سینٹرل کنٹریکٹ ،شعیب اختر فہرست سے خارج؟ نام کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا
سینٹرل کنٹریکٹ ،شعیب اختر فہرست سے خارج؟ نام کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا
سینٹرل کنٹریکٹ ،شعیب اختر فہرست سے خارج؟ نام کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا
کراچی (عبدالماجد بھٹی/اسٹاف رپورٹر) پی سی بی گورننگ بورڈ کے اہم ترین اجلاس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے متنازع فاسٹ بولر شعیب اختر کے نام کے گرد ”سرخ دائرہ“ لگادیا ہے اور وہ شدید ترین خطرات سے دوچار ہیں کہ انہیں سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم کردیا گیا ہے۔ 25/جنوری کو کراچی میں گورننگ بورڈ کا جلاس ہورہا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ اس بار کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا حصول آسان نہیں ہوگا۔انٹرنیشنل کیریئر کے دوران فٹنس کے مسائل اور تنازعات کی زد میں رہنے والے شعیب اختر کے بارے میں پی سی بی کے حکام نے اپنی ابتدائی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ بھارت کے دورے میں منیجر طلعت علی کی رپورٹ کی بنیاد پر 32سالہ فاسٹ بولر کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں اس بار سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے بورڈ نے سخت پالیسی تیار کی ہے۔ محمد حفیظ، محمد سمیع، عمران نذیر اور فیصل اقبال یاسر حمید کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم کیا جاسکتا ہے جبکہ لیگ اسپنر دانش کنیریا کی تنزلی کردی جائے گی۔ دوسری طرف مصباح الحق یاسر عرفات اور راؤ افتخار انجم کو اگلے گریڈ میں ترقی دے دی جائے گی۔ شعیب اختر پاکستان کی جانب سے 46ٹیسٹ میں 178 وکٹیں لے چکے ہیں جبکہ 138ون ڈے انٹرنیشنل میں 219کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ قومی سلیکشن کمیٹی نے سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 31کھلاڑیوں کی فہرست پی سی بی کے حوالے کی ہے۔ اس میں کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کے نام شامل ہیں جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ خاص طور پر قائداعظم ٹرافی میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف سے اسلام آباد میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے شعیب اختر کے نام پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کیس گورننگ بورڈ کے سپرد کردیا گیا ہے۔ اس لیے آپ 25/جنوری تک انتظار کریں لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اس بار سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے پرانا فارمولاہی اختیار کیا جائے گا لیکن کھلاڑی آسانی سے سینٹرل کنٹریکٹ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ہم نے معاہدہ دینے سے قبل کھلاڑیوں میں مقابلے کی فضا پیدا کی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی کے علاوہ ان کی سینیارٹی، ڈسپلن اور فٹنس کوبھی سامنے رکھا جائے گا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کتنے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ ملے گا۔ لیکن اس مرتبہ صرف ان کھلاڑیوں کے ناموں پر غور ہوگا جو ہر وقت قومی ٹیم کے لیے دستیاب ہوں۔ گراؤنڈ میں فٹ ہونے کے ساتھ ساتھ سینٹرل کنٹریکٹ کے مستحق ہوں۔ ماضی کی طرح خانہ پری کرتے ہوئے مخصوص 20کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کے پالیسی ترک کردی گئی ہے۔ معاہدے کے دوران کھلاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی جو ا س معاہدے کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں۔ 12سے 15کھلاڑی یقینی طور پر سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کریں گے۔ ان میں بعض نئے چہرے شامل ہوں گے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ناکام کھلاڑیوں اور ڈسپلن توڑنے اور ان فٹ رہنے والے کھلاڑیوں کو معاہدے سے محروم ہونا پڑے گا۔ جبکہ اچھی کارکردگی دیکھانے والوں کو اگلے گریڈ میں ترقی دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم ناموں پر غور کررہے ہیں اور گورننگ بورڈ کے ختمی منظوری اور مشاورت سے یہ فہرست تیار کی جائے گی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ گزشتہ سینٹرل کنٹریکٹ کارکردگی سے مشروط تھا۔ اس لیے سینیارٹی کے 20 فیصد نمبر تھے۔ 80فیصد نمبر کارکردگی، ڈسپلن اور فٹنس کے تھے۔ نئی فہرست مرتب کرتے ہوئے ان نمبروں کو سامنے رکھا جائے گا۔ جس کے تحت کھلاڑیوں کی تنزلی اور ترقی ہوگی۔ آئندہ کھلاڑیوں کو اس فہرست میں آنے کے لیے ایک دوسرے سے سخت مقابلہ کرنا ہوگا۔ پی سی بی کے ذمے دار ذرائع کے مطابق نئی فہرست میں کپتان شعیب ملک، محمد یوسف، یونس خان، کامران اکمل، مصباح الحق، محمد آصف، عمرگل، راؤ افتخار انجم، دانش کنیریا، سلمان بٹ اور یاسر عرفات کی جگہ پکی ہے۔ شاہد آفریدی کی بھی تنزلی کا امکان ہے۔ ان میں سے کئی کھلاڑیوں کی تنزلی بھی ہوسکتی ہے۔ البتہ دیگر کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے کا شدید خطرہ ہے۔ جن کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم کیا جاسکتا ہے ان میں شعیب اختر، فیصل اقبال، یاسر حمید، محمد سمیع، محمد حفیظ اور عمران نذیر قابل ذکر ہیں جبکہ گزشتہ فہرست سے عبدالرزاق اور عمران فرحت نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔ آل راؤنڈر سہیل تنویر اور وکٹ کیپر سرفراز احمد کو بھی معاہدہ مل سکتا ہے۔ پی سی بی نے 20 کھلاڑیوں کو اے، بی اور سی کیٹگری کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ دیے تھے۔ نئے معاہدوں کا اعلان یکم جنوری سے ہوگا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|