|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام کے منافی امور
یہ وہ چند خطرناک امور ہیں کہ جو شخص ان کا ارتکاب کرتا ہے یا ان میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرتا ہے تو اسلام سے اسکا رشتہ ٹوٹ جاتاہے، (وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے): 1 اللہ تعالٰی کی عبادت میں شرک کرنا، اللہ کا فرمان ہے: اسے اللہ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوہ گناہ ،جس کے چاہے معاف کردے۔ (النساء:۴۸) 2 جوشخص اللہ کے ساتھ کچھ اور شریک بنالے کہ انھیں سے دعا مانگے ان پر توکل و بھروسہ کرے،مدد مانگے ،مشکل کشا مانے تو ایسا شخص با اجماع امت کافر ہے۔ 3 جو مشرکین کو کافر نہ سمجھے یا ان کے کفر میں شک کرے یا ان کے مذہب کو حق قرار دے تو ایسا شخص بھی کافر ہے۔ 4 جو یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے علاوہ بھی کامل کسی اور کا طریقہ ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے بہتر کسی اور کا فیصلہ ہے تو ایسا شخص بھی کافر ہے، 5 جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو ناپسند کرے اگرچہ کہ وہ اس (تعلیم) پر عمل کرتا ہو، پھر بھی کافر قرار پائے گا، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیز سے نا خوش ہوئے،چنانچہ اللہ نے بہی ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ 6 جو شخص شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم، میں سے کسی بھی ایک حکم یا اس کے ثواب و عتاب کا مذاق اڑائے تو وہ بھی با اجماعِ امت کافر قرار پائے گا، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے: کہہ دیجئیے، کیا تم اللہ ،اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے؟ تم بہانے نہ بناؤ، بلاشبہ تم ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔ (التوبۃ:۶۶) 7 جادو، جو شخص جادو کرے یا اس پر رضامند ہو تو وہ کافر ہوگیا جیسا کہ فرمان الہی ہے: وہ دونوں(ہاروت اور ماروت) کسی شخص کو اس وقت تک جادو نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ہیں تو کفر نہ کر۔ (البقرۃ:۱۰۲) 8 مشرکین کی مدد کرنا اور مسلمانوں کے خلاف ان سے تعاون کرنا، بدلیل فرمانِ الٰہی: اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا تو بھی انھیں میں سے ہوگا۔ (المائدہ:۵۱) 9 جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ بعض افراد کو شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل نہ کرنے کی اجازت ہے تو وہ بھی کافر ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے: جوشخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ (آل عمران:۸۵) 10 دین الٰہی سے اعراض کرنا کہ نہ تو اسے سیکھے اور نہ اس پر عمل ہی کرے۔ اس کی دلیل یہ فرمانِ الٰہی ہے: اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا،پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا،یقین مانو کہ ہم بھی گناہ گاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔ (السجدۃ:۲۲)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
Last edited by عبداللہ حیدر; 22-06-09 at 04:54 PM. |
|
|
|
| 19 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | Arabian (02-07-09), shafresha (23-06-09), فیصل ناصر (22-06-09), کنعان (08-03-10), گلاب خان (12-11-10), نورالدین (05-03-10), ملک بھائی (06-03-10), منتظمین (03-03-10), مباح (10-08-09), محمدمبشرعلی (05-03-10), wajee (22-06-09), آصف وسیم (22-09-10), ابو عمار (23-06-09), اخترحسین (16-09-09), حیدر Rehan (03-03-10), حسنین ایوب (12-11-10), شریف (08-03-10), عادل سہیل (12-09-09), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ باتیں تو ہم سے ہوتی رہتی ہے پروردگار معاف فرمانا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | sahj (24-09-09), نورالدین (05-03-10), اخترحسین (16-09-09), حیدر Rehan (03-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ تعالٰی ہم سب کو کفر سے محفوظ فرمائے
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 6
کمائي: 494
شکریہ: 0
5 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوشخص اللہ کے ساتھ کچھ اور شریک بنالے کہ انھیں سے دعا مانگے ان پر توکل و بھروسہ کرے،مدد مانگے ،مشکل کشا مانے تو ایسا شخص با اجماع امت کافر ہے۔
السلام وعلیکم: میرے بھائی دعا مانگنا الّلھ کے سوا کسی اور سے یہ تو واقعی جائز امر نہیں، مگر وسیلہ بنانا نے کا حکم تو قرآن و حدیث دونوں سے ملتا ہے اور یہ صحابہ کی سنت سے بھی ثابت ہے، اور کچھ لوگ تو وسیلے کو بھی شرک کی مد میں بیش کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ فی الوقت ایک حدیث حاضر ہے۔ مزید درکار ہوں حولا جات تو وہ بھی حاضر کر دونگا انشاالّلھ، حضرت عمر رضی الّلھ عنہ کے عہد خلافت میں قبر شریف سے توّسُل حضرت مالک دار رضی الّلھ عنہ سے روایت ھے. حضرت عمر (بن خطاب) رضی الّلھ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے- پھر ایک صحابی نبی کریم صلی علیہ وسلم کی قبر اطہر پر آئے اور عرض کیا: یارسول الّلھ! آپ (الّلھ پاک سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ھو گئی- پھر خواب میں آپ صلی علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا کہ عمر رضی الّلھ عنہ پاس جاکر اسے میرا سلام کہو اور اس سے بتاؤ کہ تم سیراب کئے جاؤ گے- اور عمر رضی الّلھ عنہ سے کہو کہ عقلمندی اختیارکرو- پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی الّلھ عنہ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی تو حضرت عمر رضی الّلھ عنہ رو پڑے-فرمایا: اے الّلھ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ میں آجز ھوجاؤں۔ ملاحظہ کریں مستند حولہ جات : مصنف ابن ابی شیبہ 12 : 2 - 31، رقم:12051 2 دلائل النبوۃ للبیہقی 7 : 47۔ 464: الاستعاب فی معرفۃ الاصحاب،2 شفاء السقام زیارۃ خیرالانام:130 کنزالعمال، 8 : 431، رقم 23535- کتاب الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی، 1 : 4 - 313 بحوالہ رفع المنارۃ : 626 - غیر مقلدوں کے بڑے معتبر امام صاحب ابن تیمیہ نے ‘اقتضاء الصراط المستقیم ( ص373)‘ میں اس روایت کی تائید کری ھے، امام ابن کثیر نے ‘البدایہ و النھایہ (167:5)‘ میں اس روایت کے بارے میں کہا ھے کہ اس کی اسناد صحیح ھیں- اسی سند کے ساتھ ابن خمیثہ نے روایت کیا ھے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی‘ الاصابۃ فی الصحابۃ (484:3)‘ میں لکھتے ھیں، جبکہ وہ ‘فتح الباری 2: 6- 459 مین لکھتے ھیں “ یہ روایت ابن ابی شیبۃ نے صحیح اسناد کے ساتھ بیان کری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سیف بن تیمیمی نے ‘ الفتوح الکبیر‘ میں نقل کیا ھے کہ خواب دیکھنےوالے صحابی حضرت بلال بن حارث رضی الّلھ عنہ مزنی تھے۔ امام قسطلانی نے الموھب اللدنیۃ (4 :276) ‘ مین کہا ھے کہ اسے ابن ابی شیبۃ نے صحیحاسناد کے ساتھ روایت کیا ھے۔ جبکہ علامہ زرقانی نے بھی ‘شرح ( 11 :1 -150)‘ میں امام عسقلانی کی تائید کی ھے۔ ہاں تو جناب اب کیا خیال ھے آپ کا محترم کیا اب بھی عتراض کی گنجائش ھے کیا؟ اگر ھے تو اس کا مطلب ھے کہ آپ اور آپ کے آجکل کے نام نہاد علماء دین کو آپ ہی کے امام ابن تیمیہ، اور دوسری بزرگ ہستیوں سے یعنی امام ابن کثیر، اور امام ابن حجر عسقلانی سے زیادہ سمجھتے ھیں ؟ انشاالّلھ آگے چل کر مزید قرآن اور حدیث سے ھم توُسّل کے عقیدہ کو واضح کر دیں گے۔ فی امان الّلھ۔ دعاؤں کا طلبگار: نوید خان قادری نقشبندی۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے navaid_khan کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (09-08-09), اویسی (12-03-10), ابوالعرق (19-09-09), اخترحسین (16-09-09), حیدر Rehan (03-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
پھلےتو ہم جناب محترم نوید خان صاحب القادری نقشبندی مدظلہ الباری کوخوش آمدید کہتے ہیں بھائی ایسے کام نہیں چلےگاروز چکر لگاؤ فورم کااور ہمارےسیکھنےاورکچھ سکھانےکاذریہ بنیں کہ ہمیں آپ جیسی شخصیت کی سخت ضرورت ہےتاکہ فرقہ پرستی کاقلعہ قمع ہومیں کچھ آپکی باتوں کوآگے بڑھانے کی جسارت کرونگا1)تو یہ کہ شرک کی تعریف کیا ہےتوجناب شرک کےمعنی ہیں اللہ کی ذات وصفات میں کسی کوشریک کرنا اللہ کی مخلوق خاصکرانبیا واولیا کی تعظیم کرنایہ کوئی شرک ورک نہیں ہے 2)کسی کواللہ کاشریک بنائےبغیر مدد طلب کرنا یابھروسہ کرنا یہ بھی کوئی کفر نہین ہےمثل مشھور ہےڈوبتے کوتنکےکاسہارہ ڈوبتاہوا کسی انسان کودیکھ کرڈوبنے سے بچنےکیلیئےپکارےگاعین جائز ہے 3)ہرجادو کفر نہیں ہےسرف وہی جادو کفر ہےجسمیں شرکیہ یاکفریہ کلمات ہوں یہ علما کامشترکہ مؤقف ہےہاں جو جادو کفریہ یاشرکیہ الفاظ پر مشتمل نہ ہووہ حرام ہے(ہاروت وماروت)دونوں فرشتےتھےکیاوہ کفر کی تعلیم دیتےتھےانکاجادو سکھانےکاانکار نہین ہےمگر کیاوہ ایسا جادو سکھاتےتھےجوکفریہ الفاظ پہ مشتمل ہو؟؟؟کیونکہ ہاروت و ماروت کواللہ نےاسوقتکےلوگونکیلیئےآزمائ شکےطورپربھیجاتھا۔ 10) جو آدمی دین سیکھتابھی نہیں ہےاورعمل بھی نہیں کرتا وہ مسلمان ہےجب تک کفر نہ کہےکیونکہ ایسےبہت سےمسلمان ہیں چلین بھت کم ہی صحیح جوصرف عید کی نماز پڑھتےہیں تو وہ کیاکافرہیں ھاں انہیں گمراہ ضرور کہاجاسکتاہے
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
افسوس صد افسوس جب بندے کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ھو تو اسے ھر بات میں اختلاف ہی نظر آتا ھے کیا کہنے جناب آپ کے،
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی نوید خان قادری السلام علیکم میں آپکی کسی بات سے بھی اختلاف نہیں کرتا ہوں آپ نے یقینًا ٹھیک ہی لکھا ہو گا، آپ سے گزارش ھے کہ آپ بتایئے کہ کیا آپ عالم ہیں ؟ اک سوال ذہن میں آیا ھے ،درخواست ھے کہ اس کو سوال ہی سمجھا جائے ، سوال یہ ہے کہ آپ کے بتائے ہوئے واقع کی رو سے ، کیا ہر ہر قبر سے سوال کرنا یا صاحب قبر سے دعا مانگنا، یا صاحب قبر سے براہ راست مانگنا کہ اے فلاں بزرگ میری فلاں فلاں حاجت پوری کر ، جائز ھے یا صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک پر جاکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرنا ثابت ہوا؟۔ اور یہ بھی بتائے گا کہ کوئی انسان نماذ نہیں پڑھتا ، روزہ وغیرہ اور باقی تمام کا تمام دین چھوڑ کر صرف کسی بھی بزرگ کے مزار پر جا کر اس صاحب مزار سے ہی اپنی حاجات مانگے اور بزرگ کی قبر کو سجدہ تک کرنا جائز مانے اور ،قبر کو چومے ، قبر کی مٹی کو تبرک مان کر اور مشکلوں سے بچانے والی مان کر اپنے پاس رکھے، ایسے انسان کا مزہب اسلام میں کیا مقام ھے ؟ وسیلہ کی بات بلکل درست فرمائی آپنے, شکریہ Last edited by sahj; 10-08-09 at 03:06 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (05-03-10), آصف وسیم (22-09-10), اخترحسین (16-09-09), عادل سہیل (12-09-09), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، ساھج بھائی ، آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی بھائی نوید خان صاحب کے جواب کا منتظر ہوں ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم بھائی عادل سہیل دیکھ لیں ابھی تک جواب نہیں آیا جناب قادری صاحب کا ،
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
سات مہینے ھونے کو آئے لیکن آپ کی طرف سے جواب نہیں آیا ، شکریہ |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (05-03-10) |
|
|
#11 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 6
کمائي: 494
شکریہ: 0
5 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی صاحب، اگر میں کسی ناگزیر وجہ کی بنیاد پر 7مہینے سے نہیں آ سکا آپ کے ٹاپک پر تو اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ آپ لوگوں کی اوٹ پٹانگ باتوں کا میرے پاس جواب نہیں الحمدو للہ پھر پور جواب ملے گا انشاءاللہ، میں کچھ ذاتی معملات میں پھنسا ہوا ہوں جلد آپ کی دیرینہ خواہش پورے ہوگی منہ توڑ جوابات اور الزامی سوالات کی شکل میں انشاء اللہ۔ |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی نوید خان صاحب ، اللہ تعالیٰ آپ کی مصروفیت کو اس کی رضا والا بنائے ، آپ ہماری """ اوٹ پٹانگ """ باتوں کا جواب بھی """ اوٹ پٹانگ """ مت دیجیے گا ، اور ہمارے """ منہ توڑنے """ کی بجائے ، اللہ کی کتاب اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ میں سے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم کے مطابق دلائل لا کر ہمارے """ منہ بند """ کرنے کی کوشش فرمایے ، آپ کا جواب ، سوال کیصورت میں ہو یا جواب کی صورت میں میرے یہ مذکورہ بالا نصیحت ملحوظء خاطر رکھیے گا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-03-10), نورالدین (05-03-10), محمدمبشرعلی (05-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (05-03-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
05-03-10, 02:16 AM #11 navaid_khan Junior Member اجنبی تاریخ شمولیت: Feb 2009 مراسلات: 2 کمائي: 138 [عطیہ دیں] شکریہ: 0 ایک مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا جناب کا یہ دوسرا مراسلہ ھے جو انہوں نے 7 ماہ بعد لکھا ھے اور وہ بھی منہ توڑ قسم کا ،میرا خیال ھے معذز ممبران میرا اشارہ سمجھ گئے ھوں گے ![]() شکریہ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 6
کمائي: 494
شکریہ: 0
5 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام من التبع الھدی: امید ہے خیریت سے ہونگے، پہلے تو پھت معذرت اتنے لمبے انتظار لےلئے، ہاں تو جناب اب ہم اللھ پاک کے حکم میں آپ کی خدمت میں جواب لے کر حاضر ہوا ہوں، اس کے دو حصے ہونگے، حصہ اول میں آپ کو آپ کے پچھلے سوالات کا جواب ملے گا اور حصہ دوئم میں اس ہی ٹاپک کے حوالے سے میں ایک حکایت نقل کر کے آپ کی رائے جاننا چاہوں گا۔ تو اب آئیے اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ حصہ اول۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب آپ نے پوچھا کہ کیا میں عالم ہوں تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ میں عالم تا کیا بلکہ طالبعلم بھی نہیں ہوں، اور اسلام کے عقائد و نظریات جاننے اور ماننے کے لئے عالم ہونا شرط نہیں، نیز ہر کس و ناکس کا عالم ہونا ممکن بھی نہیں۔ آپ کے دوسرے سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا یہ لکھنا “آپ نے یقینا ٹھیک ہی لکھا ہوگا“ً (یہ آپ کے الفاظ ہیں) اب اس یقیناً کے لفظ کے ساتھ “ہوگا“ کی پچر لایعنی (فضول)ہے یا تو آپ میری دی ہوئی دلیل سے متفق ہو جاتے یا پھر تسلی کے لئے دوسرے دلائل طلب کرتے لیکن اطمینان کے ساتھ عدم اطمینان کا اظہار میرے لئے خاصی حیرت کا باعث ہے۔ بہرحال ! اہل سنت و جماعت کا صاحب قبر سے مدد مانگنے سے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ مستعانِِ حقیقی اللھ عزوجل ہے اسی کے آگے ساری مخلوق محتاج ہے وہی سارے عالم کا پالنے والا فریاد رس و مشکل کشاء ہے لیکن مجازی طور پرکسی اہل اللھ کی قبر پر جاکر اس کا وسیلہ اللھ کی بارگاہ میں پیش کرنا قطعا ً جائز بلکہ بے شمار فیوض و برکات کا باعث ہے، آپ کا یہ کہنا کہ میری پیش کردہ روایت سے نبی اکرم صلی اللھ علیہ وسلم کے مزار مبارک پر جاکر درخواست کرنا ثابت ہوا چلیں آپ نے اتنا تو مان لیا۔ میرے دوست استعانت و استعمداد بغیر اللھ کے عقیدہ کع شرک سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن جب آپ یہ مان گئے کہ یہ عقیدہ نبی اکرم صلی اللھ علیہ وسلم سے رکھنا جائز ہے تو یہ شرک ہرگز نہ ہوا کیونکہ شرک کی تعریف یہ ہے کہ غیر اللھ میں اللھ کی صفت کو بہ عینہ جیسی اللھ عزوجل کی صفات ہیں یہ تسلیم کرنا شرک کہلاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللھ علیہ وسلم تمام تر کمالات و فضائل کے باوجود غیر اللھ ہیں تو ان کے مزار مبارک سے توسل کرنا جائز ہے تو یقیناً یہ شرک نہ ہوا۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ استمداد بغیر اللھ کا عقیدہ شرک نہیں بلکہ حرام ہے تو بھی درست نہیں نیز آپ اس روایت سے نبی اکرم صلی اللھ علیہ وسلم کا استثنائ مراد لینا صحیح نہیں۔ کیونکہ دیگر خارجی دلائل سے یہ پتہ لگتا کہ اللھ کے نیک بندوں سے مدد ظلب کرنا (چاہے وہ مدد مافوق الاسباب ہو یا ماتحت الاسباب) چاہے وہ دنیا میں موجود ہوں یا قبر میں بالکا جائز ہے۔ جہاں تک بے نمازی کا مزارات سے عقیدت کا تعلق ہے تو یہ دو الگ باتیں ہیں نماز نہ پڑھنا مزارات پر حاضری دینے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ فرائض کو چھوڑ کر فقط اس بات پر توکل کرنا کہ مزارات پر جانے سے بخشش ہوجائے گی فقطاً نادرست ہے، اور ایسی عقیدت وہی رکھے گا جسے علم کی ہوا تک نہ لگی ہو۔ باقی رہا قبر کو سجدہ کرنا تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ سجدہ کی وا اقسام ہیں 1سجدہ تعبدی ، 2سجدہ تعظیمی ۔ اول کفر و شرک دوئم حرام۔ قبر چومنے کے بارے میں علماء اہلسنت کا اختلاف ہے محتاط قول یہی ہے کہ مزارات کی چوکھٹ کو چومنا نہیں چائیے۔ آخر میں وسیلہ کے متعلق میری تائید کرنے کا شکریہ۔ واثق امید ہے کہ آپ کی اشکالات دور ہو گئے ہونگے، پھر بھی کوئی کمی رہ گئی ہو تو بندہ حاضر ہے۔ حصہ دوئم۔۔۔۔۔۔۔ آئیے اب حصہ دوئم کی طرف چلتے ہیں جس میں ہم آپ کے گھر سے ہی ایک کتاب کی صرف ایک حکایت نقل کرتے ہیں اور اس حکایت کے بارے میں آپ کی رائے جلد جاننا چاہوں گا، امید ہے جلد آگاہ فرمائیں گے۔ کتاب کا نام ارواح ثلاثہ یعنی حکایات اولیاء از (آپ کے پیارے) جناب اشرف تھانوی صاحب۔ ناشر: مکتبہ رحمانیہ اقراء سنٹر۔غزنی سٹریٹ لاھور۔ صفحہ نمبر 302 حکایت نمبر:322 فرمایا کہ مولوی معین الدین صاحب مولانا محمد یعقوب صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے وہ حضرت مولانا کی ایک کرامت (جو بعد وفات واقع ہوئی) بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہمارے نانوتہ میں جاڑہ بخار کی کثرت ہوئی۔ سو جو شخص مولانا کی قبر سے مولانا کی قبر سے مٹی لاجاکر باندہ لیتا اسے ہی آرام ہوجاتا۔ بس اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب بھی قبر پر مٹی ڈلوائوں تب ہی ختم۔ کئی مرتبہ ڈال چکا۔پریشان ہوکر ایک دفعہ مولانا کی قبر پر جاکر کہا۔(یہ صاحبزاے بہت تیز مزاج تھے) کہا آپ کی تو کرامت ہوگئی اور ہماری مصیبت ہوگئی۔یاد رکھو کہ اگر اب کوئی اچھا ہوا تو ہم مٹی نہ ڈالیں گے ایسے ہی بڑے رہئیو۔لوگ جوتا پہنے تمھارے اوپر ایسے ہی چلیں گے۔ بس اس ہی دن سے پھر کسی کو آرام نہ ہوا۔ جیسے شہرت آرام کی ہوئی تھی ویسے ہی یہ شہرت ہوگئ کہ اب آرام نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں نے مٹی لےجانا بند کردیا۔ِ (نوٹ: اوپر سب سے پہلے اس حکایت کی کتاب کا مکمل حوالہ دیا جا چکا ہے، اور کسی بھائی کو اگر تحقیق کرنی ہو تو وہ کر سکتے ہیں، ید رہے کہ ایڈیشن کے حساب سے صفحہ نمبر آگے پیچھے ہو سکتا ہے ) ہاں تو جناب ساہج صاحب اب آپ کا کیا خیال ہے اس حکایت کے بارے میں یہ تو میں نے آپ کے ہی گھر سے ثابت کر دی ہے۔ اب اس قسم کی مزید حکایات اور دوسرے عقائدی نظریات (جو کہ آپ ہی کے گھر سے ثابت ہونگے) لے کر آپ کی خدمت میں جلد حاضر ہونگا، اور آپ کی رائے جاننا چاہوں گا۔ امید ہے اپنی قیمتی رائے سے جلد نوازیں گے۔ اللھ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک ہدایات عطائ فرمائے۔ والسلام۔ نوید خان قادری، نقشبندی۔ |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
السلام علیکم نوید صاحب آپ نے کیا ثابت کر دیا ھے یہ بھی بتا دیتے ؟ کیا یہ ثابت کیا ھے کہ قبر کی مٹی تبرک کے طور پر پاس رکھ لینا اس "حکایت" کی روشنی میں جائز ھوچکی ھے؟ یہ بھی دیکھ لیں جناب کہ اس عمل کو آپ کی تحریر کے مطابق ہی منع کیا جارہا ھے "ہوگئی۔یاد رکھو کہ اگر اب کوئی اچھا ہوا تو ہم مٹی نہ ڈالیں گے ایسے ہی بڑے رہئیو۔لوگ جوتا پہنے تمھارے اوپر ایسے ہی چلیں گے۔ بس اس ہی دن سے پھر کسی کو آرام نہ ہوا۔" اس سے مجھے تو ایسے عمل کا انکار سمجھ میں آتا ھے اور اگر آپ اس حکایت کو جواز سمجھتے ہیں قبر کی مٹی اپنے پاس بطور تبرک رکھنے کی تو کیا کہنے کہ علماء دیوبند کی قبروں کی فضیلت بھی آپ خود بیان کر رہے ہیں ، سبحان اللہ، انشاء اللہ پہلے حصے پر بھی تبصرا کروں کا ۔ شکریہ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاک, قرآن, لوگ, ایمان, اللہ, اسلام, بھائی, تلاش, تعلیم, حکم, حدیث, خوش, خلاف, خان, خبر, دوست, دعا, شخص, ظالم, عہد, عبادت, صحیح, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|