| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 6 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | shafresha (06-11-09), یحیٰی (10-11-09), نورالدین (30-03-10), راجہ اکرام (06-11-09), عامرشہزاد (06-11-09), عبداللہ حیدر (23-11-09) |
|
|
#31 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا بھی ایمان ھے کہ جس رب ذوالجلال نے قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک اپنے اسم مبارک سے جدا نہیں کیا ان کا ہر قول عمل فعل جو احادیث مبارکہ کی شکل صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ، تعابی۔ تبعہ تعابی سے سلسلہ وار ہم تک پہنچی جیسے انہوں نے ہم تک قرآن پہنچایا وہ قرآن اور ثابت شدہ احادیث مبارکہ ہم تک پہنچیں اس کے لئے مجھے کسی کو دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں جس پر میرا دل گواہی دے۔ میں سر خم اسے تسلیم کرتا ہوں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (23-11-09) |
|
|
#32 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کا جواب میں بھی اوپر دے چکا ہوں آپکا فارمولا بھی درج ھے اور میں نے بھی 3 فارمولے لکھ دئے ہیں۔ اگر آپ کو سمجھ نہ آئے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ کسی بھی ایک بات کو بار بار دھرانا میں اچھا نہیں سمجھتا بات کا وزن ختم ہو جاتا ھے۔ اب آپ کوئی نیا فارمولا لکھیں ان شاء اللہ اس پر بھی آپ کو معقول جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (23-11-09), عادل سہیل (23-11-09) |
|
|
#33 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے عید الاضحٰی کی نماز پڑھی اور قربانی کی۔ حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسْكِ فِي شَيْءٍ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’آج (عید الاضحٰٰی) کے دن سب سے پہلا کام جو ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ سو جس نے یہ کرلیا اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا سو وہ گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی تیار کرلیا۔ اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ اس حدیث کو امام بخاری نے صحیح البخاری میں کتاب الجمعۃ باب الخطبۃ بعد العید اور باب الاضاحی کتاب سنۃ الاضحیۃ میں، اور امام مسلم نے صحیح مسلم کتاب الاضاحی کے پہلے باب میں بیان کیا ہے۔ جس حدیث کو یہ دونوں محدث روایت کریں وہ متفق علیہ کہلاتی ہے، اور محدثین کے ہاں اس کا صحیح ہونا شک و شبہےسے بالاترہوتا ہے۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (23-11-09), کنعان (23-11-09), نورالدین (30-03-10), سحر (23-11-09), عادل سہیل (23-11-09) |
|
|
#34 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بہت شکریہ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
|
#35 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق سرور صاحب ، کسی کسی وقت تو آپ کو بھائی کہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے ، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے آپ کے بغض و عناد میں آپ کی سوچ اس """ سیاہ """ ہو چکی ہو گی مجھے یہ اندازہ نہ تھا ، الحمد للہ ، جس نے آپ کے باطن کا یہ """ سیاہ """ پہلو بھی آپ ہی کے ذریعے آشکار کروایا ، جناب ، آپ جیسے ترجموں کے محتاج ، قران پاک کی آیات کی جھوٹی جاہلانہ تاویلات کرنے والے ، احادیث مبارکہ کے جزوی مطالعے سے اپنے طور پر جھوتے واقعات بیان کرنے والے یقینا """ روایات صحیحہ """ کو """ سیاہ """ کہہ کر اپنے من میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت سے نفرت کی """ سیاہی """ ہی پھیلائیں گے ، بھائی منتظمین نے بالکل درست کہا کہ ہمیں اسی موضوع پر رہنا چاہیے جس کے ایک بہن نے یہ دھاگہ کھولا تھا ، جناب آپ امام مالک علیہ رحمۃ اللہ ، اور امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے اور دونوں کے لوگوں سے روابط اور اسفار کے بارے میں کچھ پڑھ لیجیے ، اگر میرے رب کو آپ کی ہدایت منظور ہوئی تو دونوں کے پاس روایات کی تعداد میں فرق کی سبب سمجھ میں آ جائے گا ، آپ کو دوسروں کے ایمان جانچنے کا خبط ہے بھائی صاحب ، اس ایمان کا کیا جواب دیں گے جو صحیح ثابت شدہ احادیث مبارکہ کو """ سیاہ """ قرار دیتا ہے ، دوسروں کے ایمان کے آپ ذمے دار نہیں خان صاحب اپنی اس """ سیاہ کاری """ کا جواب تیار رکھیے اس کے سامنے جس کے سامنے کوئی لفاظی کام نہیں آنے والی اور نہ ہی کوئی باطل تاویل ، بلا مبالغہ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ میرے سوالات ایسے ہیں جو آپ کے جوابات کے منتظر ہیں ، آپ اپنی جہالت کی بنا پر اللہ کے کلام کی غلط تاویلات اور حدیث کے بارے میں اپنے من گھڑت جھوٹ کے آشکار ہونے پر تلملائے ہوئے ہیں ، اور اپنے دستور کے مطابق اپنی """ سیاہی """ پھیلا رہے ہیں ، اگرکچھ علم ہے تو علمی دلائل کے ساتھ میرے سوالات کے جواب دیجیے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی بھائی یا بہن میرے اس مراسلے پر کوئی قدغن لگانا چسہے تو اس سے پہلے فاروق سرور صاحب کے ان الفاظ کو اچھی طرح پڑھ لے جن کو میں نے منقولہ بالا اقتباس میں سرخ رنگ سے واضح کیا ہے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (23-11-09), عبداللہ حیدر (24-11-09) |
|
|
#36 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر آپ یہ کہیں کہ آپ کا دل کہتا ھے یا آپ کا علم کہتا ھے تو آپ احادیث مبارکہ کو پڑکھ سکتے ہیں تو وہ پھر میری طرف سے یہ آپ کا وہم ھے۔ دنیا کو کوئی بھی کام بغیر اساتذہ کے ناممکن ھے۔ میں بھی اس پر بہت مرتبہ تجربات کر چکا ہوں مگر جب اساتذہ کی محفل میں بیٹھو تو ہر مرتبہ کچھ سیکھنے کو ملتا ھے۔ اگر کتابیں پڑھ کر علم بٹ رہا ہوتا تو یہ سکول کالج اساتذہ کرام کی ضرورت نہ پڑتی۔ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#37 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترمہ بہن حیا ، آپ کے اس سوال کے جواب میں بھائی کنعان نے اور بھتیجے عبداللہ حیدر نے بھی معلومات ارسال کی ہیں ، بھائی کنعان نے میرے ایک دو مجامین کا ربط بھی دیا تھا ، ان میں سے ایک مضمون کا ایک اقتباس یہاں نقل کر رہا ہون ، ملاحظہ فرمایے ::: ::::: قُربانی کی شرعی حیثیت ::::: ::::: مسئلہ (1) ::::: قُربانی کرنا ، سُنّت ہے یا فرض ؟ ::::: جواب ::::: اِس میں عُلماء کی رائے مختلف رہی ہے ، جمہور عُلماء ، اور اِمام مالک ، اِمام الشافعی ، کا کہنا ہے کہ قُربانی کرنا سُنّت ہے فرض نہیں ، اور اِمام ربعیہ، اِمام الاوزاعی ، اِمام ابو حنیفہ ، اِمام النخعي ، اور اِمام اللیث کا کہنا ہے کہ جِس کے پاس مالی گُنجائش ہو اُس کے لیے قُربانی کرنا فرض ہے ، اور یہ دوسری بات زیادہ درست ہے ، ::::: دلیل (١) ::::: مِخنف بن سلیم رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( یا اَیُّہَا الناس اِنَّ عَلٰی کُلِّ اَہلِ بَیتٍ فِی کُلِّ عَامٍ اُضحِیَّۃً ) ( اے لوگو گھر کے ہر فرد پر ہر سال ایک قُربانی فرض ہے ) سنن ابن ماجہ ٢٧٨٨ / اول کتاب الضحایا / باب١ ، صحیح سنن ابی داؤد ٢٤٨٧ ، صحیح سنن ابن ماجہ ٢٥٣٣ ، ::::: دلیل (٢) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مَن وَجَدَ سَعَۃً فلم یُضَحِّ فَلاَ یَقرَبَنَّ مُصَلاَّنَا ) ( جس کے پاس قُربانی کرنے کی گُنجائش ہو اور وہ قُربانی نہ کرے تو وہ ہمارے مُصلے کے پاس بھی نہ آئے ) المستدرک الحاکم / حدیث ٧٥٦٥، ٧٥٦٦ /کتاب الاضاحی، مُسند احمد / حدیث ٨٢٥٦، حدیث حسن ، تخریج احادیث مشکلۃ الفقر /ص ٦٧/حدیث ١٠٢، حدیث حسن ،صحیح الترغیب و الترھیب /حدیث١٠٨٧، ::::: مسئلہ (٢) ::::: ایک شخص اور اُس کے گھر والوں ( بیوی بچے والدین بہن بھائی جو اُس کے گھر میں ہوں ، اُس کی کفالت میں ہوں ) کی طرف سے ایک بکری کافی ہے ::::: ::::: دلیل ::::: ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہُ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگ کیسے قُربانی کیا کرتے تھے تو فرمایا ( کان الرَّجُلُ فی عَہدِ النَّبِی صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّمَ یُضَحِّی بِالشَّاۃِ عَنہ ُ وَعَن اَہلِ بَیتِہِ فَیَاکُلُونَ وَیُطعِمُونَ ثُمَّ تَبَاہَی النَّاسُ فَصَارَ کما تَرَی ) ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قُربان کیا کرتا تھا اور( اُس میں سے )وہ خود بھی کھاتے تھے اور (دوسروں کو بھی) کِھلاتے تھے، اُس کے بعدلوگ دِکھاوے اور فخر میں مُبتلا ہو گئے اور وہ ہونے لگا جو تُم دیکھ رہے ہو ) سنن ابن ماجہ / حدیث٣١٤٧/کتاب الاضاحی /باب١٠ ،حدیث صحیح ، الاِرواءُ الغلیل / حدیث ١١٤٢، دِکھاوے اور فخر کے لیے اب مسلم معاشرے میں کیا کیا ہوتا ہے اِس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاشرہ کا ہر فرد اپنے بارے میں تو خوب اچھی طرح جانتا ہی ہے اور دوسروں کے بارے میں بھی کافی حد تک اندازہ کر ہی سکتا ہے کہ ایسے موقعوں پر کون ، کیا ، کیوں کرتا ہے ؟ اور دِلوں کے حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، ان احدایث مبارکہ سے یہ بالکل واضح ہو جاتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے قربانی کرنے کے بارے میں کیا احکام فرمائے ہیں ، مزید کا مطالعہ آپ اسی مضمون کے باقی حصوں میں کر سکتی ہیں ، جی اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سوائے حج کے وقت کسی اور وقت میں قربانی نہیں کی تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے 63 جانور قربان کیے ، جو اس بات کی دلیل بھی ہے کہ قربانی کرنا فرض ہے ، اور وہ یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس وقت اپنی زندگی کے 63 ویں سال میں تھے اس لیے انہوں نے اسی عدد میں قربانیاں کیں ، اگر قربانی فرض نہ ہوتی اور اس کا تعلق صرف حج سے ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف حج کی ایک قربانی فرماتے ، اس واقعے کا ریفرنس اور کچھ تفصیل بھی آپ """ قربانی کے اہم مسائل """ میں پڑھ سکتی ہیں ، اس کے بعد بھی اگر کوئی اشکال رہے تو ضرور سامنے لایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہر گمراہی اور شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ بھائی منتظمین ، یا اس فورمز کے کسی بھی ناظم سے میری درخواست ہے کہ دھاگے کے موضوع کے علاوہ ہر دوسرے مراسلے کو حذف یا منتقل کر دیا جائے ۔ جزاکم اللہ خیرا ، |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (23-11-09), عبداللہ حیدر (24-11-09) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حیرانگی کی بات ہے کہ قادری صاحب نے یہ بیان کس طرح دیا جو کہ آپ مراسلے میں مذکور ہے جب کہ صحیح احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ قادری صاحب کے اس بیان کے خلاف مذکور ہے ، ان احادیث کو بھی میں اپنے اسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں جس کا حوالہ سابقہ مراسلہ میں دیا ، اسی مضمون میں سے اقتباس پیش کرتا ہوں ::: ::::: مسئلہ (٦) ::::: قُربانی کے لیے سب سے بہترین جانور کون سا ہے؟ ::::: ::::: جواب :::::: قُربانی کے لیے سب سے بہترین جانور مینڈھا ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر جانوروں میں سے مینڈھے اختیار کیئے اور قُربان فرمائے ، ::::: دلیل (١) ::::: انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ (وَذَبَحَ رَسولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّمَ بِالمَدِینَۃِ کَبشَینِ اَملَحَینِ ::: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں (عید الاضحی والے دِن ) دو املح مینڈھے ذبح فرمائے ) صحیح البخاری / حدیث١٤٧٦ /کتاب الحج/باب ٢٦، اور صحیح مُسلم / حدیث ١٦٧٩/کتاب القسامہ والمحاربین والقصاص و الدیات / باب٩، میں حج کے موقع پر مِنیٰ میں اِسی طرح دو املح مینڈھے قُربان کرنے کا ذِکر ہے ، ::::: دلیل (٢) ::::: انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (کان یُضَحِّی بِکَبشَینِ اَملَحَینِ اَقرَنَینِ )( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو املح اور سینگوں والے مینڈھے قُربان کیا کرتے تھے) صحیح البخاری / حدیث٢٢٤٤ /کتاب الاضاحی/باب ١٣، صحیح مُسلم /حدیث ١٩٦٦/کتاب الاضاحی /باب٣، پس واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قُربانی کے لیے املح اور سینگوں والے مینڈھے پسند فرماتے تھے ، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند سے بہتر اور افضل کوئی پسند نہیں ہو سکتی ۔ ::::: املح مینڈھے ::::: سے مُراد وہ مینڈھا ہے جو سُفید و سیاہ رنگ کا ہو ، اور اِس طرح کہ پاؤں اور آنکھوں کے آس پاس اور پیٹ کے نچلے حصے میں سیاہی ہو اور باقی ساری جلد کی رنگت سُفید ہو ، جِسے عام طور پر ''' کاجلی ''' کہا جاتا ہے ۔ ، محترمہ بہن ، ان مذکورہ بالا احادیث میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مدینہ شریف میں رہتے ہوئے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی فرمایا کرتے تھے ، انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کے الفاظ """ کان یضحی ::: قربانی کیا کرتے تھے """" فعل ماضی استمراری ، past continues tense ہیں ، یعنی کسی عمل کے بار بار ہونے کی خبر دینے والے ہیں ، تو میری بہن یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم حج کے علاوہ بھی قربانی فرمایا کرتے تھے ، ان شا اللہ ، یہ معلومات آپ کی پریشانی یا شک دور کرنے کا سبب ہو سکیں گی ، مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (24-11-09) |
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() |
سلام علیکم۔
کیا خوب ہے کہ آپ کے پاس اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ کتب در اصل امام بخاری و مسلم کی تصانیف ہیں اور پھر بھی اعتراض ہے کہ ان میں دشمناں اسلام کے جو سیاہ کارنامے ہیں ان پر ایمان رکھا جائے۔ اب تک کوئی بھی یہ جواب نہیںدے سکا ہے کہ ان کتب پر ایمان رکھنے کی کیا معقول وجہ ہے؟ ایمان کا سوال کس لئے؟ اس لئے کہ جب کوئی دلیل اور ثبوت نہیں ہوتا اور پھر بھی کسی بات کو ماننا ہوتا ہے تو وہ ہوتا ہے ایمان۔ ان کتب میں ایسی روایات موجود ہیں جن کا سراغ قرآن کریم میںنہیںملتا بلکہ کسی بھی قسم کی فہمی لے لیجئے "خوش فہمی"، "استاذ فہمی"، "غلط فہمی" ، "خود فہمی" ۔۔ آپ نے اب تک کوئی جواز پیش نہیں کیا کہ ان کتب کی ہر روایت کیوں قابل قبول ہے؟ کیا ان تمام کی تمام روایات پر ایمان ہے آپ کا؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کیا یہ اتنا مشکل سوال ہے کہ کوئی بھی جواب نہ دے سکے؟ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ ان کتب پر ایمان رکھو؟ یا رسول اللہ کا حکم ہے کہ ان کتب پر ایمان رکھو؟ یا کوئی دلیل یا ثبوت ہے کہ ہر روایات ان کتب میں سنت رسول ہے؟ کیا وجہ ہے آپ کے پاس بھائی؟ اور کچھ نہیں تو میرے علم میں ہی اضافہ فرمائیے؟ دو سو سال ، تین سو سال اور 4 سو سال بعد لکھی ہوئی کتب پر ایسا ایمان ۔ جب کہ خلاف قرآن اتنی روایات؟ کیا وجہ ہے؟ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (30-03-10) |
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا امام مسلم اور امام بخاری سے رسول اللہ کے دوسو سال بعد ، اللہ نے عہد لے کر نبی بنایا تھا؟ کیا ان کی کتابوں کی ہر سطر پر قران حکیم کی طرح ایمان رکھنا ہے؟ کیا کوئی ثبوت ہے کہ ان کے بعد ان محترم اماموں کی کتب من و عن ایسی کی ایسی ہی رہی ہیں؟ بھائی اور کچھ نہیں تو میرے علم میں اضافہ ہی فرما دیجئے۔ اگر آپ کو پتہ ہے اور نہیں بتائے ہیں تو یقیناَ جانتے بوجھتے ہوئے "گمراہوں " کو راہ نہیں دکھا رہے آپ؟ جب تک قرآن حکیم ان روایات کی توثیق کرتا ہے ، ان روایات سے کون کافر انکار کرے گا۔ لیکن یہ کہنا کہ ان دونوں نے لکھ دیا تو ہم نے مان لیا۔ یہ تو درست نہیں۔ جب کہ یہ بھی پتہ نہیں کہ ان دونوں نے لکھا تھا بھی نہیں۔ بعد میں اضافہ ہوا یا نہیں۔ اس موضوع کو جاری رکھئے ۔ اللہ تعالی اپنے رسول کے ذریعے، قرآن حکیم میں قربانی کے لئے واضح احکامات فراہم کرتے ہیں۔ یہ روایات کسی طور بھی قربانی، اور حج کے بنیادی احکامات کے مطابق نہیں ہیں۔ بناء کسی ثبوت ، بناء کسی دلیل کے ---- ان پر صرف اور صرف ایمان لایا جاسکتا ہے۔ آپ کا ایمان ان کتب پر ہے تو یہ احکامات قبول کیجئے اور اگر آپ کو یہ احکامات قرآن حکیم کے حج و قربانی کے احکامات کے مطابق نظر نہیں آتے تو سوچئیے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آپ قرآن حکیم کو رد کررہے ہیں اور ان کتب پر ایمان رکھ رہے ہیں؟ ان کتب میں کچھ ایمان کے فرمان ہیں جو قرآن حکیم سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ اس کو جواز بنا کر یہودی ، زرتشتی اور عیسائی عقائید کو ان کتب میں بھرا گیا ہے کہ اسلام اور ان مذاہب کا فرق پتہ ہی نہ چلے۔ ایسا ممکن نہیںکہ یہ کام ان محترم اساتذہ جناب امام بخاری یا جناب امام مالک یا جناب امام مسلم نے کیا ہو۔ زورستانی ، عیسائی اور یہودی مذاہب کے عقائد بعد میں دشمنان اسلام کا کارنامہ لگتے ہیں کہ 10 سال میں ہزار روایات چھ لاکھ ،ہوگئیں۔ 99 فی صد روایات (حدیث کی کتب کے مطابق) تو صرف حضرت امام بخاری نے رد کیں۔ یعنی صرف 200 سال میں 99 فی صد روایات درست نہیں تھیں۔ تو 1200 سال میں کیا کارنامہ انجام دیا گیا ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 25-11-09 at 10:57 AM. |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (30-03-10) |
|
|
#41 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,079
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ معاف کرے جناب جب آپ قرآن کا ثبوت نہیں دے سکتے اور اس کو ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے اور صرف دل سے اقرار کرتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ھے، تو پھر اسطرح کا سوال جانے انجانے میں بھی کرنا ایمان کی کمزوری کی نشانی ثابت ہوتا ھے۔ جو بات ھے ہی نہیں اس کو پوچھ کر آپ اپنی بات ثابت نہیں کر سکتے۔ ایسا سوال اگر غامدیت، قادیانیت والے پوچھیں تو الگ بات ھے پھر ان کو بتانے کا طریقہ الگ ھے۔ اور رہی بات آپ کی کہ آپ قرآن کو مانتے ہیں تو بھائی قرآن کو تو عیسائی بھی مانتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں اور اکثریت میں عیسائی اپنے گھر میں قرآن بھی رکھتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں میں نے بہت سے عیسائی ایسے دیکھے ہیں۔ آپ اپنے علم کا صحیح استعمال کریں ایسی باتوں سے نہ آپ کچھ پوچھ پائیں گے اور نہ ہم آپ کو کچھ ثابت کر پائیں گے۔ اب جو الزام آپ سوال کی شکل میں امام مسلم و بخاری پر ان کی کتابوں کے حوالے سے لگا رہے ہیں تو فاروق صاحب اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کو کونسا عہدہ ملا ہوا ھے جو آپ سب کو اس کے الٹ تبلیخ کر رہے ہیں آپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 1400 سال کا فاصلہ ھے۔ کس کی بات کو اہمیت حاصل ہو گی جو سلسلہ وار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک پہنچی یا جو آج آپ اپنی ناقص عقلی دلیلوں سے بیان کر رہے ہیں جس کے بیچ میں اتنا لمبا گیپ ھے۔ فاروق صاحب آپ نے اس حصہ کا جواب دینا ھے جس کا اصل تعلق آپ کے سوال کے متن سے ھے آپ اپنی عقلی دلیلوں پر بھی ابھی تک کوئی جواب پیش نہیں کر پارہے۔ آپ کے اس سوال، جواب ، سوال پر جواب کا انتظار رہے گا والسلام اقتباس:
ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ إِنَّ الْأَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا: تم اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور انجامِ خیر پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے 7:128 |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-11-09), مون لائیٹ آفریدی (28-11-09), سحر (26-11-09), طاھر (26-11-09), عادل سہیل (26-11-09) |
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من کنعان اور برادر من عادل سہیل سلام علیکم،
ڈپلی کیٹ ڈپلی کیٹ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 26-11-09 at 11:03 AM. |
|
|
|
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من کنعان اور برادر من عادل سہیل سلام علیکم،
دیکھئے ایک بار یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ ان کتب روایات میںکوئی بھی بات شک و شبہ والی ہے ہی نہیں۔ ان کتب روایات میں دو طرح کی روایات ہیں ایک ہیں جو سنت رسول ہیں ، کہ قرآن حکیم کی آیات سے ثابت ہیں کہ قرآن حکیم کے اس حکم کی روشنی میںیہ روایت درست یعنی صحیح سنت رسول ثابت ہوتی ہے۔ کیا اس میںکوئی شبہ ہے؟ نہ آپ کو اور نہ مجھ کو۔ اب آئیے ان روایات کو دیکھئے جو قرآن حکیم کے کسی نہ کسی حکم کے خلاف ہیں۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔ اب یہاں آپ کا اور میرا اختلاف ہے۔ آپ کہتے ہیںکہ چونکہ یہ روایت "اس کتاب روایت" میں موجود ہے تو سند ہے۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف موجودگی سند نہیں ، یہ روایت ضعیف اور موضوع بھی ممکن ہے کہ اگر خلاف قرآن ثابت ہوتی ہے تو۔ موضوع ہونے یا نا ہونے کا فیصلہ آپ دو طرحکرسکتے ہیں۔ 1۔ کہ چونکہ "ممکنہ طور پر خلاف قرآن روایت" یعنی کوئی ایک روایت کسی خاص کتاب روایت میں موجود ہیں لہذا یہ موضوع نہیں ہوسکتی۔ اس کی دلیل صرف یہ ہے کہ ایک روایت ، ایک کتاب میں موجود ہے۔ بس ۔۔۔۔ اگر کتاب میں ہونا ہی دلیل و ثبوت بن جائیں تو ---- یہ کہلائے گا ایمان اس کامل کتاب پر ۔۔۔۔ اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا حکم درکار ہوگا۔ کہ اس کتاب پرایمان رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ یہ روایت تفصیل ہے ایک ایسے عمل کی جس کی توثیق قرآن حکیم نہیںکرتا ایک بے معنی دلیل ہے۔ 2۔ ایسی روایت کو آپ دیکھئے آپ کے ہی پیمانے سے وہ ہے إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں یعنی فرمان رسول اکرم کا اور اصول فرمان الہی سے --- دونوں ۔ اگر ایک روایت فرمان الہی یعنی قرآن حکیم کے خلا ف ہے تو وہ موضوع ہے۔ آپ اپنی ہی پیش کردہ آیت میں دیکھ لیجئے کہ ------------------------ اللہ اور اس کے رسول (صلعم) دونوں ----- کی شرط ہے۔ آپ ثابت کردیجئے کہ ایک روایت دونوں اللہ اور رسول کے حکم سے ثابت ہیں تو اس کو ا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا سننا اور اس کی اطاعت کرنا مجھ سمیت سب پر فرضہے۔ یہ ثبوت خلاف قرآن روایات کے بارے میں مانگنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس کے لئےایک سے زائید احادیث موجود ہیں۔ میں ان کتب میں شامل صرف ان روایات پر ایمان رکھتا ہوں کہ یہ رسول اکرم کی احادیث ہیں جن کے بارے میں قرآن حکیم سے واضح احکامات ملتے ہیں۔ گویا میرا ایمان ان کتب پر نہیں ، بلکہ قرآن کے مطابق احادیث پر ہے۔ جب بھی کوئی ایسی روایت نظر آتی ہے جس کے خلاف حکم یا فرمان الہی قرآن حکیم میں موجود ہے تو سوال کرنا فرضسمجھتا ہوں۔ اور یہ توقع کرتا ہوں کہ تاویلات سے نہیں بلکہ صاف صاف فرمان الہی سے ایسی سنت کی توثیق کے حوالہ ہمارے حدیث کے بارے مین زیادہ معلومات رکھنے والے دوست عطا فرمائیں گے۔ اس معاملہ کو دیکھ لیجئے۔ اللہ تعالی نے قرآن کے احکامات میں قربانی کی جگہ بیت العتیق بیان فرمائی ہے۔ ہماری مذہب او ررسول سے وابستگی اپنی جگہ لیکن حج کی قربانی بیت العتیق کے پاس ہی ہوگی۔ اس کی دلیل بھی ہے اور ثبوت بھی --- وہ ہے کتاب الہی پر ایمان۔ نہ کم اور نہ زیادہ۔ اب اگر کوئی ایسی روایت لاتا ہے جس میں رسول اکرم نے مکہ سے دور قربانی دی تو ، اس کا ثبوت فراہم کرنے میں کیا دشواری ہے؟ اتنی اہم بات اور اس کوثبوت 200 سال تک نہ ملے؟ یہ تو سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ امام مالک جو وفات رسول اکرم کے صرف 100 سال بعد ہوگزرے سارے مدینے سے صرف ایک ہزار ستائیس سنتیں ریکارڈ کرسکے، اتنی اہم ضرورت اور خلفاء راشدین اس سعادت سے محروم رہے۔؟ نہ نبی اکرم نے حکم دیا کہ میری یہ یہ سنتیں لکھ کر رکھ لینا اور نہ ہی اللہ تعالی نے اہتمام کیا کہ رسول اکرم کی سنتیں بھی ریکارڈ کرنی ہیں۔ نہ ہی ان سنتوں کو ریکارڈکرنے کا حکم دیا۔۔ جس طرح اللہ تعالی نے قرآن حکیم کے لفظ لفظ اور اعراب اعراب کی حفاظت کی ہے وہ حفاظت کیا ان کتب روایات کی بھی ہوئی؟ ترقیم، ترتیب، متن، تعداد ہی وہ پیمانہ ہے جس سے آج ہم قرآن کی درستگی کا تعین کرتے ہیں۔ یہ معاملہ آپ جانتے ہیںکہ ان کتب وایات کے ساتھ نہ رہا۔ ہم اللہ کے بزرگ ترین رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے توقع ہی نہیںرکھ سکتے ہیں کہ وہ خلاف قرآن کو ئی عمل یا کوئی بات کہیں گے ۔۔۔ وہ روایات جو قرآن کی روشنی میں درست ہیں ، کچھ کم نہیں اور صاحب یہ ایک لامتناہی الوہی حکمت سے بھرپور ہیں۔ آپ کو ایک بہت ہی سادہ سی مثال دیتا ہوں ۔۔۔ رسول اکرم کا فرمان چاند دیکھنے کے بارے میں دیکھئے۔ کہ چاند کا دکھائی دینا ضروری قرار پایا روزہ عید وغیرہ کے لئے۔ یہ ہم آج جان رہے ہیں کہ ایک طول البلد پر ضروری نہیں کہ اگر ایک جگہ چاند نظر آئے تو اوپر کے عرض البلد پر بھی نظر آئے۔ بناء لامتناہی حکمتِ الہی کے یہ حقیقت انسانی عقل 1400 سال پہلے کس طور جان پائی ، یہ بذات خود ایک بڑا سوال ہے۔ سنت رسول پرنور ، آپ دیکھیںگے کہ نہ صرف حکمت و منطق ، عقل و دانش کے عصری تقاضوں پر پوری اترتی ہے ۔ وہاں وہ کبھی خلاف قرآن نہیں ہوتی۔۔ کسی بھی روایت کو قرآن کے احکامات کی روشنی میں دیکھئے اس کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔ صحیح سنت رسول چاہے وہ کسی بھی کتاب میں ہو اس پر میرا ایمان ہے، اس لئے کہ رسول اکرم پر میرا ایمان ہے۔ حضور پرنور کے ہر فرمان اور ہر عمل پر آمنا و صدقنا کہتا ہوں۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 26-11-09 at 11:02 AM. |
|
|
|
|
|
#44 | ||||||
|
Senior Member
![]() |
سلام علیکم،
اقتباس:
بھائی قرآن پر تو اس لئے یقین ہے کہ اس پر ایمان ہے۔ ایمان کے لئے کسی ثبوت اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ کیا کامل کتب روایات پر بھی ایمان رکھنا ہے؟ کہ ان کتب میں کوئی شک نہیں؟ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
میں کسی بھی امام پر الزام نہیں لگا رہا۔ بالکل نہیں ۔۔ ایسا ممکن ہی نہیںکہ ان اماموں نے کوئی برا کام کیا ہو اور ان کو مسلمانوںنے اتنا زبردست اعزاز دیا ہو۔ یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان اماموں کی اصل کتب نہ دستیاب ہیں اور نہ ہی یہ دشمنان اسلام کی کاروائی سے بچی ہیں۔ پچھلے ہزار سال میں کیا کچھ ہوا ہے اس کا کوئی ریکارڈہی نہیں تو پھر بندہ کیا کرے؟ اس کا صرف یہ علاج ہے کہ فرمان ِ رسول اکرم کو مانا جائے۔ کہ سنت و حدیث ، قول و فعل رسول اکرم خلاف قرآن نہیں ہوسکتے ۔ اقتباس:
اقتباس:
والسلام |
||||||
|
|
|
|
|
#45 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوستو یہاں تو معرکہ بپا ہو گیا ہے۔ البتہ اس معرکے کے دوران تمام ساتھیوں نے نہایت قیمتی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔اس لیے ان کا شکریہ تو لازم ہے۔
قربانی کے کچھ احکام تو حجاج کرام کے لیے خاص ہیں۔ اور جو قربانی ہم انجام دیتے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو یاد رکھنے کے لیے انجام دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ اس طرح فرض تو نہیں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت ابراہیمی کے تمام گوشوں کو تاکید اور اہتمام سے ادا کیا ہے۔ مثلا داڑھی،قربانی، ختنہ،بغل اور زیر ناف بالوں،ناخنوں کا تراشنا،بچے کی پیدایش پرعقیقہ وغیرہ وغیرہ۔اس لیے تمام مسلمان ان سنتوں کو اہتمام سے ادا کرتے ہیں۔ خصوصی حالات میں اگر قربانی انفرادی طور پر ممکن نہ ہو تو صرف سربراہ مملکت بھی تمام لوگوں کی طرف سے اس سنت کو ادا کر سکتا ہے۔
__________________
عابد |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| 9/11, color, فرض, واقعات, قرآن, قرآنی, نظر, مکہ, آج, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, حدیث نبوی, دل, درخواست, زندگی, سیرت نبوی, سردار, علم, علماء, عادل, عبداللہ, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 14-08-09 12:01 AM |