| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,527
شکریہ: 50,033
10,120 مراسلہ میں 32,014 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ![]() دنيا ميں اس وقت مسلمان ہي وہ خوش قسمت لوگ ہيں جن كے پاس اللہ كا كلام بالكل محفوظ تمام تحريفات سے پاك، ٹھيك ٹھيك اُنہي الفاظ ميں موجود ہے جن الفاظ ميں وہ اللہ كے رسول بر حق پر اترا تھا۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان ہي وہ بد قسمت لوگ ہيں جو اپنے پاس اللہ كا كلام ركھتے ہيں اور پھر بھي اس كي بركتوں اور بے حدو حساب نعمتوں سے محروم ہيں، قرآن ان كے پاس اس ليے بھيجا گيا تھا كہ اس كو پڑھيں ، سمجھيں اور اس كے مطابق عمل كريں۔ اور اس كو لے كر اللہ كي زمين پر اللہ كا قانون قائم كر ديں۔ وہ ان كو عزت اور طاقت بخشنے آيا تھا اور تاريخ گواہ ہے كہ جب انہوں نے اس كي ہدايت كے مطابق عمل كيا تو اس نے ان كو دنيا كا امام اور رہنما بنا ديا۔ مگر اب ان كے ہاں اب قرآن كا مصرف سوائے اس كے كچھ نہيں رہا كہ گھر ميں اس كو ركھ كر جن بھوت بھگائيں، اس كي آيتوں كو لكھ كر گلے ميں باندھيں اور گھول كر پييں اور محص ثواب كے ليے بے سوچے سمجھے پڑھ ليا كريں اب يہ اس سے اپني زندگي كے معاملات ميں ہدايت نہيں مانگتے يہ اس سے نہيں پوچھتے كہ ہمارے عقائد كيا ہونے چاہيں ہمارے اعمال كيسے ہونے چاہيں، ہم زندگي كيسے بسر كريں، دوستي اور دشمني ميں كس قانون كي پاسداري كريں۔ خدا كے بندوں اور خود ہمارے نفس كے حقوق ہم پر كيا ہيں اور انہيں كس طرح ادا كرنا چاہے۔ اطاعت كس كي كرني چاہيے اور نافرماني كس كي۔ ہمارا دوست كون ہے اور دشمن كون۔ ہمارے ليے فلاح اور نفع كس چيز ميں ہے اور ذلت اور نامرادي اور نقصان كس چيز ميں ہے۔ يہ ساري باتيں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنا چھوڑ دي ہيں۔ اب يہ كافروں اور مشركوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور خود اپنے نفس كے شيطان سے ان باتوں كو پوچھتے ہيں اور انہيں كے كہنے پر چلتے ہيں اس ليے خدا كو چھور كر دوسروں كے حكم پر چلنے كا جو انجام ہونا چاہيے وہي ان كا بھي ہوا ہے۔ اور اسي كو آج پاكستان، ہندوستان ، فلسطين، كشمير، افغانستان، عراق، الجزائر اور شام و ديگر ميں ہر جگہ بري طرح بھگٹ رہے ہيں قرآن تو ہدايت اور بھلائي كا سر چشمہ ہے جتني اور جيسي خير اس سے مانگو گے يہ تمہيں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور كھانسي بخار كا علاج اور مقدمہ كي كايبابي اور نوكري كا حصول اور ايسي ہي چھوٹي چھوٹي بے حقيقت چيزيں مانگتے ہو تو يہي تم كو مليں گي۔ اگر دنيا كي بادشاہي اور روئے زمين كي حكومت مانگو گے تو وہ بھي ملے گي۔ اگر عرض الہي كے قريب پہنچنا چاہو گے تو تمہيں وہاں بھي پہنچا دے گا يہ تمہارے اپنے ظرف كي بات ہے سمندر سے دو بوند پاني مانگتے ہو ورنہ سمندر تو دريا بخشنے كو بھي تيار ہے۔ جو ستم ظريفياں ہمارے مسلمان بھائي اللہ كي اس كتاب پاك كے ساتھ كرتے ہيں وہ اس قدر مضحكہ خيز ہيں كہ اگر وہ خود كسي دوسرے معاملہ ميں كسي شخص كو ايسي حركتيں كرتا ديكھ ليں تو اس كي ہنسي آڑائيں بلكہ اس كو پاگل قرار دے ديں۔ بتائيے اگر كوئي شخص ڈاكٹر سے نسخہ لكھوا لائے اور اسے كپڑے ميں لپيٹ كر باندھ لے يا اسے پاني ميں گھوگ كر پي جائے تو ىپ اسے كيا كہيں گے؟ كيا آپ كو اس پر ہنسي نا آئے گي اور آپ اسے بيوقوف نہ سمجھيں گے؟ مگر سب سے بڑے حكيم نے آپ كي امراض كے ليے شفا اور رحمت كا جو بے نظير نسخہ لكھ كر ديا ہے اس كے ساتھ آپ كي آنكھوں كے سامنے دن رات يہي سلوك ہو رہا ہے اور كسي كو اس پر ہنسي نہيں آتي۔ كوئي نہيں سوچتا كہ نسخہ گلے لٹكانے يا گھول كر پينے كي چيز نہيں ہے بلكہ اس لئے ہوتا ہے كہ اس كي ہدايت كے مطابق دوا استعمال كي جائے۔ بتائيے اگر كوئي شخص بيمار ہو اور وہ علم طب كي كوئي كتاب لے كر پڑھنے بيٹھ جائے اور يہ خيال كرے كہ محض اس كتاب كو پڑھ لينے سے بيماري دور ہو جائے گي تو آپ اسے كيا كہيں گے؟ كيا آپ يہ نہ كہيں گے كہ اس كا دماغ خراب ہو گيا ہے ۔ مگر شافي مطلق نے جو كتاب آپ كے امراض كا علاج كرنے كے ليے بھيجي ہے آپ اس كے ساتھ وہي سلوك كرتے ہيں، آپ اس كو پڑہتے ہيں اور خيال كرتے ہيں كہ بس اس كو پڑھ لينے سے ہي تمام امراض ختم ہو جائيں گے۔ اس كي ہدايات پر عمل كرنے كي ضرورت نہيں اور نہ ہي ان چيزوں سے بچنے كي ضرورت ہے۔ جن كو اس نے مضر بتايا ہے۔ اگر آپ كے پاس كوئي خط ايسي زبان ميں آتا ہے جسے آپ جانتے نہ ہوں تو آپ دوڑے ہوئے جاتے ہيں كہ اس زبان كے جاننے والے سے اس كا مطلب پوچھيں گے۔ جب تك آپ اس كا مطلب نہيں جان ليتے آپ كو چين نہيں آتا۔ مگر خدا وند عالم كا جو خط آپ كے نام آيا ہوا ہے اور جس ميں آپ كے ليے دين و دنيا كے تمام فائدے ہيں اسے آپ اپنے پاس يونہي ركھ چھوڑتے ہيں اس كا مطلب سمجھنے ميں آپ ميں كوئي بے چيني پيدا نہيں ہوتي۔ كيا يہ حيرت اور تعجب كا مقام نہيں؟ آپ ان باتوں پر غور كريں تو آپ كا دل گواہي دے گا كہ دنيا ميں سب سے بڑھ كر ظلم اللہ كي اس كتابِ پاك كے ساتھ ہو رہا ہے اور يہ ظلم كرنے والے وہي ہيں جو كہتے ہيں كہ ہم اس كتاب پر ايمان ركھتے ہيں اور اس پر جان قربان كرنے كے ليے تيار ہيں۔ بے شك وہ ايمان ركھتے ہيں اور دل و جان سے زيادہ عزيز ركھتے ہيں مگر افسوس يہ ہے كہ وہي اس پر سب سے زيادہ ظلم كرنے والے بھي ہيں۔ اور اللہ كي كتاب پر ظلم كرنے كا اجام جو ہے وہ ظاہر ہے۔ خوب سمجھ ليجئے اللہ كا كلام انسان كے پاس اس ليے نہيں آتا كہ وہ بدبختي اور مصيبت ميں مبتلا ہو۔ يہ سعادت اور نيك بختي كا مجموعہ ہے۔ يہ قطعي نا ممكن ہے كہ كوئي قوم اللہ كے كلام كي حامل ہو اور دنيا ميں ذليل و خوار ہو دوسروں كي محكوم ہو۔ اس كے گلے ميں غلامي كا پھندا ہو۔ پاؤں ميں روندي اور جوتيوں ميں ٹھكرائي جائے اس كے گلے ميں غلامي كا پھندا ہو اور غيروں كے ہاتھوں ميں اس كي باگيں اور اس كو ايسے ہانكيں جيسے جانور ہانكے جاتے ہيں۔ يہ انجام اس كا صرف اسي وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ كے كلام پر ظلم كرتي ہے۔ بني اسرائيل كا انجام آپ كے سامنے ان كے پاس بھي اللہ كا كلام آيا تھا اور كہا گيا تھا۔۔ اور اگر وہ تورات اور انجيل اور ان كتابوں كي پيروں پر قائم رہتے جو ان كے رب كي طرف سے ان كے پاس بھيجي گئي تو آسمان سے رزق برستا اور زمين سے رزق ابلتا۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اللہ كي کتابوں پر ظلم كيا اور اس كا نتيجہ يہ ديكھا كہ ان پر ذلت مسلط كر دي گئي اور وہ اللہ كے غضب ميں گھر گئے يہ اس ليے كہ وہ اللہ كي آيات سے انكار كرنے لگے تھے اور پيغمبروں كو نا حق قتل كرتے تھے اور اس ليے كہ اللہ كے نافرمان ہو گئے تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ پس جو قوم اللہ كي كتاب ركھتي ہو اور پھر بھي ذليل و خوار اور محكوم و مغلوب ہو تو سمجھ ليجئے كہ وہ ضرور كتاب الہي پر ظلم كر رہي ہے اور اس پر يہ سارا وبال اسي ظلم كي وجہ سے ہے۔ خدا كے اس غضب سے نجات پانے كي اس كے سوا كوئي صورت نہيں كہ اس كي كتاب پر ظلم كرنا چھوڑ ديا جائے اور اس كا حق ادا كرنے كي كوشش كي جائے۔ اگر آپ اس گناہ عظيم سے باز نہ آئيں گے تو آپ كي حالت ہر گز نہ بدلے گي۔ خواہ آپ گاؤں گاؤں كالج كھول ديں اور آپ كا بچہ بچہ گريجويٹ ہو جائے اور آپ يہوديوں كي طرح سود خوري كر كے ارب پتي ہي كيوں نہ بن جائيں۔۔۔۔۔۔ آج لوگوں كا يہ حال ہے كہ اسلام كي جو بات ىسان لگتي ہے اسے تو بڑي خوشي سے قبول كرتے ہيں مگر جہاں اسلام اور كفر كا اصلي مقابلہ ہوتا ہے وہاں راستہ بدل ديتے ہيں۔ اسلام اسلام پكارتے ہماري زبان نہيں تھكتي مگر جب كہا جاتا ہے كہ يہ اسلام جس كي آپ اس قدر تعريف فرمارہے ہيں آئيے ذرا اس كا قانون ہم خود اپنے اوپر لاگو كريں تو فورا كہيں گے اس ميں فلاں مشكل ہے اور فلاني دقت ہے اور في الحال تو رہنے ديجئے۔ مطلب يہ ہے كہ اسلام ايك خوبصورت كھلونا ہے اس كو بس طاق پر ركھ ديجئے اور دور بيٹھے اس كي تعريفين كيے جائيے۔ اسي طرح اسلام كي تعريف تو جاري ركھني ہے ليكن اسے خود اپني ذات پر اور اپنے گھر والوں اور عزيزوں پر، اور كاروبار و ديگر معاملات پر ايك قانون كي حيثيت سے جاري كرنے كا نام تك نہ ليجئے۔ اسي كا نتيجہ ہے كہ نہ اب نمازوں ميں كوئي اثر ہے جو كبھي تھا اور نہ روزوں ميں اور نہ قرآن خواني ميں اور نہ شريعت كي ظاہري پابنديوں ميں۔ اس ليے كہ جب روح ہي موجود نہيں تو نرا بے جان جسم كيا كرامت دكھائے گا۔ ( تلخیص از سوچنے كي بات:سید ابو الاعلي مودودي رحمہ اللہ) ارادہ تو يہي تھا كہ كہ كچھ پيرا گراف ميں ٹائپ كر ديتا ہوں۔۔ باقي صبح تك كسي اور ساتھي كي نظر پڑي تو وہ كر دے گا۔۔۔۔ ليكن جب اس كا مطالعہ شروع كيا تو اتنا لطف آيا كہ مطالعہ كے ساتھ ساتھ بفضل خدا كمپوز بھي ہو گيا۔۔۔ اب ديگر ساتھي اس كے مطالعہ كے دوران كمپوزنگ كي كسي غلطي كو پائيں تو اس كو درست كر ديں۔۔۔ اللہ تعالي ہميں عمل كي توفيق عطا فرمائے۔۔۔۔آمین ((کمپوزنگ::برادر شمشاد احمد (( Last edited by عبداللہ آدم; 27-10-11 at 11:41 PM. |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (23-12-10), Miss Khan (21-10-11), shafirajput (24-12-11), یاسر عمران مرزا (22-12-10), نبیل خان (20-10-11), موجو (26-10-11), محمدمبشرعلی (21-10-11), ابرارحسین (13-06-09), احمد نذیر (22-10-11), بلال الراعی (21-10-11), حسن قادری (20-10-11), راجہ اکرام (22-12-10), رضی (13-06-09), سیفی خان (20-10-11), عبداللہ آدم (22-12-10), عروج (19-02-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,971
کمائي: 276,804
شکریہ: 33,219
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین مضمون ہے
اور واقعی سوچنے کی بات ہے بدرالزمان بھائی اگر اس کو یونی کوڈ میں کنورٹ کریں تو بہت اچھا رہے گا اور بہت لوگوں کی نظر میں آئے گا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (23-12-10), یاسر عمران مرزا (22-12-10), حیدر (13-06-09), رضی (13-06-09), عبداللہ آدم (22-12-10), عروج (19-02-11) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,527
شکریہ: 50,033
10,120 مراسلہ میں 32,014 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ برادر: یونی کوڈ سے مراد اس فورم میں ٹائپ کر دوں؟ انشااللہ ایسا کر دوں گا
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (13-06-09), یاسر عمران مرزا (22-12-10), نبیل خان (20-10-11), رضی (13-06-09), عبداللہ آدم (22-12-10), عروج (19-02-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلاشبہ ھم نے قرآ ن کو چھوڑ کر اپنا ھی نقصان کیا ھے۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ بدر بھائی۔ شئرنگ کا شکریہ
یہاں آپ نے اسی موضوع کے متعلق کچھ وعدہ کر رکھا ہے اسلام کی طرف واپسی
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا | نبیل خان (20-10-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 1,867
کمائي: 22,229
شکریہ: 6,378
1,335 مراسلہ میں 3,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدر بھائی میںیونی کوڈ کے انتظار میں ہوں اس لیے ابھی تک پڑھا نہیں ہے اسے
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
حیدر ! پیر ساب نے بلایا ہے اور آپ ابھی تک ادھر ادھر گھوم رہے ہیں..............
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,514
کمائي: 95,887
شکریہ: 8,877
3,846 مراسلہ میں 12,777 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (21-10-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
کاش اس مضمون کو پڑھ کر اس پر عمل بھی کیا جائے
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 1,330
کمائي: 12,933
شکریہ: 2,279
779 مراسلہ میں 1,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ قرآن پاک کو پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنی کی توفیق عطا فرمائے، آمین
جزاک اللہ ، بہترین تحریر ہے! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, Islam, net, pak, Purpose of Quran, Quran, url, فورم, ھے۔, ھم, یونی, وعدہ, قرآ, چھوڑ, نقصان, نظر, موضوع, متعلق, اللہ, السلام, بہترین, بھائی, بلاشبہ, بدر, رکھا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آپ بھی سوچیں زرا | Haya 786 | گپ شپ | 71 | 08-03-11 07:42 PM |
| میں کوجھی میرا دِلبرسوہنا | زارا | شاعری اور مصوری | 9 | 23-12-10 03:39 PM |
| فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں | The Great | وصی شاہ | 3 | 15-10-10 08:10 AM |
| فرشتے بھی رسول ہوتے ہیں ۔ | حیدر Rehan | عقیدہ رسالت | 19 | 25-03-09 10:23 AM |
| کبھی کبھی میں سوچتا ھوں،!!!!!! | عبدالرحمن سید | شاعروں کی بیٹھک | 2 | 13-10-08 12:33 AM |