| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
عید کے موقع پر بچوں کی خوشی قابلِ دید ہوتی ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں، عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ چاند رات کا استقبال ہمارے ہاں الگ طریقے سے ہوتا تھا۔ سارے بچے گلی میں جمع ہوکر مختلف کھیل کھیلتے تھے۔ اکثر موم بتی کے چھوٹے چھوٹے حصے کر کے کاغذ کی کشتی میں رکھ کر اسے پانی میں چھوڑ دیتے تھے۔ جس کی کشتی زیادہ دیر تک پانی میں چلتی، وہ جیت جاتا۔ موم بتی کے علاوہ پلاسٹک کے تھیلے جلا کر بھی یہ کام کیا جاتا تھا۔
لڑکیاں مختلف گیت گا کر چاند رات کا استقبال کرتیں۔ ایک پشتو گیت جو بہت مقبول تھا بچوں میں، اس کے بول کچھ یوں تھے، اے چاند رات، تجھے کون بہلائے گا؟ لڑکیاں چلیں اپنے سسرال، تجھے کون بہلائے گا؟ اے چاند رات، تجھے کون کِھلائے گا؟ اس کے علاوہ بھی بہت سارے کھیل تھے، جو چاند رات کی رونقیں بڑھادیتے۔ ہم سے بڑی عمر کے لڑکے اکثر ٹولی بنا کر پورے گاؤں میں ساری رات گھومتے پھرتے، شرارت میں اکثر گھروں کے باہر اسٹریٹ لائٹس کو غلیل سے نشانہ مشق بناتے۔ کبھی کبھار مالک مکان باہر نکل کر کسی نہ کسی کو پکڑ بھی لیتے۔ اس بیچارے کی پھر خوب پٹائی ہوتی۔ باقی لڑکے بھاگ جاتے۔ تقسیمِ ہند سے قبل مردان میں بہت سارے ہندو خاندان بھی آباد تھے۔ تجارت پر ان کی ہی اجارہ داری تھی۔ ہم مردان کے مشرق میں واقع گاؤں گڑھی کپورہ میں رہتے تھے، جہاں تقسیم سے پہلے ہندو کمیونٹی کے کافی سارے لوگ آباد تھے۔ ان کے مقامی لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ لوگ بھارت منتقل ہوگئے۔ ان کے مکانات اور دکانیں مقامی لوگوں کے درمیان تقسیم ہوگئیں۔ ایک دھرم شالہ بھی تھا، جس میں اب لڑکیوں کا پرائمری اسکول ہے۔ اس کے سامنے ہی ہمارا اسکول تھا۔ اسکول کا ماحول بھی عجیب تھا۔ ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ بچے اکثر باہر جاکر کھیلتے رہتے۔ ریسس کے دوران ہم اسی گرلز اسکول کے سامنے گلی میں کھیلتے۔ اس اسکول کی بیرونی دیوار پر ہندی میں کچھ تحریر لکھی ہوئی تھی۔ اس کے متعلق بچوں میں یہ مشہور تھا کہ اسکول کے اندرایک خزانہ چھپا ہوا ہے۔ جو بھی اس تحریر کو پڑھنےمیں کامیاب ہوگا، وہ خزانے کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بھوت پریت کی بہت ساری کہانیاں بھی اس اسکول سے منسوب تھیں۔ جاری ہے بچپن کی یادیں - 1 Last edited by ھارون اعظم; 20-02-10 at 06:14 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (21-02-10), فیصل ناصر (21-02-10), منتظمین (21-02-10), راجہ اکرام (21-02-10), عروج (11-11-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-11-10), ھارون اعظم (21-02-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سادہ زمانہ سادے اسکول مگر مستقبل کے اخلاقی اقدار والے کامیاب لوگ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-11-10), ھارون اعظم (11-11-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہیں،, ہوتا, ہے۔, ہندو, کوئی, پہلے, پورے, پاکستان, یوں, لوگ, چھوڑ, چاند, نام, موقع, موم, منتقل, بھارت, بچپن, بچوں, تحریر, جیت, رات, عید, عجیب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|