے بالکل سامنے وال مکان "کنیز باجی" کا تھا جہاں وہ اپنی اماں، ابا اور ایک بھائی کے ساتھ رہتی تھیں۔ مُحلے کے اکثر بچے ٹیوشن پڑھنے کے لیئے "کنیز باجی" کے یہاں آیا کرتے تھے۔میں نے اپنی زندگی میں جتنی حسین خواتین دیکھی ہیں کنیز باجی اُن میں سرفہرست ہیں۔ وہ دُبلی پتلی، سُرخ و سفید اور کھڑے نین نقوش والی خاتون تھیں۔ وہ اچھا پڑھاتی تھیں مگر مارتی بہت بُرا تھیں۔ غصہ آجانے پر پانی کے پائپ سے دُھن کر رکھ دیتی تھیں یا کبھی کبھی انگلیوں کے درمیاں پنسل پھنسا کر سزا دیتیں تھیں۔ کنیز باجی دراصل "سید بُنیاد حسین" المعروف"ابا جی" کی معتقد تھیں اور پابندی سے اُن کے مطب میں حاضری دیا کرتیں تھیں۔ "میرے داد دراصل میرے میرے ابا کے تایا ہیں" ، ایک دن گوندنی کے درخت پر بیٹھے ہوئے عارف نے مجھے بتایا۔

میں نے حکیم صاحب کو اپنے شروع سے نماز کے لیئے قریبی مسجد "تاج المساجد" میں جاتے ہوئے دیکھا تھا مگر پچھلے کئی ہفتوں سے وہ مسجد نہیں جا پا رہے تھے۔ ''دادا بیمار ہیں" عارف نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ اب اُن کے مطب میں ہماری دراندازیاں بڑھتی جا رہیں تھیں، ہم اب اتنے دیدہ دلیر ہو گئے تھے کے برابر والے کمرے سے حکیم صاحب کے کھانسنے کی آواز آ رہی ہوتی تھی اور ہم اُن کے مربہ جات ہضم کررہے ہوتے تھے۔ حکیم صاحب کی ہمت کے ساتھ ساتھ مربہ جات کے مرتبان بھی ختم ہوتے جا رہے تھے۔

پھر ایک دن عارف روتا ہوا ہمارے گھر آگیا، "دادا کا انتقال ہو گیا" اُس نے آستین سے ا پنے آنسوں پونچتے ہوئے بتایا۔ تھوری ہی دیر میں سارا محلہ اُن کے گھر کے باہر جمع ہوچکا تھا۔ اُس زمانے میں کسی کے یہاں انتقال پر تدفین و تجہیز کا انتظام و اہتمام عموما محلے والے ہی کیا کرتے تھے۔ "ابا نے اپنے کفن دفن کا سارا انتظام کررکھا ہے" عارف کے ابو نے محلے والوں کو بتایا۔ تھوڑی ہی دیر میں "کنیز باجی" بھی روتی دھوتی ہوئی وہاں پر آگئیں۔ پھر نا جانے کہاں کہاں سے اُن کے معتقدیں اکھٹے ہونا شروع ہوگئے۔ اُنہیں شفا دینے والے ہاتھ بے حرکت جو ہوگئے تھے۔ عصر میں نماز جنازہ میں اعلان کیا گیا کے کنوارے بابا کے معتقدیں اُن کا مزار بنانا چاھتے ہیں لہذا جو لوگ چندہ دینا چاھیں وہ فُلاں صاحب کے پاس جمع کروا دیں۔

کنیز باجی نے اپنے مُرشد کی یاد میں شادی نا کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور ساتھ ہی اپنی کمائی سے اُن کے مزار کی تعمیر کا بھی۔ عارف نے قیوم آباد میں واقع "لٹل آکسفوڈ" نامی اسکول میں داخلہ لے لیا تھا اور وہ لوگ اب "گذری" میں شفٹ ہوگئے تھے۔ ابا جی کا مکان خالی پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی اُن کا باغ بھی اُجڑ رہا تھا۔ میں اکثر باڑھ پھاند کی باغ میں گھُس جاتا اور گوندنی کی درخت پر چڑھ کر پچھلی باتوں کو یاد کرتا ۔
کچھ عرصے بعد مکان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محلے کی ایک مشہور شخصیت "خالو پھوپھا" کو سونپ دی گئی ۔ "خالو پھوپھا" نے باغ کے ایک کنارے کو صاف کرکے وہاں ایک پان کا کیبن لگا لیاتھا اور ا ب خود کو تقریبا اس جگہ کا مالک سمجھنے لگے تھے۔ میرا باغ میں داخلہ بھی بند ہو چکا تھا۔

اکثر کئی اجنبی لوگ "ابا جی" کا پوچھتے ہوئے آ جاتے اور جب اُنہیں معلوم ہوتا کے اُن کا انتقال ہو گیا ہے تو تقریبا روتے ہوئے جاتے، ناجانے اُنہیں ایک حکیم کے مرنے پر اتنا دُکھ کیوں ہوتا تھا؟ "ابا جی" کی برسی پر "کنیز باجی" نے اُن کا عرس منانے کا فیصلہ کیا۔ محلے کے دیگر بچوں کی طرح میں بھی "لنگر" کھانے کے لیئے وہاں پہنچا، لنگر کے بعد کچھ بدمزگی سی پیدا ہوگئی کیوں کے "ابا جی" کے کچھ معتقدین "ابا جی" کے مزار بنوانے کے فیصلے سے ناخوش تھے کیوں کے اُن کے خیال میں ایک "عورت" کا مزار بنوانا یا صاحب مزار کا "خلیفہ یا جانشین" ہونے کا دعوا "خلاف شریعت" تھا، مگر کنیز باجی اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیں۔ وہ یہ کہتی ہے کے "ابا جی" نے اُسے وصیت کی تھی کے وہی اُن کا مزار بنوائے، خالو پھوپھا نے چارپائی پر بیٹھے ہوئے پان چباتے ہوئے ابو کو بتایا۔

کنیز باجی کے "ٹیوشن" کی کمائی سے مزار کی تعمیر شروع ہو گئی تھی۔ میں اکثر اسکول کے بعد عارف اور کنیز باجی کے ساتھ زیر تعمیر مزار پر جایا کرتا تھا۔ مزار کیا تھا بس قبر کے گرد چار دیواری تھی اور اوپر چھت ڈال دی گئی تھی ۔ قبر کے ادرگرد بمشکل 15 سے 20 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ میں نے یہ محسوس کیا کے عارف کے ابو کنیز باجی کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھے مگر اُنہوں نے اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔

کئی سالوں کے بعد ایک دن عارف میرے گھر آیا ہم نے فیصلہ کیا کے جا کر مزار کی حالت کو دیکھا جائے۔ قبرستان پہنچ کرہم نے دیکھا کے مزار کی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔ آس پاس جنگلی گھاس اُگی ہوئی تھی۔ عارف نے جیب سے چابی نکالی اور آہستہ سے لکڑی کے دروازے کو کھولا میں اُس کے پیچھے تھا ور میرے ہاتھ میں پانی کے ڈول تھے۔ دروازہ کُھلتے ہی پیلے رنگ کی خطرناک "بھڑوں" نے مجھ پر حملہ کردیا، میں ڈول کو پھینک پھانک چیختا ہو اتیزی سے ایک جانب کو بھاگ کھڑا ہوا۔عارف شاید مزار کے اندر ہی رہ گیا تھا۔ ایک بھڑ نے میرے بائیں ہاتھ کی ہھتیلی پر زور دار ڈنک مارا میں درد کی شدت سے دُھرا ہوگیا تھا میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔( کورنگی کے قبرستان میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور اُن میں کئی غار نما بڑے بڑے سوراخ بھی ہیں )، میں بدحواسی کے عالم میں ایک پہاڑی پر چڑھ گیا، ایک فقیر نے مجھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو تیزی سے میرے پاس آیا ہوئے مجھ سے پوچھنے لگا کے کیا ہوا؟ میرے بتانے پر اُس نے اپنی گُدڑی سے ایک زنگ آلود پتھر یا لوہے کا ٹکڑا نکالا اور میری ہتھیلی پر زور زور سے ملنے لگا مجھے کچھ سکون سا محسوس ہوا میں اُس کے ساتھ قریبی ایک غار نما گڑھے کے قریب بیٹھ گیا۔ با با بہت جلالی ہے کسی کو مزار کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا ، اُس فقیر نے میرے کان کے پاس سرگوشی کی۔ میں نے دیکھا کے عارف مزار کا دروازہ بند کرکے پہاڑی کی طرف آ رہا ہے۔ اُسے بھڑوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ میری ہتھیلی پراُس بھڑ کے کاٹنے کا نشان آج بھی ایک چھوٹے سے تل کی صورت میں موجود ہے۔

نوٹ: کنیز باجی کا گھر اب ایک آستانے کا روپ دھار چکا ہے اُنہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ اُن کے گھر کی باہر دیوار پر "آستانہ سید بُنیاد حسین شاہ " اور "سیدی بُنیادی بیگم" لکھا ہوا ہے۔ یہاں لوگوں کو مختلف کاموں کے سلسلے میں تعویزات دیئے جاتے ہیں اور اور "ابا جی" جنہیں اب "کنوارے بابا" کہا جاتا ہے کے تمام معتقدین اور مریدین اب اپنی مشکلات اور پریشانی کے حل کے لیئے کنیز باجی سے ہی رجوع کرتے ہیں۔ میں اس تمام قصے کا ایک چشم دید گواہ ہوں ، میں نے اپنی آنکھوں سے "ابا جی" کو دیکھا ہے اب اگر میں کسی سے کہوں کے میں نے حضرت "کنوارے بابا" کے مُربہ جات چُرا کر کھائے تھے تو یقینا وہ اس "گُستاخی" پر میرا سر پھوڑ دے گا۔

Last edited by shafresha; 30-05-09 at 11:23 PM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیضان صديقی ,سندھ (08-02-10), ھارون اعظم (19-02-10), ابو عمار (07-02-10), بزم خیال (08-02-10), تفسیر حیدر (27-08-09), رضی (31-05-09), عروج (14-11-10)
پرانا 31-05-09, 03:10 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابھی پڑھی نہیں ہے پڑھنے کے بعد ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (19-02-10)
پرانا 31-05-09, 04:41 AM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب بہت عمدہ مزید کا بھی انتظار رہے گا ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-09)
پرانا 31-05-09, 01:33 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معذرت کے ساتھ اس میں پہلی چار قسطوں والی چاشنی اور طرز تحریر مفقود ہے۔ میرے مطابق شائد اپکو یہی قسط دوبارہ سے لکھنی چاہیے۔ یہ پہلی چار قسطوں کے ساتھ کسی بھی حال میں مناسبت نہیں رکھتی ہے۔ پلاٹ کمزور، واقعات مبہم اور غیر دلچسپ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ الفاظ اور اسلوب غیر معیاری محسوس ہوتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ اپ تنقید کو برائے تعمیر لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے قارئین کی رائے کو بھی دیکھیں کہ وہ اس تحریر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیںِ۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-05-09), فیصل ناصر (13-06-09), رضی (31-05-09)
پرانا 26-01-10, 05:48 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,342
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-01-10)
پرانا 27-01-10, 02:57 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ فریشہ بھائی اس قسط کی تدوین اور چھٹی قسط کا انتظار مدتوں سے ہے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-01-10)
پرانا 07-02-10, 09:18 PM   #7
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
شاہ فریشہ بھائی اس قسط کی تدوین اور چھٹی قسط کا انتظار مدتوں سے ہے۔
لیجیئے آپ کا انتظار ختم ہوا!
وہ کاغذ کی کشتی! "چھٹا حصہ"
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (07-02-10)
پرانا 01-09-10, 02:25 AM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اپنے نئے ساتھیوں‌کی خدمت میں پیش ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
گذارش, پسند, واقعات, وصیت, لوگ, نیند, نماز, مسجد, معلوم, معذرت, آج, اجنبی, بھائی, بچپن, بچوں, تاج, تحریر, حال, خواتین, خلاف, دوست, دل, زندگی, عورت, غار


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
مایا "ماں "کوسلا م ،اسی فیصدبھارتی کر پٹ ہیں جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:04 PM
جرمنی کے " اسلامی جہاد یونین " ( Sauerland group ) کے خلاف عدالتی تی کاروائ ماسٹر مقسود خبریں 0 22-06-09 03:44 AM
cd,cdr,cdrwکیسے کام کرتی ہیں۔"Optical Drives" arslansun کمپیوٹر ہارڈ ویر معلومات 2 01-02-09 09:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger