| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 28
مراسلات: 336
کمائي: 629
شکریہ: 63
44 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں یہاں ایک اہم معاشرتی مسئلے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گی۔
گو کہ شادی اور اسکے بعد انسان کا عائلی و معاشرتی کردار ہر شخص کا ذاتی سا معاملہ ہوتا اور اس میں مداخلت کا کسی اور کو کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ لیکن جب کسے مسئلے کے مضمرات معاشرے پر مجموعی اثر چھوڑنا شروع کر دیں۔ اس وقت ایسے مسئلے کو زیرِ بحث لانا شاید کچھ ایسی بری بات نہیں۔ پھر بھی اگر کسی کو اس مسئلے پر بات کرنا گراں گذرے تو میں پیشگی معافی چاہتے ہوئے صرف ایک سوال پوچھنا چاہوں گی۔ کیا پاکستان میں عورت کا مستقبل ایک ہاؤس وائف کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟ ایک ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی بھی ہاؤس وائف اور ایک اعلٰی تعلیم یافتہ لڑکی بھی وہی گھر کا کام کاج ؟؟ کیا یہ انصاف ہے ؟ کیا یہ تعلیم و علم کی ناقدری نہیں ہے ؟ اگر ہم آج دنیا پر نظر ڈالیں تو قوموں کی ترقی میں دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ “عورت“ کا معاشرتی و قومی ترقی میں برابر کا کردار نظر آتی ہے۔ اور پھر ہمارا پیارا دین اسلام بھی عورت کو تعلیم سے لے کر معاشرے کی ترقی میں ہر اہم کردار ادا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ تو آخر کیوں ہماری سوچ صرف گھر کے کام کاج تک محدود اور ختم ہو جاتی ہے ؟؟ بچوں کی پیدائش اور دیکھ بھال ایک محدود وقت کا کام ہوتا ہے۔ مطلب شادی کے بعد چند سال کا ایک phase ہوتا ہے جس میں یہ کام بحسن و خوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسکے علاوہ تو ساری زندگی انسان کو اپنی تعلیم کو زنگ آلود ہونے کے لیے نہیں چھوڑ دینا چاہیے ۔ بلکہ علم کی اس روشنی کو آگے پھیلاتے رہنا چاہیئے ۔ اور ایسی درجنوں مثالیں خود میرے مشاہدے میں بھی ہیں اور آپ لوگوں نے بھی دیکھا ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا اس بارے میں ؟ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() |
بہت اچھی تحریر ہے۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے جس کی آدھی سے زیادہ آبادی گھر میں بیٹھ کر کھاتی ہو
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سب سے پہلے تو اتنی اچھی تحریر لکھنے پر میں آپ کو مبارک بعد دیتا ہوں...........
![]() اور رہی بات عورت کے بارے میں تو آپ کی باتوں سے کچھ حد تک میں متفق ہوتا ہوں مگر یہ بات بھی میں کہنا چاہوں گا کہ اسلام نے جتنے احسانات عورت پر کیے ہیں اس کی کسی مثال کہیں اور نہیں ملتی.............آپ نے صرف ایک ایسی عورت کی بات کی ہے جو تعلیم یافتہ ہے اور وہ کچھ کرنا چاہتی ہے جس کے لئے کبھی کبھی ہمارا معاشرہ اس کے راستے میں مشکلات کا انبھار لگا دیتا ہے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ...........اور ایک پڑھی لکھی خاتون جیسا کہ اس کو آپ نے اپنی تحریر میں ظاہو کیا ہے اور اس کا مقابلہ بھی ایک عورت سے کیا ہے جو کہ آپ کے بقول ان پڑھ ہے..............تو میں اس بارے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ علم کا صرف یہی روپ نہیں ہوتا کہ ایک لڑکی جس نے ایف اے پاس کر لیا وہ دوسری لڑکیوں پڑ نمایاں ہو گئی.....اس کی مثال ہمارے عام گھروں میں بھی پائی جاتی ہے جس کا باخوبی آپ سب کو علم ہو گا............جیسا کہ خوبصورت اور خوب سیرت کا فرق
__________________
جاؤں صدقے سوہنے کلمے والے توں سوہنے نبی امت دے رکھوالے توں
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 28
مراسلات: 336
کمائي: 629
شکریہ: 63
44 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے کہ اسلام نے جتنے احسانات عورت پہ کئے ہیں اتنے کسی پہ کم ہی ہونگے میں اس بات کی نفی نہیں کرتی۔ ہمیشہ تو نہیں لیکن بھائی زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ہے کہ اگر ایک پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد کچھ کرنا چاہے تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ آپ کی خوب صورت اور خوب سیرت والی بات ٹھیک ہے لیکن یہ بات کہ ایک پڑھی لکھی عورت ان پڑھ سے نمایاں ہوتی ہے تو بھائی میرے ایسا ہی ہے۔ اب آپ ایک گھر کو ہی لے لو ایک پڑھی لکھی تعلیم یافتہ عورت اپنے گھر میں جیسا فیصلہ کرسکتی ہے یا جس طرح اپنے گھر کو چلا سکتی ہے ایک ان پڑھ کے عورت کے بس کی بات نہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا پاکستان میں عورت کا مستقبل ایک ہاؤس وائف کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟
میرے خیال میں جو عورت ، عورت کا مطلب جانتی ہے اس کے لیے تو ہاوس وائف ہونا ایک فخر کی بات ہے میں معاشرتی ترقی کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا کیوں کے معاشرہ انسان سے بنتا ہے اور جب انساں خود ترقی نا کر سکے تو پھر ترقی نہیں ہو سکتی اور میں یہ بات نہیں مانتا کے عورت بھی معاشرے کی ترقی میں کام سرانجام دے عورت کا مطلب ہے چھوپی ہوئی چیز نا کے اشتیار ایک ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی بھی ہاؤس وائف اور ایک اعلٰی تعلیم یافتہ لڑکی بھی وہی گھر کا کام کاج ؟؟ کیا یہ انصاف ہے ؟ اگر عورت کے زہین مین یہ بات آجاتی ہے تو اس کا مطلب میں یے لوں گا کے عورت کو تعلیم نہیں دینی چاہے عورت تو عورت ہوتی ہے ان پڑھ ہو یا پڑھی لیکھی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کے عورت اعلٰی تعلیم حاصل کر کے گھر کا کم نہین کر سکتی جو عورت تعلیم حاصل کر لے وہ عورت نہیں رہتی اگر ہم آج دنیا پر نظر ڈالیں تو قوموں کی ترقی میں دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ “عورت“ کا معاشرتی و قومی ترقی میں برابر کا کردار نظر آتی ہے۔ میں اس بات کو بھی نہیں مانتا ہون کیون کے قدیم عرب مین جب اسلام طلوع ہو رہا تھا اس وقت بھی تو مسلمانون نے ترقی کی تھی اس میں عورت کا مقام کہاں ہے خیر مجھے پتہ ہے میری اس بات کو کوہی نہیں مانے گا لیکن میں صرف اتناجانتا ہوں عورت کو اس کے مقام سے نیچے لایا جا رہا ہوے قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہو سکتی ہے کیا معافی چاہتا ہوں گستاح خرم شہزاد خرم
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 28
مراسلات: 336
کمائي: 629
شکریہ: 63
44 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اور بہت سے کام ایسے ہیں جو کہ صرف ایک عورت ہی سرانجام دے سکتی ہے نہ کوئی مرد اب اس کی کئ مثالیں ہیں۔ باقی جناب جس نے نہیں قائل ہونا وہ جو کچھ مرضی ہوجائے نہیں قائل ہو گا۔ کوئی غلطی ہو گئی ہوتو معافی چاہتی ہوں۔ شکریہ |
||
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے لگتا ہے کہ آپ نے میرا ارسال کردہ مضمون ٹھیک سے پڑھا نہیں ہے۔ میرا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جو عورت تعلیم حاصل کرلے وہ کوئی آسمانی مخلوق ہوتی ہے۔ نہیں بھائی میرے وہ بھی اسی دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ ایک پڑھی لکھی عورت کو اپنی تعلیم کو کام میں لانا چاہیئے نا کہ وہ شادی کے بعد گھر بیٹھ کر اپنی کی ہوئی محنت ضائع کردے۔ اس نے جو تعلیم حاصل کی ہے اس کے بل بوتے پر اپنی فیملی کو چلانے کےلئے اپنے خاوند کا ساتھ دینا چاہئیے۔
جی میں نے آپ کا ارسال کردہ مضمون بہت اچھی طرح پڑھا ہے اس کے بعد ہی آپنی رائے دے رہا ہوں کیا تعلیم حاصل صرف اس لیے کی جاتی ہے کے کوئی جاب کی جائے مخترمہ پڑھی لکھی عورت اپنے گھر کو اچھے طریقہ سے چلا سکتی ہے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دے سکتی ہے نا کہ وہ جاب کرے خیر سب کی اپنی اپنی رائے ہے آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں کیوں کے آپ عورت ہے اور میں اپنی جگہ ٹھیک ہوں کیوں کہ میری زندگی کے کچھ اصول ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کے جو میری بیوی ہو گی وہ ان باتوں کو قبول کرئے گی اور اللہ کا شکرہے مجھے اللہ تعالی نے ایسی ہی منگیتر دی ہے اور ایک بات تو ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں عورتیں ملازمت کرتی ہیں لیکن اس کا مظلب یہ تو نہیں کہ اگر وہ ملازمت کرتی ہیں تو اپنے گھر بار کو چھوڑ دیں۔ نہیں۔ اور بہت سے کام ایسے ہیں جو کہ صرف ایک عورت ہی سرانجام دے سکتی ہے نہ کوئی مرد اب اس کی کئ مثالیں ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی عورت جاب کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر صرف اس وجہ سے جاب کرتی ہے کے مین نے تعلیم حاصل کی ہے اور اگر جاب نا کی تو اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا تو یہ بے وقوفی ہے باقی جناب جس نے نہیں قائل ہونا وہ جو کچھ مرضی ہوجائے نہیں قائل ہو گا۔ جی میں آپ کی اس بات سے بھی اختلاف کروں گا میرے اصولوں میں ایک اصول یہ بھی ہے یا تو قائل ہو جاو یا کسی کو قائل کر لو آپ اسلامی نظریہ سے مجھ پر یہ باتیں ثابت کر دے تو میں قائل ہو جاوں گا اگر نہیں تو پھر میری بات کی قائل ہو جائے کوئی غلطی ہو گئی ہوتو معافی چاہتی ہوں۔ شکریہ میں تو اپنی رائے دے رہا ہوں اور آپ اپنی اس میں غلطی اور معافی کی کیا بات ہے اس کا مطلب یہ ہوا کے کجھے بھی معافی مانگنی چاہے ٹھیک ہے میری جن باتوں سے اپ کو دکھ پونچا ہیں میں ان کے لیے معافی چاہتا ہوں شکریہ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاّاللہ اپ نے تعمیری گفتگو کا حق ادا کر دیا ہے۔۔ اپنی راے بھی دے رہے ہیں اور اخلاقیات کو بھی ہاتھ سے نہی جانے دیے۔۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھے فوٹو ٹیک بھائی
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,155
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا پاکستان میں عورت کا مستقبل ایک ہاؤس وائف کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟
محترمہ کشور ناہید صاحبہ ۔ ۔ ۔ السلام علیکم ہمارے معاشرے کے ایک بہت ہی اہم مسئلے پر اتنی زبر دست تحریر لکھنے پر دلی مبارکباد۔ محترمہ! اس بات سے تو آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اسلامی ہے کیونکہ ہم سب کا مذہب اسلام ہے، اسی لئے ہمارے معاشرے کی بنیاد اسلامی خطوط پر استوار ہے۔ معاشرہ کوئی بھی ہو خواہ اسلامی یا غیر اسلامی۔ اس کی بنیادیں افراد مل کر استوار کرتے ہیں ۔ مذہب اسلام دین فطرت ہے اور اس میں کوئی اصول، قانون یا طریقہ ایسا نہیں جو فطرت کے خلاف ہو۔ یہاں میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ کیا آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے گھر میں کوئی ڈاکہ ڈالے اور گھر سے سارا سامان بمعہ مال و دولت چُرا کر لے جائے۔ یقینا آپ ہرگز ایسا نہیں چاہتیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ایسا کیوں نہیں چاہتیں۔ صاف ظاہر ہے اس میں آپ کا نقصان ہے اس لئے آپ ایسا نہیں چاہتیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ میری بہن ! یہی دین فطرت ہے کہ کسی دورسرے کو نتصان نہ پہنچایا جائے۔ اور سخت سے سخت سزا مقرر کر کے دین فطرت نے ایسی برائی کے خاتمے کی راہ ہموار کی ہے۔ اسلام میں ہر مرد اور عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد علم حاصل کرتے ہیں تو انھوں نے کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ اپنا دینی فریضہ سر انجام دیا ہے۔ اب رہا سوال کہ کیا پاکستان میں عورت کا مستقبل ہائوس وائف کے سوا کچھ نہیں ہے؟ میری بہن! کیوں نہیں ہے۔ عورت سارے کام کر سکتی ہے لیکن دین نے ایک پابندی لگائی ہے ۔۔پردہ۔ اگر عورت پردے کا اہتمام کرتی ہے تو اُسے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہئیے۔ لیکن ایک بات کا دھیان رہے کہ اس معاشرے میں مردوں کی بالا دستی ہے۔ ہم اور آپ سب یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی عورت پردے کے بغیر گھر سے باہر نکلتی ہے تو مردوں کے معاشرے میں اُسے کیسے کیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ عورت ہیں آپکو اچھی طرح معلوم ہے۔ اور ہم مردوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہے۔ میاں اور بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں۔ اس گاڑی کو چلانے کےلئے دونوں پہیوں کا ہونا ضروری ہے۔ نہ کوئی مرد اکیلا زندگی گزار سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عورت۔ دونوں کو شادی بحر حال کرنا ہوتی ہے اور شادی کے بعد ہمارے معاشرے کی رسم ہے کہ عورت گھر سنبھالتی ہے اور مرد گھر کے اخراجات کے علاوہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کےلئے محنت مزدوری کرتا ہے۔ یہاں ایک بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر میاں بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں تو ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی نگہداشت کون کرے گا۔ کیوں کہ ملازمت تو گھر میں نہیں ہوتی ۔ کہیں باہر ہی جا کر کرنا ہوتی ہے ۔ یہ بھی ایک الگ سر دردی ہوتی ہے کہ بچوں کی نگہداشت کا کیا انتظام ہونا چاہئیے۔ اس مرحلے پر عورت کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان تمام صورت احوال کو پیش نظر رکھا جائے اور کوئی مناسب انتظام کر کے ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرط پردہ۔ ہمارے ملک میں بہت سی خواتین ایسی ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور پردہ کرتی ہیں۔ جو نہیں کرتیں تو اُنہیں کیا کہا جائے۔ ہر کسی نے اپنے اعمال کا جواب خود دینا ہے۔ یاد رہے کہ لاعلمی کوئی بہانہ نہیں ہے۔ کیونکہ علم کا حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ اگر لا علمی سے کسی طرح معافی ہوگئی تو دوسری طرف فرض کا پورا نہ کرنے کی پکڑ تو ہے ہی۔ اگر زندگی نے وفا کی تو انشاء اللہ عنقریب ایک سلسلہ بعنوان “ اسلامی معاشرے میں عورت کے حقوق و فرائض ، ذمہ داریاں اور عورت کا مستقبل “ شروع کروں گا۔ آپ کی قیمیتی آراء ، تجاویز اور تبصرے میرے لئے باعث مسرت ہوں گے۔ sop please keep in touch and take care. والسلام
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام و علیکم جناب Zullu230 بھای
آپ کا شکریہ میں جو بات سمجھا نہیں سکتا تھا وہ آپ نے سمجھا دی ہے جہاں آپ نے بات کی ہے کے عورت جاب کر سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کے پردہ کرے یہ بات بہت اچھی کی ہے آپ نے لیکن اس میں ایک اضافہ یہ کروں گا میرے نزدیک عورت جاب صرف اس صورت میں کر سکتی ہے جاب بہت ہی زیادہ مجبور ہو اور جہاں بات پردے کی ہے تو آپ کو یاد ہے ہو گا کے یورب میں پچھلے دنوں جو عورتیں نقاب کرتی تھی ان کو یورب حکومت نے کہا تھا کے وہ نقاب نا کرے اس پر کافی مسئلہ بھی پڑا تھا تو اس وقت ایک مولانہ صاحب کا بیان میں نے پڑھا تھا مجھے بہت اچھا لگا تھا بیان کچھ یوں تھا اگر گوشت کو کھولا رکھا جاے تو اس کو بیلیاں نوچ نوچ کر کھا جاتی ہیں اور اگر اس گوست کو ڈانپ کر رکھا جائے تو بیلیاں اس تک نہیں پونچ سکتی امید ہے سمجھ آگی ہوگی شکریہ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,155
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ًمحترم بہت شکریہ آپکا۔ دراصل میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ایک تعلیم یافتہ عورت کو ملازمت کرنے سے ہرگز نہیں روکنا چاہئیے بلکہ اُس کی ہر طرح سے معاونت اور تعاون کرنا چاہئیے۔لیکن ایک مسلمان عورت کو پردے کا بحر حال اہتمام کرنا چاہئیے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تعلیم یافتہ خواتین کو اس پر سختی سے عمل کرنا چاہئیے ۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ نوے کی دہائی سے پہلے ہمارے ملک کی خواتین میں نقاب کرنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں نقاب کا رواج چلا اور آج اکثر خواتین نقاب کر کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتی ہیںاور ملازمت یا کاروبار بھی کرتی ہیں۔ خواتین کو ملازمت سے روکنے میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اُن کی عصمت کی حفاظت کا ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ یہ بات ہم سب کو معلوم ہے۔یہاں ایک بات ہم سب کے سوچنے کی ہے کہ کیا ہم اپنے گھر کی عورتوں کی عصمت دری برادشت کر سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اسی طرح ہم سب کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہئیے اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانا چاہیئے کہ جس طر ح ہم اپنی گھر کی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح وطنِ عزیز میں بسنے والی ہر عورت کو اپنی مان، بہن اور بیٹی سمجھنا چاہیے اور اُنکی حفاظت بھی اُسی طرح کرنا چاہیے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم مرد لوگ اپنے رویوں میں ایک واضح تبدیلی لاتے ہیں تو خواتین کے بہت سے مسائل کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر حکومتی سطح پر خواتین کی حفاظت کا کوئی جامع اور مربوط انتظام ہو جائے تو میرا خیال ہے اس سے ہمارے ملک کی خواتین کو انجانے خوف سے نجات مل سکتی ہے اور وہ یکسوئی اور آزادی کے ساتھ ملازمت بھی کر سکتی ہیں اور اپنی زندگی بھی سکون سےگزار سکتی ہیں ۔
والسلام keep me remembered in prayers |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ماشا اللہ بھای زوالفقار بہت اچھا لکھا آپ نے ،
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فوٹو, ٹیک, پاکستان, قرآن, لڑکی, نظر, ماں, معاشرہ, آبادی, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, بھائی, بچوں, تحریر, تعلیم, جواب, حدیث, خواتین, زندگی, شہزاد, عورت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| عوامی مسائل حل کرنے والی حکومتیں ہی مدت پوری کرسکتی ہیں | جاویداسد | خبریں | 0 | 25-10-10 10:28 PM |
| معاشرتی تبدیلیوں میں مسلمان عورت کا کردار | ھارون اعظم | اپکے کالم | 2 | 19-06-10 12:29 AM |
| مغرب کی عورتیں اسلام کیوں قبول کرتی ہیں ؟ | ام غزل | عورت کہانی | 5 | 22-03-09 02:25 PM |
| رویوں میںتبدیلی بدلائو لاتی ہے ۔۔۔ عورت ہونا کوئی جرم نہیں | محمدعدنان | گپ شپ | 0 | 18-05-08 09:46 PM |
| عوام سے ملنے والی پذیرائی صدارتی ایوارڈ سے کم نہیں | محمدعدنان | فن و فنکار | 0 | 25-04-08 01:14 PM |