| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
میری بچپن کی یادوں پر مشتمل یہ مضمون میری پچھلی تحاریر کا تسلسُل ہے۔ آپ سے اِن پر تنقید و توصیف کی گذارش ہے۔
شکریہ ، و السلام علیکم! اس سلسلے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں: وہ کاغذ کی کشتی! اس سلسلے کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں: وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ" اس سلسلے کا تیسرا حصہ پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں: وہ کاغذ کی کشتی! "تیسرا حصہ" میرے زندگی کے ابتدائی سالوں کی کچھ شخصیات ایسی ہیں جو بوجوہ اب تک بُھلائے نہیں بھولتیں۔ مثلا ۱۔ عمیر ( میرے بچپن کا دوست) ۲۔ دل تراش( ایک ہیجڑا) ۳۔ کنوارے بابا (ایک حکیم صاحب) ۴۔ خالو پھوپھا (عُرفیت تبدیل کردی ہے) ۵۔ منظر عابدی (میرے ٹیوشن کے اُستاد اور دوست) پچھلی مرتبہ میں نے عمیر کے بارے میں کچھ باتیں کیں تھیں۔ آج کی گفتگو دل تراش کے نام! کورنگی نمبر ایک کے سیکٹر "ایس" میں ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں پر ہیجڑے رہا کرتے تھے اور اُن کے گرو کا نام تھا "دل تراش"۔ دل تراش اپنے نام کے بالکل برعکس تھے ، درمیانہ جسم،لمبا قد، اور قدرے سیاھی مائل سانولی رنگت،۔ اُنھیں ہمیشہ گھاگرا پہنے ہوائے دیکھا جاتا تھا۔ ہاتھوں میں کلائیوں تک چوڑیاں، ناک میں نتھ، کانوں میں بڑے بڑے بُندے، انگلیوں میں انگوٹھیاں، پاﺅں میں پاذیب، غرض یہ کے وہ قدیم ہندستانی خاتون کی ایک جیتی جاگتی مثال تھے۔ گھر سے بہت کم نکلتے تھے مگر جب بھی نکلتے تو سولہ سنگھار کئے ہوئے۔ دائیں بائیں اور پیچھے چیلوں کی بارات اُن کے ہمراہ ہوتی تھی ، دور سے ہی معلوم ہوجاتا کے آج "دل تراش" آ رہے ہیں۔ علاقے کے لوگ اُن کی دل سے عزت کرتے تھے اور خواتین بھی عزت سے پکارتی اور اپنے گھروں میں بیٹھایا کرتیں تھیں۔ اکثر خواتین اُنھیں "اماں" کہہ کر پکارتی تھیں۔ وہ خواتین کے ذچگی سے مسائل سے لیکر بکروں کو خصی کرنے تک تمام ہُنر میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ میری "اماں" (دادی) اور اُن کی خاص دوستی تھی۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتے تو ہمارے گھر ضرور آتے تھے۔دروازے سے ہی آواز لگتی " اے بہو پردہ کرلو" اور ہماری امّی جھٹ اپنا گھونگٹ آگے کرلیتیں، اگرچہ خواتین کا اُن سے پردہ نہیں تھا مگر وہ پردے کے بہت قائل تھے، میں نے اُنھیں سرِعام خواتین کو سر پر دوپٹہ نہ اُوڑھنے پر ڈانتے ہوئے دیکھا تھا ، کسی کی مجال نہ تھی کے اُن کے سامنے چوں چرا کرسکے۔ علاقے میں کسی کے یہاں بچے یا بچی کی والادت ہوتی تو باقاعدہ اُنھیں دعوت دی جاتی، تمام محلے والوں کو بُلا یا جاتا اور اُن کے چیلے مل کر وہ ہنگامہ کھڑا کرتے کے سب ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ وہ سب سے اُنچی جگہ بیٹھ کر محض گاتے تھے بجانے والے اور ناچنے والے اُن کے چیلے ہوتے تھے۔ محلے کے نومولود بچوں کی "چڑیا" اُڑانے کے لیئے اُنھی کی خدمات حاصل کی جاتیں۔ نومولد بچے کی ہنسلی اُتر جائے، کوئی بچہ ماں کا دودھ نا پی رہا ہو، کسی کی مالش کرنی ہو وغیرہ وغیرہ درجنوں کام ایسے تھے جو اُن کے ہاتھوں سرانجام پاتے تھے۔ وہ "اماں" (میری دادی) کو "آپا" کہتے تھے جب بھی ہمارے گھر آتے تودونوں باہمی دلچسپی کے اُمور پر گفتگو کرتے رہتے۔ میں اُن سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اُن کے عجیب و غریب لباس کو دیکھتا رہتا، مجھے اُن سے عجیب سی کراہیت آتی تھی، دراصل میں مجھے ذیورات پہنا پسند نہیں اور وہ تھے کے ہر وقت ذیورات سے لدے پھندے رہتے تھے۔ اُن کا سارا ذیور اصلی سونے کا ہے، میں نے محلے کی ایک خاتون کو اپنی امی سے کہتے ہوئے سُنا۔ ایسا نہیں ہے کے وہ تمام لوگوں کے چہیتے تھے ، اُن کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہ تھی۔ اور یہ تھے ہمارے محلے کی مسجد کمیٹی کے ممبران۔ اُن کے خیال میں ایک مرد کا یوں عورتوں میں گُھلنا ملنا درست نہیں۔ پھر ایک دن رات کو وقت تھا ہمارے گھر کا دروازہ پیٹنے کی آواز آئی میں چوں کے دادی سے لپٹ کر سوتا تھا لہذا اُن کے اُٹھنے کے ساتھ میری بھی آنکھ کھل گئی۔ اماں دروازے کے پاس گئی اور پوچھا کون ہے جواب آیا "آپا میں ہوں دل تراش"۔ صبح محلے میں خبر پھیل گئی کے مسجد کے خازان کے یہاں لڑکے کی والادت ہوئی ہے۔ پھر معلوم نہیں کیا ہوا مسجد کے خازان صاحب کو اپنی عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ایک دن اماں نے مجھے دودھ دے کر اُن کے یہاں پہنچانے کو کہا، میں جب اُن کے گھر پہنچا تو دروازہ کُھلا ہوا تھا۔ میں ہلکا سے کھٹکا مار کے اندر داخل ہوگیا، میں نے اندر ایک سادہ سے لمبے آدمی کو نماز پڑھتے پایا، میں گھبرا کے پیچھے ہٹ گیا اور دروازے کے اُوٹ میں چھُپ گیا۔ جب وہ سلام پھر کر اُٹھے تو آواز دی کون ہے میں نے ہاتھ باہر نکال کر کہا دودھ ہے، وہ بولے کیا تیرا نام "دودھ" ہے؟ پھر خود ہی ہنسے اور مجھے کہا اندر آ جا! میں اندر اُن کے مصلے کے قریب کھڑا ہوگیا، اُن کے ماتھے پر بنا سیاہ نشان جو شاید "ٹیکے" کے پیچھے چھُپ جاتا تھا آج صاف نظر آ رہا تھا۔ اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کے مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور مصلہ اُٹھاتے ہوئے بولے ادھر آ، میں چپ چاپ اُن کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا، اُنہوں نے نعمت خانے میں رکھے ہوئے مٹھائی کے ڈبوں میں سے ایک ڈبہ نکالا اور میری طرف بڑھای"لے کھا لے" اور پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر کئی سکے نکالے میں میری قمیص کی جیب میں ڈال دیئے۔ مجھے آج وہ کراہیت محسوس نہیں ہوئی جو اُن کے وجود کا حصہ تھی۔ کچھ دنوں بعد وہ ہمارے گھر آئے تو خاصے کمزور لگ رہے تھے، بولے شاید"پیا" گھر جانے کا وقت آ رہا ہے" اماں اُن کے میاں کون ہیں؟ اُن کے جانے کے بعد میں نے دادی سے پوچھا۔ جواب میں مجھے دادی کے دوہتھتڑ کھانے کو ملے۔ پھر ایک دن صبح صبح محلے میں اُن کے مرنے کا شور اُٹھا، ہیجڑے کا جنازہ دیکھنے کے کئی شوقین اُن کے گھر کے باہر کھڑے تھے، مگر چیلے تھے کے کسی کو اندر جانے ہی نہیں دے تھے۔ میں اپنی اماں کی قمیض کا پلو پکڑے پکڑے گھر کے اندر چلا گیا، ایک چارپائی پر سرخ چادر پر اُن کی میت رکھی تھی۔ وہ اب بھی سولہ سنگھار کئے ہوتے تھے، شاید اپنے "پیا" کے لیئے، میں نے اماں کی آنکھوں میں نمی دیکھی اور ذیرلب کیا پڑھ رہیں تھیں مجھے نہیں معلوم۔ کچھ دن ابو نے بتایا کے مسجد والے اُن کے چیلوں سے گھر خالی کروا رہے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنے مرنے کے بعد گھر مسجد کے نام کرنے کی وصیت کی تھی۔ Last edited by shafresha; 12-05-09 at 02:33 AM. وجہ: چند اعراب کی تصیح |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | skjatala (17-06-11), فیضان صديقی ,سندھ (08-02-10), فیصل ناصر (12-05-09), ھارون اعظم (15-02-10), منتظمین (12-05-09), ایس اے نقوی (12-05-09), ام غزل (12-05-09), ابو عمار (25-12-09), بزم خیال (08-02-10), راجہ اکرام (25-12-09), رضی (24-05-09), عدنان دانی (26-01-10), عروج (14-11-10) |
| کمائي نے shafresha کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 26-01-10 | عدنان دانی | Very Good | 50 |
| 13-05-09 | فیصل ناصر | avilable limit | 5 |
|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#18 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم،
خالو پھوپھا (عُرفیت تبدیل کردی ہے) والے موضوع پر لکھ رہا ہوں جلد ہی پیش کروں گا (میرا جلد تو آپ جانتے ہی ہیں ) ابھی سسٹم نہیں ہے! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (26-01-10) |
|
|
#19 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,334
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاندار تحریر ہے شاہد بھائی
آپ سے درخواست کے کہ آیندہ کویی بھی تحریر یوسٹ کرے تو اس کا لنک مجھے بھیج دیا کرے۔۔۔۔۔۔۔ آج کے بعد ہم آپ کے فین ہوگئے ہے
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (26-01-10), راجہ اکرام (26-01-10) |
![]() |
| Tags |
| ہنگامہ, کمال, گذارش, پسند, وصیت, لوگ, نماز, نظر, مکمل, مسائل, مسجد, معلوم, آج, آدمی, بہترین, بھائی, بچپن, بچوں, تحریر, جواب, حسن, خواتین, خوش, خبر, دوست |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| مایا "ماں "کوسلا م ،اسی فیصدبھارتی کر پٹ ہیں | جاویداسد | خبریں | 0 | 09-09-10 02:04 PM |
| جرمنی کے " اسلامی جہاد یونین " ( Sauerland group ) کے خلاف عدالتی تی کاروائ | ماسٹر مقسود | خبریں | 0 | 22-06-09 03:44 AM |
| cd,cdr,cdrwکیسے کام کرتی ہیں۔"Optical Drives" | arslansun | کمپیوٹر ہارڈ ویر معلومات | 2 | 01-02-09 09:37 AM |