| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں پتہ چلا موصوف پولیس میں انسپکٹر ہیں اور پولیس ٹریننگ سینٹر میں ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے میں بھی دعوت دی کہ کسی دن پولیس ٹریننگ سینٹر کی طرف آنا ہو تو ان سے ضرور ملاقات کریں۔
اتفاق کہیے کہ ایک شادی میں انہی صاحب کو بینڈ باجوں والوں کی کمانڈ کرتے دیکھ لیا۔ ہم اسے اپنی نظروں کا دھوکا سمجھتے رہے کہ انسپکٹر صاحب کوئی اور ہوں گے، یہ ان کی کاپی ہیں۔ اب اتفاق کہہ لیں یا حادثہ کہ کچھ ہی دن بعد ایک اور شادی میںجانا ہوا تو یہی صاحب ڈھول پیٹتے دکھائی دیے۔ ہم سے رہا نہ گیا اور ان کے پاس جا پہنچے۔ ”آپ تو پولیس میں انسپکٹر ہیں نا؟“ ”ہاں....ٹھیک پہچانا۔ میں پولیس میں انسپکٹر ہوں۔“انہوں نے ڈھول پیٹتے ہوئے جواب دیا۔ ”تو پھر یہ کام....کیا پولیس کی نوکری چھوڑ دی؟“ہماری حیرت برقرار تھی۔ ”پولیس میں بھی یہی کام کرتا ہوں.... نئے لڑکوں کی ٹریننگ کے دوران بینڈ بجانے کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ شام میں فارغ ہوتا ہوں تو شادی کے فنکشن بھی بھگتا لیتا ہوں۔“ انہوں نے زور دار طریقے سے ڈھول پر تھاپ ماری۔ ”پولیس میں بھی میراثی ہوتے ہیں۔“ مَلک صاحب کے منہ سے اچانک نکل گیا مگر اُن صاحب نے برا نہ مانا اور ڈھول پیٹتے رہے۔ اس واقعے کو اگرچہ کئی دن گزر گئے ہیں، مگر مَلک کو اچانک یہ صاحب یاد آگئے اور دفتر سے آتے ہی ہمارے گلے پڑ گئے کہ چلو اُن صاحب سے ملاقات کے لیے چلتے ہیں، جو پولیس میں بینڈ بجاتے ہیں۔ وجہ پوچھنے پر بتایا، طبلہ بجانا سیکھنا چاہتے ہیں۔ہم نے لاکھ سمجھایا” مَلک صاحب یہ کام آپ کو زیب نہیں دیتا، لوگ کیا کہیں گے کہ مَلکوں میں بھی میراثی ہوتے ہیں۔“ ” اب یہ فن ہے، اور میراثی تو وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں کچھ ورثہ لگ جائے۔ اس لیے ہر کوئی میراثی ہوسکتا ہے۔“ مَلک نے بھونڈی دلیل دی۔ ”طبلہ بجا نا سیکھ کر کیا کریں گے؟“ مجھ سے رہا نہ گیا تو مَلک سے پوچھ لیا۔ ”کچھ نہیں....بس انسان کو ہر فن آنا چاہیے، کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔“ مَلک صاحب نے جواب دیا تو دماغ میں چیونٹیاں سی دوڑنے لگیں۔اس سے ملتی جلتی باتیں پہلے بھی کہیں سن پڑھ چکا ہوں، مگر کہاں یاد ہی نہیں آرہا تھا۔ وہ تو شکر ہے، جلد ہی یاد آگیا کہ ہم نے خواب میں سابق صدر مشرف کو طبلہ بجاتے دیکھا تھا۔ حکماءکا کہنا ہے، کھانا کھانے کے فوراً بعد نہیں سونا چاہیے، ڈراونے خواب آتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے، اُس رات میں کھانا کھا کر فوراً ہی سوگیا تھا۔ شاید ہاضمے کی خرابی کی وجہ سے میرے خواب سچے ہونا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ اگلے دن ہی خبر آگئی ،پرویز مشرف نے طبلہ بجا کر داد وصول کی۔ تفصیلات اس طرح تھیں کہ لندن سے شائع ہونے والے بھارتی اخبار دی ایشین ایج نے لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے لکھا ہے،سابق صدر پرویز مشرف ایک محفل موسیقی میں مدعو تھے کہ گلوکار کا ساتھی طبلہ نواز درست پرفارم نہیں کررہا تھاا س پر سابق صدر خود اسٹیج پر پہنچ گئے اور طبلہ بجانا شروع کردیا۔ محفل کے شرکاءنے پاکستان کے سابق صدر کو طبلہ بجانے پر زبردست داد دی جس پر پرویز مشرف خوب خوش ہوئے۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ طبلہ نواز نے پرویز مشرف سے خود کو ان کی شاگردی میں لینے کی درخواست کی یا نہیں۔ اس خبر پر اگلے دن جمعیت علماءاسلام (س) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مفتی محمد عثمان یار خان کا کہنا تھا،پرویز مشرف کے طبلہ بجانے میں مہارت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے پورے دور اقتدار میں قوم کا طبلہ ہی بجاتے رہے ہیں اور ویسے بھی یہ ان کو ورثے میں ملا ہے۔ انہوں نے کہا، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ نیرو کے بارے میں مشہور ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، اس وقت پاکستان میں روم کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پرویز مشرف کی لگائی ہوئی آگ میں پورا ملک جل رہا ہے، سابق صدر طبلہ بجانے کا محاذ سنبھالے ہوئے ہیں۔ مفتی صاحب کی بات اگر درست مان لی جائے کہ پرویز مشرف کو یہ فن ورثے میں ملا ہے تو پھر مَلک بھی ضد پر اَڑا ہوا ہے، میراثی وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ کچھ ورثہ لگ جائے۔ ہم مَلک صاحب کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اِ ن دنوں وہ خود طبلہ سیکھنے کے چکر میں ہے۔ ہمارا تو مشورہ ہے، پرویز مشرف سے رابطہ کریں اور طبلہ بجانا سیکھیں اگر فیس بچانا چاہیں تو ڈانس بھی سیکھ سکتے ہیں کیونکہ پرویز مشرف کے والدین نے ڈانس میں پوزیشن حاصل کی تھی۔ جب سابق صدر پرویز مشرف نئے نئے اقتدار سے الگ ہوئے تھے یا کےے گئے تھے تو ہمارے سیل فون پر ایک مسیج آیا تھا ”بھائی جان! اگر آپ کے پاس کوئی نوکری ہوتو ضرور دیکھئے گا۔ کسی بھی قسم کا کام ہو تو میں کرنے کو تیار ہوں، میری کارکردگی آپ کے سامنے ہے، امید ہے کوئی اچھی سی نوکری دیکھ کر ضرور اطلاع کریں گے۔ آپ کا بے روزگار بھائی ، پرویزمشرف!“ ہم نے مَلک سے پوچھا” وہ طبلہ بجانا سیکھ جائے گاتو کیا میوزیکل پروگرام کیا کرے گا؟“ ”نہیں! سیاست میں آنے کا ارادہ ہے۔“ مَلک نے صاف گوئی سے کام لیا۔ ”مگر طبلے اور سیاست کا کیا جوڑ؟“ میں نے توجہ دلائی۔ ”جوڑ توڑ....ٹھوکنا بجانا ہی سیاست کا دوسرا نام ہے۔“ مَلک نے فرمایا۔ شاید مَلک ٹھیک ہی کہتا ہے، جو طبلہ بجا سکتا ہے، وہ قوم کا بینڈ بھی بجا سکتا ہے اور جو بینڈ بجا سکتا ہے، وہ قوم کو نچا بھی سکتا ہے۔جو قوم کو نچا سکتا ہے، وہی قوم کو بچا بھی سکتا ہے کیونکہ ناچنے والوں پر نوٹ نچھار کیے جاتے ہیںجو نچانے والے خزانہ بھرنے کی خوشخبری سنا کر لے جاتے ہیں۔ چھوڑیے ان غمزدہ باتوں کو آئیے میوزیکل ماحول بناتے ہیں۔ چشم تصور سے دیکھئے ، خود کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف مشرف صاحب طبلہ بجا رہے ہیں، شیخ رشید نے ہارمونیم پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ شریف صاحب نے بانسری تھام رکھی ہے۔ آصف صاحب نے کلاسیکل طرز کی سارنگی پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ چودھری شجاعت نغمہ سرا ہیں اور عوام تھرک ، مٹک رہی ہے۔ تماش بینوں میں اسرائیل اور اوباما شامل ہیں۔ مَلک نے اعتراض کیا، چودھری شجاعت کا اوریجنل ساونڈ درست نہیں تو نغمہ کیا خاک سمجھ میں آئے گا۔ یہ بھی زَٹل ہانکتا رہتا ہے، آج کل نغمے سمجھ میں کس کو آتے ہیں۔ بس سنتے جاو، سر دُھنتے جاو۔ اپنا بھی، دوسروں کا بھی ۔ |
|
|
|
| اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | یاسر عمران مرزا (25-10-09) |
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, لوگ, لندن, نوکری, معلوم, آج, انسان, جواب, جلد, خوش, خان, خبر, درخواست, رات, سیاست, شام, شادی, عوام, عثمان, صاف, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|