| کمپیوٹر سیکورٹی کمپیوٹر سیکورٹی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
انٹرنیٹ کے نقصانات اوران سے بچنے کی تدابیر انٹرنیٹ جسے سائبر ورلڈ، سائبروے، انفارمیشن سوپر ہائی وے وغیرہ مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، دراصل کمپیوٹروں کے ایک مربوط جال کا نام ہے جو ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور جو چند مخصوص پروٹوکولس اور پروگرامس کی بنیاد پر اصطلاعات کی ترسیل کرتا ہے۔ اس جال (نیٹ ورک) سے جرے کمپیوٹر، اطلاع حاصل کرتے ہیں اور چند ضوابط کی پابندی کے ساتھ حاصل کردہ اطلاعات کی ترسیل کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ایجاد 1960 کے دہے میں امریکہ کے دفاعی محکمے نے کی۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ سروس کا آغاز VSNL (ودیش سنچار نگم لمیٹڈ) نے 15اگست 1995 کو کیا۔ اس وقت ہندوستان میں اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد 25ملین سے زیادہ ہے۔ دس گیارہ سال کے عرصے میں زندگی کے ہر شعبے میں اس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم، تجارت اور سیاست ہر جگہ اس سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اربابِ حل و عقد کی مسلسل کوششوں سے کمپیوٹر خواندگی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ نئی نسل اس کرشماتی ٹیکنالوجی کو خوب استعمال کررہی ہے۔ انٹرنیٹ کے فوائد اور اس کی فراہم کردہ سہولتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک مفید ایجاد ہے لیکن غلط استعمال سے ایک مفید ذریعۂ معلومات خرابیوں کا سرچشمہ بھی بنتا جارہا ہے۔ اس سے گوناگوں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے برے اثرات سے بچنے کی تدابیر نہیں کی گئیں تو انسانیت کو زبردست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والی برائیوں کی فہرست طویل ہے۔ ان میں پورنوگرافی (Pornography) سرفہرست ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتی ہے۔ جنسی جذبات کی برانگیختگی اور جذبۂ ثبوت کی تسکین کا سامان نوجوان انٹرنیٹ سے حاصل کرتے ہیں۔ ’’فرینڈ شپ کلب‘‘ بھی جنسی خواہشات کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہیں۔ ’’ویب کیمرہ‘‘ کے ذریعے زنا تک کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ’’آن لائن قحبہ گری‘‘ کا پیشہ بھی چلایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ وغیرہ سے مجازی جنسی عمل (Virtual Sex) کرتے کرتے حقیقی عمل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً زنا کی کثرت ہوجاتی ہے۔ طلب لذت اور تسکین شہوت کے لیے جنسی عمل کا رجحان بڑھتا ہے تو خاندان تباہ ہوجاتے ہیں۔ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی عبرت ناک مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جنسی بے راہ روی، ذہنی سکون اور قلب کا اطمینان چھین لیتی ہے۔ اس طرح کی برائی میں ملوث افراد ڈپریشن (Depression) کا شکار ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات خودکشی کی نوبت آجاتی ہے۔ شہوت اور نفسانی خواہشات کا ذہن پر جب ہر وقت دباؤ رہنے لگتا ہے تو قوت فکر متاثر ہوتی ہے اور ذہنی استعداد میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ ذہن پر فحاشی کے مسلسل حملے سے طلبہ احساس محرومی (Frustration) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چڑچڑے پن کا غلبہ ہوتا ہے جس سے ماں باپ اور اساتذہ کے ساتھ بدتمیزیاں کر بیٹھتے ہیں۔ پورنوگرافی اور حیاسوزلٹریچر کے علاوہ انٹرنیٹ سے پھیلنے والی اور بھی برائیاں ہیں جنھیں سائبر کرائم (Cyber Crimes) کہا جاتا ہے۔ سائبر جرائم کا مختصر ذکر ذیل کی سطور میں کیا جارہا ہے۔ ہیکنگ (Heaking): اس کا مطلب ہے کسی کمپیوٹر سسٹم یا نیٹ ورک میں غیر قانونی مداخلت۔ ہر وہ عمل جس سے کمپیوٹر یا نیٹ ورک کے داخلی نظام میں تخریب کی جائے ہیکنگ کہلاتا ہے۔ یہ تخریبی کوششیں ذاتی منفعت کے لیے کی جاتی ہیں مثلاً کسی شخص کے کریڈٹ کارڈ کی جانکاری حاصل کرکے اس کے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم ہڑپ کرلینا وغیرہ۔ بچوںکا جنسی استحصال: چائیلڈ پورنوگرافی ایک ایساسنگین جرم ہے جس کی سنگینی کو ہر شخص تسلیم کرتا ہے۔ انٹرنیٹ بچوں کی دسترس میں آجانے کی وجہ سے بچے سائبر جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بچوں میں انٹرنیٹ کے استعمال کی بڑھتی ہوئی عادت سے بچوں سے جنسی تلذذ حاصل کرنے والے مجرمین کے لیے سازگار مواقع بے حد بڑھ گئے ہیں۔ سائبر اسٹاکنگ (Cyber Staking): انٹرنیٹ سروس کا استعمال کرکے کسی فرد کو مستقل ہراساں کیا جاسکتا ہے۔ اسے سائبر اسٹاکنگ کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یہ بہت آسان ہے۔ اسٹاکر (Stalker) انٹرنیٹ کے ذریعے کس فرد کے سلسلے میں تفصیلی معلومات حاصل کرلیتا ہے جسے وہ مختلف ویب سائٹس پر پھیلا کر اسے پریشان اور شرمسار کرتا ہے۔ انٹرنیٹ پر جان سے مارنے کی دھمکی، بدنام کرنا، ہراساں کرنا جیسے اقدام عام ہوگئے ہیں۔ سائبراسکواٹنگ (Cyber Squating): کسی مشہور و معروف تنظیم، ادارے،کمپنی کے نام سے باضابطہ ڈومین نیم (Dimain name) خریدا جاتا ہے اور اس پر گمراہ کن مواد پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے اس کمپنی، تنظیم یا ادارے کی زبردست بدنامی ہوتی ہے۔ اسے سائبر اسکواٹنگ کہا جاتا ہے۔ اس غلط تشہیر کو بند کرنے کے لیے خطیر رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ کی یہ جدید صورت ہے۔ وائرس اٹیک (Virus Attack): وائرس دراصل ایک قسم کا پروگرام ہوتا ہے جو کسی کمپیوٹر یا فائل سے منسلک ہوکر نیٹ ورک کے تحت ایک فائل سے دوسری فائل اور کمپیوٹر میں گردش کرتا رہتا ہے۔ یہ پروگرام کمپیوٹر کے ڈاٹا کو تبدیل یا مکمل طور پر ختم کردیتا ہے۔ اینٹی وائرس سوفٹ ویئر بنانے والی کمپنیاں اور بعض تخریب پسند عناصریہ حرکتیں کرتے ہیں۔ ویب جیکنگ (Web Jacking): ہائی جیکنگ (Hijacking) مشہور اصطلاح ہے۔ ویب جیکنگ اس اصطلاح سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ جرم پاس ورڈ یا کوڈ ہیکنگ کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ جب کسی ویب سائٹ کو ویب جیک کر لیا جاتا ہے تو اس کے مالک کا اس پر مکمل کنٹرول ختم ہوجاتا ہے۔ کس مصروف ڈومین (Domain) کو ہیکرس (Hackers) اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس پر موجودہ معلومات کی بجائے غلط قسم کی انفارمیشن لوڈ کردیتے ہیں۔ اس طرح سائٹ پروزٹ کرنے والوں اور سائٹ کے مالکان کو بے حد ندامت ہوتی ہے۔ اس ڈومین نیم کو واپس کرنے کے لیے ہیکرس خطیر رقم وصول کرتے ہیں۔ ان جرائم کی فہرست طویل ہے اور ان کی تفصیلات کے لیے ایک دفتر درکار ہے اب آئینے دیکھیں انٹرنیٹ کے نقصانات اور خرابیوں سے بچنے کے لیے کیا صورتیں ہیں۔ بعض خالص معاشی نویعت کے جرائم سے بچنے کے لیے معاشی ادارے حفاظتی اقدامات کررہے ہیں لیکن جو مسائل اخلاقی اور معاشرتی نوعیت کے ہیں ان میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔ انٹرنیٹ کے جرائم میں سب سے تباہ کن اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے والا جرم پورنوگرافی ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں ہورہی ہیں۔ فائر والز (Fire Walls) فلٹرز (Filters) تیار کیے جارہے ہیں۔ دنیا بھر کی تنظیمیں اس کے خلاف نبردآزما ہیں۔ ہندوستان میں انڈین آئی ٹی ایکٹ 2000 میں کمپیوٹر کے ماخذ دستاویز میں تخریب، ہیکنگ، فحش معلومات کی برقی ذرائع سے تشہیر، چائیلڈ پورنوگرافی اور کونفیڈنشیل ریکارڈ کو واشگاف کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن ابھی اور قوانین اوران کے سختی سے نفاذ کی ضرورت ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف جو قوانین بنائے جارہے ہیں ان کا تعلق ان جرائم سے زیادہ ہے جو سرمایہ داروں کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔ حیاسوز اور فحش مواد پر روک لگانے کو ’’فری سوسائٹی‘‘ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کی گنجائش کے باوجود کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اگرچہ ہمارے ملک میں الکٹرونک ذرائع سے فحش لٹریچر کے فروغ کو انڈین آئی ٹی ایکٹ 2000 کے تحت جرم قرار دیا گیا ہے لیکن اس کی اثراندازی اور عملی نفاذ کی کوئی شکل نظر نہیں آتی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی اور عریانیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قوانین کافی نہیں ہیں اس کے لیے اخلاقی قدروں کے احترام کے جذبے کو ابھارنا ضروری ہے۔ خواہش نفس کی پیروی کا جذبہ اتنا زبردست ہوتا ہے کہ اسے آسانی سے زیر نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ کی دس گیارہ سالہ تباہ کاریوں کو زیربحث لاکر سماج کو اس کی مزید برائیوں سے بچانے کی فکر کی جائے۔ بشکریہ قومی کونسل بھارت
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
Last edited by عرفان حیدر; 15-01-08 at 01:10 AM. وجہ: انٹرنیٹ کا "ا" |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | Asifk7 (29-01-09), فیصل ناصر (24-10-10), نیلم خان (24-10-10), منتظمین (24-10-10), محمد کاشف حبیب (29-01-09), محمدمبشرعلی (10-06-10), مرزا عامر (24-10-10), ابونعیم (10-01-12), ابوسعد (30-01-11), حیدر شاہ (18-09-10), عرفان حیدر (15-01-08) |
| کمائي نے عبدالقدوس کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 29-01-09 | محمد کاشف حبیب | دستیاب نہیں | 150 |
| 15-01-08 | عرفان حیدر | قابل قدر مضمون | 25 |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,149
شکریہ: 26,780
3,502 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
2 دنیا میں ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ ہم جنس پرستی ہے۔ اور ایسے لوگ خود کشی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جن کا تعلق زنا یا ہم جنس پرستی سے ھو ۔
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شئیرنگ ہے ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| cyber, domain, filters, ہے۔, کارڈ, پسند, ورڈ, نظر, مکمل, موجودہ, ماں, مسائل, انٹرنیٹ, امریکہ, تحریر, جرم, حل, خودکشی, خلاف, زندگی, سیاست, سال, شخص, ضوابط, عقد |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| fring.com کی مدد سے ساری دنیامیں 3G اور WiFi نیٹ ورک پر فلیٹ ریٹ فون کالز | فاروق سرورخان | موبائلز معلومات اور جائزہ | 19 | 08-09-11 12:04 AM |
| پاک نیٹ کی نئی سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ کے لئے بیٹا ٹیسٹرز کی ضورت ہے | زبیر | خاص آفرز اور اعلانات | 20 | 06-05-11 11:12 AM |
| انٹرنیٹ پر لوٹ سیل صرف 100 روپے میں جیپ لایٹ گھڑی اور بہت کچھ | محمد کاشف حبیب | ویب سائٹس کا جائزہ | 10 | 25-08-10 05:04 AM |
| انٹرنیٹ کارڈ کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کریں | پیاسا | خبریں | 7 | 02-07-08 04:43 PM |
| انٹرنیٹ ایکسپلورر کے ایڈریس بار میں سے مخصوص یو آر ایل کو ڈیلیٹ کرنا! | راجہ صاحب | کمپیوٹر کی باتیں | 1 | 18-04-08 04:03 AM |