|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 856
کمائي: 1,463
شکریہ: 196
364 مراسلہ میں 602 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بھائی کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-08-09), عبداللہ حیدر (05-08-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیاسنت یہ ہے کہ رمضان میں روزانہ 20 اور روزانہ باجماعت تراویح ہو ۔ مسجد میں محراب ہو۔مسجد کے مینار ہوں؟؟؟؟اپنی دی گئی تصویری تحریر کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب عنائیت فرما دیں۔
|
|
|
| Student کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (05-08-09) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
صحیح اور ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باجماعت نماز تراویح بدعت نہیں سنت ہے۔ اس لیے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ نماز تراویح ادا فرمائی ہے۔ اپنے فرمان مبارک سےباجماعت تراویح کی فضیلت بیان کی۔ اور جو صحابہ نماز تراویح باجماعت ادا کرتے تھے ان کی تعریف کی اور اس سے منع نہیں فرمایا۔ یعنی سنت کی تعریف کے مطابق قولی، فعلی اور تقریری ہر لحاظ سے اس کا سنت ہونا شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اب اللہ کی توفیق سے اس بات کے دلائل اور تفصیل عرض کرتا ہوں۔ نماز تراویح کے فعلی سنت ہونے کی دلیل اہل سنت و الجماعت کی معتبر ترین کتابوں میں سے ایک یعنی صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے۔ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَان (صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح) "ایمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز(تراویح) پڑھی تو کچھ لوگ نے ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اقتداء میں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ پھر دوسری شب نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف نہیں لائے۔ پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا “میں نے دیکھا جو تم کر رہے تھے، مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف یہ خوف مانع تھا کہ کہیں تم پر (نماز تراویح) فرض نہ ہو جائے۔ اور یہ رمضان کا واقعہ تھا۔ صحیح مسلم کی احادیث کے صحیح ہونے پر تمام اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے اس لیے مزید کوئی حوالہ پیش کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن قارئین کی تسلی کے لیے دوسرے محدثین کی فہرست بھی پیش کی جارہی ہے جنہوں نے اس حدیث کو روایت کیا۔ صحیح البخاری کتاب صلاۃ التراویح باب فضل من قام رمضان سنن ابی داؤد باب الصلاۃ کتاب فی قیام شھر رمضان۔ صحیح ابن خزیمہ جلد سوم ص 338۔ حدیث نمبر 2206 موطا امام مالک کتاب الندا للصلاۃ باب الترغیب فی الصلاۃ فی رمضان مصنف عبدالرزاق باب الصلاۃ کتاب الضجعۃ بعد الوتر و باب النافلۃ مسند احمد میں “باقی مسند الانصار” باقی المسند السابق صحیح ابن حبان باب کتاب الایمان باب التکلیف المعجم الاوسط للطبرانی حدیث نمبر 5439 السنن الکبری للبیہقی جلد 2 صفحہ 493 سنن النسائی الصغرٰی کتاب قیام اللیل و تطوع النھار باب قیام شھر رمضان مستخرج ابی عوانہ کتاب مبتدا کتاب الصیام باب الترغیب فی قیام اللیل و الصلاۃ فی شھر رمضان و ثوابہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے باجماعت تراویح کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی ہے: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ قَالَ وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ (مسند احمد بن حنبل، مسند الکوفیین حدیث نعمان بن بشیر عن النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) "نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر بیان کیا کہ “ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تئیسویں کو رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو آدھی رات تک قیام کیا۔ پھر ستائیسویں کو ان (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسل) نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم “فلاح” کو نہیں پا سکیں گے اور ہم لوگ سحری کو “فلاح” کہا کرتے تھے” باجماعت نماز تروایح قولی سنت بھی ہے: سنن ابی داؤد کی ایک صحیح حدیث دیکھتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ اس کا سنت ہونا فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بھی ثابت ہے : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ قَالَ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی قیام شھر رمضان) "ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ کچھ قیام نہ کیا حتٰی کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات دن رہ گئے (یعنی تئیسویں رمضان کی رات کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی نماز تراویح پڑھی)۔ یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ پھر جب چھٹی رات تھی (یعنی رمضان ختم ہونے میں چھے دن رہ گئے) تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا۔ پھر جب پانچویں رات تھی ( پانچ دن باقی رہ گئے )تو ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا “اے اللہ کے رسول ! کاش ، آپ اس رات ہمیں اور بھی نفل پڑھاتے۔ فرمایا “جب آدمی امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب شمار کیا جاتا ہے۔ پھر چوتھی رات کو قیام نہیں کیا۔ پھر جب تیسری رات تھی (یعنی رمضان کی ستائیسویں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں ، ازواج مطہرات اور دوسرے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا ڈر پیدا ہو گیا۔ جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا “فلاح کیا چیز ہے” تو انہوں نے فرمایا “سحری”۔ پھر اس کے بعد کی راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (جماعت کےساتھ) قیام نہیں کیا۔ اس حدیث کو امام دارمی نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ دیکھیے سنن دارمی کتاب “و من باب الصوم” باب فی قیام رمضان۔ باجماعت نماز تروایح تقریری سنت بھی ہے تقریر سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سامنے کوئی کام کیا گیا ہو اور ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی ہو اور اس سے منع نہ فرمایا ہو۔ قول و فعل کی طرح تقریر بھی کسی عمل کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے تراویح کی جماعت تو کرائی لیکن اس پر ہمیشگی اختیار نہیں کی اس خوف سے کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے طور پر مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں منع نہیں کیا۔ اس بات کی تفصیل امام احمد بن حنبل نے صحیح سند کے ساتھ یوں بیان کی ہے: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ (مسند احمد بن حنبل مسند باقی الانصار، باقی المسند السابق) "نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ “رمضان کی راتوں میں لوگ مسجدنبوی میں الگ الگ گروہوں کی صورت میں نماز پڑھتے تھے۔ ہوتا یوں تھا کہ کسی آدمی کو قرآن کا کچھ حصہ یاد ہوتا تو پانچ چھے یا اس سے کم و بیش آدمی اس کے ساتھ ہو جاتے اور اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتے” یہ ایک لمبی حدیث کا ابتدائی حصہ ہے۔ - عام طور مشہور ہے کہ نماز تراویح کی جماعت سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ سے شروع کرائی تھی لیکن اب تک گفتگو سے اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے سے جاری ایک سنت تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے صرف یہ کیا کہ لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا جس کی دلیل یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم نے جب تراویح پڑھائی تو سب نے امام اعظم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔ خلاصہ کلام یہ کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم نے تراویح باجماعت ادا فرمائی جس سے اس کا سنت ہونا معلوم ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام جماعت سے تراویح پڑھا کرتے تھے اس لیے یہ کوئی ایسی عبادت نہیں ہے جو صرف تین دن ادا کی گئی ہو۔ بلکہ زمانہ رسالت میں جاری و ساری تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم نے اپنی اقتدا میںیعنی ایک امام کے پیچھے سب کو اکٹھا کر کے تراویح باجماعت ادا فرمائی لہٰذا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک امام مقرر کرنا بھی شرعی بدعت کے زمرے میںنہیں آتا۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 05-08-09 at 06:44 PM. |
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب بات روزانہ 20 اور روزانہ باقائدہ جماعت کی ہو رہی ہے اور آپ محراب و مینار کے سنت ہونے کا جواب گول کر گئے ہیں۔
|
|
|
| Student کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (05-08-09) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,159
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,056 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلامی سیکشن میں اس پر پہلے ہی بحث چل رہی ہے اور عبداللہ اپ کو اس میں جواب دینے کی بجائے غلط جگہ پر پوسٹ ہونے کی بنا پر رپورٹ کرنا چاہیے تھی۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فرض, کتابوں, گمان, پوسٹ, قرآن, لوگ, نماز, ماں, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, اسلامی, جواب, جلد, حدیث, دریافت, رمضان, رات, سحری, عبادت, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 06:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 10:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 09:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:28 AM |