| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انسان کی حدود مقرر ہیں اور اسے ہر قدم انہیں دیکھ کر ہی اٹھانا پڑتا ہے لیکن یہ قانون قدرت ہے کہ جہاں حد پار ہوئی برا نقصان ہوتا ہے۔کتنا اچھا ہو کہ ہم ہر قدم اپنی حدود میں رہتے ہوئے کسی کے کام آنے کی سوچ بھی رکھیں۔ شاید یہی اچھا عمل کبھی پلٹ کر ہماری طرف لوٹ آئے۔ ایک واقعہ یا حکایت یا پھر جو بھی کہیں مجھے کسی نے بھیجا تھا سوچا سب سے شئیر کردوں کیونکہ مجھے اس نے ہلا کر رکھ دیا۔
ایک بچہ کسی آئس کریم پارلر پر گیا اور ویٹر سے بڑی آئس کریم کون کی قیمت پوچھی۔ ویٹر نے کہا، 15 روپے۔ بچے نے اپنی جیب سے اپنے پیسے نکالے اور گننے لگا۔ پھرچھوٹے کپ کی قیمت پوچھی،تو ویٹر نے 12 روپے بتائی۔ بچے نے چھوٹا کپ مانگا۔ کچھ دیر بعد وہ آئس کریم کھا کر چلا گیا۔ جب ویٹر کپ اٹھانے آیا تو دیکھا کہ بچہ وہاں ٹپ کے طور پر 3 روپے چھوڑ گیا تھا۔ اسکا مطلب اگر ہم سمجھ لیں تو سیدھے الفاظ مین یہ نکلتا ہے کہ کسی کیلئے جو بھی کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں چاہے وہ کوشش کتنی قلیل کیوں نہ ہو۔ہم بھی اگر اپنے ارد گرد دیکھیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں کیا پتہ اگر ہم ایک بوٹی کم کھا لیں اور کسی غریب کو کھانا کھلا دیں تو وہ اسکے لئے کتنا اہم ہو۔ کیا خبر کہ وہ تین روپے جو اس بچے کیلئے صرف چند چمچ آئس کریم کے برابر تھے اس ویٹر کیلئے کتنے بڑے ہوں۔ نیکی کے کام میں چھوٹا صحیح اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ شاید اسی طرح بہت کچھ بدل سکے۔ کیونکہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
Duplicate. . . . . . . . . . . . . . . . . . ..
Last edited by shafresha; 24-07-09 at 01:28 PM. |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے ام طلحہ جی
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
آج آفس جانے میں کچھ دیر ہوگئی تو سوچا کیوں نا آج ناشتہ کرلیا جائے (کیا آپ یقین کریں گے کے میںپورے دن میں عموماً صرف ایک مرتبہ ہی کھانا کھاتا ہوں)۔ قریبی ایک پٹھان کے ہوٹل میںجا کر بیٹھ گیا اور ایک پراٹھہ اور چنے کی پلیٹ کا آڈر دیا۔ زرا سی دیر میں ایک بزرگ بھی میری میز پر آ کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر سوچنے کے بعد اُنہوں نے ایک چائے کا آڈر دیا۔ میں بظاہر پراٹھی کھانے میںمصروف تھا مگر میری پوری توجہ اُن بُزرگ پر ہی مرتکز تھی۔ اُنہوں نے اپنی جیب سے کچھ سکے نکالے اور اُنہیں گننا شروع کیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے ایک پراٹھے کا بھی آڈر دے دیا۔ میںنے پراٹھہ کھانے کے بعد چائے پی اور پھر بِل ادا کرنے کے لیئے کاؤنٹر پر گیا اور اور اپنے بِل کے ساتھ اُن صاحب کا بھی بِل ادا کردیا۔
واپسی پر میںیہ سوچ کر بہت خوش تھا کے جب وہ صاحب بِل ادا کرنے جائیں گے اور اُنہوں یہ معلوم ہوگا کے اُن کا بِل ادا کردیا گیا ہے اور وہ اپنی "تھوڑی" سی رقم کسی اور مصرف میںاستعمال کرسکتے ہیں تو اُنہیں کتنی خوشی ہوگی؟ مجھے تو بہرحال بہت خوشی ہوئی! |
|
|
|