| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انداز بیاں اپنا
ایک باد شاہ نے عجیب و غریب خواب دیکھا ۔ جس سے وہ خا صا پریشان ہوا۔ اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ ملک بھر سے خوابوں کی تعبیر بتانے والوں کو بلوایا جائے۔حکم کی تعمیل میں ملک کے مشہور و معروف تعبیر بتانے والے حاضر ہو گئے۔ بادشا ہ نے اپنا خواب بیان کیا۔ " میں اپنے تخت پر براجمان ہوں۔اچانک میں دیکھتا ہوں کہ بکے بعد دیگرے میرے سارے دانت گر رہے ہیں۔یہاں تک کہ میرے منہ میں ایک دانت بھی نہیں بچتا۔" آپ لوگ سوچ سمجھ کے اسکی تعبیر بتائیں- سب لوگ اپنی اپنی سمجھ کے مطا بق اس خواب کی تعبیر بتا تے ہیں مگر با دشاہ مطمئن نہیں ہوتا۔ اچانک بادشاہ کی نظر دو عمر رسیدا افراد پر پڑتی ہے۔ جو دربار کے ایک کونے میں بیٹھے ہوتے ہیں بادشاہ ان سے کہتا ہے۔ تم مجھے میر ے خواب کی تعبیر بتاو۔ ایک بزرگ کھڑا ہوتا ہے اور کہتاہے۔ میں اسلئے خا موش تھا کہ اس خواب کی تعبیر اچھی نہیں۔ لیکن آپ کا حکم ہے تو بتا تا ہوں۔ بادشا ہ سلامت۔ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے خا ندان کے تما م لوگ آپکے بیوی ، بچے ، رشتہ دار آپ کی آنکھوں کے سا منے مریںگے۔ اور آپ سب سے آخر میں مریں گے۔ بادشا ہ یہ تعبیر سنتے ہی بہت غصے میں آجا تا ہے۔ اور حکم دیتا ہے۔ ا منحو س کو فورا جیل میں ڈال دو۔ اب بادشاہ دوسرے بزرگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اور حکم دیتا ہے کہ اب تم تعبیر بتاو۔ بزرگ اٹھتا ہے اور کہتا ہے۔ بادشاہ سلامت ۔ اس خواب کی تعبیر بہت اچھی ہے۔ اس خواب کا مطلب ہے۔ آپ کی عمر بہت دراز ہوگی اور آپ اپنے خاندان کے تما م افراد سے زیادہ عمر پا ئیںگے۔ بادشاہ خوش ہوتا ہے اور بزرگ کو انعا م و اکرام سے توازتا ہے۔ دوستو ۔ غور کریں تو دونو ں بزرگوں نے با ت ایک ہی کہی ہے۔ تا ہم کہنے کا انداز جدا جدا ہے۔ ایک نے سزا پائی اور دوسرے نے انعام پایا۔ انداز بیاں با ت بدل دیتا ہے ور نہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت اچھی تحریر ہے۔ جاری رکھیے۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ
سرمد صاحب |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,164
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں ۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیسے
مجھے نہیں علم کیسے اپلا ئی کر نا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک کا لم آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔
امید ہے پسند آئے گا [IMG]www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100664358&Issue=NP_LHE&Da te=20090707[/IMG] |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیرت ہے اس نے اپنی پرستش ہی کیوں نہ کی
جب آدمی کو پہلے پہل آئینہ ملا |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
انتہائی معزرت کے ساتھہ آپ جیسے عالم انسان کو ٹوکنے کی معافی چاہتے ہوے گزارش ہے کہ اگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں شعر درست کر لیں ، کسی شعر کی ٹانگیں ٹوٹتی ہم سے دیکھی نہیں جاتیں ۔ یہ شعر سیف الدین سیف کا ہے اور کچھہ یوں ہے سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میںکوئی بات نئی بات نہیں |
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (09-07-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم جناب شاہ جی90 صاحب مدذلہُ العالی
اسلام علیکم خدا آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے خوش رہیں |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قا تل سپا ہی
دوپہرکا وقت ہے سورج اپنے عروج پر ہے اور آگ بر سا رہاہے۔ ایسے میں لاہور، سمن آباد کی گلیوں میں ایک ڈاکیا پسینے سے شرابور اپنی پرانی سا ئیکل پر بوکھلایا پھر رہا ہے۔ گلیوں میں بہت ہی کم لوگ آ جا رہے ہیں۔ ڈاکیا اچانک ایک پرچون کی دکان پر جا تا ہے اور ہراسا ں لہجے میں دکاندار سے مخاطب ہوتاہے "بھا ئی صاحب ، قاتل سپا ہی کا گھر کون سا ہے؟ قق۔۔قاتل۔۔۔ سس سس سپاہی ۔۔ کا گھر؟ دکاندار سراسیمہ انداز میں ڈاکیے سے پوچھتا ہے "جی ہا ں۔۔ قتل سپا ہی" ڈاکیا جواب دیتا ہے۔ " یہ ۔۔ یہاں۔۔ کو ئی قا تل نہیں رہتا ۔۔۔ میرا مطلب ہے کو ئی قا تل سپاہی نہیں رہتا۔۔ جا و کسی اور جگہ پتہ کرو" ڈاکیا پریشان حالت میں واپس پلٹئاہے۔ ماتھے سے پسینہ صاف کر تا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے " یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ آج میری نوکری کا پہلا دن ہے اور میں ابھی تک چند خطوط ہی تقسیم کر سکا ہوں۔ یہ قاتل سپاہی ۔۔۔ میں کہاں سے تلاش کروں" وہ ایک با ر پھر غور سے خط پر لکھے ایڈریس کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر انگریزی میں لکھا ہو تا ہے " قاتل سپاہی، غالب سٹریٹ، سمن آباد ، لاہور" ٹھیک ہے وہ مڈل پاس ہے مگر انگریزی تو پڑھ ہی لیتا ہے۔ گلی بھی یہی ہے مگر کو ئی شخص یہ بتا نے کو تیار نہیں کہ قا تل سپا ہی کا گھر کون سا ہے۔ وہ چلتے چلتے تھک چکا ہو تا ہے۔ ایک گھر کے دروازے کےساتھ سا ئیکل کھڑی کرتا ہے۔ تا کہ تھوڑا پسینہ خشک کر لے۔ وہ اپنا سر دیوار سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔پھر کھولتا ہے۔ نظر بالکل سامنے پڑتی ہے۔ سامنے گھر کے دروازے پر موجود چھوٹے سے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ " قا تل سپاہی" ڈاکیا خوشی سے بھا گ کر دروازے پر لگی بیل بجا تا ہے۔ ایک توجوان نکلتا ہے "جی ۔ فرما ئیے" ڈاکیا " کیا قا ئل سپاہی کا گھر یہی ہے" توجوان حیرانی سے پوچھتا ہے " کیا مطلب؟" ڈاکیا " جی وہ ان کا خط دینا تھا- یہ لیں" نوجوان ایک نظر خط پر لکھے ایڈریس پر ڈا لتا ہے ، مسکراتا ہے اور کہتا ہے " جی یہ میر ے دادا جی کا خط ہے۔ لیکن آپ انکا نا م غلط بول رہے ہیں انکا نا م ہے قتیل شفائی "Qatil Shiphai ماخوذ |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (10-07-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قا تل سپا ہی
دوپہرکا وقت ہے سورج اپنے عروج پر ہے اور آگ بر سا رہاہے۔ ایسے میں لاہور، سمن آباد کی گلیوں میں ایک ڈاکیا پسینے سے شرابور اپنی پرانی سا ئیکل پر بوکھلایا پھر رہا ہے۔ گلیوں میں بہت ہی کم لوگ آ جا رہے ہیں۔ ڈاکیا اچانک ایک پرچون کی دکان پر جا تا ہے اور ہراسا ں لہجے میں دکاندار سے مخاطب ہوتاہے "بھا ئی صاحب ، قاتل سپا ہی کا گھر کون سا ہے؟ قق۔۔قاتل۔۔۔ سس سس سپاہی ۔۔ کا گھر؟ دکاندار سراسیمہ انداز میں ڈاکیے سے پوچھتا ہے "جی ہا ں۔۔ قتل سپا ہی" ڈاکیا جواب دیتا ہے۔ " یہ ۔۔ یہاں۔۔ کو ئی قا تل نہیں رہتا ۔۔۔ میرا مطلب ہے کو ئی قا تل سپاہی نہیں رہتا۔۔ جا و کسی اور جگہ پتہ کرو" ڈاکیا پریشان حالت میں واپس پلٹئاہے۔ ماتھے سے پسینہ صاف کر تا ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے " یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ آج میری نوکری کا پہلا دن ہے اور میں ابھی تک چند خطوط ہی تقسیم کر سکا ہوں۔ یہ قاتل سپاہی ۔۔۔ میں کہاں سے تلاش کروں" وہ ایک با ر پھر غور سے خط پر لکھے ایڈریس کو پڑھتا ہے۔ واضح طور پر انگریزی میں لکھا ہو تا ہے " قاتل سپاہی، غالب سٹریٹ، سمن آباد ، لاہور" ٹھیک ہے وہ مڈل پاس ہے مگر انگریزی تو پڑھ ہی لیتا ہے۔ گلی بھی یہی ہے مگر کو ئی شخص یہ بتا نے کو تیار نہیں کہ قا تل سپا ہی کا گھر کون سا ہے۔ وہ چلتے چلتے تھک چکا ہو تا ہے۔ ایک گھر کے دروازے کےساتھ سا ئیکل کھڑی کرتا ہے۔ تا کہ تھوڑا پسینہ خشک کر لے۔ وہ اپنا سر دیوار سے لگا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔پھر کھولتا ہے۔ نظر بالکل سامنے پڑتی ہے۔ سامنے گھر کے دروازے پر موجود چھوٹے سے بورڈ پر لکھا ہوتا ہے۔ " قا تل سپاہی" ڈاکیا خوشی سے بھا گ کر دروازے پر لگی بیل بجا تا ہے۔ ایک توجوان نکلتا ہے "جی ۔ فرما ئیے" ڈاکیا " کیا قا ئل سپاہی کا گھر یہی ہے" توجوان حیرانی سے پوچھتا ہے " کیا مطلب؟" ڈاکیا " جی وہ ان کا خط دینا تھا- یہ لیں" نوجوان ایک نظر خط پر لکھے ایڈریس پر ڈا لتا ہے ، مسکراتا ہے اور کہتا ہے " جی یہ میر ے دادا جی کا خط ہے۔ لیکن آپ انکا نا م غلط بول رہے ہیں انکا نا م ہے قتیل شفائی "Qatil Shiphai ماخوذ |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (10-07-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دو خزانے
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں پہلے خزانے کو اپنے تک محدود رکھو اور دوسرے کو لوگوں پر نچھاور کر دو حضرت علی
|
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (10-07-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,045
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دو خزانے
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں پہلے خزانے کو اپنے تک محدود رکھو اور دوسرے کو لوگوں پر نچھاور کر دو حضرت علی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, express, پسند, ڈاکٹرنور, ڈاکٹرتور, وزیر, لوگ, نوکری, نظر, آئینہ, آج, آدمی, اللہ, انسان, انعام, تلاش, تحریر, جیل, جواب, حکم, خوش, شخص, شعر, عالم, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|