| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,824
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 243 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محبت، محبت، محبت، کیا ہے یہ محبت؟؟؟
آپ سب لوگوں نے بہت باتیں کیں ہیں۔ کسی نے ہنسایا، کسی نے دل دکھایا۔ مگر کسی نے یہ بھی طے کیا کہ سچی محبت ھے کیا۔ محبت وہ جذبہ ہے جس میں کوئی غرض شامل نہ ہو، کسی انعام یا صلہ کی خواہش نہ ہو۔ یہ کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ اپنے معبود سے، اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے، اپنے والدین، اولاد، بہن بھائی یا شریک حیات سے، مگر شرط بس ایک ہے "اخلاص"۔ اس کو آپ کسی بھی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے۔ والدین، اولاد، بہن بھائی کی محبت تو فطری، بےساختہ اور لازمی ہے لیکن یہ کسی سے کم، کسی سے ذیادہ ہو سکتی ہے۔ میاں بیوی میں محبت تواللہ تعالی خود ان کی دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ اب ہم آتے ہیں دوستوں کی طرف، اسلام کی رو سے لڑکا ایک حد تک تو لڑکے کا دوست ہو سکتا ہے لیکن اگر نقص امن کا خدشہ ہو تو یہ دوستی بھی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ دوسری طرف لڑکا لڑکی کا دوست نہیں ہو سکتا ہے، جب دوستی جائز نہیں تو کیسی محبت کہاں کی محبت؟؟؟ لو محبت کا قصّہ تمام ہوا۔ اور بولو ؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ابو کاشان کا شکریہ ادا کیا | S_S_G_Commando (04-04-08), محمدعدنان (11-12-07), Zullu230 (17-12-07), ابو عمار (24-02-08), خرم شہزاد خرم (02-01-08), سعدی (25-02-08), عبدالله (07-05-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 500
کمائي: 2,388
شکریہ: 10
153 مراسلہ میں 251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے جناب۔ ۔ ۔ ۔ بہت خوب لکھا آپ نے۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
واہ کیا بات ہے، بہت خوب کہا آپ نے |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی کس نے کہا کہ لڑکا لڑکی کا دوست ہوسکتا ہے۔؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مراسلات: 151
کمائي: 402
شکریہ: 0
50 مراسلہ میں 117 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹھیک ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں دوستی نہیں ہو سکتی' پر یہ کہنا غلط ہے کہ اُن میں محبت نہیں ہو سکتی' دوستی نہیں پر محبت ضرور ہو جاتی ہے یا ہو سکتی ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ٹھیک ہے جی مان لیتے ہیں کہ لڑکی اور لڑکے میں دوستی نہیں محبت ہوسکتی ہے لیکن محبت بھی تو تبھی ہوتی ہے جب دوستی ہو
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#7 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہ نظر بازی، نہ دوستی، نہ لگاوٹ، نہ چاہت، نہ دل لگی، نہ انسیت، نہ واقفیت،
نہ محبت، بھائی صاحب، اسلام میں ان چیزوں کا وجود ہی نہیں۔ یہ صرف شیطان کی چالیں ہیں اور نفس کے بہانے ہیں۔ قصور ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے اسلام سے اپنی مطلب کی چیزوں کو نکال کر استعمال کر لیتے ہیں اور باقی زندگی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے اس کو ہم جانتے بوجھتے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ۔ اے مسلمانوں اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاو(مفہوم) |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() |
ایک لڑکی لڑکے کی دوست ہو سکتی ہے اور بلکے ہوتی بھی ہے ،اس میں میرے خیال سے بحث کرنے والی کوئی بات نہیں ہے
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#9 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ایک پرانا مراسلہ دوبارہ پیش خدمت ہےـ
محبت کا لفظ عربی زبان سے اردو میں آیا ہے۔ عربی میں اس کا مادہ ح،ب،ب ہے۔ اور اس کا مطلب ہےکسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنا اور چاہنا اور اس کے حصول میں حکمت سے کام لینا خواہ یہ عورت اور اولاد سے ہو یا مال و زر سے۔(مترادفات القرآن۔''محبت'') ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ''الجواب الکافی'' میں لکھتے ہیں کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو سمجھنا ہر آدمی کے بس میں نہیں ہے اور اس کے ذائقے سے وہی آگاہ ہے جسے اس سے پالا پڑا ہو۔ اللہ تعالی کے ساتھ ہمارے تعلق کی بنیاد اللہ تعالی سے محبت ہے۔ سورۃ البقرۃ میں ہے: والذین ءامنوا اشد حبا للہ '' جو ایمان لائے ہیں ان کی سب سے شدید محبت اللہ کے لیے ہوتی ہے۔'' پھر جس کا جتنا تعلق اللہ تعالی سے جتنا زیادہ ہو گا اہل ایمان کی محبت اس کے لیے اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ تمام انسانیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت ایمان کی بنیادی شرائط میں ہے۔ فرمایا: ''تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے باپ، بیٹے اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔'' جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہے، ان کی اتباع و فرمانبرداری کرتا ہے، اللہ تعالی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران میں فرمایا: ''(اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !) کہہ دیجیے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری اتباع کرو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔'' اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہد بھی وہ خوش قسمت ہیں جن سے اللہ تعالی محبت کرتے ہیں۔ افسوس کہ یہ عظیم ہستیاں جو اللہ تعالی کو محبوب ہیں، ہر کس و ناکس انہیں دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے (مجاہد اور دہشت گرد میں فرق نہیں کرتا۔) سورۃ الصف میں فرمایا: '' بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔'' سورۃ المائدۃ میں فرمایا: '' تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے کر آئے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے، جو اس کی راہ میں جہاد کریں گےا ور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔'' توبہ کرنے والے اور طہارت کا خاص اہتمام کرنے والوں سے اللہ تعالی کو محبت ہے۔ ''بے شک اللہ تعالی بہت توبہ کرنے والوں اور طہارت کا خاص اہتمام رکھنے والوں سے محبت کرتا ہے۔'' (البقرۃ) ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالی، اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جہاد سے محبت رکھے۔ سورۃ توبہ میں ہے: '' اگرتمہیں تمہارے باپ، بیٹوں، بھائیوں، بیویوں، کمائی ہوئی دولت، ۔۔۔۔۔۔سے اللہ، اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے زیادہ محبت ہے تو منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے۔'' زوجین اور جنس مخالف کے درمیان کشش اور محبت کا پیدا کرنا اللہ تعالی کی بہت بڑی نشانی ہے۔ اس کے بغیر کون خاندان بناتا اور بچوں کی مصیبت گلے میں ڈالتا۔ یہ محبت کا جذبہ ہے جو انسانی تہذیب وتمدن کی پہلی اینٹ یعنی گھر کی بنیاد رکھتا ہے۔سورۃ الروم میں فرمایا: '' اس (اللہ) کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لیے جوڑا بنایا، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کا جذبہ رکھ دیا۔ یقینًا اس میں نشانیاں ہیں غورو فکر کرنے والوں کے لیے۔'' اسلام اس جذبہ محبت کو دباتا نہیں بلکہ اسے نکاح کے ذریعے سیدھا رخ دے دیتا ہے۔ بیوی سے محبت کرنا مومن کا شعار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا '' آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟''۔ فرمایا '' عائشہ سے۔'' پوچھا گیا '' اور مردوں میں سے؟'' فرمایا '' اس کے باپ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے۔'' (بخاری) یہ حدیث دلیل ہے کہ بیوی سے محبت کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اس محبت میں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ ہو۔ ہمارے ہاں الٹا معاملہ ہے کہ بیوی کو تو اس کے اس حق سے محروم رکھا جاتا ہے اور دوسری عورتوں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔ بیوی کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے خاوند سے محبت کرے۔ جنتی عورتوں کی ایک خوبی قرآن کریم میں یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ '' ہم نے ان (جنتی خواتین کو) کنواریاں بنایا، شوہر سے پیار کرنے والی اور ہم عمر۔'' (الواقعۃ) حلال محبت اور حرام محبت میں فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ ابن القیم نے محبت کی تین قسمیں بتائی ہیں 1۔ جائز محبت، جو انسان کو اپنی بیوی یا بیوی کو خاوند سے ہوتی ہے۔ یہ محبت مستحسن، مطلوب اور باعث اجر ہے۔ کیوں کہ اس سے وہ مقاصد پورے ہوتے ہیں جن کی خاطر اللہ تعالی نے نکاح کو مشروع کیا۔ 2۔ ناجائز محبت، جو ہم جنس پرستی وغیرہ کی طرف لے جائے یا جو خفیہ آشنائیوں کا دروازہ کھول دے اور بغیر نکاح کے تعلقات استوار کرنے کا سبب بن جائے۔ 3۔ وہ محبت جو اچانک کسی اچھی صورت کو بلا ارادہ و قصد دیکھ لینے سے دل میں جاگ اٹھے۔ ایسے آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور کسی کی بدنامی کا سبب نہ بنے۔ اگرممکن ہو جائے تو کوشش کرے کہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی محبت کو حاصل کرلے۔ اور ایسا ممکن نہ ہو سکے تو اللہ تعالی سے دعا کرے کہ وہ اسے اس آزمائش سے نکالے، قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے اور دھیان اس طرف سے ہٹانے کی پوری کوشش کرے اور کسی قسم کا رابطہ کرنے سے بچے۔ چند دن مشکل ہوں گے، پھر آہستہ آہستہ وہ اس کیفیت سے نکل آئے گا ان شاء اللہ۔ تلاوت قرآن اور مساجد میں بیٹھنا دل کو تقویت دے گا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔'' آگا ہ رہو کہ دل اللہ کے ذکر اطمینان پاتے ہیں۔'' روزہ رکھنا بھی مفید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا '' اے گروہِ شباب! تم میں سے جو قوت رکھتا ہے وہ نکاح کر لے اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔''(بخاری) او کما قال علیہ الصلٰوۃ و السلام Last edited by عبداللہ حیدر; 17-12-07 at 01:58 AM. |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
مقبول
|
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا!(پارہ 18سورۃ نور .آیت 30،31)ترجمعہ:. ’’مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُ ن کے لئے بہت ستھرا ہے.بے شک اللہ عزوجل کو اُنکے کاموں کی خبر ہے .اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو نہ دکھاویں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے‘‘ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم شرم و حیا سے اکثر نگاہیں نیچی کئے رکھتے تھے.بلا ضرور ت اِدھر اُدھر نظریں گھمانا سنت نہیں ہے.جس سے بات کر رہے ہوں اُس کے چہرے پر نگاہیں گاڑے رکھنا سنت نہیں. اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہیں’’ سب سے پہلے نظر بہکتی ہے پھر دل بہکتا ہے پھر سِتر بہکتا ہے‘‘ آنکھ کا ہی راستہ بند کر دیا جائے کہ دل اور ستر بہکنے کی نوبت ہی نہ آئے. راحت القلوب مترحم صفہ 59پر ہے ’’حضرت شیخ شہاب الدین سُہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چالیس سال تک اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے رہے تا کہ آنکھوں کی حفاظت ہو .‘‘ اس لئے نظر کی حفاظت کر لی جائے تو اس قسم کے مسائل سے حل ممکن ہے.کوشش فر ما کے اپنی نظر کو نیچی رکھیں کسی نا محرم کی طرف اُٹھنے ہی نہ دیں.جب نظر اُٹھے گی تو دل میں خیال پہنچے گا دل کو اچھا لگے گاتو پھر ...........پھرہمارے معاشرے میں بہت کچھ ہو تا ہے جس کو بتانے کی حاجت نہیں ہے سب سمجھ دار ہیں.اس لئے نظر کی حفاظت کر لی جائے تو زبردست.خاص طور پر لڑکیوں کے معاملے میں.اورفی زمانہ اَمرد (یعنی خوبصورت بے ریش لڑکوں) کی دوستی سے بچنا بھی بہت ضروری ہے. گفتگو کرتے وقت بھی نگاہیں نیچی رکھنے کی عادت بنائیں.اور فضول بولنے سے بھی پرہیز کریں. ان شآ اللہ عزوجل ایسا کرنے سے عشقِ مجازی کے ساتھ ساتھ بے شمار گناہوں سے بھی نجات حاصل ہو گی.اس کیلئے نیک دوستوں کی صحبت اور اچھا ماحول نہایت فائدہ مند ہے. صُحبتِ صالِح تُرا صالِح کُنَند صُحبتِ طالِح تُرا کُنَند
یعنی (اچھے کی صحبت تجھے اچھا بنا دے گی بُرے کی صحبت تجھے بُرا بنا دے گی) یا الٰہی رنگ لائیں جب میری بے باکیاں اُن کی نیچی نظروں کی حیاء کا ساتھ ہو. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا | عبدالله (20-01-09), عرفان حیدر (24-02-08) |
|
|
#13 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مراسلات: 18
کمائي: 16
شکریہ: 2
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ واہ واہ بھائی بہت خوب
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 40
کمائي: 69
شکریہ: 11
13 مراسلہ میں 21 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محبت جب ہو گی تب بتاوں گی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, قصد, لڑکی, نظر, محبت, آدمی, ایمان, اللہ, اردو, اسلام, بھائی, بچوں, تلاوت قرآن, جواب, حدیث, خواتین, خوش, دوست, دعا, روزہ, زندگی, شخص, عورت, عمران, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خیبرپختونخوا، شمالی بلوچستان میں بارش زیارت، گلیات، چترال اور مختلف علاقوں میں برفباری کا امکان | گلاب خان | خبریں | 0 | 19-02-11 04:44 AM |
| ذات، خلیل جبران | زارا | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 27-01-11 11:54 AM |
| کرپشن اور فرائض سے غفلت، جاپانی فضائیہ کے سربراہ برطرف | گلاب خان | خبریں | 5 | 19-12-10 03:20 AM |
| انصاف، صداقت، اور عفو و درگزر کی کہانی | گوندل | اپکے کالم | 7 | 20-10-10 09:45 AM |
| زرداری نواز ملاقات، اختلافات برقرار | محمدعدنان | خبریں | 0 | 18-06-08 07:32 PM |