| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ممتاز سکالر لونگ فیلو کہتا ہے''…اگر آپ کا دماغ آپ کے جسم کی تمام حرکات و سکنات پر قابو پا سکتا ہے تب آپ کو اپنے دماغ پر قابو حاصل کرنا ہو گا۔ کیونکہ آپ کا دماغ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ ہر بیماری کا مقابلہ کر سکے لہٰذا آپ کو اپنے زخموں کا علاج کرنے کیلئے آپ کو اپنے ذہن کا صحیح استعمال کرتے ہوئے مسکراہٹ سے کام لینا ہو گا۔'' سچ ہے کہ انسان کی مسکراہٹ اس کے زخموں کیلئے سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔ انسان اپنی مخصوص زندگی کو ذہنی طاقت کی مدد سے گزارتا ہے۔ ماہرین سالہا سال سے صرف اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ انسانی دماغ کا اثر اسکے جسم پر کس طرح ہوتا ہے۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کی منفی سوچ، ذہنی خلفشار صرف اس کی ذہنی بیماریوں کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ انسان کا جسم دھڑکتے دل اور حرکت پذیر اعضاء کی مدد سے نقل و حمل کرتا ہے جو دماغی ہدایت کے بغیر ناممکن ہے یوں سمجھ لیجئے کہ انسان کا جسم ایک ایسی مشین ہے جس میں کرنٹ دماغ میں آتا ہے۔
جب انسان کا ذہن بیمار ہوتا ہے اس وقت اس کی جسمانی حالت بھی خرابی کا شکار رہتی ہے۔ انسان کی صحت کا دارومدار اس کی سوچ پر پڑتا ہے۔ ایک انسان اس وقت پریشان، ناخوش، تنہا، پریشان اور تکلیف کا شکار ہوتا ہے جس وقت اس کی سوچ ایسی ڈگر پر چلنا شروع کر دیتی ہے۔ اس لئے انسان کو اپنی جسمانی بیماریوں کو ٹھیک کرنے کیلئے باہمت لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔ انسان کے جسم میں بہت سے وائرس اور بیماری کے جراثیم داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، صرف انسان کا ذہن ان مسائل سے نمٹنے کا فن جانتا ہے۔ آستھما، مگرین، ایگزیما، السر، اسپیسٹک کولون اور دل کی بیماریاں وہ واحد عارضے ہیں جن کا جنم انسان کے دماغ میں ہوتا ہے۔ نمونیے کا مرض اس وقت شروع ہوتا ہے جب سینے میں اس کا جراثیم ضربی حساب سے بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ جدید تحقیق نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ یہ تمام بیماریاں انسان کی پریشانی، غم، فکر اور ناخوشی کے باعث جنم لیتی ہیں اور انسان کے جسم میں جراثیم کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ غرضیکہ انسان کی طبیعت میں جنم لینے والی حسدورقابت، نفرت، احساس کمتری اور چڑچڑاپن جیسی عادات اس کی غلط سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بیماریوں پر قابو پانے کیلئے اس کی جڑ کو نشانہ بنانا ہو گاطبی نقطہ نظر کے مطابق کسی بھی مرض کی دوا دینے سے قبل یا مریض کے علاج کو شروع کرنے سے قبل اس کی بیماری کا پتہ لگانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ بیماری کی ظاہری علامات اس کی حقیقی وجوہات کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتیں ۔ اس سلسلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر آپ بیمار ہیں تب آپ کی بیماری کا علاج صحیح کرنیوالا یا آپ کے مرض کی تشخیص کرنے والا شخص صرف ایک ڈاکٹر ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کی تخلیق کی اس وقت ہمارے سامنے بہت سی خوشیاں اور آسائشیں رکھیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ان نعمتوں کا احساس دلانے کیلئے بیماریوں اور دیگر مسائل سے بھی متعارف کروایا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کتاب کے اس حصے میں کیا اب آپ کو ماہر طب یا ڈاکٹر بننے کی اصلاح دی جائے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس اہم موضوع میں آپ کو بیماری سے لڑنے کے جذبے اور علاج و معالجے کے دوران مثبت نیت رکھنے کی جانب راغب کیا گیا ہے ۔جب آپ اس بات کا عزم کریں گے کہ آپ ایک مثبت انداز میں اپنی سوچ کا زاویہ بلند کرتے ہوئے تمام جسمانی امراض کا خاتمہ اپنی ذہنی طاقتوں کی مدد سے کریں گے۔ جب انسان بخار، نمونیا، ٹائیفائیڈ، نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ سب سے پہلے ذہنی طور پر ان کے اثرات کو قبول کرتا ہے اگر وہ ان اثرات کو قبول کرنے کے بجائے ان سے مقابلہ کرنے اور ٹھیک ہونے کی نیت کر لے تب اس کیلئے بیماری کے خلاف قوت مدافعت کا استعمال کرنا آسان ہو جائیگا۔ بیماری سے شفایاب ہونے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنی منفی سوچ کا خاتمہ کریں۔ ایک مضبوط اعصاب کا مالک شخص ہر جان لیوا بیماری کا سامنا کر سکتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے جب انسان صحت کے بارے میں سوچتا ہے تب وہ بیماری سے سے لڑنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ہر انسان اپنی بیماری اور مصیبت سے اسی طاقت کی بدولت نجات حاصل کرتا ہے۔ جب آپ اپنی سوچ سے بیماری اور لاچاری جیسے خیالات کو ختم کر دیتے ہیں تب آپ صحت یابی کی جانب بڑھتے ہیں۔ Last edited by راجہ صاحب; 12-11-10 at 12:57 PM. وجہ: پیراگراف میں تبدیلی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ بیمار ہیں تب مخالفانہ ترکیبوں کا استعمال کیجئے
مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھے آپ کے سامنے مضبوط قوت ارادی کے ان گنت فوائد اور معنی خیز اہمیت پر روشنی ڈالنے کا موقع ملا ہے۔ جب ایک انسان بیمار ہوتا ہے اس وقت اس میں سستی، کاہلی اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے انسان کی بیماری اس کی جان کا صدقہ ہوتی ہے جو اسے صحت جیسی عظیم نعمتوں کا شکر گزار بناتا ہے۔ ہر انسان بیماری سے صحت کی جانب اس وقت جاتا ہے جب اسے اپنی طاقت کا بھرپور احساس ہوتا ہے جب وہ ایک صحت مند زندگی کے کاموں کو پورا کرنے کے منصوبے بتاتا ہے۔ تب اس کا رجحان بیمار حالت کے برعکس ایک صحت مند زندگی کی جانب بڑھ جاتا ہے۔ ہر انسان موسم، کمزوری اور ذہنی عتاب کے باعث بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے بیماری کا یہ سلسلہ انسان کے جسم میں جاری و ساری رہتا ہے مگر اس کو عروج اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان میں موجود قوت مدافعت اپنا کام ختم کر دیتی ہے تب صحت و طاقت اس کے اختیار سے نکل جاتی ہے اور وہ بیماری کے شکنجے میں جکڑ جاتا ہے۔ ایک انسان اس وقت بیمار ہوتا ہے جب وہ اپنے ذہن میں بیماری کے باعث بستر پر کمزور اور لاچار پڑے رہنے کو تسلیم کر لیتا ہے۔ آپ کی زندگی میں وہی کچھ ہوتا ہے جو آپ کی سوچ میں داخل ہوتا ہے۔ بیماری کی اس حالت سے چھٹکارا پانے کیلئے بہت سی عمدہ کتابیں لکھی گئی ہیں اور ماہرین انہیں صحت مند ہونے کے بہت سے مشورے دیتے ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا علاج کسی دوا میں نہیں بلکہ آپ کی اپنی ہمت پر ہے جب آپ اپنے ذہن کو اس بات پر راضی کر لیتے ہیں کہ آپ اپنی موجودہ صحت کے برخلاف نقل و حمل کریں گے۔کیونکہ ایک بیمار آدمی اس وقت صحت مند نظر آتا ہے جب وہ بستر سے اٹھ کر اپنے روزمرہ کی زندگی کے فرائض سرانجام دے۔ اس وقت اسے ہر ڈاکٹر اور میڈیکل بورڈ سے صحت یابی کی سند مل جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جب انسان اپنی کمزور حالت سے اٹھ کر صحت کی جانب مشغول ہوتا ہے یا زندگی میں قوت اور طاقت کے حصول کی خاطر اپنی کمرکس لیتا ہے تب وہ بیماری کے دائرہ سے باہر آ جاتا ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جو انسان اپنی موجودہ بیماری سے نجات پانے کیلئے کرتا ہے جسے مخالفانہ ترکیب بھی کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی منفی طبیعت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے مثبت لائحہ عمل اختیار کرتا ہے تاکہ وہ بیماری سے صحت، غم سے خوشی، غریبی سے امیری تک پہنچ جائے۔ اس لئے اپنے ذہن کو تیار کیجئے اور بُرے حالات سے نبردآزما ہونے کیلئے اپنے آپ کو مخالفانہ طرز پر لے جائیے تاکہ آپ ہر قسم کی پریشانی سے نجات پا سکیں۔ اگر آپ کی سوچ منفی ہے۔ تب ہر چھوٹی سے چھوٹی بیماری آپ کیلئے چار گنا بڑی ثابت ہو گی لہٰذا اپنی سوچ کو مثبت بنائیے تاکہ زندگی کا سفر خیر و عافیت سے جاری و ساری رہے۔ اگر آپ درد محسوس کر رہے ہیں تو اس درد کو زیادہ اپنے آپ سے مت دہرائیے کیونکہ اس عمل سے آپ کے درد اور تکلیف میں اضافہ ہو گا۔ اپنی بیماری جتنی بار اپنے ذہن میں دہرائیں گے آپ اپنی تکلیف میں محض اضافہ کریں گے۔ اگر آپ صحت کی خواہش رکھتے ہیں تب اپنے ذہن میں ایسی مایوس سوچ کو دہرانے کے بجائے یہ سوچیں کہ ''میں صحت مند ہوں میرا ذہن اور جسم دونوں بالکل صحیح کام کر رہے ہیں اور میں اپنی صحت کو محسوس کر سکتا ہوں''۔ آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے ذہن کو اس سوچ سے آزاد کریں کہ ''آپ بیمار ہیں یا میں بیمار ہوں اور میرے جسم میں ابھی بھی درد موجود ہے''۔ ایسی تمام باتوں کو پس پشت ڈال دیجئے کیونکہ یہ صرف ذہنی خلل کا باعث بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ صبح مثبت لائحہ عمل کے ساتھ چل رہے ہیں اور دوپہر میں آپ کی سوچ منفی بن جاتی ہے تب آپ اپنے نظرئیے کی خود ہی نفی کر رہے ہیں۔ زندگی کے اصولوں کو مثبت اور مضبوط ہونا چاہئے جس کی بنیاد کو ہلانا مشکل ہو۔ اس لئے اپنی روزمرہ کی زندگی میں مثبت سوچ کی عادت ڈالئے آپ کا ہر دن نیا دن ہونا چاہئے ہر رات ایک نئی رات ہونی چاہئے۔اپنے ذہن میں اپنے مفادات کو سوچتے رہئے کہ آپ اپنی زندگی میں کن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے تمام ارادوں سے گریز کیجئے جو آپ کی ذات کو منفی راہ پر دھکیل دیں۔ اپنے آپ کو محبت، خوشی، سکون، امن، کامیابی، راحت، خوشی، نفاست، خوبصورتی اور چین جیسی نعمتوں کے انجکشن دیں تاکہ آپ کے ذہن کو اس کی دوا ملتی رہے اور آپ صحت کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائیں۔ اگر آپ صحت مند رہنے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ آپ کی اوّلین ذمے داری بھی ہے کہ آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور اس کے حصول کی خاطر جامع اقدامات کریں اپنی زندگی کو ان اصولوں پر گزاریں جو آپ کی صحت کیلئے لازم و ملزوم ہوں۔ اپنی زندگی کو صحت کے اصولوں کے مطابق گزارئیے پھر اپنی ذات کو ذہنی بیماری سے نجات دلوائیے آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کی جسمانی بیماریاں کیسے ٹھیک ہوتی ہیں۔ Last edited by راجہ صاحب; 12-11-10 at 12:59 PM. وجہ: پیراگراف میں تبدیلی |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہسپتال میں بستر سے اٹھنے کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں
موجودہ دور میں زندگی کو گزارنا انتہائی مشکل ہے۔ آج ہسپتالوں کے بیڈ ہمیشہ مریض سے پْر رہتے ہیں۔ بعض لوگ سالہا سال بیمار رہتے ہیں اور بعض لوگ بستر پر دم توڑ دیتے ہیں۔ آج بیمار افراد کی شرح ہسپتالوں میں بڑھ رہی ہیں۔اس دنیا میں ہر انسان کو مسائل کا سامنا ہے۔ بعض لوگ اپنا دم توڑ دیتے ہیں اور بعض لوگ ان مسائل پر اپنی بصیرت سے قابو پا لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ جذباتی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ آج دور حاضر کی سب سے بڑی بیماری انسان کی پریشان ہے جس کا جنم اس کے دماغ میں ہوتا ہے اور وہ اسے بستر مرگ پر لے جاتی ہے اور انسان اپنی روزمرہ کی زندگی سے دلبرداشتہ ہو کر بستر پر بیماروں کی طرح پڑا رہتا ہے۔ زیادہ تر انسان اپنے ذہن میں ابھرنے والی منفی سوچوں کا شکار ہوتا ہے۔ جو توازن سے تجاوز کر کے اسے وقت سے قبل بیمار، پریشان اور کمزور کر دیتی ہیں۔ انسان یہ اکثر بھول جاتا ہے کہ اسے اپنے مسائل کو حل کرنا ہے اسے اپنے سر پر سوار نہیں کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ مسائل کو اپنے سر پر سوار کر کے بدترین حالات کا شکار ہو جاتا ہے اور اسے دل کے اطمینان اور ذہنی سکون کو تلاش کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ انسان کی بنیادی زندگی انہی آزمائشوں اور شرطوں کا مرکب ہے وہ کامیابی، ترقی، خوشحالی اور خوشیوں اور صحت جیسی نعمتوں کو انہی کسوٹیوں پر چل کر حاصل کرتا ہے۔ زیادہ تر بیماریاں انسان کی ذہنی خلفشار اور پریشانیوں کا سبب ہوتی ہیں جن میں السر ایک بیماری ہے جو عام لوگوں میں صرف اس وجہ سے پھیلتی ہے کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی کی پریشانیوں کو اپنے سر پر سوار کر لیتے ہیں۔ اگر انسان ہسپتال کے بستر سے اٹھ کر دنیاوی زندگی کے امور پر سوچ و بچار کرے تب اس کی زندگی آسان ہو جائے گی۔ وہ اپنی بیماری سے باہر نکل آئے گا۔ اس کا ذہن اسے جسمانی اور دماغی تنائو سے نجات دلائے گا اور وہ منفی خیالات سے آگاہ ہو جائیگا۔ ان خصوصیات کی مدد سے وہ اپنی زندگی کو خراب ہونے سے بچا لے گا۔ انسان کی زندگی کا دارومدار اس کے مزاج پر ہوتا ہے۔ اس کیلئے اس کے جذباتی امراض کو حل کرنے کیلئے اس مزاج اور رویہ کا ٹھیک ہونا انتہائی ضروری ہے جب ایک انسان صحیح و غلط میں فرق کر کے اپنے لائحہ عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ اس وقت وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ صحیح سوچ کے باعث وہ صحیح کام کرے گا اور غلط سوچ کی وجہ سے وہ غلط کام کرے گا۔ اس کی جذباتی بیماریاں اس کے جسمانی امراض کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ بہت سے نوجوان کم عمری میں ہی دل کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جاتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر انسان اپنے اصولوں کو ذہن میں بسا لے تب اس کیلئے زندگی کے تمام امراض کی دوا حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ ذہنی اور جسمانی بیماریاں انسان کی پریشانیوں کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں… دور حاضر میں ڈاکٹروں کو تمام طبی تعلیم کی ٹریننگ دی گئی ہے جس کے مطابق وہ آپ کے امراض کی تشخیص کرتے ہیں۔ جب آپ بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تب آپ کا ڈاکٹر اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ آپ کے جسمانی امراض میں سے 85 فیصد کا تعلق ذہنی امراض سے ہوتا ہے۔ اگر انسان کا جسم تھکن سے چور نہیں ہے تب اس کا جسم صحت سے بھرپور ہو گا۔ اگر آپ غور کریں تب آپ کو یہ بخوبی پتہ چل جائیگا کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد دوائیوں کے سہارے کچھ عرصے ٹھیک رہتے ہیں پھر اس کے بعد وہ پرانی حالت میںآ جاتے ہیں لیکن یہ ادویات ذہنی امراض کا مستقل علاج ثابت نہیں ہوتی ہیں کیونکہ جب تک آپ کا دماغ ذہنی الجھنوں اور بیماریوں سے آزاد نہیں ہو گا تب تک آپ کیلئے ایک صحت مند زندگی گزارنا مشکل ہو جائیگا ۔آپ کی زندگی کا انحصار آپ کی سوچ پر ہوتا ہے جو آپ کے انداز زندگی کیلئے اہم ہوتی ہے۔ اگر آپ میں مسائل کو سلجھانے کی طاقت نہیں ہے تب آپ میں اپنے جذباتی مسائل کو حل کرنے کی طاقت ختم ہو کر رہ جائیگی۔ آپ کے جسم میں آپ کا جسمانی ردعمل اپنی کارکردگی کو ختم کر دے گا۔ اگر آپ غور کریں تب آپ کو یہ معلوم ہو گا کہپریشانی مندرجہ ذیل مسائل کو جنم دیتی ہیاداسی،،گھبراہٹ،احساس غلطی، گناہ،بے چینی،خوف،جس کا ظہور مندرجہ ذیل حقائق کی شکل میں ہوتا ہے…پریشانی/ اداسی،سردرد،کمر درد ، زکام ،پیٹ درد،قبض،وزن کا بڑھنا یا گھٹنا،کمزور نظر… اپنی پریشانیوں پر فتح حاصل کرتے ہوئے اپنے ذہن کو ہر قسم کی بندش سے آزاد کیجئے Last edited by راجہ صاحب; 12-11-10 at 01:01 PM. وجہ: پیراگراف میں تبدیلی |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کی پیدائش پریشانی سے پاک ہوتی ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد پریشان رہنا نہیں ہے۔ پریشانی دنیا میں انسانوں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام ذہین افراد کی تباہی کی وجہ ان کی پریشانی ہے۔ آج دنیا میں کینسر، السر وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی پریشانی ہوتی ہے۔ انسان کی پریشان کن حیثیت اسے بیماریوں سے دوچار کر دیتی ہے۔ زیادہ تر جذبات امراض کا سبب پریشانی، گھبراہٹ، بے چینی اور الجھائو جیسی کیفیات ہیں۔ جن کی پیدائش خوف اور احساس کمتری سے ہوتی ہے۔
پریشانی ایک ایسی لعنت ہے جس کا آغاز انسان کے ذہن میں ہوتا ہے اور بالاخر اس بیماری کا انجام ایک جان لیوا مرض کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہر مرض کا آغاز انسان کی ذہنی تکالیف سے شروع ہوتا ہے۔ ایک خوفزدہ شخص اپنے ذہن کی الجھنوں میں قید ہوتا ہے۔ ایسے انسان کو ہر وقت انجانے خوف کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ اس قدر بے بس ہوتا ہے کہ اس کیلئے مایوسی کے اندھیروں سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔ وہ اپنے لاشعور کی طاقت کو کھو دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سے امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی پریشان سوچ اسے الجھائے رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ ایسی پریشان کن سوچ انسان کو بیماری کا سامنا کرنے سے باز رکھتی ہے۔ انسان کے ذہن کی ایسی مایوس کن حالت اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کو زنگ آلودہ کر دیتی ہے۔ انسان کی مایوس سوچ کے بارے میں لوتھر بربینک نے کہا تھا کہ ''بہت سے لوگوں کیلئے سب سے بڑا تشدد ان کی ذاتی سوچ ہوتی ہے'' جو لوگ سوچنے کے فن سے واقف نہیں ہوتے وہ صرف اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ان کی سوچ مسلسل منفی لائحہ عمل کو جنم دیتی ہے ایسے لوگوں کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی جذباتی بیماریوں کو نظر انداز کرنے کیلئے شراب نوشی اور نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ان کی زندگی ان غیر ضروری ہتھکنڈوں کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندگی سے بھاگنا ناممکن ہے۔ آپ کو ہر حال میں اپنی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر ہجرت کر کے اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور ان کے خوف اور پریشانیاں اپنا دم توڑ دیں گی۔ذرا سوچئے اس طرح بھاگنے سے وہ کسی مسئلے سے بچ نہیں سکتے ہیں۔ آپ کو ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا ہو گا۔ آپ کی صحت سے بھرپور زندگی کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کے معیار کو بلند کرتے ہوئے اپنی منفی سوچ کو تبدیل کریں۔ ہمیشہ یاد رکھئے کہ آپ کو اپنے مسائل کو خود سلجھانہ ہے جب آپ اپنے مسائل سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت وہ تمام الجھنیں آپ کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کی خاطر آپ کو کوئی پرسکون جگہ تلاش کرنا ہو گی تو آپ غلط سوچتے ہیں کیونکہ آپ کا حقیقی سکون آپ کی اپنی ذات میں پوشیدہ ہے جب آپ اپنی ذات میں سکون کو تلاش کریں گے۔ اس وقت آپ کو یہ معلوم ہو گا کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کی خاطر شہر چھوڑ کر دور جانا، کسی اندھیرے کونے میں چھپ جانا یا شراب یا الکوحل پینا آپ کی بہت بڑی بے وقوفی ثابت ہو گی۔ یاد رکھئے کہ الکوحل، شراب یا نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنے سے کسی مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے، بہت سے لوگ اپنے مسائل سے بھاگنے یا جان چھڑانے کی خاطر شراب الکوحل یا نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ چند گھنٹوں کیلئے اپنے مسائل کو بھول کر ایک نئی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ اس کتاب کے اس اہم باب میں ایسے لوگوں کو مسائل سے پردہ اٹھایا گیا ہے جنہیں ان حالات میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بجائے صحیح حل یا راستے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس باب میں اس اہم مقصد کو واضح کیا گیا ہے جس کے ذریعے ان لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو کس طرح اپنی سوچ کو مثبت انداز میں تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ وہ ذہنی سکون کو حاصل کر لیں۔ اس حکمت عملی کی مدد سے وہ غیر ضروری باتوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں گے۔ آپ اگر چاہیں تو پریشانی، خوف، بے چینی، گھبراہٹ اور ڈر جیسے مسائل کی قید سے رہائی حاصل کر لیں گے بس اس سلسلے میں آپ اپنی ذہانت، عقل اور سمجھ داری سے کام لیں تو یہ عمل جنم لینے لگے تب آپ سب سے پہلے اپنے ذہن کو اس بات کیلئے تیار کرنا ہے کہ آپ پریشان نہیں ہوں گے اور نہ ہی اداس ہو کر اپنی ذات کو اذیت پہنچائیں گے۔ آپ کو اس پریشانی سے نمٹنے کیلئے تمام اہم سوالوں کے جوابات کو اپنے ذہن میں رکھنا ہو گا۔ آپ کو اپنے ذہن کو پہلے سے ان تمام سوالوں کیلئے تیار کرنا ہو گا جو آپ کو منزل کے قریب لے جائیں گے کہ میں اپنے مسائل کو حل کرنے کی خاطر کن تعمیری عوامل پر عمل درآمد کر سکتا ہوں؟ اس سوال کے بہت زیادہ جوابات کے حل کرنے کیلئے مطمئن ہیں۔ کسی بھی معاملے کو حل کرنے کیلئے جلد بازی کرنے پر آپ کے سامنے بہت سے جوابات آئیں گے جن پر عمل کرنا مشکل ہو جائیگا۔ آپ کو بیک وقت ایک ہی مسئلے کے حل کو نکالنا ہو گا۔ ایک لمحے کیلئے اسے ذہن کو پرسکون کر کے اس کے حل کے بارے میں سوچئے۔ ایک بات ذہن نشین کر لیجئے کہ کرہ ارض پر ایسا کوئی انسان نہیں جسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔ اس لئے آپ بھی یہ نہ سوچئے کہ آپ کے مسائل دنیا میں سب سے انوکھے ہیں اور صرف آپ کو ہی مسائل کا سامنا ہے لہٰذا اپنے آپ کو وقت سے قبل پریشانی کے حوالے مت کیجئے کیونکہ ایسے معاملات میں جذبات سے کام لینا خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اپنے ذہن میں صرف اچھی چیزوں کے بارے میں سوچئے اور مثبت لائحہ عمل سے کام لیجئے کیونکہ آپ کی مثبت سوچ آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیشہ صحت مند سوچ اور مثبت خیالات پر یقین رکھئے کیونکہ اس کی مدد سے آپ کی کامیابی ممکن ہے۔ ایک بات ذہن میں بٹھا لیجئے کہ اس دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جیسے بیماری یا مصائب کا سامنا نہ ہو۔ ہر انسان کو اپنے حصے کی جنگ خود لڑنا ہوتی ہے۔ بیمار ہونا کوئی بات نہیں مگر اس بیماری کے خلاف لڑ کر میدان عمل میں آنا سب سے بڑی بہادری ہے۔ ٭ Last edited by راجہ صاحب; 12-11-10 at 01:03 PM. وجہ: پیراگراف میں تبدیلی |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,759
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب "
پر لمبا ہونے کی وجہ سے پڑھا نہیں |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا ہے۔ شروع کا حصہ پڑھا ہے۔ باقی بعد میں۔ کافی اچھا ہے۔
اسی لئے تو کہتے ہیں عقل نہیں تے موجاں ایں موجاں۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیئرنگ ھے۔ ذھن کو پُر سکون رکھنے کی کوشش شروع کرتے ھیں۔ انشاء اللہ۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت کنجسٹڈ ہو گیا راجہ بھائی۔ ہر تحریر کو 2 یا تین پیرا گراف کی صورت دیا کریں تب آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدخلیل (11-11-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
یہ راجہ بھائی نہیںً کوئی اور راجہ صاحب ہیں شاید
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,873
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, وائرس, نظر, موجودہ, مقابلہ, متعارف, مسائل, آدمی, انسان, جواب, خلاف, دل, رات, زندگی, سفر, شخص, عقل, علاج, غم, صلاحیت, صبر, صحیح, صحت, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رسم یا روایت کیسے جنم لیتی ہے تصویریں۔۔۔ | وسیم | عمومی بحث | 15 | 20-12-11 02:29 PM |
| رسم یا روایت کیسے جنم لیتی ہے؟؟ | راجہ اکرام | دلچسپ اور عجیب | 18 | 15-05-11 08:30 PM |
| کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کریں گے، الطاف حسین | گلاب خان | خبریں | 2 | 23-08-10 09:47 PM |
| دنیا ( کی اہمیت ) آخرت کے مقابلہ میں اتنی ہی ہے جیسے انگلی دریا میں ڈبوئی جائے۔ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 2 | 07-08-10 11:07 AM |
| رسم یا روایت کیسے جنم لیتی ہے ۔ | وسیم | عمومی بحث | 1 | 27-09-08 04:02 PM |