| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک دفعہ کا ذکر ھے اکثر کہانیاں ایک دفعہ کے ذکر سے ھی شروع ھوتی ھیں چاھے کوئ بھئ زمانہ ھو شہنشاہت یا بادشاہت آمریت ھو یا یت جمہوریت لوگوں کو پکڑے جانے کا ڈر ھوتا ھے اس لیے کبھی واضع زمانہ نہیں لکھا جاتا یہ قاری پہ منحصر ھوتا ھے وہ اپنے خیال کے گھوڑے کہاں تک بھگاتا ھے اس کا تخیل اسے کس زمانے میں لے جاتا ھے
خیر ھم اپنی کہانی ایک بار پھر سے شروع کرتے ھیں ایک دفعہ کا ذکر ھے ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا روکھی سوکھی کھا کر گزر بسر ھوتی تھی لوگوں کے بال کاٹ کر حجامت بنا کر زندگی خاموشی سے گزر رھی تھی اس کا ایک بیٹا تھا اچھا ذہین بچہ تھا پڑھائ میں کافی تیز تھا ساتھ ساتھ کافی خوشامدی مطلب پرست چاپلوس اور شاطر تھا وہ زندگی میں ایک ایک قدم آگے بڑھتا گیا ایک ایک سیڑھی چڑھتا جب موقعہ ملتا سیڑھیاں پھلانگتا ھوا زندگی کے سفر میں کافی آگے نکل گیا جب انسان اونچائ پہ چلا جاتا ھے تو اسے نیچے دیکھنے پہ لوگ کیڑے مکوڑے نظر آتے ھیں اونچائ پہ جا کر اسے بھی ایسا ھی لگنے لگا تھا وہ انسان ھے اور باقی کیڑے مکوڑے ھیں اس میں ایک کمزوری تھی یا اسے احساسِ کمتری تھا وہ اپنے ماضی سے بھاگتا تھا جب کوئ اس کے سامنے اپنے سر پر ھاتھ پھیرتا تو اسے لگتا جیسے وہ اسے نائ کہہ رھا ھو بالوں کے متعلق بات کرتا تو لگتا وہ اسے اس کا ماضی یاد کروا رھا ھے - خون کی سزا عمر قید تھی اس نے قانون بنایا جو کسی کا مذاق اڑائے گا کسی پہ ھنسے گا اسے بھی اتنی سزا ملے گی جتنی ایک خونی کو ملتی ھے قتل کرنے سے انسانیت کا خون ھوتا ھے اور مذاق کرنے سے کسی کے اندر ملک میں انصاف کا یہ عالم تھا سرِ عام قتل ھوتے تھے چوری ڈکیتی کوئ خبر نہیں تھی قبضہ گروپ ھر نا جائز کام کرنے میں مصروف تھا عوام بھوکوں مر رھی تھی ھر طرف بے سکونی کا عالم تھا عوام کو کوئ انصاف دلوانے والا نہیں تھا قانون کی حفاظت کرنے والا کوئ نہیں تھا قانون بنتے تھے مگر صرف طاقتور کی حفاظت کے لیے جب قانون طاقتور کے ھاتھ میں چلا جائے تو وہ حقیقتاً اندھا ھو جاتا ھے اسے چھوٹے لوگ نظر نہیں آتے وہ پیسے والوں کے ھاتھوں میں بکنے لگتا ھے عوام انصاف کی امید کرنا چھوڑ دیتے ھیں وہ اپنے لیے خود انصاف ڈھونڈنے لگتے ھیں اور ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ھو جاتے ھیں اس ملک کے حالات بھی ایسے ھی ھو رھے تھے مگر ایسے ایسے قانون بنائے جا رھے تھے جن سے لوگوں کے دل میں اپنے حکمرانوں کے خلاف جذبات بھڑک رھے تھے مگر اونچائ پہ جا کر آکسیجن کی کمی کے باعث انسان اپنے حواس کھونے لگتا ھے اسے کچھ سنائ یا دیکھائ نہیں دیتا اول فول بولنے لگتا ھے اس کے کہے کو کوئ اہمیت نہیں دیتا مگر انسان نشے میں دھت ھو تو اسے اس بات کا احساس نہیں ھوتا اور اس کا انجام آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ھیں کیا ھوتا ھے اس کہانی میں کتنا فسانہ ھے کتنی حقیقت ھے یہ آج کی ھے یا بیتے ھوئے کل کی مگر یہ بات سچ ھے کچھ لوگوں کے چہرے اتنے بھیانک ھوتے ھیں جب انھیں آئینہ دیکھایا جائے تو ان سے اپنا عکس برداشت نہیں ھوتا وہ آئینہ توڑنے کی کوشش کرتے ھیں آئینہ دیکھانے والے کو سزا دیتے ھیں مگر اپنا عکس خوبصورت بنانے کی کوشش نہیں کرتے |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-07-09), پاکستانی (27-08-09), منتظمین (26-07-09), محمدعدنان (25-07-09), مسافر (28-07-09), yashaka (23-07-09), ابو عمار (23-07-09), تفسیر حیدر (25-07-09), حسینیت زندہ باد (28-07-09) |
| کمائي نے Haya 786 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-07-09 | مسافر | Good | 10 |
| 28-07-09 | حسینیت زندہ باد | جب انسان اونچائ پہ چلا جاتا ھے تو اسے نیچے دیکھنے پہ لوگ کیڑے مکوڑے نظر آتے ھیں | 100 |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں میں تو رہا کم از کم زندگی کے چودہ سال ضا ئع کرنے سے۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام حسینیت جی
بہت دن کے بعد آپ کا نام نظر آیا شکریہ ------------- |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,796
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے حیا بی بی کیا آپکا قیام پاکستان میں ہے ؟
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,796
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی تو ہر وہ شخص ہے جس کے دل میں وطن کی محبت کا ایک ذرہ بھی موجود ہے
چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی رہتا ہو میرا سوال تو اس لئے تھا کے نئے قانون سے آپ کو کتنا فرق پڑتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمال, پاکستان, پاکستانی, قید, قدم, نظر, محبت, آئینہ, آج, آدمی, انسان, بادشاہت, تحریر, خون, خلاف, خبر, دل, زندگی, زمانہ, سفر, سال, شخص, طاقتور, عالم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|