واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


امریکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-09, 11:18 AM   #1
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default امریکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا ایسا یار ہے جو جھوٹ بھی بولے تو پیارا لگتا ہے۔ معلوم نہیں اس میں یہ زنانہ صفت کیسے آئی؟ مَلک کہتا ہے، زنانوں کی وجہ سے۔ امریکا میں میڈیا بڑا پاور فل ہے اور سب سے پہلے وہاں کے اخبارات نے معیار بنایا ہے، ظاہر ہے جھوٹ جتنا اچھا ہوگا اخبار اتنا ہی معیاری ہوگا۔ میڈیا کی عمارت جھوٹ پر اور جھوٹ کی عمارت میڈیا پر قائم ہے۔ یقین نہ آئے تو دونوں کی بنیادیں کھود کر دیکھ لیں۔امریکا جھوٹ بولے تو کھانا ہضم نہیں ہوتا اور سچ بولے تو بندہ ہضم نہیں ہوتا۔ امریکا میں بچے جھوٹ نہیں بولتے، جو جھوٹ بولتے ہیں وہ بچے نہیں ہوتے۔ مرد اس لیے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ کیا ہوتا ہے انہیں معلوم نہیں۔امریکی عورتیں اس لیے جھوٹی ہوتی ہیں کہ وہ ”جھوٹی“ ہوتی ہیں۔ امریکا میں جو سچ بولتا دکھائی دے وہ امریکی نہیں ہوگا، ممکن ہے کچھ دیر بعد وہ بندہ ہی نہ ہو۔ سچ بولنا، سچ لکھنا اور سچ سننا امریکا میں منع ہے۔ امریکا واحد ملک ہوگا جہاں سچ بولنے والے لوگوں کے چہروں پر گھبراہٹ ہوتی ہے۔ کولمبس نے امریکا دریافت کیا اور امریکیوں نے جھوٹ۔ بڑے بڑے دانشور اس فکر میں گھلتے رہتے ہیں، شیطان سب سے بڑا جھوٹا ہے یا امریکا۔ مَلک کا کہنا ہے، امریکا وہ یونیورسٹی ہے جہاں کا ڈین شیطان، پروفیسر شیطان، لیکچرار شیطان، چوکیدار اور طالب علم بھی شیطان ہوتے ہیں۔ ہمیں مَلک سے اختلاف ہے، کیونکہ یونیورسٹی میں تو خواتین بھی پڑھتی ہیں اور شیطان مذکر ہے۔ مَلک بھی ہماری بات نہیں مانتا۔ بقول اس کے،امریکا میں عورتیں نہیں شیطان کی خالائیں ہوتی ہیں۔

انسان کو ایک جھوٹ چھپانے کے لیے ہزار جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ، مگر امریکا کو ایک سچ چھپانے کے لیے ہزار جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ امریکا اتنا اُسامہ سے نہیں ڈرتا جتنا سچ بولنے سے ڈرتا ہے۔دنیا میں ہر جگہ سچ کی جیت ہوتی ہے، مگر امریکا میں جھوٹ سے جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دس امریکی کھڑے باتیں کررہے ہوں تو یقین کرلیں وہ باتیں نہیں کررہے جھوٹ بول رہے ہیں اور جو جھوٹ نہیں بول رہے وہ امریکی نہیں گونگے ہوں گے۔ جیسے عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے، اسی طرح امریکیوں کے لیے جھوٹ ہی کافی ہوتی ہے۔اہم سوال یہ نہیں کہ امریکا میں سب سے پہلے جھوٹ کس نے بولا بلکہ یہ ہے، وہاں سب سے پہلے سچ کس نے بولا؟

مَلک کہتا ہے، جھوٹ بولنے والے عقلمند اور سچے لوگ بے وقوف ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہی کہتا ہے، امریکی کتابیں پڑھ پڑھ کر اس کا دماغ بھی الٹا ہوگیا ہے ورنہ جھوٹ اور عقل کا تعلق دماغ سے نہیں بددماغی سے ہے۔ جس دن امریکی جھوٹ نہ بولنے کا عہد کرلیں اُس د ن خاموش رہتے ہیں۔ امریکیوں کو کسی کی موت کا دکھ ہو تو سوگ کے طور پر دو تین منٹ کی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک خاموشی ہی دوسروں کے لیے خلوص شمار ہوتی ہے حالانکہ تعزیت کا موقع ہی جھوٹ بولنے کا مناسب وقت ہوتا ہے۔ کیا پتہ وہ جانتے ہوں کہ مرنے والے امریکی میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ ہم لوگوں میں کہا جاتا ہے، خدا جھوٹ نہ بلوائے۔ امریکی کہتے ہیں، گاڈ! کبھی ہمارے لبوں پر سچ نہ آنے دینا۔

جس طرح ہمارے ہاں لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں کی لوک رومانوی داستانیں مشہور ہیں اسی طرح انگریزوں میں رومن جولیٹ رومانوی جوڑا ہے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے، ان کی داستان اس لیے مشہور ہوئی کہ انگریز عاشق سچ بولنا شروع ہوگیا تھااور چند شر پسند عناصر نے انہیں ملنے نہیں دیابلکہ غالب خیال تو یہ ہے، خود محترمہ محبوبہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ کسی سچے عاشق سے شادی کریں۔ یہی وجہ ہے، امریکا میں کوئی سچ بولتا دکھائی دے تو سمجھ لیں وہ عاشق ہے یا پھر پاگل۔

امریکیوں کا مقولہ ہے، اتنا جھوٹ بولو کہ سچ دکھائی دے، پھر وہ اسے ثابت کرنے کے لیے جی جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ نقل میں ایسا رنگ بھرتے ہیں کہ اصل شرما جاتا ہے۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے، سب سے پہلے انہوں نے چاند پر قدم رکھا ہے اور باقاعدہ اس کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ تقریباً چار پانچ سال قبل کچھ لوگوں نے اس جھوٹ کا پول کھولنے کے لیے تحقیق کی اور وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئے تھے کہ امریکی چاند پر نہیں گئے، انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ آج پھر روزنامہ اسلام 17جولائی 2009ءکی خبر کے مطابق نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ آج سے چالیس سال قبل امریکا نے چاند پر قدم نہیں رکھا تھا بلکہ وہ ویڈیو اور تصاویر جعلی ہیں۔ امریکی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق نئی تحقیقات کاروں نے ثابت کیا ہے کہ امریکا نے 20جولائی 1969ءکو چاند پر پہلا قدم رکھا اور نہ ہی اپالو فرسٹ چاند تک پہنچ پایا۔ تحقیقات کاروں نے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے دس وجوہات بتائی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اپالو فرسٹ کے خلا باز نیل آرم سٹرانگ کے چاند پر پہنچنے کی ویڈیو دکھائی ہے۔ اس میں خلا باز نے جب چاند کی سطح پر موجود ریت پر امریکی پرچم کو گاڑا تو وہ زور زور سے لہرا رہا تھا جبکہ چاند پر ہوا کا کوئی وجود نہیں۔ تصویر میں چاند کے اوپر تارے نظر نہیں آرہے جبکہ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ تصویر میں آتش فشاں پہاڑکا دہانہ تک دکھائی نہیں دے رہا۔ چاند پر اترنے والے راکٹ کا وزن سترہ ٹن تھا جو چاند کی سطح کے ریت والے ٹیلے پر اُترا اور دھنسا تک نہیں جبکہ خلا بازوں کے ریت پر چلنے کے نشانات موجود تھے۔ خلا باز کے چلنے سے مٹی اوپراٹھ رہی تھی لیکن وہاں پر کوئی نمی تھی نہ ہی مضبوط کشش ثقل تھا۔ جب راکٹ چاند کی زمین سے اٹھتا دکھائی دیتا ہے تو اس سے دھویں کے شعلے نکلتے دکھائی نہیں دیئے۔ تصویر کے عقب میں دکھائی دینے والے ٹیلے انٹارکٹیکا سے حاصل کردہ معلوم ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

بلی کے خواب میں چھیچھڑے کے مصداق امریکہ نے خود بھی چاند کی سیر کی اور دنیا کو بھی اس جھوٹ سے بے وقوف بنائے رکھا۔ تحقیقات کے مطابق نیل آرام اسٹرانگ خلا باز نہیں ڈرامہ باز تھا۔ اُس نے بڑی زبردست اداکاری کی کیونکہ وہاں گلی گلی تھیٹر کھلے ہوئے ہیں۔ نئی ، منفرد اور مختصر کہانی لکھی گئی اور اس میں رنگ بھرا گیا جس کے سحر میں آج تک دنیا گرفتار ہے۔ پہلے بھی یہ بات کہی گئی تھی لیکن اسے جھوٹ قرار دیا گیا، اب دوبارہ نئی تحقیقات کی گئی ہیں اور رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے مگر مَلک کہتا ہے رپورٹ ہی جھوٹی ہے۔ ہوسکتا ہے تحقیقاتی رپورٹ جھوٹی ہو کیونکہ مَلک صاحب نے بتایا ہے، اس نے کل خواب دیکھا اور چاند کی سیر کی۔ سب سے عجیب بات جو اس نے بتائی وہ یہ ہے کہ چاند پر کسی نے لکھ دیا تھا”گو امریکا گو۔امریکا مردہ باد۔ چاند پر امریکی حکومت نا منظور۔ چاند پر امن کی ضرورت نہیں اور چاند سے امریکا کی بے دخلی کے لیے قاضی حسین احمد کا دھرنااور خصوصی خطاب اگلے ہفتے ہوگا....چلو، چلو چاند پر چلو!! “

مَلک تو رہے ایک طرف ایک اور صاحب نے اس طرح تبصرہ فرمایا۔ پاکستان میں ہر سال چھوٹی عید کے دو چاند نظر آتے ہیں، شاید اُس میں ایک امریکا والا چاند ہوگا جو سرحد میں پہلے چڑھ جاتا ہے۔ اس میں کتنی حقیقت ہے، ہمیں معلوم نہیں البتہ ہم تو اتنا جانتے ہیں، اگر امریکا کا سچ مچ چاند پر آنا جانا لگا رہتا ہے تو پھر اسے دنیا کا پیچھا چھوڑ کر مستقل چاند پر حکمرانی کرنی چاہےے تا کہ باقی دنیا سکون سے رہ سکے!!
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 25-10-09, 02:55 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,262
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ کا کیا قصور ہے۔ قصور تو اس یہودی لابی کا ہے جسکے وہ بھی غلام ہیں
arifkarim آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پسند, قدم, نظر, موقع, موت, ممکن, معلوم, آج, امریکہ, اسلام, تصویر, تصاویر, جھوٹ, جیت, خواتین, خبر, خدا, خصوصی, دریافت, سیر, سال, عہد, عید, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger