| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,960
کمائي: 276,526
شکریہ: 33,158
12,652 مراسلہ میں 36,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پچیس تیس برس پہلے غربت اگر زیادہ نہیں تو کم ازکم اتنی ہی تھی جتنی آج ہے۔ لیکن اس دور کے غریب عجیب تھے۔ پڑوس سے آٹا، چائے، چینی، برتن، کرسیاں یا بستر ادھار لینا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ انتہائی نادار بچوں کے رھن سہن اور تعلیم و تربیت میں چچا، ماموں یا نانا دادا یا ہمسائے اپنی تنگدستی کو بھول کرخاموشی سے ہاتھ بٹاتے تھے۔ محلے کے ہرگھر کا احوال دوسرے پر کھلا تھا۔
خوشحال دوکاندار کا بچہ اپنے پڑوسی مزدور کے بچے کے ساتھ بستہ اچھالتا ہوا ایک ہی پیلے سرکاری سکول کا رخ کرتا تھا۔ سینئر بچے کورس کی پرانی کتابیں محلے کے غریب بچوں کو خاموشی سے عطیہ کر دیتے تھے۔ کسی کسی گھر میں بچوں کا ایک آدھ رسالہ آتا تھا۔ اور محلے کے سب بچے اس پر اپنا حق سمجھتے تھے۔ ٹی وی پر بچوں کے لئے بھی روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام ضرور آتا تھا اور جس گھر میں ٹی وی ہوتا شام کو اس کے دروازے محلے کے تمام بچوں پر وا ہوجاتے تھے۔ پھر ہماری زندگیوں سے ہمدرد چچا، ماموں، دادا، نانا، مشترکہ پیلا سکول، بچوں کے رسالے، نو عمروں کے ٹی وی پروگرام، اشیائے ضرورت اور کورس کی کتابیں بانٹنے کا جذبہ اور خاموش دست گیری کی روایت غائب ہوتی چلی گئی۔ غربت عیب زدہ اشتہار ہوگئی۔ نمناک آنکھوں کی جگہ نفسا نفسی، محلے داری کی جگہ ایدھی سینٹر، خاموش دستگیری کی جگہ آدم بو آدم بو چیختے چینلز اور ہمدرد آنکھوں کی جگہ کاروں کے بند شیشے آگئے۔ اب یہ خیال ہی نہیں آتا کہ ہمسائے میں کل کس کا بچہ بیماری سے مرگیا۔ سامنے رہنے والا مزدور اپنے چار بچوں سمیت کیوں اچانک غائب ہوگیا۔ کونے پر بیٹھا خوانچہ فروش لڑکا تین دن سے کیوں دکھائی نہیں دے رہا۔ کام والی ماسی ایک ہفتے سےکہاں ہے۔ تین گھر چھوڑ کے ہر دوسرے تیسرے روز کس کے رونے کی آواز آتی ہے۔ بس یہی ہوتا ہے نا کہ اچانک اخبار میں بچہ برائے فروخت کی تصویر دیکھتے ہی، ریلوے لائن پر خودکشی کرنے والے خاندان کی داستان پڑھتے ہی یا ایدھی ہوم میں چھوڑے جانے والے بچوں کے ٹی وی فٹیج نگاہ سے گذرتے ہی منہ سے نکلتا ہے ۔۔۔ 'ہا آہ۔۔۔ ہاؤ سیڈ ۔۔۔۔۔وٹ اے پٹی۔۔۔' 'حکومت بے شرم ہوگئی ہے جی۔۔۔ دلوں سے خوفِ خدا اٹھ گیا ہے جناب۔۔۔' ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ آج (بیس نومبر) دوپہر بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم نے ایک واک آرگنائز کی ہے آپ پلیز ضرور آنا اور گڑیا کو لانا مت بھولنا ۔۔۔ اتنی فرصت کسے کہ بحث کرے بشکریہاور ثابت کرے کہ میرا وجود زندگی کے لئے ضروری ہے ( جون ایلیا) وسعت اللہ خان Last edited by فیصل ناصر; 21-11-08 at 06:17 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (21-11-08), Atia jamali (22-11-08), ام طلحہ (02-02-10), ابن جلال (21-11-08), تفسیر حیدر (27-11-08), حسن مغل (27-11-08), شاہد جمیل حفیظ (27-11-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,979
کمائي: 55,990
شکریہ: 2,986
1,422 مراسلہ میں 3,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وسعت اللہ خان کو میں اکثر سنتا ہوں۔ اُس کی تحریریں بڑی جاندار ہوتی ہیں۔ شکریہ شئیر کرنے کا۔
|
|
|
|
| Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (28-11-08) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: GvWorker.Com
عمر: 27
مراسلات: 459
کمائي: 6,400
شکریہ: 96
234 مراسلہ میں 480 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہایت عمدہ تحریر ہے۔ بلکہ پر سوز تحریر ہے۔ قسم سے اپنا بچپن یاد آگیا اس تحریر کو پڑھ کے۔ اب تو واقعی نفسانفسی کا دور ہے۔
__________________
![]() کام / نیٹ / او آر جی |
|
|
|
| حسن مغل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (28-11-08) |
![]() |
| Tags |
| color, فروخت, موقع, آج, اللہ, بھائی, بچپن, بچوں, تحریر, تعلیم, تصویر, خودکشی, خان, خدا, شام |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رخصت اے بزم جہاں | نیلم خان | شاعری اور مصوری | 7 | 22-08-11 07:38 AM |
| فقط پہلی ہی فرصت میں | خرم شہزاد خرم | خرم شہزاد خرم | 10 | 02-06-09 03:45 AM |
| کس کو فرصت ہے کہ یہ درد بھرے راگ سنے | The Great | شعر و شاعری | 0 | 09-08-08 08:32 PM |
| رخصت اے بزم جہاں | عبدالقدوس | شاعر مشرق علامہ اقبال | 0 | 19-08-07 11:03 AM |