| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابھی جنگ میں سردار احمد قادری کے کالم پڑھا اس میں انھوں نے کچھ سوال کیے تھے ایک سوال قربانی کے بارے میں تھا انھوں لکھا ھے رسولِ کریم کی سوانخِ حیات کامطالعہ کیا میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ رسولِ کریم نے ان ایام میں جب آپ نے حج نہیں کیا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ھو --- قرآن میں بھی جو ایات قربانی سے متعلق ھیں وہ بھی حج سے ھی وابستہ ھیں
میں نے جب سے یہ پڑھا ھے تب سے دل میں ایک الجھن ھے آپ سب کا کیا خیال ھے ---- آپ کا علم کیا کہتا ھے -- اگر کسی کے علم ھو تو ضرور بتائیں قرآنی ایات یا رسولِ کریم کی زندگی کا کوئ واقعہ جس میں قربانی کا زکر ھو شکریہ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | shafresha (06-11-09), یحیٰی (10-11-09), نورالدین (30-03-10), راجہ اکرام (06-11-09), عامرشہزاد (06-11-09), عبداللہ حیدر (23-11-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اس حساس معاملے پر اہل علم ہمیںاپنی اپنی آراء اور تحقیق سے نوازیں!
برائے کرم موضوع کی حساسیت پیش نظر رہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,855
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے"جوآسودہ حال ہونےکےباوجودقربانی نہ کرےوہ ہماری عیدگاہ کےقریب نہ آئے"ابن ماجہ، ائمہ احمد،دارقطنی ،،، ۔مخنف بن سلیم سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اےلوگوہرسال ہرگھروالوں پر قربانی ہے"ترمذی،نسائی،ابوداؤد ،ابن ماجہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,855
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اہل علم میں سے نہیں یہ احادیث پڑھ رکھی تھیں اسلئےدرجکردیں باقی مجھے بھی علماء کی رائےکاانتظاررہےگا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (06-11-09), راجہ اکرام (06-11-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سام بھائی ان احادیث کی صحت پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔
دراصل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میںکہیں آج کل کی جانے والی قربانی سے متعلق روایات (کم از کم میری معلومات کے مطابق) اور واقعات نہیںملتے۔ اب دیکھیئے اہل علم اس کا کیا جواب دیتے ہیں، عبداللہ بھائی اور جناب عادل سہیل بھائی وغیرھم کا اانتظار ہے! Last edited by shafresha; 06-11-09 at 10:55 PM. وجہ: ایک لفظ کا اضافہ! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اہل علم آپ سے مدد کی درخواست ہے!!!
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (10-11-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہل ِ علم کی طرف سے کوئ جواب نہیں آیا
میرے بلاگ پہ اسی موضوع پہ بحث ھوئ تھی لنک دے رھی ھوں لوگ کیا کہتے ھیں دیکھ لیں ایک سوال — کیا قربانی ھر مسلمان پہ فرض ھے ؟؟ : Sadia saher |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (10-11-09), نورالدین (30-03-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہل ِ علم کی طرف سے کوئ جواب نہیں آیا
میرے بلاگ پہ اسی موضوع پہ بحث ھوئ تھی لنک دے رھی ھوں لوگ کیا کہتے ھیں دیکھ لیں ایک سوال — کیا قربانی ھر مسلمان پہ فرض ھے ؟؟ : Sadia saher |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (10-11-09), نورالدین (30-03-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
میں قرآن حکیم کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ صرف حوالہ فراہم کرسکتا ہوں۔ صاحب علم نہیں ہوں ۔ لہذا انتظار کرتا رہا کہ صاحب علم افراد اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں گے ۔ معلوم نہیں کیوں، صاحب علم حضرات کسی مصلحت کے تحت چپ ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ عید الاضحی پر کی جانے والی قربانی آیا کہ فرض ہے، سنت ہے ، سنت مؤکدہ ہے ، سنت غیر مؤکدہ ہے یا سنت ابراہیمی ہے؟ عید الاضحی پر کسی جانور کی قربانی کے بارے میں اسلامی کتب میں بے تحاشہ معلومات موجود ہیں۔ اس میں جانور یا جانوروں کی اقسام سے لے کر جانور کی خصوصیات تک شامل ہیں۔ ان تمام معلومات میں جہاں جانور کی تمام خصوصیات، قربانی کرنے کے طریقہ اور قربانی کو بطور عبادت نہایت تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے وہاں ہم یہ دیکھتے ہیںکہ عموماً یہ نہیں بتایا جاتا کہ عید الاضحی پر قربانی آیا کہ فرض ہے، سنت ہے ، سنت مؤکدہ ہے ، سنت غیر مؤکدہ ہے یا پھر سنت ابراہیمی ہے؟ کیا عید الاضحی پر قربانی حج کرنے والوں پر خانہ کعبہ کے نزدیک فرض ہے؟ کسی بھی امر یا عمل یا حکم کے فرض ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان موجود ہو جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آیا کہ یہ عمل یا امر یا حکم مسلمان پر فرضہے۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قربانی کیجئے اور قربانی کے لئے وقت اور جگہ کا تعین بھی بہت ہی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ ان آیات کے ان حصوںکو سرخ کردیا گیا ہے جو اہم ہیں۔ یہ آیات رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوئیں۔ سورۃ الحج آیات 27 سے 38 تک 22:27 اور اعلان کردو انسانوں میں حج کا، آئیں گے وہ تمہارے پاس پیدل چل کر اور دُبلے دُبلے اُونٹوں پر جو چلے آرہے ہوں گے تمام دور دراز راستوں سے۔ 22:28 تاکہ دیکھیں وہ ان فوائد کو جو ان کے لیے ہیں (حج میں) اور لیں اللہ کا نام چند مقررہ دنوں میں اور ان (جانوروں) پر جو بخشے ہیں اللہ نے اُنہیں از قسمِ مویشی پھر کھاؤ تم خود بھی اس میں سے اور کھلاؤ بھُوک کے مارے محتاجوں کو بھی۔ 22:29 پھر چاہیے کہ دُور کریں اپنا میل کچیل اور پُوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں اس قدیم گھر کا۔ 22:30 یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو احترام کرے اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا تو یہ بہتر ہوگا اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک اور حلال کیے گئے ہیں تمہارے لیے مویشی سوائے اُن کے جو بتائے جاچُکے ہیں تمہیں سو پرہیز کرو بتوں کی ناپاکی سے اور پرہیز کرو جھوٹی بات سے۔ 22:31 یکسو ہو کر، ہو رہو اللہ کے اور نہ ٹھہراؤ شریک (کسی کو) اس کے ساتھ۔ اور جو شرک کرتا ہے اللہ کے ساتھ تو وہ ایسا ہے جیسے گِرگیا ہو آسمان سے اور اُچک لے جائیں اُسے پرندے یا جا پھینکے اُسے ہوا کسی دُور دراز مقام پر۔ 22:32 یہ ہے اصل معاملہ اور جو تعظیم کرتا ہے اللہ کی نشانیوں کی سو یقینا یہ (تعظیم کرنا) دل کا تقویٰ ہے۔ 22:33 تمہارے لیے ان جانوروں میں فائدے ہیں ایک وقت مقررہ پر پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ ہے اُس قدیم گھر (خانہءکعبہ) کے پاس۔ 22:34 اور ہر اُمت کے لیے مقرر کیا ہے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ تاکہ لیں وہ نام اللہ کا اُن (جانوروں) پر جو دیے ہیں اُس نے اُن کو از قسم مویشی، اس لیے کہ تمہارا معبود اِلٰہِ واحد ہے سو اسی کے مطیع فرمان بنو۔ اور (اے نبی) بشارت دے دو عاجزی اختیار کرنے والوں کو۔ 22:35 جن کا حال یہ ہے کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا تو کانپ اُٹھتے ہیں ان کے دل اور جو صبر کرتے ہیں اس (مصیبت) پر جو آتی ہے اُن پر اور قائم کرتے ہیں نماز اور اس میں سے جو دیا ہے ہم نے اُنہیں، خرچ کرتے ہیں۔ 22:36 اور قربانی کے اُونٹ، شامل کیا ہے ہم نے ان کو تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں۔ تمہارے لیے اُن میں بھلائی ہے۔ سو لو نام اللہ کا اُن پر صف میں کھڑا کر کے۔ پھر جب گرجائیں وہ پہلو کے بل تو کھاؤ خود بھی اس میں سے اور کھلاؤ صبر سے بیٹھے ہوؤں کو اور سوال کرنے والوں کو بھی۔ اس طرح مسخر کیا ہے ہم نے اُنہیں تمہارے لیے تاکہ شکر ادا کرو۔ 22:37 نہیں پہنچتے ہیں اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون لیکن پہنچتا ہے اسے تقویٰ تمہارا اس طرح مسخر کیا ہے اُنہیں تمہارے لیے تاکہ تم کبریائی بیان کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت بخشی ہے اس نے تمہیں اور بشارت دے دو نیکوکار لوگوں کو۔ 22:38 یقینا اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں، یقینا اللہ نہیں پسند کرتا کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو۔ آپ ان آیات کو بغور پڑھئے ، خاص طور پر سرخ شدہ حصوں کو تو اس امر کی بہت واضح شہادت ملتی ہے کہ 1۔ قربانی کرنے کا وقت حج ہے۔ حوالہ: 22:27 2۔ قربانی کرنے کا مقام بیت العتیق یعنی سب سے پرانا اللہ کا گھر یعنی خانہء کعبہ ہے۔ حوالہ 22:33 3۔ اس حج کے موقع پر خانہء کعبہ کے پاس دی جانے والی قربانی کے دو مقاصد ہیں، 1۔ بھوکوں کا پیٹ بھرنا (حوالہ 22:36 ) 2۔ مسلمانوں میںتقوی پیدا کرنا ( حوالہ 22:37 ) ہم کو اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ : کیا عید الاضحی پر قربانی حج کرنے والوں پر خانہ کعبہ کے نزدیک فرض ہے؟ تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی اس میں ایک حکمت ہے کہ لوگوں کو حج کے فوائید، اور اس موقع پر کی جانے والی کعبہ کے نزدیک قربانی کے فوائید کا علم ہو۔ آب ہم دوسرا سوال کرتے ہیں کہ جب قربانی حج کے موقع پر خانہءکعبہ کے پاس کی جارہی ہے تو کیا ایسی ہی قربانی مسلمان جہاں بھی ہوں وہاں بھی کیا کریں ؟ آپ دیکھتے ہیں کہ حج کے موقع پر اللہ تعالی نے جس قربانی کا حکم دیا ہے وہ صرف اور صرف حج کے دوران اور خانہء کعبہ کے نزدیک ہے۔ ان آیات میں مسلمانوں پر وضاحت اور صراحت سے یہ فرض نہیں کیا گیا کہ وہ جہاں بھی ہو وہاں پر قربانی دیں۔ آپ اس کے لئے مندرجہ بالاء حکم کی آیات کے مختلف تراجم اردو اور انگریزی میں دیکھ سکتے ہیں اور غور کرسکتے ہیں۔ قربانی کے اس حکم کا مزید مطالعہ ہم روزہ رکھنے کے حکم سے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آپ جہاںبھی رمضان پائیے ، روزہ رکھئے۔ یعنی اس کے لئے وقت تو مقرر کیا گیا لیکن اس حکم کا اطلاق ہر جگہ ہوگا کہ آپ جہاں بھی رمضان کو پائیں گے وہاں روزہ رکھیں گے۔ جبکہ قربانی کے لئے وقت اور جگہ دونوں کا تعین کیا گیا ہے کہ قربانی حج کے اوقات میں اور بیت العتیق یعنی خانہء کعبہ کے پاس ادا کی جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ رمضان کے روزے: 2:185 رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا ئے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ ہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ لوگ قربانی کو سنت ابراہیمی قرار دیتے ہیں ۔ آئیے اس مضمون کی آیات کو دیکھتے ہیں، سورۃ الصافات آیات 99 سے 113 تک 37:99 اور آگ سے نکلنے کے بعد) ابراہیم نے کہا میں جارہا ہوں اپنے رب کی طرف، وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ 37:100 اے میرے رب! عطا کر تو مجھے (بیٹا) جو صالحین میں سے ہو۔ 37:101 سو بشارت دی ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی۔ 37:102 چنانچہ جب پہنچ گیا وہ ان کے ساتھ دوڑ دھوپ (کی عمر) کو تو کہا ابراہیم نے اے بیٹھے! میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو سوچ کر بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے؟ بیٹے نے کہا: ابا جان! کرڈالیے وہ کام جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے ضرور پائیں گے آپ مجھے انشاء اللہ صابروں میں سے۔ 37:103 پھر جب سرتسلیم خم کردیا ان دونوں نے اور لٹادیا اسے ابراہیم نے ماتھے کے بل۔ 37:104 ندا دی ہم نے اسے اے ابراہیم!۔ 37:105 بلاشبہ سچ کردکھایا تم نے اپنا خواب، بے شک ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں اچھا اور معیاری کام کرنے والوں کو۔ 37:106 بلاشبہ یہی تھی ایک کھلی آزمائش۔ 37:107 اور فدیہ میں دے کر اس کے ایک بڑی قربانی (ہم نے اسے چھڑالیا)۔ 37:108 اور باقی رکھا ہم نے ان کے لیے پچھلی نسلوں میں۔ 37:109 یہ کہ --سلام ہو ابراہیم پر -- ۔ 37:110 ایسی ہی جزا دیتے ہیں ہم اچھا اور معیاری کام کرنے والوں کو۔ 37:111 بلاشبہ وہ تھا ہمارے مومن بندوں میں سے۔ 37:112 اور بشارت دی ہم نے اسے اسحٰق کی جو نبی ہوگا صالحین میں سے۔ 37:113 اور برکت دی ہم نے اسے اور اسحٰق کو اور ان دونوں کی نسل میں ہے کوئی تو محسن اور کوئی اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والا۔ اللہ تعالی نے ہم کو ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی مظبوطی کے بارے میں بتایا ہے کہ ان بزرگ نبی نے اللہ پر اس قدر یقین رکھا کہ صرف خواب دیکھنے پر اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے، لیکن اللہ تعالی نے فدیہ میں ایک عظیم قربانی ابراہیم علیہ السلام کو عطا کرکے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی جان بچائی۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد میں حج کے موقع پر خانہء کعبہ کے پاس قربانی کا اہتمام کیا۔ گویا ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم سنت کے وقت، جگہ اور عمل تینوں کو اس مسلمان امت کے لئے فرض کردیا۔ یہ تمام کلمات مبارکہ اور احکام مبارکہ رسول اکرم محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے گویا ایک اور عظیم و بزرگ نبی کی زبان مبارک سے اس عظیم سنت ابراہیمی کی توثیق کردی گئی۔ اس مقام پر ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ 1۔ قربانی ، سنت ابراہیمی ہے، 2۔ ہر امت کی طرح، مسلمانوں پر حج کے موقع پر بیت اللہ یعنی خانہء کعبہ کے پاس قربانی کا حکم دیا گیا یعنی فرض کی گئی ہے۔ 3۔ حج کے علاوہ اور خانہءکعبہ سے دور قربانی کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا جس طرح رمضان کے روزوںکا صراحت سے حکم دیا گیا کہ وہ ہر اس جگہ فرض ہیں جہاں رمضان پایا جائے۔ 4۔ کتب روایات میں حج بیت اللہ کے علاوہ اور خانہ کعبہ کے قریب مکہ کے علاوہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے، ایماء سے یا حکم سے قربانی کرنے کی سنت رسول اللہ کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ اگر سنت رسول اللہ موجود نہ ہو یعنی رسول اکرم نے کعبہ سے دور ، حج کے دوران ایسا کوئی عمل انجام نہیں دیا ہو تو اس کی تاکید کیوں کر فرمائی۔ اس کے بارے میں کوئی مستند روایت میرے علم میں نہیں ہے۔ لہذا کعبہ سے دور قربانی کرنا سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے یعنی ایسی سنت جس کی تاکید کی گئی ہو -- نہیں ثابت ہوتی ہے۔ اب تک ہماری معلومات کے مطابق، قربانی کا مقام بیت العتیق کے نزدیک ہے۔ جس کا موقع حج ہے اور اس کی بنیاد سنت ابراہیمی ہے۔ اس جگہ اور اس وقت کے علاوہ قربانی کرنے کے احکام اب تک نہ تو اللہ کی کتاب سے ملتے ہیں اور نہ ہی سنت رسول اللہ سے۔ ان معلومات کے مطابق، بیت العتیق سے دور، حج کے موقع پر عید الاضحی کی قربانی ، غریبوں کو کھلانے کے لئے کئے جانے والا ایک ثواب تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ نہ فرض ہے ، نہ سنت موکدہ ہے اور نہ ہی اس کے واجب ہونے کا کوئی ثبوت کتب روایات سے ملتا ہے۔ سنت ابراہیمی کہہ کر کعبہ سے دور، بناء حج کے قربانی کرنا -- غریبوں کو کھلا کر ثواب کمانے کے زمرہ میںآئے گا۔ لہذا اپنی بساط کے مطابق یہ عمل سر انجام دیا جاسکتا ہے لیکن اس قربانی کو بیت اللہ سے دور، بناءحج کی ادائیگی کے ، فرض ، سنت مؤکدہ یا واجب سمجھ کر قربانی کرنے کا کوئی ثبوت ہم کو قرآن حکیم یا کتب روایات سے نہیں ملتا۔ کتب روایات سے ایسی روایات ضرور ملتی ہیں، جن میں رسول اکرم نے قربانی کی اہمیت پر زور دیا ، لیکن چونکہ ایسی کسی سنت کی مثال نہیںملتی کہ رسول اللہ نے کعبۃ اللہ سے دور دوران حج ایسی کوئی قربانی دی ہو تو ہم ان روایات سے صرف یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اکرم کا اشارہ اس قربانی کی طرف ہے جو کہ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ حج کے وقت، طواف کے بعد، بیت العتیق کے نزدیک دی جانے والی قربانی۔ یعنی رسول اللہ دوران حج ، کعبۃ اللہ کے قریب دی جانے والی قربانی کی اہمیت کا احساس دلا رہے ہیں جو کہ یقینی طور پر قرآن میں موجود اللہ تعالی کے احکامات کے عین مطابق ہے۔ حج کے احکامات کے بارے میں مزید آیات جن کو دیکھنا ضروری ہے: 2:196 اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لیے۔ پھر اگر کوئی رکاوٹ پیش آجائے تو جو میسّر آجائے کوئی قربانی کا جانور (پیش کرو اللہ کے حضور) اور نہ مونڈو اپنے سر جب تک کہ نہ پہنچ جائے قربانی اپنی جگہ پر پھر جو شخص ہو تم میں سے بیمار یا ہو اسے کوئی تکلیف سر میں تو وہ بطور فدیہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں اطمینان نصیب ہو تو جو شخص فائدہ اُٹھائے عمرہ کرنے کا حج کے ساتھ تو (وہ ذبح کرے) جو میّسر آئے قربانی کا جانور پھر اگر کوئی نہ پائے (قربانی کا جانور) تو روزے رکھے، تین دن کے حج (کے دنوں) میں اور سات روزے جب (گھر) لوٹے۔ یہ ہوئے پورے دس، یہ (عمرہ کی اجازت) اس شخص کے لیے ہے، نہ ہو جس کا گھر بار مسجدِ حرام کے قریب۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خُوب جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت ہے عذاب دینے میں۔ 5:95 اے ایمان والو! نہ مارو شکار جبکہ ہو تم احرام میں اور جو کوئی شکار مارے گا تم میں سے جان بُوجھ کر تو اس کا تاوان ہے مثل اس (شکار) کے جو مارا ہے اس نے کوئی مویشی، جس کا فیصلہ کریں گے دو منصف تم میں سے جو بطورِ نذرانہ پہنچایا جائے گا خانہ کعبہ تک یا کفارہ ہے کہ کھانا کھلائے مسکینوں کو یا ان کے برابر روزے رکھے تاکہ چکھے سزا اپنے کیے کی۔ معاف کیا اللہ نے وہ جو ہو چُکا پہلے اور جو کوئی دربارہ کرے گا تو بدلہ لے گا اللہ اس سے اور زبردست ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ امید ہے کہ صاحب العلم حضرات مزید معلومات فراہم کرکے اس معاملہ کو بہتر سمجھنے میں مدد دیں گے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 10-11-09 at 09:45 AM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اجازت دیجئے کہ اس موضوع سے ہٹکر درج ذیل آیت کی طرف توجہ دلا سکوں۔ 22:27 وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور اعلان کردو انسانوں میں حج کا، آئیں گے وہ تمہارے پاس پیدل چل کر اور دُبلے دُبلے اُونٹوں پر جو چلے آرہے ہوں گے تمام دور دراز راستوں سے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے لئے حج کا اعلان کرنے کا حکم رسوال اکرم کو دیا اور ساتھ ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کی کہ یہ تمام انسان کعبۃ اللہ تک دور دراز سے پیدل اور سواریوں پر آئیں گے۔ گو کہ قرآن کریم کی تمام آیات ہی اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں لیکن یہ آیت مقدسہ ایک عظیم آیت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے پیشین گوئی کی کہ لوگوں میں اعلان کردو اور لوگ آئیں گے۔ دنیا میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ مذہبی فریضہ کے لئے جاتے ہیں ۔ لیکن کعبۃاللہ کے حج کی یہ خاصیت ہے کہ یہاں لوگ اللہ تعالی کی یہ پیشین گوئی پوری کرنے جاتے ہیں۔ سوچئیے کہ اس بات کا کیا امکان تھا کہ لوگ دور دراز سے " لبیک " کہتے ہوئے ، اپنا مال و متاع خرچ کرکے اللہ کی راہ میں کعبۃ اللہ جاتے؟ لیکن ہم دیکھتے ہیںکہ ان لبیک کہنے والوں کا ایک تانتا بندھا ہوا ہے ، تاریخگواہ ہے کہ اس اذان کے دینے کے بعد سے آج تک کعبۃ اللہ کا طواف صرف فرض نمازوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے رکا ہے۔ اس کی پکار کا جواب دینے والوںکی کمی نہیں ہے ۔ کعبۃ اللہ تک جانے والے کسی بھی راستے پر کھڑے ہوجائیے اور اللہ تعالی کی اس پیشین گوئی کا خود مشاہدہ کیجئے کہ اس اعلان پر لبیک کہنے والے صرف حج کے دوران ہی نہیں بلکہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ یہ ثبوت ہے اس پیشین گوئی کے سچ ہونے کا۔ ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 10-11-09 at 08:59 AM. |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,855
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سام بھائی السلام علیکم،
ہم خود بھی اہل علم و نظر کے منتظر ہیں!!! کیا صحیح بخاری ومسلم صحاح ستّہ میںشامل نہیں ہیں؟؟؟؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (12-11-09), نورالدین (30-03-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
ماضی میں لوگوںنے کو روایات و احادیث کی چھ بڑی کتب سے "صحیح روایات" نکال کر ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام صحاح ستہ رکھا یعنی چھ کتب کی صحیح روایات۔ اس لئے کہ ہم سے پہلے بھی لوگوں کو ان چھ کتب روایات میں ضعیف اور موضوع یعنی نہایت کمزور اور گھڑی ہوئی روایات نظر آتی رہی ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ اصل مصنف سے یہ غلطی ہوئی ہو، بعد میںبھی ان کتب میں ملاوٹ ہوتی رہی ہے۔ آج بھی ایک علاقہ سے خریدی ہوئی صحیح بخاری اور دوسرے علاقہ کی صحیح بخاری کی روایات کی تعداد، متن اور ترتیب میں بڑا بڑا فرق ہوتا ہے۔
اصل محدث سے بھی روایات کو نکال باہر کرنا منسوب ہے، تقریباً ہر صحیح بخاری کے شروع میں ان روایات کی تعداد لکھی ہوتی ہے جو جناب بخاری صاحب نے چھوڑ دی تھیں ، چھوڑی جانے والی روایات کی تعداد ایک کتاب جو میرے پاس ہے اس کے حساب سے 97.5 فی صد بنتی ہے۔ گویا جناب بخاری صاحب کو صرف 1.5% روایات قابل اعتبار لگیں۔ جو کتاب میرے پاس ہے وہ میری پیدائش سے قبل 1906 میں لاہور سے چھپی ہے اور اس کے ترتیب دینے والے ریٹائرڈ انسپکٹر مدارس پنجاب ہیں، گویا پڑھے لکھے ہیں۔ 1۔ کتب روایات کے لئے بنیادی فلسفہ جو میںاستعمال کرتا ہوںوہ یہ ہے کہ ان کتب کے حق و باطل میں تمیز کرنے والی کتاب قرآن ہے۔ اگر قرآن کے احکام کے مطابق ہے تو یہ درست روایت ہے۔ 2۔ اس کے برعکس ایک نظریہ یہ ہے کہ ان تمام کتب روایات پر کامل ایمان رکھئے کہ یہ روایات بالکل درست ہیں اور ان روایت کی روشنی میں قرآن کی آیات کو سمجھئے، بنیادی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان روایات کی روشنی میں قرآن کی آیات کو دیکھیں گے کہ اگر قرآن کی آیات ان روایات پر فٹ بیٹھتی ہیں تو درست ہیں یا قرآن کی آیات منسوخشدہ ہیں۔ میں اس نظریہ پر یقین نہیں رکھتا کہ کوئی بھی روایت قرآن کی کسی بھی آیت کو منسوخ یا اس کے حکم کو تبدیل کرسکتی ہے۔ ایسی روایات جو قرآن کے حکم کی ترمیم کرتی ہوں، وہ روایات یقیناً ترمیم شدہ ہیں یا گھڑی ہوئی ہیں اور اس ترمیم کے بعد ہی ان کتب روایات میں دشمنان اسلام کی طرف سے اصل محدث کے بعد رسول اکرم سے منسوب کی گئی ہیں۔ امید ہے کہ آپ ان روایات کو پڑھتے وقت ، قرآن کے آیات کی روشنی میں انہیں دیکھیںگے اور انہی آیات کے مطابق ان روایات کو قبول کریں گے ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد احکام و مسائل قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا قربانی کرنا سنت ہے یا واجب ؟ اس کے متعلق دلائل کے ساتھ ہمیں آگاہ کریں ۔ قربانی کے متعلق اکثر اہل علم کا موقف ہے کہ سنت موکدہ ہے ، واجب یا فرض نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی میں اس پر دوام فرمایا ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں ۔ ( صحیح بخاری‘ الاضاحی : 5553 ) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری بطور قربانی ذبح کرتا تھا ۔ “ ( جامع ترمذی‘ الاضاحی : 1505) ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو! بے شک ہر اہل خانہ پر ہر سال قربانی کرنا مشروع ہے ۔ “ ( ابن ماجہ‘ الاضاحی : 3125 ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی ہے کہ قربانی سنت اور مسلمانوں کے ہاں معروف امر ہے‘ امام بخاری نے ان کا موقف اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ ( صحیح بخاری‘ الاضاحی ۔ قبل از حدیث : 5545 ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ قربانی واجب نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے ۔ اہل علم کے نزدیک اس پر عمل کرنا مستحب ہے امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک بھی اسی کے قائل ہیں ۔ ( ترمذی‘ الاضاحی ) امام ابن قدامہ نے بھی اہل علم کا یہی موقف نقل کیا ہے ۔ ( مغنی ص 260 ، ج 13 ) البتہ قربانی کرنے کی سخت تاکید ضرور ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” کہ جس شخص کے پاس وسعت و طاقت ہو پھر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے ۔ “ ( ابن ماجہ ، الاضاحی : 3123) البتہ مندرجہ ذیل صورتوں میں قربانی واجب ہو جاتی ہے : 1 حج تمتع یا حج قران کرنے والے پر قربانی کرنا واجب ہے‘ یہ قربانی حدود حرم میں ہونی چاہیے ، کسی دوسری جگہ پر قربانی کرنا صحیح نہیں ہے ۔ 2 اگر کسی شخص نے حالت احرام میں کوئی جانور شکار کر لیا تو اس پر فدیہ کے طور پر قربانی کرنا ضروری ہو جاتی ہے ۔ ( سورہ المائدہ : 95 ) میں اس کی صراحت ہے ۔ 3 اگر کسی شخص نے نذر کے ذریعے اپنے آپ پر قربانی عائد کر لی ہو تو اسے ادا کرنا بھی ضروری ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ جس شخص نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی تو وہ اس نذر کو پورا کرے ۔ “ ( صحیح بخاری‘ الایمان والنذور : 6696 ) 4 کسی جانور کیلئے نیت کر لی جائے کہ یہ اللہ کیلئے ہے یا قربانی کیلئے ہے تو پھر اسے اللہ کیلئے ذبح کرنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ یہ جانور وقف ہو جاتا ہے جسے نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو ھبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں وراثت جاری ہوتی ہے بلکہ اسے اللہ کیلئے ذبح ہی کرنا ہو گا ۔ ( صحیح مسلم ، الوصیۃ : 4664) مجھے یہ معلومات حاصل ہوئی ھے آپ کی نذر کر رہا ہوں دیکھ لیں۔اگر کسی کے پاس اس سے بہتر معلومات ہو تو وہ بھی فراہم کر سکتا ھے . عادل سہیل بھائی صاحب کے دو مراسلے بھی شامل کر لیں۔ شائد وہ کسی مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہیں۔ اوپر فاروق صاحب نے بھی قرآن مجید سے کافی معلومات فراہم کی ہیں۔ http://pak.net/قربانی/قُربانی-کے-اہم-مسائل-8209/ http://pak.net/قربانی/قربانی-کرنے-او...سائل-8284/
__________________
Last edited by کنعان; 19-11-09 at 05:22 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| 9/11, color, فرض, واقعات, قرآن, قرآنی, نظر, مکہ, آج, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, حدیث نبوی, دل, درخواست, زندگی, سیرت نبوی, سردار, علم, علماء, عادل, عبداللہ, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 14-08-09 12:01 AM |