| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام
قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔ یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔ Understanding Islam - Urdu)) جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں: آیتِ ترجمہ '' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔'' (سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩) اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ: ''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے'' (سورہ ال عمران آیت١٨٥) اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر) اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا (نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں: آیتِ ترجمہ ''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا'' (سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥) (عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے: آیتِ ترجمہ'' یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی'' (سورۃ الاحقاف آیت١٧) اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔ آیت: '' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔'' (سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١) اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ، دیکھئے (تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ مفہوم حدیث: ''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے'' (صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢) نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔ مفہومِ حدیث: ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔'' (صحیح بخاری کتاب الانبیاء) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے'' (سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی) (صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی) مفہومِ حدیث: جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔ تمہید: قرآن مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یہ موضوع بہرحال ایک اخلافی بحث کو جنم دیگا، یہ الگ بات ہے کے اس کے مخالفت میںبولنے لوگ کم ہوں گے!
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، ساھج بھائی ، منکران حدیث ایک نئے انداز میں کام کر رہے ہیں ، جس کو یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ """ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں """ اللہ آپ کو اس محنت کا بہترین اجر عطا فرمائے ، ساھج بھائی و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-10-09), shafresha (03-10-09), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), شھزادباجوہ (08-09-11), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صدیقی بھائی ، اللہ تعالیٰ آپ صاحبان کے نیک مقصد """ اختلاف کو ختم کرنے """ میں آپ کو کامیاب فرمائے ، لیکن میرے بھائی ، اختلاف چھپانے یا دبا دینے سے ختم نہیں ہوتا ، بلکہ ختم کرنے سے ختم ہوتا ہے ، اور اس کے کچھ اسلوب اور طریقے ہیں ، یہ موضوع تو یوں بھی کوئی فروعی فقہی مسئلہ نہیں کی جس سے """ اختلافی """ ہونے کی بنا پر صرف نظر کر لیا جایا ، بنیادی عقائد میں سے ایک مسئلہ ہے ، اگر ہم """ اختلاف """ کے خوف سے ایسے مسائل پر بھی گفتگو نہ کریں گے تو یقین جانیے غامدی اور اس کے مسلک کے سالکوں کی گمراہی کے پھیلنے میں ہمار حصہ بھی ہو گا ، اور پھر اللہ کے سامنے حق بات کرنے سے رکے رہنے کے لیے ، یا حق بات کو دبانے چھپانے کے جرم کی صفائی میں """ اختلاف """ کا عذر کام نہ آئے گا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-10-09), shafresha (03-10-09), کنعان (14-10-09), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), ملک اظہر (23-09-11), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (08-10-09), سحر (04-10-09), شھزادباجوہ (08-09-11), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اُمید ہیں ُآپ بخیر ہوں گے۔ حیات المسیح، عذاب قبر، داڑھی کی شرعی حثیت، دجال کی آمد، شادی شدہ زانی کی سزا رجم، اور حلالہ وغیرھم ایسے مسائل ہیںجن پر علماء کی اختلافی رائے اور فیصلے موجود ہیں۔ یہ مسائل باعتبار فقہی عقائدِ لازمہ نہیں ہیں لہذا ان کی بنیاد پر کسی کو گمراہ اور کافر نہیںقرار دیا جا سکتا۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (04-10-09), کنعان (14-10-09), گوندل (04-01-10), مرزا عامر (10-09-10), بلال الراعی (23-08-11) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
بات تو یہیں پر واضح ہو گئی۔ آپکا بہت شکریہ اس تحقیق کے لیے، اگر غامدی صاحب کو سمجھ نہیںآتی تو یقینن ان کو علما میں سے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-10-09), نبیل خان (08-09-11), ملک اظہر (23-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), سحر (04-10-09), عادل سہیل (04-10-09), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل و رسوا ہونگے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ عمل نہیں کرتے تھے ، محبت اور کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے عمل کرتے کرتے تھک جایا کرتے تھے لیکن یہ دھکتی ہوئی جہنم کی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ۔ بے تحاشا عمل کرنے والے محنتیں اور ریاضتیں کرنے والے ، صبح و شام سفر کرنے والے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے ۔ کیوں ! اس لئے کہ ان کا عمل اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کے مطابق نہ تھا ۔ قرآن و حدیث کے مطابق نہ تھا ۔ اگر عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کو بلا جھجک اور بلا چوں و چراں تسلیم کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہے اور یہی ایمان ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے ، عمل اور منہج کو کتاب و سنت کے مطابق بنا دے ۔ تا کہ ہم قرآن و حدیث کو ہی اپنا مرکز اطاعت ٹھہرا لیں ۔
( آمین ) |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), رضی (10-09-11), سحر (04-10-09), شھزادباجوہ (08-09-11), عادل سہیل (04-10-09) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم بھائی صدیقی صاحب ، الحمد للہ جس نے آپ کی امید مکمل کر رکھی ہے ، نیک تمنا پر شکریہ قبول فرمایے ، صدیقی بھائی ، آپ نے جن معاملات کا ذکر فرمایا ان میں سے حیات المیسح علیہ السلام ، عذاب قبر ، دجال کی آمد تو اسلامی عقائد میں سے ہیں ، اور عقیدے کی فقہ یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اس میں کسی فقہ کواستعمال نہیں کرے گا بلکہ """ یومنون بالغیب """ کے مصداق جو کچھ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا اس پر ایمان لائے گا ، داڑھی کی شرعی حیثیت ، شادی شدہ زانی کی سزا رجم ، اور حلالہ براہ راست عقائد سے متعلق نہیں بلکہ معاملات میں سے اور یہاں وہ فقہ باعث اختلاف بنتی ہے جسے انسانی زندگی کے معاملات سے متعلقہ اسلامی احکام جاننے جانچنے کے کام میں لایا جاتا ہے ، اور ان اختلافات کو بھی اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام کے مطابق ان کی قرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے نمٹایا جانا ہی اختلاف کے خاتمے کا باعث ہو سکتا ہے کچھ بھی اور نہیں ، اس کی خبر ہمیں اللہ تعالی سے چکا ہے ، پس میرے بھائی ، ہر وہ عقیدہ جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خبر سے ثابت ہے وہ ""' عقیدہ لازمہ ""' ہے اور ہر مسلمان کو اس کا التزام کرنا ہی ہے ، اگر کوئی شخص اس عقیدے کی خبر کی سچائی جان کر بھی اس سے اعراض کرتا ہے تو اسے کافر ہی کہا جائے گا ، ((((( و جحدوا بھا و استیقنتھا انفسھم ظلماً و علواً ))))) کسی مسلمان نظر آنے والے کو اتمام حجت ہونے سے پہلے یقینا کافر نہیں کہا جائے گا خواہ وہ کسی کفر میں ملوث بھی نظر آتا ہو سوائے کفر محض کے ، لیکن ایسے مسلمان کو بلا شک و شبہہ گمراہ کہا جائے گا ، اگر یہ بھی گمراہ نہیں تو پھر گمراہ کون ہو گا ؟؟؟ صدیقی بھائی ، آپ کے پیغام کے آخری جملے میں """ فقہی اعتبار سے عقائد لازمہ ""' کی کچھ تشریح کا طلبگار ہوں ، کیونکہ ایسی بات پہلے دفعہ پڑھنے سننے کو ملی ہے کہ عقائد میں سے کسی کا لازمی اور کسی کا غیر لازمی ہونا بھی "" فقہ""" کا مرہون منت ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-10-09), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), Wahid Mahmood (11-11-09), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
کاش میں آپ کی بات کی جواب دے سکتا! مگر مجھے ایک نئی بحث کے چِھڑجانے کا خوف ہے۔ اپنا موقف اپنے پچھلے مُراسلے میںبیان کرچکا ہوں۔ میری دانست میں ایمان مفصل و مجمل میںبیان کردہ چیزوں پر بلا مشروط ایمان کسی انسان کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔ اٰمَنتُ بِاللّٰہِ وَ مَلئِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رَسُلِہِ وَ لیَومِ الاٰخِرِ وَ القَدِر خَیرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالبَعثِ بَعدَالمَوتِ "میں اللّٰہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی اور بری تقدیر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لایا" |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-10-09), فاروق سرورخان (04-10-09), کنعان (14-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
برادران سلام علیکم،
اقتباس:
1۔ حیات المیسح علیہ السلام ، سب سے پہلے درست لفظ المسیح ہے ، المیسح نہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت قرآن میں موجود نہیں کہ عیسی علیہ السلام آسمانوںمیں زندہ ہیں۔ اسی لئے یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ 2۔ عذاب قبر ، حیات بعد الممات پر ایمان قیامت کے دن دوبارا اٹھائے جانے پر ہے نہ کہ قبر میں زندہ رہنے پر، قرآن میں قبر میں زندہ رہنے کے بارے میں کوئی آیت نہیں۔ 3۔ دجال کی آمد تو اسلامی عقائد میں سے ہیں ، دجال کی آمد قرآن سے ثابت نہیں، کوئی آیت یہ نہیں کہتی کہ دجال آئے گا۔ قرآن آیمان لانے کے لئے بہت ہی واضحشرائط رکھتا ہے۔ ان میں سے ایک بھی مندرجہ بالا شرط نہیںہے۔ یہ تمام کے تمام اختلافی مسائیل ہیں جن کا قرآن سے دور دور کا تعلق نہیں ۔ لیکن کچھ حضرات مصر ہیں کہ یہ ایمان کا حصہ ہیں ایمان مفصل کی آئت دیکھئے۔ 2:177 لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں اختلافی عقائد جن کے بارے میں خود لکھنے والے قرآن حکیم سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکتے اسلامی عقائد کس طور بن گئے؟ اللہ تعالی نے اسی سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کے لئے قرآن اتارا۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
آپ سب اہل حدیث کے کہنے کے مطابق، اللہ نے ان کو اوپر اٹھا لیا۔ تاکہ وہ واپس آ سکیں۔ براہ کرم قرآن کی اس آئت کا حوالہ فراہم کیجئے جس میں صراحت اور وضاحت سے یہ کہا گیا ہو کہ عیسی علیہ السلام کو دوبارہ زندہ اتارا جائے گا۔
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
یعنی حدیث رسول کی صراحت قبول نہیںہو سکتی۔؟ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 05-10-09 at 01:48 AM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-10-09), فاروق سرورخان (06-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), عادل سہیل (06-10-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ حیدر بھائی ، سلام مسنون
میں قادیانی نہیں ہوں اور رسول اکرم کے آخری نبی ہونے پر یقین رکھتا ہوں۔ قرآن حکیم کو انسانیت کے لئے اللہ کا فرمان جو کہ رسول اکرم لے کر آئے۔ یہی کتاب میرے لئے ایک مکمل دلیل ہے۔ میری معلومات کے مطاب ، قرآن ان کے واپس آنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کہتا۔ اور اٹھائے جانے والی آیت کو ایک بار پھر دیکھ لیجئے۔ غامدی نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 3:54 إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں متوفی کروں گا اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں سے نجات دلادں گا، اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا کیا یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ پہلے تم کو "متوفی کروں گا" وفات دوں گا اور دوم تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا؟ لفظ متوفی کیا قرآن میں وفات یعنی موت واقع ہوجانے کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے کہ ایک شخص کا وقت پورا ہوگیا، تکمیل ہوگئی، پورا ہوگیا۔ اگر پورا ہوگیا تو باقی کیا بچا؟ اسی طرح لفظ ارفع ، اوپر اٹھانے (موت کی صورت میں ) اور عزت و احترام بڑھانے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ آسمان میں زندہ لے جانے کے لئے صرف اس موقع پر کیوں استعمال ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے لفظ متوفیک موجود ہے۔ اب آپ عیسی علیہ السلام کا ایک اور مکالمہ اللہ تعالی سے دیکھئے: 5:116 وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ اور جب اﷲ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا دو معبود بنا لو، وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے، میرے لئے یہ (روا) نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو یقیناً تو اسے جانتا، تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں۔ بیشک تو ہی غیب کی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے 5:117 مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے عام عقیدہ یہ ہے کہ جب عیسی علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو سب مسلمان ہوجائیں گے اور پھر ان کی وفات ہوجائے گی۔ اس عقیدی کے خلاف اس آیت میں عیسی علیہ السلام فرما رہے ہیں انہوں نے تو سب کو ایک ہی رب کی عبادت کا حکم دیا تھا کہ ان کی وفات کے بعد لوگوں نے عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ ( بلحاظ قرآن سب سے زیاد درجہ میں بلند خاتون) کو خدا بنا کر عبادت شروع کردی۔ اگر عیسی علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی ہے تو پھر عیسائی ، عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کو کو خدا بنا کر عبادت کیوںکرتے ہیں؟ اللہ تعالی کے الفاظ میں عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہی ایسا ہوا، کیا نعوذ باللہ اللہ تعالی اس حقیقت سے واقف نہیں یا بھول گئے؟ ہم کو قرآن میں رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کے وفات کے بعد اوپر اٹھا لئے جانے کا صراحت سے ملتا ہے۔ اور واپس آنے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں تو پھر یہ اسلامی عقیدہ کیسے ہے یا پھر عیسائیوں کے ایمان کا اثر و نفوذ؟ اب اس صورت میں رسول اکرم سے منسوب روایات قرآن کے خلاف کیوں ہیں؟ کیا مسلمان اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ یہی سوال غامدی کا ہے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 06-10-09 at 08:50 AM. |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
آپ نے اپنی منفرد قرآن فہمی استعمال کرتے ہوئے صحیحاحادیث کو رد کرنے کی جو دلیل تراشی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہقرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے لیے "متوفیک" اور "توفیتنی" یعنی وفات کا لفظ استعمال ہوا ہے جو موت کا مترادف ہے لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور اب وہ دنیا میں تشریف نہیں لانے والے ہیں۔ اس قسم کی باتیں وہ شخص ہی کر سکتا ہے جو پہلے سے اپنے ذہن میں ایک عقیدہ بٹھا کرقرآن مجید سے اپنے حق میں دلائل کشید کرنا چاہتا ہو خواہ اس کے لیے اسے صحیح احادیث اور ائمہ امت کی تصریحات سے بے نیاز ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔خیر، یہ آپ کے اپنی مرضی ہے کہ آپ قرآن مجید کی وہ تفسیر پسند کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بتائی ہے یا پھر اپنی عقل سے کلام اللہ کے نئے معنی متعین فرماتے ہیں۔ ہمارے لیے آپ کے پیش کیے ہوئےاشکال کو رفع کرنے کے لیے یہی امر کافی ہے کہ لغت کے اعتبار سے "وفات" کا لفظ بہت سے معنوں میںاستعمال ہوتا ہے جن میں ایک مطلب "واپس لینا" بھی ہے اور ان آیات میں یہی مطلب مراد ہے۔ خود قرآن مجید میں "وفات"کا اطلاق نیند پر کیا گیا ہے مثلا: وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ (الانعام) "اور وہی ہے جو تمہیں رات کو "وفات" دیتا ہے" اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا [ الزمر : 42 ] "اللہ وفات دیتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جو مری نہیں ہیں انہیں نیند میں" عربی کی معتبر ترین لغت لسان العرب سے "وفات" کے دو مزید استعمال دیکھیے۔ تَوَفَّيْتُ المالَ منه لفظی مطلب: "میں نے اس کے مال کو "وفات" دے دی" حقیقی مراد: "میں نے اس سے سارا مال واپس لے لیا" ایک اور مثال: تَوَفَّيْتُ عَدَد القومِ لفظی مطلب: "میں نے قوم کے افراد کی تعدادکو وفات دی" حقیقی مراد: "میں نے قوم کے افراد کو شمار کیا" ان مثالوںسے واضح ہوتا ہے کہ عربی زبان میں "وفات"کا مطلب ہمیشہ "موت"نہیں ہوتا، بلکہ اگر کوئی شخص محضلغت کی مدد سے ترجمہ کرنا بیٹھے تو وہ قائل کی حقیقی مراد سے بہت دور جا پڑے گا۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیےکہ محض لغت کی مدد سے قرآن کی تفسیر نہیں کی جا سکتی۔ قرآن کریم کی تفسیر ایک انتہائی نازک اور مشکل کام ہے جس کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی نہیں بلکہ تمام متعلقہ علوم میں مہارت ضروری ہے۔ افسوس ہے کہ کچھ عرصے سے مسلمانوں میں یہ خطرناک وبا چل پڑی ہے کہ بہت سے لوگوں نے صرف عربی پڑھ لینے کو تفسیر قرآن کے لیے کافی سمجھ رکھا ہے، چنانچہ جو شخص بھی معمولی عربی زبان پڑھ لیتا ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر میں رائے زنی شروع کر دیتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ عربی زبان کی نہایت معمولی شدبد رکھنے والے لوگ، جنہیں عربی پر بھی مکمل عبور نہیں ہوتا، نہ صرف من مانے طریقے پر قرآن کی تفسیر شروع کر دیتے ہیں بلکہ پرانے مفسرین کی غلطیاں نکالنے کے درپے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض ستم ظریف تو صرف ترجمے کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو قرآن کا عالم سمجھنے لگتے ہیں اور بڑے بڑے مفسرین پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ صحیح احادیث، علماء، فقہاء اور ائمہ امت کی تصریحات اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی کام کو دریا برد کر کے اپنی عقل اور لغت کے بھروسے پر قرآن مجید کے نئے معنی متعین فرمانا چاہتے ہیں۔ بنیادی سوال صرف یہ ہے کہ جن آیات میں عیسیٰ علیہ السلام کے لیے "وفات" کا لفظ آیا ہے وہاں اس کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بتائے ہوئے مطلب سےکی جائے یا کسی متجدد کے فہم و دانش کو معیار مانا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث سے عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد معلوم ہے۔ ایک صحیح حدیث ملاحظہ کیجیے: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قریب ہے کہ تم میں ابن مریم حاکم عادل بن کر اتریں گے، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ ۔ ۔۔ " اس حدیث کو درج ذیل محدثین نے روایت کیا ہے اور محدثین نے جانچ پرکھ کے کڑے اصولوں پر پرکھنے کے بعد اسے "صحیح"قرار دیا ہے۔ صحیح البخاری کتاب البیوع باب قتل الخنزیر صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسیٰ ابن مریم حاکما بشریعۃ نبینا سنن ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء فی نزول عیسیٰ ابن مریم مستخرج ابی عوانہ کتاب الایمان باب ثواب من آمن بمحمد صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم مصنف عبدالرزاق کتاب الجامع باب نزول عیسیٰ ابن مریم مسند احمد بن حنبل باقی مسند المکثرین مسند ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ صحیح ابن حبان کتاب التاریخ باب ذکر خبر قد یوھم من لم یحکم صناعۃ الحدیث ان خبر سنن البیہقی جلد 6 ص 110 علاوہ ازیں قرآن کریم کی ایک آیت سے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا اشارہ نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (النساء 159) "اور اہل کتاب میں کوئی ایسا نہ بچے گا جو اس (عیسیٰ علیہ السلام) کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے۔ اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا" مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے ہاں معتبر تفسیر ابن کثیر میں اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ: وذلك حين ينزل إلى الأرض قبل يوم القيامة "یہ واقعہ تب ہو گا جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے" غامدی یا کسی دوسرے کو اپنی رائے رکھنے کا پورا حق ہے لیکن یہ خیال رکھتے ہوئے کہ اپنی رائے اور عقل سے قرآن کی تفسیر کرنے پر وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 05-09-10 at 04:32 PM. |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ملک اظہر (23-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), رضی (10-09-11), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عادل سہیل (08-10-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
فاروق سرور صاحب کیا آپ کھلے الفاظ میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں ؟
کیوں کہ بقول آپ کے "قرآن حکیم کو انسانیت کے لئے اللہ کا فرمان جو کہ رسول اکرم لے کر آئے۔ یہی کتاب میرے لئے ایک مکمل دلیل ہے۔ " واضع الفاظ میں جواب دیجئے شکریہ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-10-09), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), عادل سہیل (08-10-09) |
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 11:32 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 14 | 30-06-09 08:32 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 07-04-08 09:22 AM |