واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ایک سوال ------کیا قربانی ھر مسلمان پہ فرض ھے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-09, 03:29 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک سوال ------کیا قربانی ھر مسلمان پہ فرض ھے ؟

ابھی جنگ میں سردار احمد قادری کے کالم پڑھا اس میں انھوں نے کچھ سوال کیے تھے ایک سوال قربانی کے بارے میں تھا انھوں لکھا ھے رسولِ کریم کی سوانخِ حیات کامطالعہ کیا میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ رسولِ کریم نے ان ایام میں جب آپ نے حج نہیں کیا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ھو --- قرآن میں بھی جو ایات قربانی سے متعلق ھیں وہ بھی حج سے ھی وابستہ ھیں

میں نے جب سے یہ پڑھا ھے تب سے دل میں ایک الجھن ھے آپ سب کا کیا خیال ھے ----
آپ کا علم کیا کہتا ھے -- اگر کسی کے علم ھو تو ضرور بتائیں قرآنی ایات یا رسولِ کریم کی زندگی کا کوئ واقعہ جس میں قربانی کا زکر ھو

شکریہ
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-11-09), یحیٰی (10-11-09), نورالدین (30-03-10), راجہ اکرام (06-11-09), عامرشہزاد (06-11-09), عبداللہ حیدر (23-11-09)
پرانا 02-12-09, 06:14 AM   #61
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادرم کنعان، سلام،

معاف کیجئے گا، آپ کی منطق مناسب نہیں۔ یہ غیر منطقی ہے۔

میں کسی بھی چیز پر ایمان رکھ سکتا ہوں ۔ ایمان کا تعلق عقل و دانش سے نہیں‌ہے ۔ اس کا تعلق دلیل و ثبوت سے بھی نہیں ہے۔

کوئی شخص اگر آپ کو قرآن دیتا ہوں۔ آپ اس کو پڑھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یومنون بالغیب کے حساب سے۔ آپ رسول اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ سب آپ درجہ بدرجہ نہیں‌کرتے ۔ بلکہ کتاب کو پڑھ کر آپ ایمان لے آتے ہیں۔ یہ ہے ایمان کی منطق، کے بناء دیکھے کوئی ایمان لے آیا، نہ کوئی دلیل نہ کوئی ثبوت نہ اس نے دیکھا اور نہ یہ شخص‌ 1400 سال پرانا۔ بنیاد اس کی رسول اکرم پر ایمان ہے۔ چاہے یہ ایمان کوئی قرآن سے پڑھ کر لایا ہو یا اپنی والدہ کے بتانے پر یا کسی بھی شخص کے بتانے پر۔

اسی طرح مختلف لوگ اپنے اپنے مذاہب میں اپنی کتب جیسے بھگوت گیتا، رامائن ، بائیبل، توراۃ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سراسر ان کی مرضی ہے۔ مذہب کا تعلق دلیل و ثبوت سے کم اور دل کے ایمان سے زیادہ ہے۔

آپ میرے سوال کی نوعیت پر غور فرمائیے۔ میں رسول اکرم کی موافق القرآن احادیث مبارکہ سے انکار نہیں کررہا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ کیا ان کتب میں موجود ہر روایت پر من و عن ایمان رکھنا ہے؟ کیوں کہ ان روایات میں بہت سی روایات قرآن حکیم کے خلاف ہیں‌، یا غیر مطابق ہیں یا پھر غیر موافق ہیں۔ اگر ان روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے تو گویا ان کتب پر ایمان رکھنا ہے۔

کچھ نکات اور رسول اللہ صلعم کی کچھ روایات یہاں درج کررہا ہوں‌۔ آپ غور فرمائیے۔
1۔ کوئی کتب روایت کسی بھی خلیفہ راشدیں کے نام سے منسوب نہیں۔
2۔ رسول اکرم کی زندگی میں‌ حدیث کے لکھے جانے کی کوئی روایت نہیں۔ کہ اصحابہ روایات لکھتے ہو اور رسول اس کو سنتے ہوں اور اس کت تصدیق و توثیق کرتے ہوں۔
3۔ کوئی آیت نہیں جس میں قرآن کے علاوہ ان بعد کی کتب روایات پر ایمان رکھنے کا حکم رسول اکرم صلعم یا اللہ تعالی کی طرف سے پایا جائے
4۔ ان کتب روایات کے لکھنے والوں نے خود 99 فی صد روایات کو شامل نہیں کیا۔ کیا ان روایات کا مقسد صرف گائیڈینس ہے یا پھر ان روایات کو فرض کی طرح مانا جائے گا۔
5۔ کیا وجہ ہے کہ قرآن کے غیر موافق روایات پر بھی ایمان رکھا جائے؟
6۔ رسول اکرم صلعم کا یہ بیان دیکھئے

حدثنا ‏ ‏هداب بن خالد الأزدي ‏ ‏حدثنا ‏ ‏همام ‏ ‏عن ‏ ‏زيد بن أسلم ‏ ‏عن ‏ ‏عطاء بن يسار ‏ ‏عن ‏ ‏أبي سعيد الخدري ‏
‏أن رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏قال ‏ ‏لا تكتبوا عني ومن كتب عني غير القرآن فليمحه وحدثوا عني ولا حرج ومن كذب علي ‏ ‏قال ‏ ‏همام ‏ ‏أحسبه قال متعمدا ‏ ‏فليتبوأ ‏ ‏مقعده من النار

یہ دھاگہ دیکھئے ، یہاں وضح طور پر بہت ساری روایات پیش کی گئی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رسول اکرم نے موافق القرآن اور غیر موافق القرآن روایات کی بابت کیا فرمایا ہے۔

اس روایت کے کئی مفہوم نکالے جاتے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہےکہ قرآن کے علاوہ کچھ بھی رسول اکرم صلعم سے نسبت کرکے لکھنے سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔ اس کا واضح ثبوت بھی موجود ہے کہ رسول اکرم کے زمانے میں ، خلافت راشدہ کے دوران ، ایسی کسی کتاب کے لکھے جانے کے آثار کسی بھی خلیفہ راشدین کی طرف سے نہیں‌ملتے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہےکہ یہ کتب روایات جن کا اتنا شہرہ ہے ان پر ایمان رکھنا ہے کیا؟ اگر ہاں تو اس کا حکم کس نے دیا ہے؟ اللہ تعالی نے ، رسول اللہ صلعم نے ، اللہ کے فرمان قرآن حکیم سے ان کتب پر ایمان رکنے کا ثبوت ملتا ہے کیا؟

اس سوال کا ایک مخلصانہ جواب مل جائے تو بہت آسانی ہوجائے اور ہم بات کو آگے بڑھا سکیں۔ یا تو آپ بتا دیجئے کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے اور اس کی یہ وجہ ہے یا پھر یہ بتا دیجئے کہ یہ دلیل اور یہ ثبوت ہے کہ ان کتب روایات میں سو فی صد روایات حدیث رسول اکرم ہیں اور بالکل درست ہیں۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 02-12-09 at 09:14 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 04:01 AM   #62
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم فاروق بھائی صاحب

آپ نے مراسلہ نمبر 60 اور 61 پوسٹ کیا تھا ان دونوں کی عبارت ایک ہی تھی میں نے ان دونوں میں سے ایک مراسلہ کو اسی وقت کوٹ کر کے جواب لکھنا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ مجھے مزید میٹیریل کی ضرورت تھی اور میں پھر سو گیا تھا اور اب جب دیکھا تو آپ نے مراسلہ نمبر 61 میں مزید تبدیلیاں کر دی ہیں۔ جناب یہ ڈبل کراس اچھا نہیں ہوتا خود اعتمادی پیدا کریں۔ ایک عبارت کو ایک مرتبہ پوسٹ کیا کریں اور اس کے نتیجے کا انتظار کیا کریں اگر مزید ضرورت محسوس ہو تو نتیجہ نکلنے تک اسی پوسٹ میں اصافے نہ کیا کریں سامنے والا بھی جواب سرچ کر رہا ہوتا ھے۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کنعان، سلام،
معاف کیجئے گا، آپ کی منطق مناسب نہیں۔ یہ غیر منطقی ہے۔
میں کسی بھی چیز پر ایمان رکھ سکتا ہوں ۔ ایمان کا تعلق عقل و دانش سے نہیں‌ہے ۔ اس کا تعلق دلیل و ثبوت سے بھی نہیں ہے۔
دوستی ہماری اپنی جگہ مگر معاف کیجئے گا میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی بھی مسئلہ پر بات کرنے صلاحیت رکھتے ہیں‌ جو بات کا اصل نقطہ چھوڑ کر ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔ پھر آپ کو آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

مثلاً‌ اگر میں کسی مسلک میں بہت عبور حاصل رکھتا ہوں اور دوسرں کو اس پر کراس کویسچن کرتا ہوں تو مجھے سامنے والے کے جواب بخوبی سمجھ آئیں گے۔ اور اگر میں اس پر خود کوئی عبور حاصل نہیں رکھتا اور ایسے ہی کسی نقطہ پر اڑا رہتا ہوں اور دوسرں کو کہتا ہوں میری بات مانو میں صحیح کہہ رہا ہوں اور سامنے والے کے جواب پر میں یہ کہوں کہ مجھے اس ما منطق مناسب نہیں لگا یا سمجھ نہیں آیا تو پھر سامنے والے کہ آسانی سے سمجھ آ جاتی ھے کہ پھر بات کرنا فضول ھے بندہ کوئی علم نہیں رکھتا ادھر ادھر سے باتیں سن کر ہمارا وقت برباد کر رہا ھے۔

میں نے جو آپ سے گفتگو شروع کی تھی وہ آپ کے 250 سال کے طلسم کو توڑنے کے لئے شروع کی تھی۔
میں نے آپ سے ایک سوال کیا تھا کہ اس کا جواب قرآن کو نہیں کھول کر دینا اور وہ گفتگو سلسلہ وار چلی آ رہی ھے، جس میں آپ جواب دینے سے فیل ہیں۔ جب آپ سوال سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہیں تو پھر نئی نئی ایجاد کیوں کرتے ہیں، اگر فلسفہ ہی پیش کرنا ھے تو پھر جواب بھی سمجھنے کو کوشش کیجئے۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میں آپ کو قرآن دیتا ہوں۔ آپ اس کو پڑھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یومنون بالغیب کے حساب سے۔ آپ رسول اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ سب آپ درجہ بدرجہ نہیں‌کرتے ۔ بلکہ کتاب کو پڑھ کر آپ ایمان لے آتے ہیں۔ یہ ہے ایمان کی منطق، کے بناء دیکھے میں‌ ایمان لے آیا، نہ کوئی دلیل نہ کوئی ثبوت نہ میں نے دیکھا اور نہ میں‌ 14000 سال پرانا۔ اس میں‌کوئی مسئلہ نہیں۔
یہی تو بات ھے جہاں پر آپ کی عقل آپ کا ساتھ نہیں دے رہی۔ 250 سال کا فلسفہ تو آپ پیش کرتے ہیں مگر جواباً آپ کو فلسفہ سمجھ نہیں آتا، فاروق بھائی میں قرآن کو پڑھ کر کیسے ایمان لاتا ہوں اگر ایسی بات ھے تو آپ کسی کو قرآن دے کر کہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ھے اس پر ایمان لاؤ اور آپ اسے قرآن کی آئتیں پڑھ پڑھ کا سنائیں کہ فلاں جگہ اللہ نے یہ لکھا ھے اور فلاں جگہ پر اللہ نے یہ لکھا ھے۔ تو کیا یہ ممکن ہو سکتا ھے کہ وہ آپ کی بات مان لے گا، وہ آپ سے یہی کہے گا کہ یہ اللہ کی کتاب ھے مگر میں یہ کیسے مانو کہ یہ اللہ کی کتاب ھے اس کا کوئی ثبوت دو، بھئی قرآن تو کھلے گا اس وقت جب اس کو یہ یقین دلائیں گے جب آپ یہ یقین ہی نہیں دلا سکتے تو آپ اسے قائل کیسے کریں گے۔

میں آپ کو دوبارہ بچوں کی طرح سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں یہی سوال جو میری کوٹ میں ھے،
مسلمان کے گھر جب بچہ پیدا ہوتا ھے تو پہلی درس گاہ اس کی ماں ہوتی ھے ماں ہی سب سے پہلے اللہ کا نام سکھاتی ھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، پھر آہستہ آہستہ بچہ جونہی آگے بڑھتا ھے تو سبق بھی بڑھاتی جاتی ھے، ہم کون ہیں ، مسلمان / ہمارا مذھب کیا ھے، اسلام / ہمیں کس نے پیدا کیا، اللہ نے / ہمیں روزی کون دیتا ھے ، اللہ / قرآن اللہ تعالی کی کتاب ھے / یہ ہمارے پیارے، و آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی / پھر اس کے بعد ہر روز ایک حدیث سناتی ھے یہ کہہ کے کہ میں تم کو رسول‌ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سناتی ہوں۔ پھر بچے کے اندر خود ہی ایسی تڑپ پیدا ہوتی ھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے کے لئے اپنے دادا جان دادی جان چچا سے رابطہ کرتا ھے اور ان سے بھی حدیثیں سنتا ھے، پھر آہستہ آہستہ کلمیں اور پھر نماز سکھاتی ھے، ابھی بچہ قرآن مجید کے اندر کیا لکھا ہوتا ھے ان باتوں سے لاعلم ہوتا ھے اسے قرآن مجید تک پہنچنے سے پہلے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں (حدیث مبارکہ) سنا سنا کر اس کی بنیادیں مضبوط کرتی ھے ماں ہی قرآن اور اللہ کی پہچان کے سارے ثبوت حدیث مبارکہ سے فراہم کرتی ھے پھر ایک عمر میں جب وہ دیکھتی ھے کہ یہ اس قابل ہو گیا ھے تو جو نماز اس نے سکھائی ہوتی ھے اب اسے پریکٹیکل میں کرنے کا طریقہ سکھاتی ھے، پھر دنیاوی تعلیم کے ساتھ اسے مسجد میں قرآن مجید سیکھنے کا بندوبست کرتی ھے یا گھر میں،
اب وہی بچہ پریکٹیکل زندگی میں آ کر غیر موضوعی کتابوں کا مطالعہ کر کے اگر وہ بچہ حدیث مبارکہ کا دامن چھوڑ دے تو پھر ایسا عمل اس کے ایمان کی کمزوری کہلائے گا۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اسی طرح لوگ بھگوت گیتا، رامائن ،
بائیبل، توراۃ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سراسر ان کی مرضی ہے۔ مذہب کا تعلق دلیل و ثبوت سے کم اور دل کے ایمان سے زیادہ ہے۔
فاروق صاحب آپ کے لئے بہتر ھے کہ قرآن کا ترجمہ تو آپ نے پڑھا ھے مگر اس کو سمجھا نہیں اس کے لئے کسی مستفید علامہ کی خدمات حاصل کریں نہیں تو انہی بھنوروں میں الجھے رہیں گے۔

اور جب وہ(منافق) تمہارے پاس آتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ (تمہاری مجلس میں) کفر کے ساتھ ہی داخل ہوئے اور اسی (کفر) کے ساتھ ہی نکل گئے
5:61

دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم ﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو
49:14

---------------------------------
---------------------------------


اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ،
4:136




یہ چار آسمانی کتابیں ہیں جو پر ایمان لانا کو حکم دیا جا رہا ھے


-----------------------------------------------------
-----------------------------------------------------

اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں
5:66

کہہ دو اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو چیز تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے قائم نہ کرو
5:68

وہ لوگ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو ان کے (صحیح) مقامات سے بدل دیتے ہیں اور اس (رہنمائی) کا ایک (بڑا) حصہ بھول گئے ہیں
5:13

سن لو! تم وہی لوگ ہو جو ان باتوں میں بھی جھگڑتے رہے ہو جن کا تمہیں (کچھ نہ کچھ) علم تھا مگر ان باتوں میں کیوں تکرار کرتے ہو جن کا تمہیں (سرے سے) کوئی علم ہی نہیں، اور ﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
3:66

(اے مسلمانو!) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ (یہودی) تم پر یقین کر لیں گے جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے (بھی) تھے کہ اللہ کا کلام (تورات) سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد (خود) بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے

3:75



یہ تین کتابیں جب کھلتی ہیں تو پھر اس میں سے کوئی بھی چیز ہم نہیں لے سکتے کیونکہ یہ 1400 پہلے ہی بدلی ہوئی تھیں اور اب تو ان میں کچھ سالوں بعد ملکی حالات کے پیش نظر امیندمنٹ ہوتی رہتی ھے۔
اس پر کچھ آیت نقل کی ہیں ،مگر ان تین کتابوں کے بدلنے پر قرآن کی تفصیلی ایک مکمل آیت ھے جو میں نے کچھ دن پہلے پڑھی تھی مگر اب مجھے نہیں مل رہی اگر کوئی بھائی کے پاس اس آیت کا حوالہ ہو تو فراہم کر کے ثواب دارین حاصل کر سکتا ھے، میں یہاں پر لگا دوں گا


میں اپنے عادل بھائی کا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتا مگر انہیں اللہ اس کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ مجھے ایک قرآنی آیت مطلوب تھی مگر عادل بھائی صاحب نےمجھے دو قرآنی آیات مراسلہ نمبر 107 میں پیش کر دی ھیں میں انہیں اسی طرح کوٹ کے ساتھ یہاں لگا رہا ہوں۔
پچھلی تین آسمانی کتابوں سے ہم کچھ نہیں لے سکتے۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم کنعان بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے ،
آپ کی مطلوبہ آیت ان میں سے تو نہیں ؟ :::

{{{{{ أَفَتَطمَعُونَ أَن يُؤمِنُوا لَكُم وَقَد كَانَ فَرِيقٌ مِّنهُم يَسمَعُونَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُم يَعلَمُونَ

::: (اے ایمان والو) کیا تُم لوگ (اپنے طور پر) اس پر اطمینان کیے ہوئے ہو کہ (یہ اہل کتاب) ایمان لے آئیں گے اور(ایسا نہیں ہونے والا) کیونکہ ان میں سے ایسے لوگوں کا گروہ بھی تھا جنہوں نے اللہ کا کلام سُنا اور اسے عقل مندی کے ساتھ سمجھنے کے بعد اس میں تحریف کی اور وہ لوگ جانتے تھے (کہ وہ کیا کر رہے ہیں) }}}}}


سورت البقرة / آیت 75 ۔

{{{{{ وَلَو جَعَلنَاهُ مَلَكاً لَّجَعَلنَاهُ رَجُلاً وَلَلَبَسنَا عَلَيهِم مَّا يَلبِسُونَ

::: اور اگر ہم اسے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو) فرشتہ بنایا ہوتا تو بھی اسے مرد ہی بناتے (عورت نہ بناتے ، یعنی ہماری عطا کردہ نبوت مونث کے لیےنہیں ) اور ہم ضرور ان (اہل کتاب ) پر وہی لباس چڑہائیں گے جو انہوں نے خود اپنے اوپر چڑھایا ہے (یعنی اللہ کی کتابوں میں تحریف اور گمراہی اختیار کرنے والا لباس ) }}}}}


سورت الأنعام / آیت 9 ،

و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔



-----------------------------------------------------
-----------------------------------------------------

بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے
15:9



إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيْمٍ
بیشک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے
81:19

اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو، تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت یافتہ ہو چکے ہو، تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان کاموں سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہے تھے
5:105


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتب روایات جن کا اتنا شہرہ ہے ان پر ایمان رکھنا ہے کیا؟ اگر ہاں تو اس کا حکم کس نے دیا ہے؟
والسلام


اور کسی کی بات نہ مانو سوائے اس شخص کے جو تمہارے (ہی) دین کا پیرو ہو، فرما دیں کہ بیشک ہدایت تو (فقط) ہدایتِ الٰہی ہے
3:73

کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر کو چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔
4:140

اور وہ پیغمبر تمہیں یہ حکم کبھی نہیں دیتا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بنا لو، کیا وہ تمہارے مسلمان ہو جانے کے بعد (اب) تمہیں کفر کا حکم دے گا
3:80

وَدَّت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(اے مسلمانو!) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ تو (شدید) خواہش رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکیں، مگر وہ فقط اپنے آپ ہی کو گمراہی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں اور انہیں (اس بات کا) شعور نہیں
3:69

اور جو شخص ﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کو دوست بنائے گا تو (وہی ﷲ کی جماعت ہے اور) اللہ کی جماعت (کے لوگ) ہی غالب ہونے والے ہیں
5:56
__________________



Last edited by کنعان; 13-12-09 at 02:03 AM. وجہ: Amendment 2 of Holy Quran Aayaat who provided Adil brother
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (11-12-09)
پرانا 03-12-09, 04:22 AM   #63
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم فاروق بھائی صاحب
یہ دو مرتبہ دھاگہ لگا کر پھر اس میں مزید ترقی کر دی ھے آپ نے، خیر اس میں ایک بات قابل غور ھے آپ اس کا جواب دیں۔ اس دھاگہ میں جو آپ نے حدیث نبوی کوٹ کی ھے مجھے کچھ سمجھانے کے لئے تو ذرا یہ بتا دیں کہ یہ حدیث جو آپ ہیش کر رہے ہیں یہ 250 سال والی ھے یا صحیح وقت کی ھے۔

جناب من آپ قرآن اور علمی عقلی دلیل سے بات کریں اگر آپ نے حدیث سے ہی اپنا مدع سمجھانا ھے تو میری آپ سے کوئی اختلاف نہیں ھے آپ بھی حدیثیں لکھیں اور دوسرں کے بھی لکھنیں دیں کیونکہ قرآن بنا حدیث مبارکہ کے کبھی سمجھا نہیں جا سکتا۔ اور نہ سمجھایا جا سکتا ھے۔ اگر آپ نہیں مانتے تو پھر زور لگانے سے تو اللہ تعالی نے بھی منع کیا ھے۔ میں آپ کے دماغ ٹیسٹ کر رہا تھا اسی لئے آپ کا شوق پورا کرنے کے لئے آپ جیسی گفتگو کرنی پسند کی کہ علمی طور پر بھی آپ کا معیار کیسا ھے وہ بھی جان لیا جائے۔ اب آپ آزاد ہیں۔
باقی اچھے دوستوں کی طرح آنا جانا لگا رہے گا۔ یہ قربانی پر کسی نے سوال کئے تھے اور اس کو مدلل جواب بھی مل گئے تھے مگر آپ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑ دیا۔ آپ اپنے دھاگے بنائیں میں ان میں آپ کے ساتھ ہر قسم کی گفتگو کروں گا۔
کہا سنا معاف کرنا

والسلام





اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادرم کنعان، سلام،

معاف کیجئے گا، آپ کی منطق مناسب نہیں۔ یہ غیر منطقی ہے۔

میں کسی بھی چیز پر ایمان رکھ سکتا ہوں ۔ ایمان کا تعلق عقل و دانش سے نہیں‌ہے ۔ اس کا تعلق دلیل و ثبوت سے بھی نہیں ہے۔

کوئی شخص اگر آپ کو قرآن دیتا ہوں۔ آپ اس کو پڑھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یومنون بالغیب کے حساب سے۔ آپ رسول اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ سب آپ درجہ بدرجہ نہیں‌کرتے ۔ بلکہ کتاب کو پڑھ کر آپ ایمان لے آتے ہیں۔ یہ ہے ایمان کی منطق، کے بناء دیکھے کوئی ایمان لے آیا، نہ کوئی دلیل نہ کوئی ثبوت نہ اس نے دیکھا اور نہ یہ شخص‌ 1400 سال پرانا۔ بنیاد اس کی رسول اکرم پر ایمان ہے۔ چاہے یہ ایمان کوئی قرآن سے پڑھ کر لایا ہو یا اپنی والدہ کے بتانے پر یا کسی بھی شخص کے بتانے پر۔

اسی طرح مختلف لوگ اپنے اپنے مذاہب میں اپنی کتب جیسے بھگوت گیتا، رامائن ، بائیبل، توراۃ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سراسر ان کی مرضی ہے۔ مذہب کا تعلق دلیل و ثبوت سے کم اور دل کے ایمان سے زیادہ ہے۔

آپ میرے سوال کی نوعیت پر غور فرمائیے۔ میں رسول اکرم کی موافق القرآن احادیث مبارکہ سے انکار نہیں کررہا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ کیا ان کتب میں موجود ہر روایت پر من و عن ایمان رکھنا ہے؟ کیوں کہ ان روایات میں بہت سی روایات قرآن حکیم کے خلاف ہیں‌، یا غیر مطابق ہیں یا پھر غیر موافق ہیں۔ اگر ان روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے تو گویا ان کتب پر ایمان رکھنا ہے۔

کچھ نکات اور رسول اللہ صلعم کی کچھ روایات یہاں درج کررہا ہوں‌۔ آپ غور فرمائیے۔
1۔ کوئی کتب روایت کسی بھی خلیفہ راشدیں کے نام سے منسوب نہیں۔
2۔ رسول اکرم کی زندگی میں‌ حدیث کے لکھے جانے کی کوئی روایت نہیں۔ کہ اصحابہ روایات لکھتے ہو اور رسول اس کو سنتے ہوں اور اس کت تصدیق و توثیق کرتے ہوں۔
3۔ کوئی آیت نہیں جس میں قرآن کے علاوہ ان بعد کی کتب روایات پر ایمان رکھنے کا حکم رسول اکرم صلعم یا اللہ تعالی کی طرف سے پایا جائے
4۔ ان کتب روایات کے لکھنے والوں نے خود 99 فی صد روایات کو شامل نہیں کیا۔ کیا ان روایات کا مقسد صرف گائیڈینس ہے یا پھر ان روایات کو فرض کی طرح مانا جائے گا۔
5۔ کیا وجہ ہے کہ قرآن کے غیر موافق روایات پر بھی ایمان رکھا جائے؟
6۔ رسول اکرم صلعم کا یہ بیان دیکھئے

حدثنا ‏ ‏هداب بن خالد الأزدي ‏ ‏حدثنا ‏ ‏همام ‏ ‏عن ‏ ‏زيد بن أسلم ‏ ‏عن ‏ ‏عطاء بن يسار ‏ ‏عن ‏ ‏أبي سعيد الخدري ‏
‏أن رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏قال ‏ ‏لا تكتبوا عني ومن كتب عني غير القرآن فليمحه وحدثوا عني ولا حرج ومن كذب علي ‏ ‏قال ‏ ‏همام ‏ ‏أحسبه قال متعمدا ‏ ‏فليتبوأ ‏ ‏مقعده من النار

یہ دھاگہ دیکھئے ، یہاں وضح طور پر بہت ساری روایات پیش کی گئی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رسول اکرم نے موافق القرآن اور غیر موافق القرآن روایات کی بابت کیا فرمایا ہے۔

اس روایت کے کئی مفہوم نکالے جاتے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہےکہ قرآن کے علاوہ کچھ بھی رسول اکرم صلعم سے نسبت کرکے لکھنے سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔ اس کا واضح ثبوت بھی موجود ہے کہ رسول اکرم کے زمانے میں ، خلافت راشدہ کے دوران ، ایسی کسی کتاب کے لکھے جانے کے آثار کسی بھی خلیفہ راشدین کی طرف سے نہیں‌ملتے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہےکہ یہ کتب روایات جن کا اتنا شہرہ ہے ان پر ایمان رکھنا ہے کیا؟ اگر ہاں تو اس کا حکم کس نے دیا ہے؟ اللہ تعالی نے ، رسول اللہ صلعم نے ، اللہ کے فرمان قرآن حکیم سے ان کتب پر ایمان رکنے کا ثبوت ملتا ہے کیا؟

اس سوال کا ایک مخلصانہ جواب مل جائے تو بہت آسانی ہوجائے اور ہم بات کو آگے بڑھا سکیں۔ یا تو آپ بتا دیجئے کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے اور اس کی یہ وجہ ہے یا پھر یہ بتا دیجئے کہ یہ دلیل اور یہ ثبوت ہے کہ ان کتب روایات میں سو فی صد روایات حدیث رسول اکرم ہیں اور بالکل درست ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (11-12-09)
پرانا 03-12-09, 08:44 AM   #64
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام کنعان بھائی۔ آپ کا بہت شکریہ ، قرآن کے بارے میں اس تعلیم کا۔

میرا سوال قرآن کے بارے میں نہیں ہے بھائی۔ میرا سوال اب بھی تشنہ ہے۔ وہ ہے بہت ہی سادہ سا سوال، کتب روایات کے بارے میں۔

کیا کتب روایات کی تمام روایات پر یعنی ان کامل کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے؟ ہاں یا نہیں؟ یا پھر آپ کو معلوم نہیں؟

بہت شکریہ۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 08:50 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 09:12 AM   #65
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان بھائی ، سلام

شاید آپ یہ آیات ڈھونڈھ رہے تھے:

2:79 فَوَيْلٌ لِّـلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـذَا مِنْ عِندِ اللّهِ لِيَشْـتَرُواْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ
پس ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لئے اس (کتاب کی وجہ) سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی اور اس (معاوضہ کی وجہ) سے تباہی ہے جو وہ کما رہے ہیں

3:78 وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور بیشک ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبانوں کو مروڑ لیتے ہیں تاکہ تم ان کی الٹ پھیر کو بھی کتاب (کا حصّہ) سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور کہتے ہیں: یہ (سب) اﷲ کی طرف سے ہے، اور وہ (ہرگز) اﷲ کی طرف سے نہیں ہے، اور وہ اﷲ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور (یہ) انہیں خود بھی معلوم ہے

3:187 وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے صاف صاف بیان کرو گے اور (جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے) اسے نہیں چھپاؤ گے تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کر لی، سو یہ ان کی بہت ہی بُری خریداری ہے

5:13 فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُواْ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی وہ ہماری رحمت سے محروم ہوگئے)، اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا (یعنی وہ ہدایت اور اثر پذیری سے محروم ہوگئے، چنانچہ) وہ لوگ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو ان کے (صحیح) مقامات سے بدل دیتے ہیں اور اس (رہنمائی) کا ایک (بڑا) حصہ بھول گئے ہیں جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اور آپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے سوائے ان میں سے چند ایک کے (جو ایمان لا چکے ہیں) سو آپ انہیں معاف فرما دیجئے اور درگزر فرمائیے، بیشک اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

6:91 وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ قُلِ اللّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
Tahir ul Qadri اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ فرما دیجئے: (یہ سب) اﷲ (ہی کا کرم ہے) پھر آپ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 09:13 AM   #66
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان بھائی ، سلام

پہلے اس سے پچھلا مراسلہ دیکھئے۔ یہ صرف مراسلہ آپ کی مدد کے لئے ہے۔
شاید آپ یہ آیات ڈھونڈھ رہے تھے:

2:79 فَوَيْلٌ لِّـلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـذَا مِنْ عِندِ اللّهِ لِيَشْـتَرُواْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ
پس ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لئے اس (کتاب کی وجہ) سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی اور اس (معاوضہ کی وجہ) سے تباہی ہے جو وہ کما رہے ہیں

3:78 وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور بیشک ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبانوں کو مروڑ لیتے ہیں تاکہ تم ان کی الٹ پھیر کو بھی کتاب (کا حصّہ) سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور کہتے ہیں: یہ (سب) اﷲ کی طرف سے ہے، اور وہ (ہرگز) اﷲ کی طرف سے نہیں ہے، اور وہ اﷲ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور (یہ) انہیں خود بھی معلوم ہے

3:187 وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے صاف صاف بیان کرو گے اور (جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے) اسے نہیں چھپاؤ گے تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کر لی، سو یہ ان کی بہت ہی بُری خریداری ہے

5:13 فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُواْ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی وہ ہماری رحمت سے محروم ہوگئے)، اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا (یعنی وہ ہدایت اور اثر پذیری سے محروم ہوگئے، چنانچہ) وہ لوگ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو ان کے (صحیح) مقامات سے بدل دیتے ہیں اور اس (رہنمائی) کا ایک (بڑا) حصہ بھول گئے ہیں جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اور آپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے سوائے ان میں سے چند ایک کے (جو ایمان لا چکے ہیں) سو آپ انہیں معاف فرما دیجئے اور درگزر فرمائیے، بیشک اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

6:91 وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ قُلِ اللّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ فرما دیجئے: (یہ سب) اﷲ (ہی کا کرم ہے) پھر آپ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں

5:41 يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُواْ وَمَن يُرِدِ اللّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللّهِ شَيْئًا أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اے رسول! وہ لوگ آپ کور نجیدہ خاطر نہ کریں جو کفر میں تیزی (سے پیش قدمی) کرتے ہیں ان میں (ایک) وہ (منافق) ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور ان میں (دوسرے) یہودی ہیں، (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے (آپ کو)خوب سنتے ہیں (یہ حقیقت میں) دوسرے لوگوں کے لئے (جاسوسی کی خاطر) سننے والے ہیں جو (ابھی تک) آپ کے پاس نہیں آئے، (یہ وہ لوگ ہیں) جو (اﷲ کے) کلمات کوان کے مواقع (مقرر ہونے) کے بعد (بھی) بدل دیتے ہیں (اور) کہتے ہیں: اگر تمہیں یہ (حکم جو ان کی پسند کا ہو) دیا جائے تو اسے اختیار کرلو اور اگر تمہیں یہ (حکم) نہ دیا جائے تو(اس سے) احتراز کرو، اور اﷲ جس شخص کی گمراہی کا ارادہ فرمالے تو تم اس کے لئے اﷲ (کے حکم کو روکنے) کا ہرگز کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کااﷲ نے ارادہ (ہی) نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں (کفر کی) ذلّت ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے

11:110 وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب دی پھر اس میں اختلاف کیا جانے لگا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے صادر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا گیا ہوتا، اور وہ یقینًا اس (قرآن) کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں



والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 09:21 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 09:20 AM   #67
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم جناب من

آپ کا شکریہ وہ آیت ان میں سے کوئی بھی نہیں ھے اس میں اھل کتاب والوں کی کتابوں میں ردوبدل کے بارے میں بہت واضع لکھا ہوا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 09:23 AM   #68
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی یہ ڈپلیکیٹ مراسلات پوسٹ‌ہورے ہیں۔ مجھے ترامیم کرنے کا موقع بھی نہیں‌مل رہا۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 09:25 AM   #69
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی یہ ڈپلیکیٹ مراسلات پوسٹ‌ہورے ہیں۔ مجھے ترامیم کرنے کا موقع بھی نہیں‌مل رہا۔
یہ آپکی پرابلم ھے فارم کی نہیں چلیں اس کا حل بتا دیتا ہوں Submit Reply کو ایک بار کلک کیا کریں، ڈبل کلک نہیں۔ جب بھی ڈبل کلک کریں گے تو میسج دو بار ہی آئے گا نسخہ آزمودہ ھے۔

Last edited by کنعان; 03-12-09 at 09:27 AM.
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 09:31 AM   #70
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم فاروق بھائی صاحب
خیر اس میں ایک بات قابل غور ھے آپ اس کا جواب دیں۔ اس دھاگہ میں جو آپ نے حدیث نبوی کوٹ کی ھے مجھے کچھ سمجھانے کے لئے تو ذرا یہ بتا دیں کہ یہ حدیث جو آپ ہیش کر رہے ہیں یہ 250 سال والی ھے یا صحیح وقت کی ھے۔

جناب من آپ قرآن اور علمی عقلی دلیل سے بات کریں اگر آپ نے حدیث سے ہی اپنا مدع سمجھانا ھے تو میری آپ سے کوئی اختلاف نہیں ھے آپ بھی حدیثیں لکھیں اور دوسرں کے بھی لکھنیں دیں کیونکہ قرآن بنا حدیث مبارکہ کے کبھی سمجھا نہیں جا سکتا۔ اور نہ سمجھایا جا سکتا ھے۔

بھائی کنعان، سلام۔

میں ہر سنت نبوی اور احادیث کا قائیل ہوں جو کہ قرآن کے مطابق ہوں۔ اور جہاں بھی ضرورت ہوتی ہے فراہم کرتا ہوں۔

واضح کردوں کہ میں کس بات کا قائیل نہیں‌ہوں۔
وہ روایت قابل قبول نہیں ہے جو خلاف قرآن واضح طور پر ثابت ہوسکیں۔ چاہے ایسی روایت کسی بھی کتاب میں‌لکھی ہو ، کسی خاص کتاب میں لکھا ہونا کسی قسم کی دلیل نہیں ہے۔

وہ روایات جو قرآن کے مطابق ہیں وہ لازماً صاحب القرآن جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنت نبوی ہیں۔ ایسی احادیث میں جناب عالی آپ کو ایک عظیم قسم کی اللہ تعالی کی حکمت ملے گی جو کہ نبیوں کا خاصہ ہے۔ جبکہ من گھڑت روایات، خلاف قرآن اور حکمت سے خالی ہونگی ۔

رہی میری بات تو صاحب ، میں‌تو بہت ہی معمولی طالب علم ہوں‌۔ سوال پوچھتا ہوں۔ صرف سوال ، تاکہ صاحب علم حضرات سے معرفت و تعلیم حاصل کرسکوں۔ اسی لئے کسی بھی سخت سست بات پر ناراض نہیں ہوتا۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 10:02 AM   #71
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بھائی صاحب

یہ کیا بات ھے کہ جو حدیث مبارکہ آپ لکھیں گے وہ صحیح ہو گی اور جو حدیث مبارکہ صاحب علم جنہوں نے اپنی زندگیوں کا ایک حصہ اسی میں صرف کر دیا ھے وہ جو حدیث مبارکہ لکھیں گے وہ غلط ہو گی۔ علمی بات ھے اس پر بھی غور کیجئے گا۔
آپ کو اگر کوئی جواب کہیں سے نہ بن پڑے تو آپ حدیث مبارکہ کا استعمال کرتے ہیں اور اس میں آپ کا لکھنے کا معیار سے پتہ چل جاتا ھے کہ کتنی محبت ھے اور اوپر سے آپ نے اپنے ہاتھ میں طالب علم کا "لوگو/ مونو گرام" بھی پکڑا ہوتا ھے

ٹھیک ھے آپ کو اگر حدیث مبارکہ سے الرجی ھے تو کم از کم یہ تو خیال کیا کریں کہ اگر سسٹر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی عالم فاضل کے پاس نہیں جا سکتی اور یہاں پر کوئی سوال پوچھتی ھے تو یہاں پر کوئی صاحب علم اس کو اس کا جواب قرآن اور سنت کے مطابق دیتا ھے تو آپ اس کے جواب پر حدیث مبارکہ کی دھگچیاں اڑا دیتے ہیں۔ جواب دینے پر کسی کو بھی کوئی پابندی نہیں ھے اگر آپ کے پاس قرآن سے اس کا بہتر جواب ھے تو آپ بھی اسے جواب دینے کی کوشش کریں آپ کو کسی نے روکا ھے کبھی۔
اگر آپ کو کوئی سوالات پوچھنے ہیں تو آپ بھی اسے الگ دھاگہ میں پوچھ سکتے ہیں آپ کا سوال اگر اس قابل ہو گا تو کوئی بھی صاحب علم اس کا جواب مدلل طریقے سے آپ کو دینے کی کوشش کرے گا۔

کوئی بھی صاحب علم جس نے کسی دینی مدرسہ سے ایک سال یا دو سال یا آٹھ سال تک دینی تعلیم حاصل کی ھے تو آپ کس طرح سوچ سکتے ہیں کہ وہ غلط جواب دے گا۔ آپ کسی کے دئے گئے جواب کی پوری تحریر پو غور کیا کریں نہ کہ اس میں سے کسی بھی اس لفظ پر جو آپ نے پہلی بار سنا ہو۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (11-12-09)
پرانا 03-12-09, 07:59 PM   #72
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام کنعان،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
یہ کیا بات ھے کہ جو حدیث مبارکہ آپ لکھیں گے وہ صحیح ہو گی اور جو حدیث مبارکہ صاحب علم جنہوں نے اپنی زندگیوں کا ایک حصہ اسی میں صرف کر دیا ھے وہ جو حدیث مبارکہ لکھیں گے وہ غلط ہو گی۔ علمی بات ھے اس پر بھی غور کیجئے گا۔
اصول یہ نہیں کہ مجھے کون سی حدیث پسند ہے۔

اصول یہ ہے کہ روایت رسول خلاف قرآن نہ ہو۔ اگر کسی روایت کے خلاف قرآن حکیم کی آیات ملتی ہیں تو غور کرنا آپ پر فرض ہے۔

روایات قرآن میں پیوند لگانے کے لئئے نہیں ہیں‌صاحب۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
آپ کو اگر کوئی جواب کہیں سے نہ بن پڑے تو آپ حدیث مبارکہ کا استعمال کرتے ہیں اور اس میں آپ کا لکھنے کا معیار سے پتہ چل جاتا ھے کہ کتنی محبت ھے اور اوپر سے آپ نے اپنے ہاتھ میں طالب علم کا "لوگو/ مونو گرام" بھی پکڑا ہوتا ھے
آپ کا بے ثبوت الزا م ، اور ذاتی حملہ ، ایک طرف۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
ٹھیک ھے آپ کو اگر حدیث مبارکہ سے الرجی ھے تو کم از کم یہ تو خیال کیا کریں کہ اگر سسٹر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی عالم فاضل کے پاس نہیں جا سکتی اور یہاں پر کوئی سوال پوچھتی ھے تو یہاں پر کوئی صاحب علم اس کو اس کا جواب قرآن اور سنت کے مطابق دیتا ھے تو آپ اس کے جواب پر حدیث مبارکہ کی دھگچیاں اڑا دیتے ہیں۔ جواب دینے پر کسی کو بھی کوئی پابندی نہیں ھے اگر آپ کے پاس قرآن سے اس کا بہتر جواب ھے تو آپ بھی اسے جواب دینے کی کوشش کریں آپ کو کسی نے روکا ھے کبھی۔
نہ ہم اللہ تعالی سے زیادہ رحیم ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہیں۔ صرف ان روایات کی دھجیاں اڑتی ہیں جو قرآن کی آیات کے خلاف ہوتی ہیں۔ اور صرف وہ روایت پیش کرتا ہوں جو قرآن کی آیات کے مطابق ہوتی ہیں۔ آپ کو جب بھی شبہ ہو پوچھ لیجئے۔ انشاء اللہ تعالی مناسب حوالہ پیش خدمت ہوگا۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اگر آپ کو کوئی سوالات پوچھنے ہیں تو آپ بھی اسے الگ دھاگہ میں پوچھ سکتے ہیں آپ کا سوال اگر اس قابل ہو گا تو کوئی بھی صاحب علم اس کا جواب مدلل طریقے سے آپ کو دینے کی کوشش کرے گا۔
بہت شکریہ۔ معاملہ سوال تک ہی رکھیں تو اچھا ہو۔ ذاتیات تک اترنا نا مناسب عمل ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
کوئی بھی صاحب علم جس نے کسی دینی مدرسہ سے ایک سال یا دو سال یا آٹھ سال تک دینی تعلیم حاصل کی ھے تو آپ کس طرح سوچ سکتے ہیں کہ وہ غلط جواب دے گا۔ آپ کسی کے دئے گئے جواب کی پوری تحریر پو غور کیا کریں نہ کہ اس میں سے کسی بھی اس لفظ پر جو آپ نے پہلی بار سنا ہو۔
ایک سال ، آٹھ سال یا آٹھ سو سال، اگر سرٹیفیکیشن ، علم کا معیار ہوتا تو پھر لوگ ایجو کیشن کے پیچھے نہیں‌بھاگ رہے ہوتے۔ صاحب جن لوگوں کو یہی پتہ نہیں کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے یا کہ نہیں ۔ ان کے جوابوں کی پرکھ قرآن حکیم کی آیات سے ضروری ہے۔

فراہم کی گئی آیات کی رو سے قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ قربانی طواف کے بعد ہے اور اس کی جگہ بیت العتیق ہے۔ گھر گھر قربانی کرنے کا کوئی فرمان الہی نہیں۔ کوئی شخص اپنے گھر پر قربانی کرتا ہے تو ٹھیک ، لیکن اب اس کو فرمان نبوی بنا کر پیش کرتا ہے یعنی دوسروں کو مجبور کرتا ہے کہ اس کا عمل ٹھیک ہے تو پھر اس کو چاہئیے کہ کوئی ثبوت بھی فراہم کرے کہ یہ روایت درست ہے۔ اس کے درست ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ ایسی کتب جو 250 سال بعد تحریر ہوئ ہیں ۔ ان کا کوئی ثبوت اور دلیل نہیں کہ یہ رسول اکرم کا فرمان مبارک ہے۔ کسی روایت پر صرف اس لئے ایمان رکھنا کہ وہ ایک خاص کتاب میں پائی جاتی ہے شرک عظیم ہے۔

کسی بھی روایت کا حدیث نبوی ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ یہ روایت قرآن حکیم کے مطابق ہوگی۔

جب کہ میں نے جو روایت پیش کی اس کا ثبوت قرآن حکیم کی یہ آیت ہے۔ چونکہ آپ کے علم میں نہیں‌لہذا، آپ نے اس حدیث مبارکہ کو میری پسند کی حدیث قرآر دے دیا۔

31:21 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

قرآن حکیم کی پیروی کرنا ہم پر فرض قرار پایا۔ کیا یہ کتب روایات بھی اللہ تعالی کی نازل کی گئی کتب ہیں ؟

اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتب --- تواتر سے ثابت ہیں --- گویا انہوں نے اپنے باپ دادا کو ان کتب پر پایا ۔۔۔۔۔ تواتر کا مطلب یہ ہے کہ اس روایت کے درست ہونے کی ذمہ داری کسی دوسرے، پچھلے والے کے سر ڈال دی جائے۔ چاہے اس طرح شیطان انہیں عذاب دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 08:21 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-12-09, 08:12 PM   #73
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بھائی صاحب

معاف کرنا آپ کے سوالات کا میں نے پہلے مطالعہ کیا ہوا ھے جن کو پڑھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ نے زندگی کا حصہ صرف کیا ہوا ھے۔ میں آپ کو تمام حوالے قرآن ، فلسفہ اور عقلی دلیلوں سے دے چکا ہوں ہر زاویہ سے اب آپ کو سمجھ نہیں آتی تو اس میں کسی کا کیا قصور ھے، ویسے بھی یہ موضوع ختم ہو گیا ہوا ھے۔ کسی دوسرے موضوع میں ملیں گے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 03-12-09, 08:28 PM   #74
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,247
کمائي: 25,899
شکریہ: 6,458
2,598 مراسلہ میں 7,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کا خیال بالکل درست ہے میں نے زندگی کا کوئی حصہ بھی ان کتب پر صرف نہیں‌کیا جو نازل کی ہوئی نہیں ہیں اور جن پر ایمان رکھنا فرض نہیں ہے۔

جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے، تو بھائی اگر آپ مجھے یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ "خلاف قرآن روایت " بھی قابل قبول ہیں تو بھائی میں اسے بالکل بھی سمجھ نہیں پایا اور مزید یہ کے آپ کے حوالے قطعاً بھی اس موضوع کے مطابق نہیں ہیں۔

یہ مانئیے کہ یا تو ---- ایمان ہونا چاہئیے ----- ورنہ پھر ---------- دلیل و ثبوت ہونے چاہئیے۔

آپ کے جوابات دونوں قسم کی معلومات سے عاری ہیں۔ نہ تو ان کتب روایات پر ایمان ہے اور نہ ہی ان کتب کی درستگی کا کوئی ثبوت۔

بہت شکریہ
والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 08:33 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (03-12-09)
پرانا 03-12-09, 09:21 PM   #75
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم فاروق بھائی صاحب

معذرت کے ساتھ آپ سے پہلے بھی ایک دوخواست کی تھی کہ جب ایک مرتبہ آپ جواب لکھ دیں تو دوبارہ جواب ملنے پر پیچھے جا کر اپنی پوسٹ کی غلطیاں ٹھیک نہ کیا کریں نیچے تاریخ آ جاتی ھے۔
آپ کی بہت سی کمزوریاں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ھے کہ آپ کو جب بھی کوئی نئی سے نئی بات جس وقت بھی سمجھ آتی ھے آپ اپنی پوسٹوں میں جا کر ان میں ایڈٹ کرتے رہتے ہیں پہلے والی کاٹ دیتے ہیں

دلیل/ ثبوت بھی پیش کر دیتا ہوں
آپ نے مراسلہ نمبر 72 لگایا جو میرے وقت ھے 03-12-09, 02:59 PM
میں نے اس کو جواب مرسلہ نمبر 73 میں 03-12-09, 03:12 PM پر دیا
پھر فاروق صاحب آپ نے جواب موصول ہونے پر کاٹ چھانٹ کر دی مراسلہ نمبر 72 میں اس کو وقت بھی ساتھ ھے
Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 03:21 PM


فاروق بھائی جی اس کو انگلش میں بھی ایک لفظ سے ظاہر کرتے ہیں اور اردو میں بھی اس پر بہت سے الفاظ میں کہا جا سکتا ھے، جس کو پڑھ کر شائد آپ یہ کہیں کہ میں نے آپ کی عزت پر وار کیا ھے تو مناسب نہیں کہ میں کوئی ایسا جملہ استعمال کروں۔ اچھا والا جملہ استعمال کر لیتا ہوں۔

مراسلہ نمبر 74 میں‌ بھی آپ نے کچھ ایسا ہی کیا ھے مگر اس کا افسوس نہیں کیونکہ اس کا ابھی جواب نہیں دیا گیا۔


فاروق بھائی اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں آپ کے سارے دعوے بے کار ھیں جو آپ یہاں پر کرتے ہیں آپ کو کسی مستفید مدرسے میں داخلہ ضرور لے لینا چاہئے کیونکہ آپ اسی طرح الجھے رہیں گے
آخر میں عادل بھائی والی دعا میں بھی آپ کے لئے کروں گا کہ اللہ آپ کے حال پر رحم کرے آمین






اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مراسلہ نمبر 72 وقت 2:59

ایک سال ، آٹھ سال یا آٹھ سو سال، اگر سرٹیفیکیشن ، علم کا معیار ہوتا تو پھر لو ایجو کیشن کے پیچھے نہیں‌بھاگ رہے ہوتے۔ صاحب جن لوگوں کو یہی پتہ نہیں کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے یا کہ نہیں ۔ ان کے جوابوں کی پرکھ قرآن حکیم کی آیات سے ضروری ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ قربانی طواف کے بعد ہے اور اس کی جگہ بیت العتیق ہے۔ گھر گھر قربانی کرنے کا کوئی فرمان الہی نہیں۔ کوئی شخص اپنے گھر پر قربانی کرتا ہے تو ٹھیک ، لیکن اب اس کو فرمان نبوی بنا کر پیش کرتا ہے یعنی دوسروں کو مجبور کرتا ہے کہ اس کا عمل ٹھیک ہے تو پھر اس کو چاہئیے کہ کوئی ثبوت بھی فراہم کرے کہ یہ روایت درست ہے۔ اس کے درست ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ ایسی کتب جو 250 سال بعد تحریر ہوئ ہیں ۔ ان کا کوئی ثبوت اور دلیل نہیں کہ یہ رسول اکرم کا فرمان مبارک ہے۔ کسی روایت پر صرف اس لئے ایمان رکھنا کہ وہ ایک خاص کتاب میں پائی جاتی ہے شرک عظیم ہے۔ کسی بھی روایت کا حدیث نبوی ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ یہ روایت قرآن حکیم کے مطابق ہوگی۔ جب کہ میں نے جو روایت پیش کی اس کا ثبوت قرآن حکیم کی یہ آیت ہے۔ چونکہ آپ کے علم میں نہیں‌لہذا،

آپ نے اس حدیث مبارکہ کو میری پسند کی حدیث قرآر دے دیا۔
31:21 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو والسلام
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اس مراسلہ نمبر 73 - وقت 03-12-09, 03:12
السلام علیکم بھائی صاحب

معاف کرنا آپ کے سوالات کا میں نے پہلے مطالعہ کیا ہوا ھے جن کو پڑھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ نے زندگی کا حصہ صرف کیا ہوا ھے۔ میں آپ کو تمام حوالے قرآن ، فلسفہ اور عقلی دلیلوں سے دے چکا ہوں ہر زاویہ سے اب آپ کو سمجھ نہیں آتی تو اس میں کسی کا کیا قصور ھے، ویسے بھی یہ موضوع ختم ہو گیا ہوا ھے۔ کسی دوسرے موضوع میں ملیں گے۔

والسلام



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سلام کنعان،

مراسلہ نمبر 72 پوسٹ ہوا 03-12-09, 02:59 PM
جواب موصول ہونے کا وقت 03-12-09, 03:12 PM پھر کاٹ چھانٹ کی گئی
Last edited by فاروق سرورخان; 03-12-09 at 03:21 PM




اصول یہ نہیں کہ مجھے کون سی حدیث پسند ہے۔

اصول یہ ہے کہ روایت رسول خلاف قرآن نہ ہو۔ اگر کسی روایت کے خلاف قرآن حکیم کی آیات ملتی ہیں تو غور کرنا آپ پر فرض ہے۔

روایات قرآن میں پیوند لگانے کے لئئے نہیں ہیں‌صاحب۔



آپ کا بے ثبوت الزا م ، اور ذاتی حملہ ، ایک طرف۔


نہ ہم اللہ تعالی سے زیادہ رحیم ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہیں۔ صرف ان روایات کی دھجیاں اڑتی ہیں جو قرآن کی آیات کے خلاف ہوتی ہیں۔ اور صرف وہ روایت پیش کرتا ہوں جو قرآن کی آیات کے مطابق ہوتی ہیں۔ آپ کو جب بھی شبہ ہو پوچھ لیجئے۔ انشاء اللہ تعالی مناسب حوالہ پیش خدمت ہوگا۔


بہت شکریہ۔ معاملہ سوال تک ہی رکھیں تو اچھا ہو۔ ذاتیات تک اترنا نا مناسب عمل ہے۔



ایک سال ، آٹھ سال یا آٹھ سو سال، اگر سرٹیفیکیشن ، علم کا معیار ہوتا تو پھر لوگ ایجو کیشن کے پیچھے نہیں‌بھاگ رہے ہوتے۔ صاحب جن لوگوں کو یہی پتہ نہیں کہ ان کتب روایات پر ایمان رکھنا ہے یا کہ نہیں ۔ ان کے جوابوں کی پرکھ قرآن حکیم کی آیات سے ضروری ہے۔

فراہم کی گئی آیات کی رو سے قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ قربانی طواف کے بعد ہے اور اس کی جگہ بیت العتیق ہے۔ گھر گھر قربانی کرنے کا کوئی فرمان الہی نہیں۔ کوئی شخص اپنے گھر پر قربانی کرتا ہے تو ٹھیک ، لیکن اب اس کو فرمان نبوی بنا کر پیش کرتا ہے یعنی دوسروں کو مجبور کرتا ہے کہ اس کا عمل ٹھیک ہے تو پھر اس کو چاہئیے کہ کوئی ثبوت بھی فراہم کرے کہ یہ روایت درست ہے۔ اس کے درست ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ ایسی کتب جو 250 سال بعد تحریر ہوئ ہیں ۔ ان کا کوئی ثبوت اور دلیل نہیں کہ یہ رسول اکرم کا فرمان مبارک ہے۔ کسی روایت پر صرف اس لئے ایمان رکھنا کہ وہ ایک خاص کتاب میں پائی جاتی ہے شرک عظیم ہے۔

کسی بھی روایت کا حدیث نبوی ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ یہ روایت قرآن حکیم کے مطابق ہوگی۔

جب کہ میں نے جو روایت پیش کی اس کا ثبوت قرآن حکیم کی یہ آیت ہے۔ چونکہ آپ کے علم میں نہیں‌لہذا، آپ نے اس حدیث مبارکہ کو میری پسند کی حدیث قرآر دے دیا۔

31:21 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

قرآن حکیم کی پیروی کرنا ہم پر فرض قرار پایا۔ کیا یہ کتب روایات بھی اللہ تعالی کی نازل کی گئی کتب ہیں ؟

اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتب --- تواتر سے ثابت ہیں --- گویا انہوں نے اپنے باپ دادا کو ان کتب پر پایا ۔۔۔۔۔ تواتر کا مطلب یہ ہے کہ اس روایت کے درست ہونے کی ذمہ داری کسی دوسرے، پچھلے والے کے سر ڈال دی جائے۔ چاہے اس طرح شیطان انہیں عذاب دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

والسلام



---------------------
---------------------
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
9/11, color, فرض, واقعات, قرآن, قرآنی, نظر, مکہ, آج, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, حدیث نبوی, دل, درخواست, زندگی, سیرت نبوی, سردار, علم, علماء, عادل, عبداللہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 06:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 14-08-09 12:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:37 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger