| کیرئر کی راہنمائی آجکل لاکھوں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر تعلیم کے اختتام پر بہت کم اچھی نوکریاں حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد اور راہنمائی کے لیے... |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سماجی اور فلاحی کارکن
سماجی اور فلاحی کام سے مراد ہے لوگوں کو ان کی روز مرہ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے میں ان کی مدد کرنا۔ ان مشکلات و مسائل کا تعلق کئی چیزوں سے ہو سکتا ہے جیسے ذہنی اور جسمانی معذوری، بڑھاپے میں درپیش مسائل، ذہنی ہم آہنگی کا فقدان، قانون کے ساتھ ٹکراﺅ، بے روزگاری اور ناداری وغیرہ۔ چونکہ موجودہ طرز زندگی کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں لوگوں کے سامنے طرح طرح کے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس لیے سماجی اور فلاحی کام کرنے والوں کی ضرورت بھی زیادہ سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔یہ کارکن مختلف اسباب جیسے بیماری، غریبی، معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی کے فقدان، گھر یا دفتر وغیرہ میں بحران، سماج دشمن رویے، زندگی کی پابندیوں وغیرہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور تکالیف کا رفع کرنے اور ان کی روک تھام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان میں سماجی اور فلاحی کام ایک پیشے کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ روزمرہ کی زندگی کی پیچیدگیوں، مشترکہ خاندان کے بکھراﺅ سے ظہور میں آنے والے شوہر، بیوی اور بچوں پر مشتمل محدود خاندانوں اور دیگر اثرات کی وجہ سے روزبروز نئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مختلف اقسام کے نفسیاتی دباﺅ، جرائم اور جسمانی و ذہنی معذوریوں کے بڑھتے ہوئے دائرے کے سبب ایسے افراد کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو آگے آ کر ذہنی و جذباتی دباﺅ اور مصائب وآلام سے لوگوں کو راحت دلانے کا کام کر سکیں۔ سماجی کام کے مطالعے کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ عمرانیات، نفسیات،انسانی نشوونما اور ترقی، شادی بیاہ اور خاندان، معاشیات،تعلیم، حیاتیات اور جرائم وغیرہ جیسے مضامین اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ چنانچہ سوشل ورک کا مطلب مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے ان علوم کو بروئے کار لانا ہے۔ بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیاں سماجی اور فلاحی کارکنوںکی مدد لے رہی ہے۔ سوشل ورک عام طور پر تین سطحوں پر کیا جاتا ہے۔ پہلی انفرادی سطح جسے کیس ورک بھی کہا جاتا ہے،دوسری سطح یعنی گروپ ورک اور تیسری سطح یعنی ”کمیونٹی آرگنائزیشن ورک“ سوشل ورکر عام طور پر کسی ایجنسی کے ساتھ ان تینوں میں سے کسی ایک سطح پر کام کرتے ہیں۔ انفرادی سطح پر یا کسی کیس پر کام کرنے والے سوشل ورکر کسی فرد یا خاندان کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرتے ہیں۔ دفتر یا گھر میں جا کر ملاقاتیں کرتے ہیں، اسپتال میں کام کرتے ہیں یا گھر پر، اسکول اور خصوصی اداروں میں بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اجتماعی سطح پر کام یا گروپ ورک میں عام طور پر خصوصی گروپوں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ جیسے معمر افراد، معذور افراد، سماجی و معاشی گروپوں کے لوگ، مزدور اور سماج دشمن رویہ رکھنے والے افراد وغیرہ۔کمیونٹی ورک میں کسی پوری کمیونٹی یا فرقہ کو در پیش مسائل کا تجزیہ کرنے اور ان کے ممکنہ حل تلاش کرنے کا کام شامل ہے۔ اس میں کمیونٹی کی تعلیم یا پوری کمیونٹی کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ عام طور پر سوشل ورکر کو ان تینوں سطحوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔ کام کی نوعیت کا تعین عموماً وہ ایجنسی یا تنظیم کرتی ہے جس کے ساتھ سوشل ورکر وابستہ ہوتا ہے۔ اسکولوں میں کام کرنے والے سوشل ورکر طلبہ، اساتذہ اور والدین کے ساتھ کام کرتے ہیں ان کا سب سے اہم کام اسکول اور گھر کے درمیان خلا کو پر کرنا ہوتا ہے جس سے بچے کو بہترین نتائج حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ سوشل ورکر طلبہ کے مسائل کی نشاندہی کر کے انھیں حل کرنے میں طلبہ کی مدد کرتے ہیں۔ یہ بالخصوص طلبہ کے جذباتی رویوں سے متعلق مسائل حل کرنے میں مدد کرتے ہیں اور اس غرض سے بچوں کے والدین اور اساتذہ سے مل کر ان مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اساتذہ اور والدین کو بھی مشورے دیتے ہیں جن سے انھیں طلبہ کی دلچسپیوں کو فروغ دینے اور ان کے کیرئیر سے متعلق امکانات تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ابتدائی اسکولوں میں یہ سوشل ورکر اپنے مشوروں سے بیشتر ذاتی اور سماجی مسائل حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسکول سوشل ورکر طلبہ کے لیے کمیونٹی پروگرام منعقد کرتے ہیں تاکہ ان میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت فروغ پا سکے۔ بعض اوقات سوشل ورکر سنجیدہ مسائل میں مبتلا بچوں اور والدین کو ان کے مسائل حل کرنے کے لیے دوسری ایجنسیوں کے پاس بھی بھیجتے ہیں۔ میڈیکل سوشل ورکر شدید، پرانی اور لا علاج بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور ان کے گھر والوں کو حالات کا سامنا کرنے اور مریضوں کی صحت یابی یا بحالی کی راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔وہ کینسر، ایڈز، ٹیبی اور کوڑھ جیسی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے کنبوں کے لیے مددگار گروپ بھی تیار کرتے ہیں۔ صحت یاب ہونے والے مریضوں اور طویل بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو صلاح ومشورے اور ہدایات دینا بھی ان کے کام میں شامل ہے۔ میڈیکل سوشل ورکر بالخصوص کینسر اسپتالوں اور دیگر اسپتالوں کے متعلقہ شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں شدید بیماریوں میں مبتلا مریض زیر علاج ہوتے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو بیشتر اسپتالوں میں سوشل ورکر رکھے جاتے ہیں تاہم ہندوستان میں عام طور سے ایسا نہیں ہوتا۔ جب کوئی شخص مستقل طور پر کسی معذوری کا شکار ہوتا ہے یا اپنی مرضی کے مطابق ایک نارمل انسان کی طرح چلنے پھرنے اور کام کرنے سے معذور ہوتا ہے تو اس صورت حال کا سامنا کرنے میں اسے بڑی دشواری پیش آتی ہے۔ میڈیکل سوشل ورکر حالات کا مقابلہ کرنے میں ان لوگوں کی مع اہل خانہ مدد کرتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کے میدان میں کام کرنے والے سوشل ورکر کو دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اول وہ سوشل ورکر جو بچوں کی رہنمائی کرنے والے اسپتالوں میں کام کرتے ہیں اور دوئم وہ سوشل ورکر جو نفسیاتی امراض کے شعبوں یا اسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔ چائلڈ گائڈینس کلینک میں سوشل ورکر، نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نفسیات کی ٹیم ذہنی پریشانیوں کے شکار بچوں اور نوجوانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ان میں سے بیشتر مریض ڈاکٹروں کے ذریعے بہ غرض علاج بھیجے جاتے ہیں اور ان میں عام طور پر وہ بچے اور نوجوان شامل ہوتے ہیں جن کا رویہ نا پسندیدہ ہوتا ہے یا جن میں سماج سے ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے، یا جو کسی خوف کا شکار ہوتے ہیں یا سماج سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں یا ایسے بچے جنھیں سیکھنے میں مشکلات در پیش آتی ہیں جن کے سبب وہ یا تو پڑھائی میں پچھڑنے لگتے ہیں یا اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں۔ سوشل ورکر ایسے بچوں یا نوجوانوں کے کنبے کے ساتھ گھل مل کر اس مسئلے کے اسباب کا پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہےں تاکہ اس کے حل میں مدد مل سکے۔ بعض معاملات میں سوشل ورکر اساتذہ اور تعلیمی نفسیات کے ماہرین سے بھی رجوع کرتے ہےں۔ نفسیاتی امراض کے اسپتالوں میں سوشل ورکر مختلف قسم کے مریضوں کے گروپ سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ان مریضوں میں عمر رسیدہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑھاپے میں پیدا ہو جانے والے ذہنی اور دماغی خلل یا افسردگی کا شکار ہوتے ہیں یا نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ سوشل ورکر مریضوں کی کیس شیٹ لکھتے ہیں اور اس دوران نئے مریضوں کو جانچنے، ان کے مرض کی تشخیص کرنے اور ان امراض کے اسباب تلاش کرنے میں نفسیاتی معالج کی مدد کرتے ہیںاور مریضوں کے علاج کے دوران ان کی صحت یابی میں مدد کرتے ہیں۔ کمیونٹی سوشل ورکر ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں جنھیں اجتماعی طور پر کسی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں ایسے گروپ آتے ہیں جن کے پاس مناسب رہائش نہیں ہے یا جو بے روزگاری کا شکار ہیں یا مقامی سہولیات سے محروم ہیں یا جو کسی فرقے میں اقلیت میں ہونے کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ہیں۔ کمیونٹی سوشل ورکر ایسے لوگوں کو در پیش حالات میں بہتری لانے کے لیے کام شروع کرتے ہیں یا اس کام میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے وہ اپنی معلومات، پیشہ ورانہ روابط اور وسائل سے کام لیتے ہیں۔ سوشل ورکر بعض اوقات سماجی پالیسی پر اثر انداز ہونے اور سہولیات اور مراعات سے محروم لوگوں کے لیے وسائل فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کمیونٹی سوشل ورکر شہری اور دیہی علاقوں میں اور قومی یا بین الاقوامی تنظیموں کے لیے بھی کام کر تے ہیں۔ ہر ملک میں جیل خانے، اصلاح خانے، ریمانڈروم ہوتے ہیں اور جرائم اور قانون شکنی کو روکنے کے لیے پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ سوشل ورکر کو ان میدانوں میں بھی کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ سماج دشمن کے رویے کے سدباب کے لیے مثبت سماجی فضا ہموار کر سکے۔ جرم و انصاف کے میدان میں کام کرنے والے سوشل ورکر عدالتوں کو اپنی سفارشیں پیش کرتے ہیں اور قیدیوں اور ان کے کنبے والوں کے لیے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ وہ پیرول یا مشروط رہائی پائے ہوئے افراد کے لیے بھی اسی قسم کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان دنوں سوشل ورکر صنعتی اور تجارتی اداروں کے عملے سے متعلق شعبوں کا لازمی جزو بن گئے ہیں۔ نجی اور سرکاری زمروں میں صحت مند صنعتی ماحول قائم رکھنے کے لیے ملازمین کی فلاح و بہبود پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سوشل ورکر عملے کے منتظمین کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ مختلف پروگراموں کے تحت ملازمین اور مزدوروں کو ان کے کام سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور ذہنی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تعلیمی اور تربیتی پروگرام بھی بناتے ہیں اور مزدوروں کو خصوصی کمیونٹی پروگراموں میں حصہ لینے کے لیے بھی بھیجتے ہیں۔ سوشل ورکر عوامی بہبود کی ایجنسیوں، سماجی خدمات کی نجی تنظیموں، بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں، اسپتالوں، اسکولوں اور بحالی کے مراکز میں کام کرتے ہیں۔ سوشل ورک (MSW)میں ایم اے کرنے کے بعد صنعتوں یا کمپنیوں میں عملے کے نگراں افسر یا مزدوروں کی بہبود کے افسر کی حیثیت سے ملازمت مل سکتی ہے۔ کچھ طبی سوشل ورکر بالخصوص نفسیاتی علاج کے صلاح کار کی حیثیت سے نجی پریکٹس کرنا پسند کرتے ہیں۔ سوشل ورک میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تقریباً 90فیصد امیدواروں کو معقول ملازت مل جاتی ہے۔ وہ سرکاری اداروں، جیل خانوں، اسپتالوں اور فلاحی کام کرنے والی ایجنسیوں اور رضا کار تنظیموں میں کام کرتے ہیں۔ خصوصی مہارت کے شعبوں میں بھی ملازمت کے مواقع موجود ہیں۔ جو طلبہ علم جرائم اور اصلاحی کاموں میں خصوصی مہارت حاصل کر لیتے ہیں انھیں جیل خانوں اور ان سرکاری محکموں میں ملازمت مل جاتی ہے جن کے ذمے اصلاح کا کام ہوتا ہے۔طبی اور نفسیاتی سماجی کام میں خصوصی مہارت کے حامل امیدوار شفا خانوں، اسپتالوں، مرکز صحت، بچوں کی رہنمائی کے مطبوں، صلاح کاری کے مراکز، دماغی اسپتالوں، طبی کالجوں اور عوامی صحت کے مراکز وغیرہ میں ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ کمیونٹی کی ترقی میں خصوصی مہارت رکھنے والے سوشل ورکر کمیونٹی گروپوں، سرکاری اور رضا کار تنظیموں اور کمیونٹی کے مقامی رہنماﺅں کے ساتھ فیلڈ ورک کرتے ہیں جس کا مقصد منصوبہ بند تبدیلی کے ذریعے کسی مخصوص کمیونٹی کی فلاحی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ زندگی کے بڑھتے ہوئے تناﺅ، دباﺅ اور ذہنی اعتبار سے پسماندہ اور معمر افراد کی دیکھ بھال کی جانب بڑھتی ہوئی توجہ کی بدولت سوشل ورکر کی زیادہ سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی جسمانی معذوریوں اور نقائص کی شکار ہے کہ ان کے لیے بغیر کسی سہارے یا مدد کے گھر میں رہنا دشوار ہوتا ہے۔ دولت کی فراوانی کے سبب لوگ اپنے ذاتی مسائل میں پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کے لیے پیسہ دینے کو تیار ہےں۔ چونکہ سوشل ورکر کی مانگ ان کی دستیابی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اس لیے ان کی تنخواہیں بھی بڑھ رہی ہیں لیکن تعلیمی لیاقت کی سطح پر تجربے اور کام کی نوعیت کے مطابق تنخواہوں میں فرق ہوتا ہے۔ اس میدان میں کامیاب ہونے کے لیے جن صلاحیتوں اور ذاتی خصوصیات کی ضرورت ہے ان میں جذباتی ٹھہراﺅ،صبر کا مادہ، عزم و ارادہ اور سب سے زیادہ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے سچی لگن شامل ہیں۔سوشل ورکر میں مختلف پس منظروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کام کرنے اور انسانی ذہن کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔کسی غیر ملکی زبان کی واقفیت اس میدان میں بہتر ملازمت حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ بیشتر ملازمتوں کے لیے کم از کم تعلیمی لیاقت بی اے کی ڈگری ہے۔سوشل ورک (BSW) میں بی اے کی ڈگری کے علاوہ نفسیات، سماجیات اور متعلقہ مضامین میں انٹر گریجویٹ کورس کرنے والے امیدوار بھی بعض ایجنسیوں، بالخصوص چھوٹی کمیونٹی ایجنسیوں میں ملازمت کی شرائط پوری کرتے ہیں۔ سوشل ورک (MSW)میں ایم اےکرنے کے لیے عام طور سے بی ایس ڈبلیو ہونا ضروری نہیں ہے۔ معاشیات، نفسیات، حیاتیات، سماجیات، سیاسیات اور تاریخ میں بی اے کی ڈگری رکھنے والے امیدوار بھی ایم ایس ڈبلیو میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ اس میدان میں تعلیم دینے والا ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، دیونار پوسٹ آفس 8313، سائن ٹرامبے روڈ، ممبئی۔400088،ایک سر کردہ ادارہ ہے۔ یہاں سے سوشل ورک میں ایم اے کیا جا سکتا ہے جس کے ساتھ علم جرائم اور اصلاحی انتظامیہ، کنبے اور بچوں کی فلاح و بہبود، طبی اور نفسیاتی سماجی کام اور شہری اور دیہی کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں خصوصی مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی سے بھی سوشل ورک میں بی اے اور ایم اے کیا جا سکتا ہے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | رفیع انجم (23-07-10) |
![]() |
| Tags |
| color, پوسٹ, پسندیدہ, موجودہ, مقابلہ, منصوبہ, مسائل, مسائل،, بہترین, بچوں, تلاش, جیل, جرم, حل, خصوصی, زندگی, سماجی اور فلاحی کارکن, شخص, علاج, صلاحیت, صلاحیتوں, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|