|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ستارے، لکیریں، جادو حقیقت کیا ہے…؟
نورین ظفرخان آج مادی ترقی کے عروج کو پہنچا ہوا انسان اپنے ذہن کے تاریک گوشوں میں زمانہ جاہلیت کی کیسی کیسی عادات، خیالات، توہمات اور افکار چھپاتے ہوئے ہے اس کی ایک جھلک آپ کو روزمرہ زندگی میں ان عنوانات کے تحت مل سکتی ہے جو آج تقریبًا ہر میگزین کا جزو لاینفک بن چکے ہیں مثلا: 1۔ ستاروں کی چال 2۔ ستارے کیا کہتے ہیں 3۔ آپ اور ستارے 4۔ یہ ہفتہ کیسا رہے گا یہ وہ عنوانات ہیں جن کے تحت ہر اخبار، میگزین، رسالے اور ٹی وی چینل پر مضمون اور پروگرام لکھے اور پیش کئے جاتے ہیں۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ یہ تجسس رہا ہے کہ وہ اپنے آنے والے حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے اور انسان کے اسی تجسس سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے اسے زوال کے راستے پر دھکیل دیا۔ ماہرین فلکیات نے سورج کے مدار میں گردش کرتے چند ستارے دریافت کئے ان کے نام رکھے۔ یہ شائد ان کا عروج تھا اور زوال تب شروع ہوا جب کچھ لوگوں نے خود کو(Astrologer۔ ماہر نجوم) کہا اور ان ستاروں کو انسانی زندگیوں سے منسوب کر دیا۔ اور لوگوں کو بتایا جانے لگا کہ اگر آپ فلاں تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو آپ فلاں ستارے کے زیرِ اثر ہیں۔ اگر آپ فلاں تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو فلاں ستارہ آپ کا حاکم ہے اگر آپ فلاں ستارے کے زیرِ اثر ہیں تو آپ میں یہ یہ خوبیاں اور یہ یہ خامیاں پائی جاتی ہیں اگر آپ کا حاکم ستارہ فلاں ہے تو آپ زندگی میں اتنے فیصد کامیاب اور اتنے فیصد ناکام ہوں گے۔ لوگوں نے اس بات کو یوں قبول کیا جیسے وہ اسی کے منتظر ہوں۔ حالات کب بہتر ہوں گے…؟ شادی کب ہو گئی…؟ تعلیم کتنی حاصل کر سکیں گے…؟ نوکری کب ملے گی…؟ اولاد کب ہو گی…؟ آئندہ زندگی کیسے گزرے گی…؟ یہ وہ سوالات ہیں جو لوگ کسی Artrologeسے بکثرت پوچھتے ہیں یہ انسانی ذہن کا زوال ہے۔ انسان نے اپنی سوچ اور عقل پر تالے لگا دیئے اور وہ خود سے لاکھوں میل دور ایک ان دیکھے ستارے کو اپنے حالات و واقعات کا مالک سمجھنے لگا۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک بے جان اور عارضی چمک والا ستارہ کیا اتنی قوت و طاقت رکھتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی اس کے تابع ہو جائے اس سارے سلسلے میں ہم رب کو کیا درجہ دے رہے ہیں؟ وہ ربِ واحد جس نے انسان کو تخلیق کیا جس نے انسان کو دنیا میں بھیجا۔ جوانسان کے ہر عمل کودیکھ رہا ہے وہ رب جو انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا کیا اس رب کو ہم نے صرف پانچ نمازوں تیس روزوں اور ایک حج کے لیے اپنا رب مانا…؟ اور باقی پوری زندگی کے معاملات ان بے جان ستاروں کے ساتھ باندھ لیے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی تقدیر کی ڈور رب کی بجائے ستاروں کے ہاتھ میں تھما دی ہے؟ ہم نبی آخر الزماں کی امت ہوتے ہوئے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا سا اعتقاد اپنے ذہنوں میں پال رہے ہیں۔ ستاروں کی حقیقت کیا ہے آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ ”اور نشانیاں بتائیں اور بعض لوگ ستاروں سے راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ (النحل:۱۴) ”اور بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی“۔(الصفات:۴) حدیث مبارکہ ہے:۔ ستاروں میں تاثیر ماننا کفر ہے عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللّهِ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: الله وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ. فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ الله وَرَحْمَتِهِ، فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ. وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ (صحیح المسلم حدیث نمبر193۔ کتاب الایمان باب کفر من قال مطرنا بالنوء) ''زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: ''کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟'' صحابہ نے کہا '' اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔'' فرمایا: ''(اللہ تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوگئے ہیں اور کچھ کافر۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لایا اور جس نے کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں برج کے اثر سے ہوئی ہے اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔'' بے شک قیامت کا علم اللہ کے پاس ہی ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے بطنوں میں کیا کچھ ہے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ اللہ ہی ہے جو کچھ جاننے والا اور بڑا خبردار ہے۔ (لقمان:۳۴) کتابِ ہدایت کی ان روشن آیات اور حدیثِ مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہمیں فیصلہ خود کرنا ہے کہ کیا ہم ستاروں پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں یا ایک اللہ پر کامل ایمان رکھنے والوں میں سے…؟ جولوگ اپنے ستارے کھوجنے میں ناکام رہے انہیں شیطان نے ایک دوسری راہ دکھا کر زوال کے اندھیروں میں ڈال دیا۔ ستاروں سے مایوس ہو کر لوگوں نے اپنی قسمت، تقدیر اور معاملاتِ زندگی کو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں ڈھونڈنا شروع کر دیا اور یوں آج دست شناسی Palmistry باقاعدہ ایک علم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انفرادی حیثیت سے لے کر اجتماعی ملکی، غیر ملکی اور حتیٰ کہ کائناتی سطح تک کے معاملات، واقعات اور حادثات کے متعلق پیش گوئیاں کی جاتی ہیں اس علم سے متعلق لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔جس چیز کو ہم علم سمجھ کر سیکھ اور قبول کر رہے ہیں وہ حقیقتاً ہمارے ایمان کی عمارت کو کھوکھلا کر رہی ہے ہم اپنے آپ کو رب کی رضا پر راضی کرنے کی بجائے ہاتھ کی آڑی ترچھی لکیروں میں زندگی کے پیغامات ڈھونڈ رہے ہیں ہم اپنے ایمان کی دولت ہاتھ کی لکیروں پر لٹا رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں ہم ایک دن خالی ہاتھ رہ جائیں اگر ہاتھ کی لکیریں اتنی ہی اہم ہیں تو ذرا سوچئے کہ جن لوگوں کے ہاتھ نہیں ہیں تو کیا وہ بغیر تقدیر اور قسمت کے زندگی گزار رہے ہیں؟ آج ہر گلی محلے میں آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جائے گا جو ہاتھ دیکھتا ہو گا اور شہروں میں تو ان کی اس قدر بھر مار ہے کہ سڑک کے کنارے قطار در قطار بیٹھے نظر آتے ہیں اور لوگوں کا ایک ہجوم ان کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے نظر آتا ہے ذرا سوچئے اگر واقعی لکیروں سے قسمت سنور سکتی ہے تو یہ نجومی یوں سڑکوں پر چند روپوں کی خاطر نہ بیٹھے ہوتے وہ سب سے پہلے اپنے حالات بہتر کرتے ان نجومیوں کے ساتھ ساتھ فال نکالنے والے بھی مختلف کارڈز سجائے اور کوئی پرندہ لیے بیٹھے ہوئے ہیں ایمان کے خاتمے کا ہر طرح کا سامان موجود ہے اور رب کی ذات سے نا امید بے وقوف لوگ جوق در جوق ایمان کی دولت سے محروم ہو رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”نیز ہر وہ چیز بھی حرام ہے جس میں فال کے تیروں سے تم اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔“ (المائدہ:۳) ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہے کہ ”جو شخص غیب کی خبریں بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔“ (مسلم) مزید فرمایاکہ ”جو کسی کاہن کے پاس جا کر دریافت کرے اور پھر اسے سچا سمجھے تو اس نے اس سے اظہارِ براء ت کیا جو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نازل ہوا۔“ (ابوداؤد) ہماری تقدیر ہمارے ہاتھ کی لکیروں میں نہیں بلکہ اس رب کے ہاتھ میں ہے جو اس کائنات اور ہمارے وجود کا خالق و مالک ہے… ہمارے ملک میں شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل، جادوسے متعلق اشتہارات کو اس طرح شیطانی حربوں سے مزیّن کرکے شائع کرتے ہیں جیسے بہت ہی دینی اور فلاحی کام سر انجام دے رہے ہوں۔ محض چند سکّوں کی خاطر وہ رب کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود بھی ایک کفریہ عمل کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے رہے ہیں ان اشتہارات کی ذرا سی جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ عامل پروفیسر پیر زادہ…! انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ ہر مسئلہ کا حل تعویذوں کا اثر، جادو ٹونہ، محبت میں ناکامی، اولاد کا نہ ہونا، شوہر کو راہِ راست پر لانا، بچھڑے ہوئے کو ملانا، بچوں کی شادی، باہر کا سفر، اولاد کی نافرمانی، انعامی چانس، دشمنی ہونا، امتحان میں کامیابی، رشتوں کی بندش، مایوسی گناہ ہے جو چاہو گے مل جائے گا۔ یہ اور اس جیسے کتنے ہی اشتہار ہم روز اخباروں میں پڑھتے ہیں یہ ہیں وہ عامل بابے جو لوگوں کے اندر سے ایمان کی روشنیاں ختم کر کے ان میں کفر اور گمراہی کے اندھیرے بھر رہے ہیں۔ جو خدا کی زمین پر خدا کے لوگوں کو خدا کی راہ سے ہٹا کر شیطان کی راہ پر لگا رہے ہیں۔ ہمارے ارد گرد بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات، تکالیف اور مصائب کو جادو کے اثر سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر کسی پر کوئی ذرا سی بھی تکلیف آ جائے تو اس کی دہائی شروع ہو جاتی ہے کہ مجھ پر کسی دشمن نے جادو کر دیا ہے اگر وہ خود یہ بات نہ سوچے اور نہ کہے تو اس کے عزیز رشتہ دار اُسے فوراً یہی راہ دکھاتے ہیں کہ کسی سے تعویذ دھاگہ کر واؤ تم پر یقینا کسی نے کچھ کر دیا ہے”کسی نے کچھ کر دیا ہے“ کا جملہ ہمارے معاشرے میں اس حد تک مقبول ہو چکا ہے کہ مرد و خواتین ذرا سی تکلیف پر سب سے پہلے اسی جملے کے ذریعے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے شائد کبھی رب کی اس بات کو پڑھا اور سمجھا ہی نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ”اگراللہ تمہیں کسی قسم کے نقصان سے دو چار کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے اور اگر وہ تمہیں خیر عطا فرمائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (الانعام:۱۷) بعض لوگ شائد یہ خیال کر رہے ہوں کہ ہم جادو پر یقین نہیں رکھتے یا یہ کہ جادو ہونے کو نہیں مانتے ایسی بات نہیں ہے جادو اور جنات کا وجود آیات اور احادیث سے ثابت ہے اور ہم ان کے ہونے کو مانتے بھی ہیں لیکن معاشرے میں بڑھتے ہوئے ان عامل باباؤں اور ہر طرف سے اٹھتی جادو، جادو کی پکار سے ہمیں اختلاف ہے۔ اور یہ اختلاف ہمیں ذاتی وجہ سے نہیں بلکہ آیات اور احادیث کی روشنی میں جان لینے کے بعد ہے۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادو گر ہے اور جادو گر کافر ہے۔“ (بخاری) تمام حقیقت ہمارے سامنے ہے اور یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ کیا ہم آنکھیں بند کئے شیطانی راستے پر چلتے ہوئے کفریہ عمل کر کے کافر بنتے ہیں اور دنیا و آخرت کی ناکامی سمیٹتے ہیں یا ایمان کے نور کی روشنی میں رب کائنات پر بھروسہ اور توکل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی اور بھلائی حاصل کرتے ہیں یہ فیصلہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی کرنا ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”زمین اور آسمان کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر اس کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“ (ہود:۱۲۳) اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہر طرح کے غیب کا علم صرف ایک ہستی کے قبضہ قدرت میں ہے کسی انسان، فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ رب تعالیٰ کی صفات میں حصہ دار بنے۔ لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اسی ایک رب کی عبادت کرو اور پھر اسی رب پر بھروسہ بھی۔ لیکن صد افسوس کہ آج ہم عبادت تو رب کی کرتے ہیں اور بھروسہ غیر اللہ پر رکھتے ہیں۔ اللہ کے نیک اور پسندیدہ لوگ وہ ہیں جن پر کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ستارے کی گردش کی وجہ سے ایسا ہوا ہے وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ہاتھ کی لکیر کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبت آئی ہے اور وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ہم پر کسی نے جادو کر دیا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری جانیں رب کے ہاتھ میں ہیں تکلیفیں اسی کی طرف سے ہیں اور سکھ بھی اسی کی طرف سے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ اور توکل ہے۔ ” وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَ کَفٰی بِاللهِ وَکِيْلًا “۔ آئیے اس دعا کو اپنی زندگیوں میں شامل کر کے اللہ کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہو جائیں…! (ماہنامہ طیبات) Last edited by عبداللہ حیدر; 14-10-08 at 03:32 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔۔ لیکن تھوڑا سا چھوٹا لکھ دیا کریں تاکہ کوئی پڑھ بھی سکے اب اتنا لمبا کون پڑھے؟؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 8,547
کمائي: 934,142
شکریہ: 4,411
5,329 مراسلہ میں 13,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاک اللہ خیرا ، ہونہار بھتیجے ، بڑے دنوں بعد ظاہر ہوئے ہیں ، ابھی تو بہو آئی نہیں ،
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ، بھائی خلیل اور بہن ثوبیہ کی تجویز قابل غور ہے ، میرے لیے بھی اور آپ کے لیے بھی ، اور ایک تجویز میری بھی ہے کہ اگر ہم کوشش کر کے موضوع کے تکرار سے گریز کریں یعنی ، کہ ایک ہی موضوع پر تقریبا ایک جیسا مواد مختلف دھاگوں میں نہ بھیجا جائے ، کیا خیال ہے بھتیجے ، بہو کے آنے سے پہلے پہلے جو کرنا ہے کر لیجیے ، بعد میں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 14-10-08 at 09:24 PM. |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
میں آئندہ خیال رکھوں گا کہ ہرممکن حد تک مضمون کو مختصر رکھا جائے ان شاء اللہ۔ خلیل بھائی اور ثوبیہ بہن آپ دونوں کا شکریہ۔ اسی عنوان کے تحت پہلے میں اور چچا مراسلات بھیج چکے ہیں۔ کل یہ مضمون نظر سے گزرا تو اس لیے یہاں لگا دیا کہ ہو سکتا ہے طرزبیان کی تبدیلی کسی کے لیے فائدہ مند ہو جائے۔ چچا جان! کیا پوچھتے ہیں۔ آجکل ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری نہیں آتی۔ صحرا نوردی میں مشغول ہوں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ بھائی بات آپ کی سمجھ میں آگئ ہے
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اندازِ بیاںگرچہ تیرا شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے کسی دل میںتیری بات بٹن دباکے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,759
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,788 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ حیدر بھائی آپ سنائیں کیا حال ہے آپکا.................اور بھائی عادل سہیل آپ کی طبعت کیسی ہے....
میاں جی اپ بس باتیں ہی دلوں میں اتارتے رہتے ہیں..............کوئی کام وام بھی کیا کیجیئے.....بٹن دبا کے.......اور کچھ نہیں تو الکمونیا کو ہی سجھا سنوار لیجیئے ..... |
|
|
|
| پیاسا کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (31-10-08) |
|
|
#9 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
پیاسا جی، اللہ کا شکر ہے۔ الحمدللہ علی نعمہ میاں جی آجکل ڈاکٹری میں مشغول ہیں شاید، مریضوں کا بٹن دباتے ہوئے۔
|
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خوش آمدید بھائی پیاسا ، بڑے دِنوں بعد جلوہ افروزی فرمائی ، امید ہے سبب غیاب خیر و عافیت والا رہا ہو گا ، باذن اللہ ، الحمد للہ میں بھی اللہ کے لطف و کرم سے با خیر و عافیت ہوں ، میاں جی ماشا اللہ اچھی اچھی باتیں لا رہے ہیں ، اللہ حق دِلوں میں اتارے اور ہمیں اس کا سبب بنا لے ، امید کرتا ہوں ان شا اللہ آپ اپنے معمولات کو بحال کریں گے ، اللہ آپ کی مدد کرے ، و السلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 31-10-08 at 11:06 PM. |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (26-06-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
| Arabian کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (01-07-09) |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 31
کمائي: 966
شکریہ: 115
30 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ برادرم جناب عبداللہ حیدر صاحب ماشاءاللہ آپ کے مراسلات بہت زیادہ علم میں اضافہ کا باعث ھوتے ھیں اَلَّلھُمَّ زِد فَزِِد لیکن مجھ میں کو ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ماشاءاللہ آپ اتنا سب کیسے لکھ لیتے ھیں ؟ ضرور کوئی نا کوئی آسان حل ھو گا جس سے یہ ناکارہ نا واقف ھے کیونکہ میں جس طریقے سے واقف ھوں اُس سے تو میں کوئی بات لکھنے سے پریشان ھوں کہ کیسے لکھوں کیونکہ مجھ کو تو بہت وقت لگتا ھے تھوڑی سی بھی بات کہنے کو اور مجھ کو تو کچھ تجربہ بھی نہیں ھے اور ناھی اس فورم پر مراسلات تھریڈ وغیرہ کو بھیجنے کے طور طریقوں سے واقف ھوں یہ الگ بات ھے کہ سال کے قریب ھونے کو ھے کہ میں اِس فورم کا رکن ھوں کافی مصروفیات (کاروباری تعلیمی گھریلوں) کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا کہ میں کافی ساری باتیں ایسے سست طریقے سے آپ حضرات سے بیان کر سکوں بس خاموش قاری بن کر آپ بھائیوں کی باتیں پڑھتا رھتا ھوں جن باتوں پر ایسا لگتا ھے کہ کچھ کہنا ضروری ھے بحیثتِ اس گھرانے کے ایک فرد کے تو اپنی دانست میں سہی سمجھتے ھوے ضروری نہیں کہ میں جو کہ رھا ھوں وہ صحیح ھو کہ دیتا ھوں لیکن صرف جواب کی حد تک اور ساتھ میں یہ احساس بھی رھتا ھے کہ جو میں کھنا چاھتا ھوں یا اپنی معلومات احساسات تجربیات مشاھدات اور بھی بھت کچھ وہ بیان کرنے سے قاصر ھوں اِس لیے صرف شکریہ سے کام چلا لیتا ھوں با قی میں اِس فورم کے بارے میں اور منتظمین کے بارے میں اور ممبران کے بارے میں اپنی رائے صرف یہ دینا چاھوں گا کہ یہ فورم بھت عمدہ ھے معلومات میں اضافے کا باعث بنتا ھے اس فورم پر بندہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر سکتا ھے بھت تمیز اور ادب واحترام سے یہاں بات کی جاتی ھے تقریباً ضروریاتِ زندگی کے جتنے اھم شعبے ھیں اُن پر یہاں سیر حاصل معلومات مہیا ھوتی ھے اور ممبران حضرات ماشاءاللہ بھت سلجھے ھوئے اور اچھی طبیعتوں کے مالک ھیں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ھیں اور جہاں اپنی غلطی محسوس کرتے ھیں فوراً معذرت کر لیتے ھیں مختلف موضوعات پر ماشاءاللہ کافی معلومات رکھتے ھیں اور منتظمین حضرات ماشاءللہ بھت صبر وتحمل سے اور غیر جانبداری کا مظاھرھ کرتے ھوئے اس فورم کو لے کر کامیابیوں کی طرف گامزن ھیں اور طور پر انتظام چلاتے ھیں کہ ھر ممبر کو اِس پر محسوس ھوتا ھے کہ اس گھرانے کا سربراھ اُس پر نظر رکھے ھوئے ھیں اور منتظمین کی تنبیہ کرنا اور بروقت اصلاح کرنا اس سے انشاءاللہ یہ گھرانہ اور اس کے افراد کبھی کسی مشکل کا سامنا سامنا نھیں کرینگے آمین باقی اگر ان باتوں کو یہاں ذکر نہیں کرنا چاھیے تھا تو پیشگی معذرت جہاں بہتر لگے وہاں ڈال دیں مگر خدارا ردی کی ٹوکری میں مت ڈالیے گا کیونکہ میں نے یہ سب تین گھنٹے لگا کر آپ سے یہ باتیں کی ھیں میں ذکر کیا ھے کہ مجھ کو لکھنے میں بھت دِقت ھوتی ھے باقی ایک بات اور ذکر کرنا چاھونگا کہ کسی کسی موقع پر سید انجم شاھ صاحب سے باتیں کرتے ھوئے ھوئے محسوس ھوا آنجناب برا مان گئے ھیں یا مجھ کو ایسا محسو س ھوا ھے لیکن یقیناً آپ اپنی اعلٰی ظرف طبعت کے باعث بھول گئے ھونگے لیکن بندہ کو اپنی کم ظرفی کا شدت سے احساس ھے اس لیے لھذا آپ سے تہِ دل سے معذرت ھے امید ھے حسبِ عادت آپ چشم پوشی فرماتے ھوئے در گز کا معاملہ فرمائیں گے اور ناکارہ کو ممنون و مشکور ھونے کا موقع عطا کریں گے شکریہ یہ کچھ باتیں تھی جو ذکر کرنا ضروری سمجھتا ھوں باقی یار زندہ صحبت باقی
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابو محمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
ابو محمد بھائی، اللہ تعالیٰ سےمیرے لیے دعا کیا کریں کہ وہ اس حقیر سی خدمت کو اپنی بارگاہ میںقبول فرما لے۔ اقتباس:
اقتباس:
گر تو می خواہی خوش نویس می نویس و می نویس و می نویس (میری فارسی کمزور ہے املا میں غلطی ہو تو بتا دیجیے) Last edited by عبداللہ حیدر; 14-10-11 at 04:41 AM. |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,858
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,015 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشااللہ
دو صفحوں کا مراسلہ لکھ کر فرماتے ہیں لکھنا نہیں آتا
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (28-06-09) |
![]() |
| Tags |
| پسندیدہ, واقعات, قرآن, چینل, نوکری, نظر, محبت, معلوم, اللہ, انسان, انعامی, امتحان, بچوں, تعلیم, حکم, حدیث, خواتین, خلاف, خدا, دریافت, دعا, راستہ, عقل, عبادت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں، وکی لیکس | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:18 AM |
| ستر فی صد پاکستانی ’فیس بک‘ پر مکمل پابندی چاہتے ہیں، پول | ھارون اعظم | خبریں | 15 | 29-05-10 09:38 PM |
| پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، صدربش | ابن جلال | خبریں | 0 | 24-09-08 01:17 AM |
| دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مغربی ممالک پاکستان کی مدد کریں، اشرف قاضی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:54 AM |
| غیر ملکی اخبارات کے مفروضے مسترد، جوہری اثاثے محفوظ ہیں، پاکستان | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 03-12-07 03:42 PM |