| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10) |
|
|
#107 |
|
Senior Member
![]() |
اور ساہج بھائی یہ مراسلہ بھی آپ ہی کا تھا جو مجھے پسند آیا
اور دشمنان ، بوبکر و عمر کی آنکھیں نہ کھول دے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اُن کے بیٹے محمد بن الحنفیہ نے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ابو بکر (رضی اللہ عنہ) پھر پوچھا : ان کے بعد کون ؟ انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : عمر (رضی اللہ عنہ) صحيح بخاري كتاب فضائل الصحابة باب : فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#108 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب اویسی صاحب ، معذرت چاہتا ہوں اس قدر تعصب کا اظہار کرنے والے کو بھائی کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ، لیکن اس کے باوجود آپ کا شکریہ ضرور ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے میری آخرت کے لیے بہت اچھے تحفے دیے ہیں ، اس کا اندازہ ان شاء اللہ آپ کو وہیں ہو گا ، اس کے علاوہ بھی آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سوإئے جھوٹے الزامات کے اور کچھ نہیں ، اس فورمز میں اور اس کے علاوہ جہاں کہیں بھی کسی دینی معاملے سے متعلق میری کوئی بات ملے گی ان شاء اللہ ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے دلإئل کے ساتھ ملے گی ، اس کے باوجود آپ ہمیں حدیثء رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا منکر کہتے ہیں ، آپ کی بصیرت کا اندازہ تو آپ کے پہلے مراسلے سے ہی ہوچکا تھا ، اب آپ کی بصارت کا بھی پتہ چل گیا ، ایسے شخص کی بات کو دینی طور پر کس پلڑے میں تولا جا سکتا ہے جو """ توحید """ کو """فتنہ """ کہے ، اور شرک کو """ حبء ،،،،،،، """ کا نام دے ، جناب آپ اپنی سوچوں کے دھارے میں جب غیر اللہ سے بندگی کی نسبت کو درست مانتے ہیں تو پاک نیٹ کی انتظامیہ کے بارے میں اور دیگر ارکان کے بارے میں بھی کچھ بھی سوچ سکتے ہیں ، لیکن محترم ابھی تک میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ آپ مسلمان ہی ہیں اور آپ کے دعوے کے مطابق رسول اللہصلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں ، جناب اویسی صاحب محبت میں محبوب کی نافرمانی نہیں کی جاتی ، آیے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے محبوب اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان سناتا ہوں ((((( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا من الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ::: اے اِیمان لے آنے والو زیادہ گمان کرنے سے باز رہا کرو بے شک کچھ گمان گناہ ہوتے ہیں))))) سورت الحجرات /آیت ۱۲ ، ((((( وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنّاً إَنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً إِنَّ اللّهَ عَلَيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ::: اور ان کی اکثریت صرف گمان کی پی پیروی کرتی ہے بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی طور فائدہ نہیں دیتا وہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں بے شک اللہ بہت اچھی طرح جانتا ہے ))))) }يونس36 ::: اور اب سنیے اللہ رب العالمین کے محبوب اور ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ حکم مبارک ((((( إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فإن الظَّنَّ أَكْذَبُ الحديث ولا تَحَسَّسُوا ولا تَجَسَّسُوا ولا تَنَاجَشُوا ولا تَحَاسَدُوا ولا تَبَاغَضُوا ولا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ::: خبردار تُم لوگ گمان بازی سے باز رہنا بے شک گمان بازی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور ایک دوسرے کی کھوج میں مت رہنا ، اور نہ ہی جاسوسی کرنا اور نہ ہی ایک دوسرے کی فروخت خراب کرنے کے لیے سودے کی زیادہ قیمتیں لگانا ، اور نہ ہی حسد کرنا ، اور نہ ہی کینہ پروری کرو ، اور نہ ہی دشمنیاں کرنا بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بننا )))))صحیح البخاری / کتاب الادب / باب ۵۸ ، اویسی صاحب اپنے دعویٰء محبت کو سچا کرنے کی کوشش کیجیے اور محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام پر عمل کیجیے ، اویسی صاحب اگر کچھ علمی دلائل کے مطابق بات کرنا چاہتے ہیں اور ان کسوٹیوں کے مطابق کرنا چاہتے ہیں جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے اور اچھے مسلمانوں کی طرح کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کی جھوٹی الزام تراشیوں کے باوجود آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں ، و السلام علی من یتبع الھُدیٰ ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (16-03-10), کنعان (19-03-10), نورالدین (16-03-10), عبداللہ آدم (16-03-10), عبداللہ حیدر (16-03-10) |
|
|
#109 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جناب شبعلی نعمانی انے اپنی کتاب الفارق میں اس بات کی باقائدہ تحقیق پیش کی ہے کہ ""جو جناب ام کلثوم جناب عمر (رض) کے عقد میں تھی وہ ام کلثوم حضرت (رضی ) کی دختر نہی تھی"" مصنف جناب شبعلی نعمانی کتاب :۔ الفارق |
|
|
|
|
|
|
#110 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ورنہ یہ بات تو صدیوں سے علما ء اور تاریخ دان تسلیم کرتے آئے ہیں کہ ان صحابہ میں کوئی عداوت نہیں تھی ان میں آپس میں رشتے داری تھی حتیٰ کہ شیعہ علماء نے بھی خود تسلیم کیا ہے اور تو اورآپ کی کتابوں میں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بڑے ہی بے ہودہ انداز میں شکست قبول کی گئی ہے کہ علی نے فاروق کو بیٹی دی تھی اگر اب بھی انکار ہے تو وہ الفاظ طوعاً کرہا نقل کر سکتا ہوں رہ گئے شبلی نعمانی صاحب تو وہ صرف ان کی تحقیق ہے حرف آخر نہیں ۔ اکیسویں صدی کے ایک شبلی نعمانی کی تحقیق سارے امت کی معلومات پر حاوی نہیں ہو سکتی ۔۔ Last edited by نورالدین; 16-03-10 at 05:20 PM. |
|
|
|
|
|
|
#111 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہاں اکر تو اپ نے صابت کردیا کہ اپ کو تعلق کسی اہلسنت افراد میں سے نہی ہے اپ یقینا اور سو فیصدی پہاڑوں سے اتر کر ائے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہاڑ کا نام بتانا پسند کریں گئے یا میں بتادوں ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ تورا بورا سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یا کسی اور مشہور پہاڑ سے اتر کر ائے ہیں ؟؟؟ |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (19-03-10) |
|
|
#112 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
علی کا درجہ خدا کے برابر ٹھہرانے کے چکر میں آپ ہمیں عظمت صحابہ کے متعلق روایات سنا رہے تھے اور اب پہاڑ پر طنز کر کے آپ کون سے صحابی پر طنز کر رہے ہیں ۔ آپ سے ہمیں کسی سنجیدہ گفتگو کی توقع نہیں ہے ۔۔ سب جانتے ہیں پھر بھی آپ کو برداشت کرتے ہیں تا کہ رواداری رہے ۔۔ |
|
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (16-03-10) |
|
|
#113 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#114 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ریحان بھائی ، اگر کچھ علمی دلائل کی روشنی میں بات کر سکیں تو ان شاء اللہ سب کے لیے فائدہ مند ہو گا ، اس طرح کی گفتگو سوائے آپ کی علمی کمزوری کو مزید واضح کرنے کے کچھ اور نہ کر سکے گی ان شاء اللہ ، لہذا میرے بھائی اپنے دلائل سامنے لایے اور ان کے جوابات ملاحظہ فرمایے اور پھر کسی علمی دلیل کی بنا پر ان کا جواب دیجیے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (16-03-10) |
|
|
#115 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے افسوس ہے عادل بھائی کہ آج سے پہلے تک میں آپ کو صاحب علم سمجھتا رہا ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آیا آپ کو واقعی مسئلہ کی سمجھ نہیں یا پھر آپ جان بوجھ کر کرتے ہیں ؟ مجھے حیرت ہے کہ جن لوگوں (یعنی اہل ظاہر) کا فتوٰ ہمیشہ ظاہری اعمال اور افعال اور الفاظ پر منتج ہوتا ہو وہ لوگ آج کیسے قرآں کی ظاہر سے راہ فرار اختیار کرہے ہیں اور کس طرح سیاق و سباق کو نظر انداز کرکے خلط مبحث کررہے ہیں اور یوں سر عام بلکہ بڑے دڑلے سے لوگوں پر شرک کا فتوٰی لگا کر عامۃ الناس کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ۔ ناطقہ سربگریباں ہے کہ اسے کیا کہیے ؟؟؟؟؟؟؟ اب آتا ہوں آپ کے پوسٹ کردہ جواب کی طرف جسے دیکھ کر مجھے انتہائی افسوس ہوا اور آپکی علمیت مجھ پر آشکار ہوئی ۔ ۔ ۔ اقتباس:
آپ نے دعوٰی تو یہ کیا کہ غلام رسول اور عبدالنبی وغیرہ نام رکھنا الوہیت میں شرک ہے مگر اس کی دلیل آپ قرآن سے نہ دے سکے آپکو چاہیے تھا کہ قرآن سے کوئی ایسی آیت پیش کرتے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا کہ ایسے نام رکھنا شرک جلی ہے مگر افسوس کہ آپ ایسا نہ کرسکے آپ نے دعوٰی تو بڑے دڑلے سے کردیا مگر دلیل ایک بھی نہ دے سکے اور جو دی وہ بھی اتنی بودھی کے اس کا بطلان ہم آگے جاکر واضح کریں گے ۔ ۔ ۔ ان شاء اللہ العزیز ۔ ۔ اقتباس:
ہم نے قرآن کی آیت نقل کی اور آپ اس کے معارض میں حدیث نقل فرما رہے اور وہ بھی ایک ایسی حدیث جو کہ ایک الگ کونٹیسٹ میں آئی ہے کہ جس سے آپ کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ اگر حدیث کے الفاظ پر بنظر غائر توجہ کی جائے تو اس حدیث سے ہمارا مؤقف ثابت ہورہا ہے اور آپ کے مؤقف کی نفی ثابت ہورہی ہے ۔۔ ہمارا مؤقف تھا کہ عبد النبی یا عبد الرسول وغیرہ نام رکھنا جائز ہے اور ہم نے بطور دلیل قرآن پاک میں سے دو آیات کو پیش کیا جس میں سے پہلی آیت جو کہ ہم نے پیش فرمائی اس سے منطقی اعتبار سے ہمارا مؤقف ثابت ہورہا تھا جبکہ دوسری آیت میں تو واضح الفاظ ہیں اور وہ آیت ہمارے مدعا کی بڑی صریح دلیل ہے کہ اس میں خود اللہ پاک نے لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ یعنی مخلوق کی جانب فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ لہزا یہی وجہ ہے کہ جو حدیث آپ نے پیش فرمائی محدثین اس حدیث کو قرآنی آیت کے مقابلے میں ہرگز پیش نہیں کرتے بلکہ جو ظاہری تعارض ہے بھی اس کو رفع کرنے کے لیے اور قرآن و حدیث میں باہم تطبیق دینے کے لیے اس حدیث کو تعلیم و ادب پر محمول فرماتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ جو حکم نقل کرتے ہیں وہ تنزیہہ کا ہے نہ کہ تحریم و شرک کا ؟؟؟؟؟؟؟؟ اور اصول بھی یہی ہے کہ جب بظاہر شریعہ کہ دو ادلہ کا تعارض واقع ہو تو اول ان دونوں میں تطبیق کی کوشش کی جائے اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ قائم ہوسکے تو پھر قرآن کو افق حاصل ہے حدیث پر کیونکہ ہم نے جو قرآن کی آیت نقل کی وہ اپنے عموم پر اور قرآن پاک وہ الفاظ بڑے صریح اور واضح اور عمومی ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ’’اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جوبے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔ یہاں لفظ بندہ کی نسبت عمومی اور مطلق ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے کسی مطلق کی تقیید یا تخصیص کسی خبر واحد سے نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کی آیت اپنے ثبوت اور اپنے مدلول پر استدلال دونوں میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلاۃ ہے ۔ ۔ ۔ لہزا یہی وجہ ہے کہ امام مسلم نے بھی اس حدیث کو نقل کرتے وقت تحریم کا نہیں بلکہ آداب الفاط کا باب باندھا ہے لہزا اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ خلاف ادب اور مکروہ تنزیہہ کا حکم ثابت ہوگا بر خلاف آپکے دعوٰی کے کہ آپ کا دعوٰی شرک و تحریم کا ہے اور کسی تنزیہی ممانعت سے شرک ثابت کرنا کس قدر بھونڈی دلیل ہے اور علمی میدان میں اس کی کیا حیثیت ہوتی ہے یہ ایک مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے پھر میں یہ کہتا ہوں کہ آپکا تو دعوٰی ہے کہ غلام رسول نام رکھنا بھی شرک ہے جبکہ آپکی بیان کردہ اس حدیث میں صاف طور پر وارد ہوا کہ عبد کی بجائے غلام کہہ لیا کرو اور اب جب کوئی اس حدیث ہی کی رو سے خود کو رسول کا غلام کہلوائے تو کیا معاذ اللہ وہ کافر و مشرک ہوگیا ؟اناللہ وانا الیہ راجعون اقتباس:
میں پوچھتا ہوں جناب سے کہ کیا کسی بندے کو خرید لینے سے اور اسے اپنا غلام بنا لینے سے کسی بھی انسان کو مالکانہ حقوق کے ساتھ ساتھ آیا مرتبہ الوہیت(معاذاللہ) حاصل ہوجاتا ہے کہ جناب کو زرخرید غلام کی نسبت لفظ عبد کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کیا آیا وہ غلام جو کہ خریدا گیا ہے کیا اس کا بھی حقیقی مالک اللہ ہی نہیں جو کہ ا سکے مالک کا بھی مالک ہے لاحول ولا قوۃ کیا ہوگیا ہے آپ ظاہر پرستوں کی عقل کو ؟ سچ ہی کہا کسی نے کہ خدا جب دین لیتا ہے تو حماقت آہی جاتی ہے یعنی عام طور پر تو کوئی بھی کسی کو غیراللہ کا عبد نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس سے عقیدہ توحید مجروح ہوتا مگر جب کوئی کسی شخص کو خرید کر اپنا غلام کر لے تو اب وہ خدا کی الوہیت میں شریک ہوگیا اب اس کی نسبت اس کے غلام کو عبد کہنا جائز ہوگیا لاحول ولا قوۃ میرا تو آپ لوگوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے لاحول ولا قوۃ اوہ خدا کے بندے مان کیوں نہیں لیتے کہ شرک عقیدہ کا نام ہے اور عقیدہ کہتے ہیں انسان کے کسی بھی عمل کے پیچھے اس نظریہ کو کہ جس پر وہ سختی سے کاربند ہو نہ کہ عقیدہ کسی ظاہری عمل کا نام ہے بھئی سیدھی سی بات ہے کہ لفظ عبد جب بندوں کی نسبت خود قرآن میں استعمال ہوا ہے تو اس لفظ کا وہاں پر ترجمہ بندگی کے بجائے غلامی کیا جائے گا مگر آپ نے بندگی تو درکنار غلامی کو بھی شرک قرار دے دیا اب بندہ جائے تو کدھر کو جائے انا للہ وانا الیہ راجعون سچ ہے ابلیسی توحید کے دام میں بندہ یوں ہی گرفتار ہوتا کہ پھر نہ جائے رفتن نہ پائے رفتن ۔ ۔ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 16-03-10 at 08:18 PM. |
||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#116 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابدعنایت ، اللہ آپ کے حسن ء ظن پر آپ کو اجر عطا فرمائے ، اور آپ کی حیرت کو دور فرمائے لیکن میرے بھائی اس حیرت کی دوری کے اسباب کو اختیار کرنا پڑے گا ، آپ کی تمام باتوں کے جواب میں ایک بات پھر دہراتا ہوں براہ مہربانی اس پر غور فرمایے کہ اگر اُن آیات میں اللہ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ بندگی کی نسبت ظاہر کرنا جائز ہوتا ہے تو یہ جائز کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کیوں نہیں کیا ؟؟؟ جب کہ ان سے بڑھ کر کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا حقیقی محب نہ تھا ، انہوں نے اپنی الاود میں ایسے نام کیوں نہیں رکھے ؟؟؟ کیا صرف کراہت کی وجہ سے ؟؟؟ عابدبھائی ، اگر انسان کسی بات کو نہ سمجھنا چاہے تو بہت سے عذر پیش کر سکتا ہےاور اگر سمجھنا چاہے تو ایک بنیادی اصولی دلیل ہی کافی ہوتی ہے ، اور قران پاک اور احادیث مبارکہ کو سمجھنے کے لیے ، خاص طور پر عقیدے اور عبادات کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہماری اصولی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال ہیں ، آپ مجھے اہل ظاہر میں کہیے یا کچھ اور لقب دیجیے یہ سب آپ کے گمان ہیں اور گمان بازی کی بارے میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چند فرامین مبارکہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ، کسی لمبی چوڑی بحث میں داخل ہوئے بغیر صرف یہ ہی گذارش کرتا ہوں کہ یہاں اس مراسلے میں میرے جو سوال ہیں ان پر غور فرمایے ، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی گذارش کرتا ہوں کہ عربی کے """ عبد """ ، """ مولیٰ """، """ مملوک """ ، اور """مولا """، """ رب """ اور """ سید """ کے معانی اور مفاہیم کے بارے میں بھی ہماری معلومات میں اضافہ فرمایے ، آخر میں ایک مشورہ پیش کرتا ہوں کہ آپ اپنے عقائد کی درستگی کے لیے کچھ بھی کہتے رہیے لیکن اس قدر تعصب کا شکار مت ہویے کہ """ توحید """ کی نسبت بھی """ ابلیس""" سے کرنے لگیں ، اللہ کے بندے اگر ابلیس توحیدی ہوتا تو اللہ کے حکم کا انکار نہ کرتا ، حکم عدولی کے لیے تاویلات نہ کرتا ، بہانے نہ ڈھونڈتا، اللہ تعالیٰ ہمارے دِلوں پر سے تعصبات کی اندھیری چادریں اتارنے میں ہمارے مدد فرمائے اور ہمیں یہ ہمت دے کہ ہم اپنی سوچوں کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں پابند کر سکیں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#117 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے پھر افسوس ہے کہ آپ قرآن پاک پر تدبر نہیں فرما رہے دیکھیئے آپ نے ایک دعوٰی کیا ہے اور وہ دعوٰی یہ ہے کہ غلام رسول یا عبدالرسول نام رکھنا اللہ کی الوہیت میں شرک ہے ؟؟؟؟؟؟؟ اور آپ نے اپنے دعوٰی کی کوئی دلیل پیش نہیں کی ؟؟؟؟؟ جبکہ ہم نے جواب دعوٰی کے بطور قرآن پاک سے ایسی آیت نقل کی ہیں کہ جن میں لفظ عبد کی نسبت غیراللہ کی جانب کی گئی ہے اور ہمارا یہ دعوٰی ہے کہ محض الفاظ کی ذکری مقارنت کی وجہ سے کسی بھی شخص پر شرک کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا بالکل اسی طرح سے افعال میں ظاہری مقارنت بھی شرک کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا جبکہ تک ہم سامنے والے سے اس کا عقیدہ معلوم نہیں کرلیتے اور جو سوال آپ نے ہم پر قائم فرمایا ہے وہ تو ہمارا دعوٰی ہی نہیں بلکہ وہ تو ہماری دلیل ہے اور آپ عجب ہیں کہ ہمارے دلیل کو ہمارا دعوٰی بنا کر بصورت سوال ہم پر قائم فرما رہے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
یعنی کہ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ میرے بھائی یہ کس نے کہا کہ جن آیات میں لفظ عبد غیر اللہ کی نسبت استعمال ہوا وہاں اس لفظ عبد سے عبد حقیقی یا بندگی والا عبد مراد ہے ؟؟؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آپ نے لفظ عبد کے ساتھ ساتھ لفظ غلام کے بھی غیراللہ کے لیے استعمال کو شرک قرار دے دیا ہے اور آپکی یہ بات سب کے سامنے بڑی واضح ہے ۔ جبکہ ہم نے آپکے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے یہ دعوٰی کیا ہے کہ لفظ عبد مشترک المعنٰی ہے لہزا خود قرآن میں یہ لفظ بندوں کی اللہ کی طرف نسبت اور بندوں کی بندوں کی طرف نسبت میں استعمال ہوا ہے لہزا ہردو جگہ اس کا معنٰی جدا جدا کیا جائے گا لفظ عبد جب اللہ کی نسبت سے استعمال ہوگا تو اس کا معنٰی غلام اور عبد بمعنٰی بندہ کرنا دونوں جائز ہونگے جب کہ یہی لفظ جب کسی بندے کی طرف بندہ کی نسبت سے استعمال ہوگا تو اس کے معنٰی فقط بندہ بمعنٰی غلام کے ہی ہونگے لہذا قرآنی فتوٰی کی رو سے عبد الرسول یا غلام رسول نام رکھنا جائز ہوگا کیونکہ ان ناموں میں لفظ عبد حقیقت میں غلام ہی کے معنٰوں میں ہے نہ کہ عبد حقیقی محض لفظ عبد کی نسبت اللہ اور غیر اللہ کی جانب میں زکری مقارنت کی وجہ سے ہی شرک کا فتوٰی نہیں دیا جائے گا کہ یہ ذکری مقارنت تو اللہ پاک کی اور بندوں کی بہت سے صفات میں مشترک ہے ۔۔ جیسے علیم خبیر حکیم سمیع بصیر وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
مجھے بہت افسوس ہے میرے بھائی کہ اپ باربار خلط مبحث کرکے نفس مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اہل علم سے یہ ہرگز مخفی نہیں کہ صحابہ کرام کا کسی کام کو نہ کرنا یعنی ترک کسی بھی کام کی حرمت کی دلیل نہیں صحابہ تو کُجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنا اس کی حرمت کی دلیل نہیں اور میدان استدلال میں اس قسم کے دلائل پیش کرنا خجالت کی نشانی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
|
||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#118 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، عابد بھائی ، میرا خیال ہے کہ آپ اس دھاگے میں میرے اور آپ کے مراسلات کا بغور اور تحمل سے مطالعہ کیجیے ، ان شاء کافی اشکالات دور ہو سکتے ہیں ، اقتباس:
اگر """ عبد الرسول """ میں لفظ عبد """ غلام """ کے معنی میں سمجھا جائے تو اس """ غلام """ کو آپ اردو میں کسی اور لفظ میں کیا کہیں گے ؟؟؟ اور یہ """ ذکری مقارنت """ کیا چیز ہوتی ہے ؟؟؟ کیا جو کچھ آپ کہنا چاہ رہے ہیں اسے کچھ دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں ؟؟؟ اقتباس:
اقتباس:
کس کی باتیں کس سے ملتی ہیں اس کے لیے اپنے اس جواب میںجو کچھ میں نے سب سے پہلے حصے کہا تھا اسے ہی آخری حصہ بناتا ہوں کہ """ عابد بھائی ، میرا خیال ہے کہ آپ اس دھاگے میں میرے اور آپ کے مراسلات کا بغور اور تحمل سے مطالعہ کیجیے ، ان شاء کافی اشکالات دور ہو سکتے ہیں """ ، اور مزید نصیحت یہ کرتا ہوں کہ میرے بھائی کہ اپنے جذبات پر کم از کم اتنا قابو تو رکھیے کہ کسی کو ، اور کسی کی بات کو بلا دلیل و حجت ابلیس سے مت جوڑیے ، اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے اور آپ کے جوش کو وہ ہوش عطإء فرمائے جو اس کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہتا ہو ، و السلام علیکم۔ |
||||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (19-03-10), نورالدین (17-03-10), آبی ٹوکول (17-03-10), عبداللہ آدم (17-03-10), عبداللہ حیدر (16-03-10) |
|
|
#119 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
(((((((((((((خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنا اس کی حرمت کی دلیل نہیں )))))))))))))))
1۔ما ٰاتٰکم الرسول فخذوہ وما نھٰکم عنہ فانتھوہ) (الحشر) جو تمہیں رسول دیں وہ لی لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ 2۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا(جس نے ہمارے امر(دین)میں ایسا نیا کام کیا جس جو اس میں نہیں تھا تو وہ رد ہے۔(مسلم کتاب۔ الاقضیہ) بخاری کے لفظ ہیں کہ (جس نے ایسا عمل کیا جس پر ھمارا حکم نہیں تھا تو وہ رد ہے) عابد بھائی دین کے ساتھ تو یوں نہ کریں،اور بڑی چیزیں ہیں طبع آزمائی کے لیے۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#120 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہاں ترک فعل کا کوئی ذکر نہیں ہے یعنی اللہ پاک یہ نہیں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام نہیں کیئے وہ تم بھی نہ کرو ۔ ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دین میں تمام احکام کا مدار اوامر و نواہی اور پھر اسکے بعد اباحت پر ہے ۔ ۔ امر :- ایسا کام کہ جسکا حکم دیا گیا ہو نہی :- ایسا کام کہ جس سے منع کیا گیا ہو اباحت :- یعنی جس فعل کے کرنے کا نہ تو حکم ہو اور نہ ہی اس سے روکا گیا ہو ۔ ۔ مزید تفصیل کہ یہاں دیکھیئے ۔ ۔ اقتباس:
|
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: | عادل سہیل | کفروشرک | 8 | 02-02-12 07:18 PM |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: | عادل سہیل | کفروشرک | 6 | 05-03-10 08:21 PM |
| پانچ چیزیں | اخترحسین | ایس ایم ایس | 1 | 18-10-09 08:00 PM |
| پانچ چیزیں | میاں شاہد | اسلام اور معاشرہ | 0 | 01-06-09 11:32 AM |
| پانچ چیزیں | ابو عمار | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 07-10-07 10:03 AM |