واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ماڈرن اور روشن خيالی - ويلنٹائن ڈےکيا ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-10, 12:51 PM   #1
Senior Member
 
Wahid Mahmood's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,894
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ماڈرن اور روشن خيالی - ويلنٹائن ڈےکيا ہے ؟

ماڈرن اور روشن خيالی - ويلنٹائن ڈےکيا ہے ؟

بد قسمتي يہ ہے کہ ہم احساس کمتري کا اس قدر شکار ہو چکے ہيں کہ مغرب کي ہر روايت کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہيں اور ہمارے معاشرے ميں ماڈرن اور روشن خيال ہونے کي دليل ہي مغرب کي تقليد بن گئي ہے۔
اسلام ايک مکمل دين اور ضابطہ حيات ہونے کے ساتھ ساتھ فطري مذہب ہے۔ خوشي اور محبت فطري جذبات ہيں اور اسلام اس کي اجازت بھي ديتا ہے۔ ليکن اس کے اپنے اصول ہيں۔ مسلمانوں کي ذمہ داري تو يہ ہے کہ وہ ہر چيز کو اسلام کي کسوٹي اور معيارات پر پرکھيں۔ اسلام خوشي اور تفريح سے ہر گز منع نہيں کرتا بلکہ صحت مند تفريح کي حوصلہ افزائي کرتا ہے۔ اسي کے پيش نظر مسلمانوں کے لئے سال ميں دو عيديں رکھي ہيں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشي کا اظہار کر سکيں، ايک دوسرے کو تحائف ديں، دعوتيں کريں۔
ان اسلامي ايام کے علاوہ کسي بھي ايسے دن کا منانا جس کا ہماري روايات سے تعلق نہيں علماء کے متفقہ فتويٰ کے مطابق بدعت کے زمرے ميں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دينا اور کسي بھي سرگرمي ميں شامل ہونا ”تعاون علي الاثم و العدوان“ (برائي اور زيادتي کے کام ميں تعاون) کے تحت آتا ہے۔جس کي اسلام ميں سختي سے ممانعت ہے۔
ايک طبقہ کي رائے ہے کہ اسلام خوشي منانے سے ہر گز منع نہيں کرتا اس لئے اس دن خوشي منانے ميں کوئي حرج نہيں۔ مزيد يہ کہ آپ ان کے طريقے مت اپنائيں بلکہ اسلامي طريقے اپناکر اسلامي انداز ميں يہ دن منا سکتے ہيں اس ميں کوئي مضائقہ نہيں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر۔ طريقہ بدلنے سے کوئي غلط کام جائز نہيں ہو جاتا۔ اگر خوشي ہي مناني ہے تو کسي اور دن کا انتخاب کر ليجئے۔ اسي دن منانا ضروري ہے؟

اس دن خوشي منانے ميں کوئي حرج نہيں۔ مزيد يہ کہ آپ ان کے طريقے مت اپنائيں بلکہ اسلامي طريقے اپناکر اسلامي انداز ميں يہ دن منا سکتے ہيں اس ميں کوئي مضائقہ نہيں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر۔ طريقہ بدلنے سے کوئي غلط کام جائز نہيں ہو جاتا۔ اگر خوشي ہي مناني ہے تو کسي اور دن کا انتخاب کر ليجئے۔ اسي دن منانا ضروري ہے؟
اس دن خوشي منانے کا مطلب ان کي مشابہت اختيار کرنا ہے، اور اسلام کي واضح تعليمات ہيں کہ ”جس نے کسي قوم کي مشابہت کي وہ انہيں ميں سے ہے“ اب ہر انسان خود فيصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن ميں سے ہونا پسند کرتا ہے۔
يہ تو مذہبي پہلو ہے۔ معاشرتي اور اخلاقي پہلو سے يہ دن جو برائياں ساتھ لاتا ہے وہ کوئي بھي شريف النفس قبول نہيں کر سکتا۔ مغربي اور غير اسلامي معاشروں کا جو کلچر ميڈيا کے ذريعے نوجوان نسل کي ذہنوں يہ دن منانے کي دعوت ديتا ہے ، وہ طريقے بھي سکھاتا ہے۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں ميں جنسي بے راہ روي اس دن کا خاصہ ہے۔
يہ ہماري انفرادي اور اجتماعي ذمہ داري ہے کہ اس برائي کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کريں۔ لوگوں ميں اسلامي تعليمات کے حوالے سے آگہي پيدا کريں، اس دن اور ايسے ديگر تہواروں کي خرابيوں اور خرافات سے اپني نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل ميں گرنے سے بچانے کي کوشش کريں۔
بطور خاص وطن عزيز جن اخلاقي، معاشرتي، اور معاشي بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسي صورت بھي اس کا متحمل نہيں ہو سکتا۔ حکومت کي ذمہ داري ہے کہ ايسے تہواروں پر سرکاري طور پر پابندي لگائے۔ تاکہ اخلاقي اور جاني نقصان کے ساتھ ساتھ ملکي وسائل کا نقصان بھي روکا جا سکے۔
اگر ہم نے ابھي آنکھيں نہ کھوليں، اپني روايات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کي تقليد ميں مست رہے تو وہ وقت دور نہيں کہ ہم اخلاقي زوال ميں مغرب سے آگے نکل جائيں۔

پاکستان ميں بھي يہ دن منانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ٹي وي چينلز پر اِس دن کي خصوصي نشريات دکھائي جاتي ہيں۔ ايک دوسرے کو تحائف دينا، تفر يحي مقامات پر جانا اور کھانے کي دعوت دينا اِس دن کي مناسبت سے عام ہے۔پہلے محبت قرباني کا جذبہ مانگتي تھي، اب خرچہ مانگتي ہے۔ بدقسمتي سے پاکستان ميں اِسے بھر پور اندازا ميں منانے والے اِس بات سے لاعلم ہيں کہ اِسے کيوں منايا جاتا ہے۔ اِس دن شہر کي سڑکوں پر عجيب و غريب مناظر ديکھنے کو ملتے ہيں۔ پھولوں کي دکانوں سے پھول اچانک غائب ہوجاتے ہيں، بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکيوں سے چھيڑ خاني کرتے اور پھول پھينکتے ہوئے دکھا ئي ديتے ہيں جب کہ تما م پارکوں ميں نوجوانوں کي بڑي تعداد موجود ہوتي ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکيوں نے سرخ لباس زيبِ تن کئے ہوتے ہيں تاکہ اِس دن بھر پور انداز ميں لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اِب يہ ايک فيشن بن گيا ہے اور پاکستان ميں ہرکوئي اِس فيشن کو اپنانے کے لئے سرگرداں ہے۔ ويلنٹائن ڈے کيا ہے يہاں اِس کا ذکر انتہائي ضروري ہے خصوصا نئي نسل کے لئے جو ايسے فيشن اختيار کرتي ہے اور ايسے ايام خوشي سے مناتي ہے۔ جو ہمارے ہيں ہي نہيں۔ بلکہ اُس تہذيب سے بھيجے گئے ہيں جسے ديکھ کر ہم شرم سے جھک جاتے ہيں۔ اِس تناظر ميںاِس امر کو ذہن نشين رکھنا ہوگا کہ مسلم ممالک خصوصاََ پاکستان پر تہذيب کي جنگ مسلط کردي گئي ہے چند سال پہلے کسي کو يہ معلوم نہيں تھا کہ دنيا ”گلوبل ويليج“ ہے ۔ گلوبل ويليج کا نعرہ مغرب سے آيا اور مغرب کے پيروکاروں نے اِسے پھيلايا جس کا مقصد يہي ہے کہ دنيا کو ايک تہذيب کے زير اثر لايا جائے جہاں ايک نظام ہو، ايک تہذيب ہو،اور اِسکے ہر رسم و رواج کو دوسري تہذيبيں قبول کريں۔ اِسے اپني زندگي کا جزوِ لازم بناليں اور اِسي منصوبے کي تکميل کيلئے وہ جدوجہد ميں مصروف ہيں۔
امريکن گريٹنگ کارڈ ايسوسي ايشن نے اندازہ لگايا ہے کي دنيا بھر ميں اِ س دن تقريباََ ايک ارب کارڈ بھيجے جاتے ہيں اور اِسي لحاظ سے يہ دوسرا بڑا دن ہے جس دن اتنے کارڈ بھيجے جاتے ہيں۔دنيا ميں سب سے ذيادہ کارڈ کرسمس پر لوگ ايک دوسرے کو بھيجتے ہيں۔ ايسوسي ايشن نے ايک اور اندازہ لگايا ہے کہ 85 فيصد عورتيں ويلنٹائن کي چيزيں خريدتي ہيں۔اُنيس ويں صدي ميں ہاتھوں سے لکھے گئے خطوط اِس دن بھيجنے کا رواج تھا جس نے بعد ميں گريٹنگ کارڈ کي شکل اختيار کرلي۔ يوم ِويلنٹائن اب ايک جشن ہي نہيں بلکہ بہت بڑے کاروبار کا دن بھي ہے۔رواں سال کينيا ، بھارت اور ديگر ممالک سے لاکھوں ڈالر کے سرخ گلاب برطانيہ پہنچے ہيں۔بيس ويں صدي ميں امريکہ ميں کارڈز کے ساتھ ساتھ مختلف تحائف بھي بھيجے جانے لگے جو کہ عموماََ مرد عورتوں کو بھيجتے تھے۔ اِن تحائف ميں سرخ گلاب کے پھول اور چاکليٹ جن کو دل کي شکل کے ڈبوں ميں رکھ کر سرخ رنگ کے ربن کے ساتھ سجايا جاتا ہے شامل ہيں۔ ويلنٹائن ڈے والے دن ہير ے کے جواہرا ت بھي تحفے ميں ديئے جاتے ہيں۔ امريکہ کے بعض ايليمنڑي اسکو لوں ميں طلبہ سے اپني جماعتوں کو سجانے کيلئے اور اپني جماعت ميں موجود تمام ساتھيوں کو ويلنٹائن کارڈ يا تحفہ دينے کيلئے کہا جاتا ہے۔برطانيہ سے رواج پانے والے اِس دن کو بعد ميں امريکہ اور جرمني ميں بھي منا يا جانے لگا۔ تاہم جرمني ميں دوسري جنگِ عظيم تک يہ دن منانے کي روايت نہيں تھي۔
تہوار کا ايک سبب يہ بھي بيان کيا جاتا ہے کہ جب روميوں نے نصرانيت قبول کي اور عيسائيت کے ظہور کے بعد اس ميں داخل ہوئے تو تيسري صدي عيسوي ميں شہنشاہ کلاڈيس دوم نے اپني فوج کے لوگوں پر شادي کرنے کي پابندي لگا دي کيونکہ وہ بيويوں کي وجہ سے جنگوں ميں نہيں جاتے تھے تو اُس نے يہ فيصلہ کيا۔ليکن سينٹ ويلنٹائن نے اِس فيصلے کي مخالفت کرتے ہوئے چوري چھپے فوجيوں کي شادي کروانے کا اہتمام کيا اور جب کلاڈيس کو اِس کا علم ہوا تو اُس نے سينٹ ويلنٹائن کو گرفتار کرکے جيل ميں ڈال ديا اور اُسے سزائے موت دے دي۔کہا جاتا ہے کہ قيد کے دوران ہي سينٹ ويلنٹائن کو جيلر کي بيٹي سے محبت ہوگئي اور سب کچھ خفيہ ہوا کيونکہ پادريوں اور راہبوں پر عيسائيوں کے ہاں شادي کرنا اور محبت کے تعلقات قائم کرنا حرام ہيں۔نصاري کے ہاں اِس کي سفارش کي گئي کہ نصرانيت پر قائم رہو۔شہنشاہ نے اُسے عيسائيت ترک کرکے رومي دين قبول کرنے کا کہا کہ اگر وہ عيسائيت ترک کردے تو اُسے معاف کرديا جائے گااور وہ اُسے اپنا داماد بنانے کے ساتھ اپنے مصاحبين ميں شامل کرے گا ليکن ويلنٹائن نے اس سے انکار کرديا اور عيسائيت کو ترجيح دي اور اِسي پر قائم رہنے کا فيصلہ کيا تو 14 فروري 270 عيسوي کے دن اور 15 فروري کي رات اُسے پھانسي دے دي گئي۔ تواُس دن سے اُسے قديس يعني پاکباز بشپ کا خطاب دے ديا گيا۔ روايت کے مطابق اُس دن کي ياد ميں محبت کرنے والوں کے درميان پيار بھرے پيغامات کا تبادلہ ہوگيا۔

چودہ فروري آنے کو ہے۔ دنيا بھر ميں يہ دن ”يوم چودہ فروري يعني ويلنٹائن ڈے کوہر سال محبت کرنے والے يومِ اظہارِ محبت کي حيثيت سے مناتے ہيں۔ بالخصوص مغربي ممالک ميں يہ دن بڑي دھوم دھام سے منايا جاتا ہے۔ ليکن اسلامي ممالک ميں اِس کا کوئي رواج نہيں ہے۔سب ممالک ميں يہ دن مختلف طريقوں سے منايا جاتا ہے اور بعض ممالک بالخصوص ايشيائي اور مسلم ممالک ميں اِس دن کو برا سمجھاجاتاہ ے۔
يہاں تک کہ ہندوستان ميں جہاں ويلنٹائن ڈے نوجوانوں ميں مشہور ہوتا جارہا ہے، ہر سال دائيں بازو کے سخت گير ہندو کارکن محبت کے اِيسے جوڑوں کے خلاف دھمکياں ديتے رہے ہيں۔

چودہ فروري کو دنيا کے بيشتر ممالک ميں ويلنٹائن ڈے منانے کارواج آج کل عام ہے اور اِس سلسلے ميں بيشتر شہروں ميں نوجوان اِسے تہوار کي طرح منانے لگے ہيں۔ويلنٹا ئن ڈے ايک اِيسا دن ہے جس روز آپ جسے پيار کرتے ہيں اُس کي جانب اپنے احساس کا اظہار ..........
کرتے ہيں۔ پيار کا اظہار آسان نہيں ہے اور کافي وقت لگتاہے اور ہوسکتا ہے کي کسي کو پوري عمر لگ جائے۔ تاہم بعض افراد کا کہنا ہے کہ ويلنٹائن ڈے صرف ايک شخص کيلئے نہيں ہے جس سے آپ پيار کرتے ہيں۔ يہ اُن تمام افراد کيلئے ہونا چاہئے جن سے آپ کو پيار ہے۔يہ افراد آپ کے والدين ، بھائي، بہنيں،دوست يا رشتہ دار ہوسکتے ہيں۔ کيونکہ محبت صرف ايک شخص کيلئے نہيں ہوتي ہے۔ اگر ويلنٹائن ڈے پيارکے اظہار کا دن ہے تو اِس ميں اِن تمام لوگوں کو کيوں نہ شامل کريں جن سے آپ محبت کرتے ہيں؟
Wahid Mahmood آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, کلچر, کارڈ, پسند, نظر, مکمل, موت, ممکن, محبت, معلوم, آج, انسان, ترک, خلاف, سال, شہر, شخص, علماء, عزيز, عشق, غلط, غائب, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فيشل ‘ بليچ اور ويکس بنت آدم فیشن اور بیوٹی ٹپس 2 04-04-10 12:11 AM
رمضان ميں شيطان قيد كر دينے كے باوجود جمائى آنا، اور ٹيلى ويژن پر حرام تصاوير نشر كرنا چیتا چالباز جادو کا اسلامی علاج 2 01-01-09 10:09 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger