واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-01-09, 11:32 AM   #1
Senior Member
 
چیتا چالباز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 778
کمائي: 15,189
شکریہ: 1,393
483 مراسلہ میں 1,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

کل صبح دفتر جانے کے لئے اٹھا تو طبیعت بوجھل سی محسوس ہوئی۔ لیکن جانا بھی ضروری تھا ۔ تیاری کی اور خراماں خراماں بس سٹاپ کی جانب چل پڑا۔ پیر ودھائی سے فیصل مسجد جانے والی کوسٹر میری اکلوتی سواری ہے ۔ جو فیض آباد، زیروپوائنٹ، آبپارہ ، سپر مارکیٹ سے ہوتی ہوئی جناح سپر آتی ہے۔ کیوں کہ وہاں سے کوئی اور سروس جناح سپر نہیں آتی۔ اس کوسٹر کی حالت کیا ہوتی ہے ، سفر کیسا گزرتا ہے ، کتنا ٹائم گزارنا پڑتا ہے اور بس سے اترنے کے بعد کیا حالت ہوتی ہے ؟ یہ ایک دردناک کہانی ہے اس لئے اسے رہنے دیتے ہیں۔

آبپارہ پہنچ کر اکثر اسٹاپ لمبا ہو جاتا ہے ۔کیوں کہ یہاں آ کر گاڑی انتظار کرتی ہے۔ اور اپنے پیچھے آنے والی بس کا دیدار کئے بغیر سٹاپ چھوڑنا محبت کے اصولوں کے منافی سمجھتی ہے۔ آج بھی حسب معمول بس آکر رکی ، میں دائیں جانب کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ باہر کا موسم سرد ہونے کے باوجود سہانا تھا۔ میں نے باہر دیکھا تو ایک بورڈ لگا نظر آیا۔ جس پر”لیڈیز انڈسٹریل ہوم“ یا اس کے ہم معنی الفاظ درج تھے۔متوسط اور غریب طبقے کی اکا دکا خواتین اس طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔ اتنے میں ایک نئے ماڈل کی کار آ کر اس بورڈ سے کچھ فاصلے پررکی ۔ ایک برقعہ پوش خاتون گود میں بچہ لئے اتریں۔ اور روڈ کے دائیں طرف عمارت کی جانب چل پڑیں۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ ، اتنی اچھی کار متوسط یا غریب خاندان تو کسی صورت بھی نہیں رکھ سکتا۔

حیرت فطری تھی۔ میں نے ادھر ادھر کا جائزہ لینا شروع کر دیا کہ شاید اس انڈسٹریل ہوم کے علاوہ بھی ایسا ادارہ ہو جہاں خوشحال خاندان کی خواتین بھی کام کرنے آتیں ہوں۔ اتنے میں میری نظر ایک اور بورڈ پر پڑی جو سائز میں پہلے والے بورڈ سے نسبتا چھوٹا تھا۔ جس پر Day Care Center کے الفاظ درج تھے۔ فورا میرے ذہن میں خیال آیا کہ ضرور یہ خاتون اپنے اس بچے کو اس سینٹر میں چھوڑنے آئی ہوں گی۔ تھوڑی دیر بعد خاتون کی خالی ہاتھ واپسی نے میرے خیال کی تصدیق کر دی۔

اندرونی کیفیت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر ایک خوشحال خاندان تھا۔ اللہ کی عطا کردہ اتنی نعمتوں کے باوجود انہوں نے اپنے پھول سے بچے کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ حالانکہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ اور جس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہو وہ دیوار کیا سیدھی ہو گی۔ اور جدید تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بچے کی سوچ اور خیالات ابتدائی عمر سے ہی پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے لئے بہترین ماحول ، اپنائیت اور بھرپور خیال ضروری ہوتا ہے۔ جو ایک بچے کو اس کی ماں کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔

ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ خوشحال گھرانوں میں پلنے والے بچے اس دولت سے محروم ہیں جو غریب خاندان کے بچوں کو میسر ہے ۔ اگرچہ اچھا بستر، خوبصورت گھر، اچھی گاڑی کی سواری اور خدمت گزار انہیں میسر نہیں لیکن کم از کم اپنی ماں کا فطری پیار تو وافر مقدار میں ملتا ہے ۔

انہی خیالوں میں گم تھا کہ منزل آگئی۔ بس سے اترا اور آفس کی جانب چل پڑا۔ آفس پہنچ کر القمر آن لائن کی سائٹ کھولی تو ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ کیوں کہ وہ اسی سے متعلق تھی جس پر میں سارے راستے سوچتا آیا تھا۔

ایک تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں بڑھتے ہوئے جرائم میں نوجوانوں کی شمولیت کے پیش نظر اس کی وجوہات جاننے کے لئے ایک تحقیق کی گئی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جرائم میں ملوث بیشتر افراد بچپن میں ماں کے دودھ اور توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
ماں کا دودھ اور توجہ نہ ملنے سے نہ صرف بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی تعمیر بھی متاثر ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فطری عمل ہے کہ جب بچپن سے ہی ایک بچہ پیار ، محبت، ایثار اور قربانی کے مظاہر سے محروم رہے گا تو وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کی سوچ کو صحیح سمت نہ مل سکے گی ۔ نتیجتا وہ جرائم پیشہ افراد کے لئے بہترین مددگار ثابت ہو گا۔

آج وطن عزیز جن مسائل، مشکلات، اور بحرانوں کا شکار ہے وہ اس چیز کا بالکل متحمل نہیں ہو سکتا کہ اس میں مزید ایسے نوجوان پروان چڑھیں۔ لہذا حکومت اور اہل اختیار کو اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے موثر حکمت عملی وضع کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملازمت پیشہ خواتین کو اتنی سہولیات دی جائیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی فطرت کے اصولوں کے مطابق کر سکیں۔

ورنہ ہمارا حال بھی یورپ سے مختلف نہ ہو گا۔ انہوں نے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد افرادی قوت کی قلت کے باعث خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پر ابھارا اور مساوات کے پردے میں انہیں چار دیواری سے باہر لے آئے۔ مادی ترقی کا ہدف تو انہوں نے حاصل کر لیا لیکن خاندان کا ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس کا انہیں بہت دیر بعد احساس ہوا۔ اور اب اس ادارے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن کافی دیر ہو چکی ہے۔لہذا ہمیں مادی ترقی کے عوض میں اخلاقی اور ذہنی پس مانندگی کو کبھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔

یہ تو خوشحال گھرانوں کا حال تھا۔ اب ذرا ایک نظر ان ماﺅں پر بھی ڈال لیجئے جو اتنے پیار اور محبت سے اپنے بچوں کو پالتی ہیں، خود بھوکا رہ کر ، بھیک مانگ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ہیں۔ اب وہ بھی حالات سے تنگ آکر اپنے جگر گوشوں کو سر عام نیلام کرنے پر مجبور ہیں۔ اور اس میں قصور ان کی مامتا کا نہیں بلکہ ان اصحاب اخیتار کا ہے جنہوں نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں۔ اور حالات کا جبر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا حل اگر نہ تلاش کیا گیا تو نتائج پہلے والی صورت سے بھی زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ وہ ماں جس کی ممتا کا یہ حال ہو کہ ۔۔۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے

اگر اپنے بے لوث پیار کے باوجود اپنے جگر گوشے کو نیلام کرنے پر اتر آئے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آئےے مل کر ان مسائل کا پائیدار حل تلاش کریں کہ کوئی ماں اپنے جگر گوشے کو بیچنے پر مجبور نہ ہو۔ کوئی باپ اپنے خاندان کو آگ لگا کر خود کشی نہ کرے ۔ تاکہ پر امن فلاحی معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

اکرام الحق - (Al - Qamar On line

Last edited by چیتا چالباز; 21-01-09 at 02:37 PM.
چیتا چالباز آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پھول, قدم, نظر, مکمل, ماں, محبت, مسائل،, مسجد, آج, اللہ, بہترین, بچپن, بچوں, تلاش, حل, خواتین, خبر, خدا, خصوصی, سفر, عزیز, صبح, صحیح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 25 03-02-12 09:14 PM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 02:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 09:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:00 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger