| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() |
غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام
قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔ یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔ Understanding Islam - Urdu)) جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں: آیتِ ترجمہ '' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔'' (سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩) اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ: ''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے'' (سورہ ال عمران آیت١٨٥) اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر) اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا (نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں: آیتِ ترجمہ ''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا'' (سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥) (عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے: آیتِ ترجمہ'' یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی'' (سورۃ الاحقاف آیت١٧) اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔ آیت: '' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔'' (سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١) اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ، دیکھئے (تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ مفہوم حدیث: ''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے'' (صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢) نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔ مفہومِ حدیث: ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔'' (صحیح بخاری کتاب الانبیاء) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے'' (سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی) (صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی) مفہومِ حدیث: جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔ تمہید: قرآن مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#91 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ تعالی نے اس سے اگلی آیت میں اس بات کو واضح کردیا ہے۔ دیکھئے۔ 4:159 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا اور نہیں کوئی اہل کتاب میںسے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اُس (عیسی علیہ السلام) پر اُس ( عیسی علیہ السلام) کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام) ہونگے اُن کے گواہ۔ 4:160 فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُو اْ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللّهِ كَثِيرًا پس بسبب ان مظالم کے جو کیے ان لوگوں میں سے انہوں نے جو یہودی ہیں، حرام کردیں ہم نے ان پر بہت سی پاکیزہ چیزیں جو (پہلے) حلال تھیں ان کے لیے اور اس بنا پر بھی کہ روکنے ہیں وہ۔ اللہ کی راہ سے بہت زیادہ۔ یہاں اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو یہودی ہیں الگ سے بیان ہوگیا، متوفی، وفاۃ، جسم و روح کا قبضہ یا جسم کی عمر پوری ہونے پر موت؟ آپ نے وفاۃ کو جسم و روح کا قبضہ لینے سے مراد لی ہے جبکہ میں نے وفاۃ کی وضاحت عمر کا پورا ہونے سے لی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ اللہ تعالی اس کو کس طور لے رہے ہیں، کیا ہمیں قرآن حکیم سے کوئی ثبوت ملتا ہے کہ آیا کہ یہ ---- عمر پوری ہوجانے سے جسم کی موت مراد ہے ؟ ----- یا پھر ----- یہ جسم و روح کو قبضہ میںلینا مراد ہے ------ درج ذیل آیات کو دیکھئے اور غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو موت وفات یعنی عمر پوری ہوجانے پر دی۔ پڑھے بغیر یہ نکتہ سمجھ میںنہیں آئے گا لہذا بغور دیکھئے (استدعا) 3:54 إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں متوفی کروں گا اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں سے نجات دلادں گا، اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا اب آپ عیسی علیہ السلام کا ایک اور مکالمہ اللہ تعالی سے دیکھئے: 5:116 وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ بنالو مجھے اور میری ماں کو دو معبود اللہ کے سوا؟ وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تو، نہیں زیب دیتا مجھے کہ کہوں میں ایسی بات جس کا نہیں مجھے کوئی حق، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو بے شک تجھے اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے وہ جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے جی میں ہے۔ بے شک تو جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔ 5:117 مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو، تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے آپ نے لکھا کہ یہ مکالمہ مستقبل میں قیامت کے بعد ہورہا ہے۔ میںبھی یہی سمجھتا ہوں۔ آیت 3:54 میں میں اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام سے فرما رہے ہیں کہ وہ ان کو متوفی کریں گے۔ آپ کی تشریح یہ ہے کہ ان کو جسم و روح سمیت قبضہ میں لے لیا گیا۔ آئیے اس کو دیکھتے ہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔ آیات 5:116 اور 5:117 میں مستقبل میں اللہ تعالی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان ہونے والا ایک مکالمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کو بغور پڑھئیے اس مکالمہ کی ترتیب یہ ہے ۔ 5:116 1۔ جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ بنالو مجھے اور میری ماں کو دو معبود اللہ کے سوا؟ 2۔ وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تو، نہیں زیب دیتا مجھے کہ کہوں میں ایسی بات جس کا نہیں مجھے کوئی حق، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو بے شک تجھے اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے وہ جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے جی میں ہے۔ 3۔ بے شک تو جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔ 5:117 4۔ میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، 5۔ اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، 6۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، 7۔ اور تو ہر چیز پر گواہ ہے یہ دو آیات ہم کو اس متوفی ہونے کی تفصیل بتاتی ہیں کہ یہ وفات صرف اور صرف ایک بار ہوئی۔ یعنی ایک وفات پہلے اور ایک موت بعد میںنہیں ہوئی کہ اول: جب حضرت عیسی علیہ السلام ان لوگوں کے درمیان موجود تھے تو حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں کو کیا تعلیم دی ؟ کہ ایک رب کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا دونوں کا رب ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم تھی، اس کے بعد : عیسی علیہ السلام کی وفات ہوگئی، جس کے بعد لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ مریم علیھا السلام کو دو عدد معبود بنا لیا ، جیسا کہ آج کل ہے۔ اب اگر آپ کی توجیہات درست ہیں اور ہم قیامت کے دن اس مکالمہ کو دیکھ یا سن رہے ہیں تو ہم کو یہاں یہ خبر ملنی چاہئیے کہ جب پھر اللہ تعالی نے دوبارہ عیسی علیہ السلام کو بھیجا تو تمام عیسائیوں کے فرقہ (حضرت عیسی علیہ السلام ) پر ایمان لے آئے۔ لیکن ایسا کہتے نبی کریم حضرت عیسی علیہ السلام نظر نہیںآتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ پہلی وفات کے بعد دوسری مرتبہ موت واقع ہوئی۔ بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ جس دن اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات دی اس کے بعد سے اللہ تعالی ہی جانتے ہیں ، وہی گواہ ہیں وہی نگہبان ہیں کہ دو معبود کی عبادت کب شروع ہوئی اور اس آیت سے واضح ہے کہ یوم قیامت تک ہوتی رہی ہے۔ اس آیت میں متوفی ہونے کے بعد یعنی وہ وفات جو کہ ماضی میں ہو چکی ہے دوبارہ نازل ہونے اور سب لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دوبارہ خبر دینے کی کوئی خبر نہیںملتی ہے۔ جس سے واضح ہے کہ پہلی وفات ہی عمر پوری ہونے پر موت ہے۔ اس بات کو دوبارہ 4:159 میں دہرایا گیا ہے۔ لہذا 4:159 بالکل درست ثابت ہوتی ہے کہ ان کی وفات سے پہلے ہر وہ شخص جو ان کے ساتھ تھا ، گویا اہل کتاب میں شامل تھا کفار میں نہیں ، ان پر ایمان لے آیا تھا کہ ایک اللہ تعالی کی عبادت کریں گے۔ ان کی وفات کے بعد سے قیامت تک لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کو معبود بنا لیا۔ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ نہیںبھیجا ان کو اس "وفات" سے قیامت تک۔ اس سارے معاملہ کی خبر اس مکالمہ سے مل رہی ہے۔ اگر قیامت سے پہلے ماضی میں حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ نازل کیا گیا اور تمام فرقہ ان پر ایماں لے آئے اور پھر ان کی وفات ہوتی ہے تو پھر دو معبود کی عباد ، ان کی وفات کے بعد دوبارہ شروع گئی؟ اس بات کا کوئی ثبوت ان آیات سے نہیں ملتا۔ ان آیات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 1۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی تعلیم دی 2۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی اور ان کی روح مبارک کو اوپر اٹھا لیا گیا۔ 3۔ ان کی وفات کے بعد لوگوں نے دو معبودوں کی عبادت شرع کردی 4۔ ان کی وفات کے بات اللہ تعالی اس بات کا گواہ اور لوگوں پر نگہبان تھا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو کوئی علم نہیں اس بارے میں۔ 5۔ قیامت کے دن یہ مکالمہ ہوا جس میں ان باتوں کو دہرا جائے گا۔ اس مکالمہ میںبھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو قیامت تک کے لئے دکھایا گیا ہے۔ دوبارہ زندہ آسمانوں سے واپس آتا نہیں بتایا گیا ہے۔ اور پہلی "وفات" کے بعد دوبارہ موت نہیں بتائی جارہی ہے۔ ان نکات سے یہ واضح اور ثابت ہے کہ جس وفات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی واحد وفات ہے ۔ اور جس موت کا تذکرہ 4:159 میں کیا گیا ہے وہ واقع ہوچکی ہے۔ ان کی اس موت سے پہلے جو اہل کتاب تھے وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ مصلوب ہوئے اور نہ ہی قتل ہوئے۔ یہی ایمان آج مسلمانوں کا بھی ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے اس واضح ثبوت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی فوات یعنی موت عمر پوری ہونے سے ہوچکی ہے۔ حییث سے ثبوت: امما مالک رحمت اللہ علیہ نے رسول اکرم سے منسوب روایات کی ایک مکمل کتاب پیش کی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا واپس آنا ایک اہم معاملہ ہے۔ ان کی مرتب کی ہوئی روایات کی کتاب میں کوئی روایت ایسی نہیں جو ھضرت عیسی علیہ السلام کی زندہ آسمانوں مٰروانگی اور زندہ آسمانوں سے واپسی کا تذکرہ ، رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے کرتی ہو۔ روایات کی اس کتاب کے تقریباً دو سو سال بعد جن کتب روایات میں حضرت عیسی علیہ السلام کے واپس آنے کی روایات رسول اللہ سے منسوب کی گئی ہیں وہ دشمنان اسلام کا کارنامہ لگتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم محدثین کو ہر الزام سے مبراءسمجھتے ہیں ، یہ رسول اللہ کی وفات سے دو سو سال بعد کی بعد کی کاروائیاں لگتی ہیں۔ استدعا یہ ہے کہ قران حکیم کی روشنی میں ان کتب روایات کو دیکھئے نہ کہ ان کتب روایات کی روشنی میں ہم اللہ تعالی کے فرمان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ان آیات کے تجزیہ سے یہ واضح ہے کہ فرمان الہی کی روشنی میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہی ان کی موت ہے، جس کے واضحثبوت قرآن کی آیات میں پوشیدہ ہیں۔ اللہ تعالی نے صرف یہ وضاحت کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت ، وفات یعنی عمر کے پورے ہوجانے کی صورت میں ہوئی نہ کہ ان کو قتل کیا گیا اور نہ ہی ان کو مصلوب کیا گیا۔ امام مالک کا سنہ پیدائش 711 ہے ، Mālik ibn Anas ibn Malik ibn 'Āmr al-Asbahi (مالك بن أنس) (c. 711 - 795) (93 AH - 179 AH ) امام بخاری، امام مالک سے 99 سال بعد 810 عیسوی میں بعد پیدا ہوئے۔ ( البخاري Imam Bukhari (194/810-256/870 ان 99 سالوںکے دوران قرآن حکیم یا امام مالک کی روایات کے کتابی مجموعہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمانوں پر جانے یا واپس آنے کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ اس طرح یہ دخل در معقولات رسول اکرم کے اس دینا سے تشریف لے جانے کے تقریباً 100 سے 150 سال بعد کا واقعہ ہے۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہم امام بکاری یا ان کے طالب علموں پر کوئی الزام رکھ رہے ہیں۔ ان پر کوئی الزام رکھا ہی نہیںجاسکتا کہ ان اصحاب کی کتب کی اصل موجود ہی نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ دخل در معقولات کب ہوا، کس دور میں ہوا، بس اتنا معلوم ہے کہ احدیث کی کتب میں یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لگ بھگ 190 سال تک نہیں ملتا۔ نتیجہ: قرآن سے عیسی علیہ السلام کی وفات یعنی اپنی عمر پوری کرنے کے ساتھ ساتھ جناب کی موت کا واضح ثبوت موجود ہے۔ امام مالک کی مرتب کی ہوئی احادیث میں اس طرح کا کوئی واقعہ موجود نہیں جس سے زندہ آسمانوں پر جانے کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔ لہذا بعد کی کہانیاں دخل در معقولات ثابت ہوتی ہیں ان کہانیوں کا کوئی ثبوت قرآن حکیم یعنی فرمان الہی سے نہیں ملتا۔ اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امام مالک کی مرتب کی ہوئی احادیث سے ملتا ہے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 10-11-09 at 11:12 AM. |
|
|
|
|
|
|
#92 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 88
کمائي: 1,241
شکریہ: 17
45 مراسلہ میں 91 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
م علیکم
یہ ٹاپک کا نام پڑھ کر میں سمجھا تھا کہ اندر قادیانیوں کہ ساتھ گرما گرم بحث چل رہی ہو گی ۔۔۔ لیکن اندر آکر عجیب حال دیکھا ہے ۔۔۔ ہرحال پہلے والی پوسٹس کا منہ توڑ جوابات دیے گےء ہیں یہ آخری پوسٹ بھی کل میں نے اسی وقت دیکھی تھی اسکا جواب نہیں دیا گیا تھا میرا خیال تھا کہ اب تک کوی نہ کوی دے گا لیکن ابھی تک نہیں دیا گیا تو میرے سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ پیچھے والی بحث سے قطع نظر ۔۔ اس پوسٹ میں فاروق صاحب نے جو لکھا ہے اسکا جواب دوں گا ۔۔ جناب فاروق صاحب اپکی عمر 52 سال ہے اور حیرت مجھے اس بات پر ہو رہی ہے کہ ان 52 سالوں میں آپکو اہل کتاب کا مطلب پتا نہیں چلا بہت معذرت کے ساتھ ۔۔۔ اہل کتاب انکو کہتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی کوی کتاب نازل ہوی ہو ۔۔۔ اس کو اہل کتاب نہیں کہتے جو نبی کو مانتے ہوں ۔۔ اس طرح تو پھر عیساءیوں پر بھی لفظ اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی حضور نبی کرم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے انکاری اور انکے مخالف ہو گےء تھے ۔۔ اگر لفظ اہل پر بھی ہی غور کر لیا جاے تو مطلب واضح ہو جاتا ہے ۔۔۔ لیکن اسلام کے ایک اہم عقیدہ کا انکار کرنے کے لیے اگر آپ یہ چیزیں گھر بیٹھ کر نہیں بناءیں گے تو اور کہاں بناءیں گے ،۔۔ بہرحال ۔۔۔ آپ نے قرآن کی آہت میں بہت شرمناک تحریف کی ہے ۔۔ ویسے زاتی طور پر مجھے عربی کی الف بے بھی نہیں آتی لیکن چونکہ تھوڑی سی عقل ہے اس سے کام چل جاتا ہے ۔۔۔ سورہ النسا کی آپت نمبر 159 کا ترجمہ بھی آپ نے غلط کیا ہے ۔۔ صحیح ترجمہ میں آپ کی معلومات کے لیے یہاں لگا رہا ہوں ۔۔ وَ اِنۡ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ۚ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَكُوۡنُ عَلَیۡہِمْ شَہِیۡدًا ﴿۱۵۹﴾ۚ اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسٰی پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہو گا ان پر گواہ دوسری بات جناب ۔۔ آپ نے کہا کہ اس سے اگلی آیت میں یہود کو الگ سے بیان کر کہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وہ اہل کتاب میں سے نہیں ہیں ۔۔۔ آپ کی یہ بات بلکل غلط ہے ،۔۔۔۔ آگر آپکو کوی معتبر تفسیر دیکھنے کی توفیق ہو تو آپکو پتا چلے گا کہ اس آیت میں یہود مومنینن کا تذکرہ ہے ۔۔ جیسے عبداللہ بن سلام ؓ جو پہلے یہودی تھے پھر ایمان لے آے جنکو تورات کا مکمل علم ہے انکے بارے میں ہے یہ لوگ مانتے ہیں پچھلی کتابوں کو اور اللہ کے احکامات کو ۔۔۔ آپ پلیز اپنی مرضی کی تفسیر یہاں بیان نہیں کریں ۔۔۔ جو تفسیر صحیح اور معتبر ہے وہ ہی بیان کریں ۔۔۔۔ ہوم میڈ تفسیر نہیں چلے گی ۔۔۔ یہ دین اللہ کا ہے چچا ماما تایا کی باتیں نہیں ۔۔۔ جناب عربی میں وفات کا لفظ ضروری نہیں ہے موت پر ہی لازمی آے وفات کا مطلب ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے آپ کسی بھی معتبر عربی لغت میں دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ یہ جو سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 55 ہے آپ نے اسکا حوالہ بھی غلط لکھا ہے یہ 54 نیں بلکہ 55 ہے زرا غور کر لیں ۔۔۔۔ اس میں بھی متوفیک جسم اور روح دونے کے اٹھانے کے لیے استعمال ہوا ہے ۔۔ اگر آپ اس آیت سے پہلے والی آیات پڑھیں سورۃ آل عمران آیت نمبر 52 سے تو یہ والی آٰت کا مطلب صحیح سمجھ آے گا ۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کافروں سے بچانے کی بات کر رہے ہیں زرا اس سے پہلے آیت نمبر 52 دیکھیں وہاں زکر ہے فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنْہُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوۡنَ نَحْنُ اَنۡصَارُ اللہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾ پھر جب معلوم کیا عیسٰی نے بنی اسرائیل کا کفر [۸۶] بولا کون ہے کہ میری مدد کرے اللہ کی راہ میں [۸۷] کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد کرنے والے اللہ کی [۸۸] ہم یقین لائے اللہ پر اور تو گواہ رہ کہ ہم نے حکم قبول کیا [۸۹] حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ کون ہے جو میری مدد کرے گا ۔۔۔ پھر اس سے آگے آیت نمبر 54 میں اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾ اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے تو اب اللہ نے کیا مکر کیا تھا اسکو آیت 55 میں بیان کیا کہ میں تجھے اوپر اٹھا لوں گا ۔۔۔ یعنی کافروں سے بچا کر ۔۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کو مار کر بچایا جاتا ہے ؟؟؟؟ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا اسی لیے یہاں پر لفظ متوفیک کا استعمال ہوا ہے نہ کہ موت کا یہاں پر یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں تجھے موت دے کر اپنے پاس بلا لوں گا لیکن لفظ متوفیک یہ بتاتا ہے کہ اللہ نے اٹھایا پھر جس کی تفصیل دیگر صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے ۔۔۔ جناب یہ جو مکالمہ اللہ تعالیٰ کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہو رہا ہے اس سے بلکل بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت واقع ہو گیء کیونکہ اگر میں پاکستان چھوڑ کر کہیں اور چلا جاوں تو مجھے کیا پتا کہ میرے پیچھے کیا کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ یہاں پر انبیاء کے علم غیب کی نفی ہو رہی ہے کہ وہ غیب کو نہیں جانتے ۔۔۔ یہ یاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں اور وہ اللہ کی طرح علم غیب وغیرہ نہیں رکھتے اسی لیے وہ انکار کر رہے ہیں کہ اے اللہ آُ پنے تو مجھے یہاں اپنے پاس اٹھا لیا تھا تو پھر میں کیسے جانتا کہ میرے بعد وہاں کیا ہوں ۔۔۔ آُپکا یہ تاویل کرنا بلکل باطل ہے ۔۔ دوسرا آپ نے یہ جو اشکال کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ نازل کیا گیا اور تمام فرقہ ان پر ایمان لے آے اسکا ثبوت نہیں ملتا آُ پکی یہ بات بلکل باطل ہے ۔۔۔ آُپ سورہ النسا کی آٰیت نمبر 159 کا غور سے مطالعہ کریں ۔۔ تمام اہل کتاب ایمان لے آے حالانکہ آج کے دور کے عیسای ہیں وہ بھی اس باطل عقیدہ پر ہیں کہ حضرت عیسیٰ اللہ ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں اب یہ تو ایمان لانا نہیں ہوا ایمان لانا تو یہ ہوتا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی مانتے اور انکی لای ہوی تعلیمات کو بھی مانتے ۔۔۔ اب عیسای تو اہل کتاب ہیں نہ اگر آپ یہودیوں کو نہیں مانتے تو عیسای تک تو ٹھیک ایمان لاے نہیں پھر یہ آیت یہ بتا رہی ہے کہ سب ایمان لے آءیں گے ۔۔ یہ ابھی تک ہوا نہیں ۔۔۔ اگر ہوا نہیں تو اللہ کہتے ہیں ہو گا کب ہو گا حضرت عیسیٰ کی وفات سے پہلے تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ کی وفات ابھی نہیں ہوی اور جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ وہ آءیں گے تو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ آءیں گے ۔۔۔ دوسرا اشکال آپا یہ ہے کہ امام مالک کی جمع کی ہوی احادیث میں حضرت عیسیٰ کے واپیس آنے پر کوی حدیث نہیں تو اس سے بھی کچھ ثابت نہیں ہوتا ۔۔ کیونکہ امام مالک نے ساری احادیث جو تھیں وہ اس کتاب میں جمع نہیں کیں ۔۔۔ بلکہ انکو چند مساءیل ثابت کرنے تھے جنکے لیے انہوں نے وہ احادیث جمع کی تھیں کسی بھی محدث نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے اس کتاب میں حضور کی تمام احادیث جمع کر لی ہیں ۔۔ تمام محدثین نے اپنے اپنے حساب سے احادیث جمع کی ہیں ۔۔۔ اب جو محدیثین کے احادیث کو پرکھنے کے بناے ہوے قاءدے ہیں ان کے مطابق جو حدیث صحیح ہوتی ہے ہم اسکو مان لیتے ہیں اور حیاتِ عیسیٰ کا مسلہ اجماعی ہے اور اسکا انکار کفر ہے کیونکہ یہ مسلہ قرآن سے ثابت ہے ،،،، متواتر احادیث سے ثابت ہے ۔۔۔ اور اجماع امت سے ثابت ہے تمام امت کا اجماع آج تک اس بات پر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آءیں گے ۔۔۔ اب انگریز کا پٹھو کوی قادیانی یا متجدد یہ کہہ دے کہ نہیں جی وہ تو وفات پا چکے ہیں اور ان کی قبر محلہ یار خاں سرینگر میں ہے تو ہم اسکو کافر کہہ کر سایڈ پر کر دیں گے اور قرآن حدیث اور اجماع کا انکار نہیں کریں گے ۔۔۔ یہ جو آپ نے عجیب منطق گھڑی ہے کہ امام مالک کے بعد امام بخاری 99 سالوں کے بعد آے اور انہوں نے یہ احادیث بیان کی تو یہ سراسر جہالت کی بات ہے اور آپکا علم حدیث سے کم علمی کی نشانی ہے ۔۔۔ اس طرح تو آپ امام مالک کی احادیث کا بھی انکار کر دیں گے کہ یہ صحابہ کے زمانے میں نہیں تھے تو یہ تو حضور اکرم کے اتنے عرصے بعد آے ہیں حضور کے زمانے میں ایسا نہیں ہوا تو یہ انہوں نے گھڑا ہے نعوذباللہ یہ کیسا عجیب منطق ہے آپکا ۔۔۔ میرے بھای یہ احادیث گھڑنے کا سسٹم شاءید آپکے یہاں ہو امام بخاری کے یہاں نہیں تھا انہوں نے احادیث کی بہت چھان پھٹک کے بعد احادیث کو اپنی کتاب بخاری میں جمع کیا ہے آپ انکی اسناد چیک کر سکتے ہیں ۔۔۔ اور یہ احادیث صرف امام بخاری نے ہی بیان نہیں کیں بلکہ دیگر محدیثین نے بھی ان احادیث کو بیان کیا ہے اور یہ احادیث امت میں متواتر چلتی آرہی ہیں ۔۔۔ آپ نے آخر میں جو نتیجہ نکالا ہے اسکا رد بھی الحمداللہ میں اوپر اپنی پوسٹ میں کر چکا ہوں ۔۔ مجھے امید ہے کہ آپ شرالقرون کے متجددین کی تقلید چھوڑ کر خیر القرون کے صلف الصاحین کی تقلید کریں گے ۔۔۔ اور مجھے بہت افسوس ہوا کہ آُ پنے احادیث کو کہانیاں کہہ کر کفر کا ارتکاب کیا اور قرآن میں اپنی مرضی کی تحریف کرنے کی کوشش کی اللہ ہم سب کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرماءیں اور غامدی اور قادیانیت جیسے فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرماءیں ۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ملنگ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#93 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (21-12-09) |
|
|
#94 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن حکیم کی یہ آیات بہت ہی وضاحت سے یہ بتاتی ہیں کہ عیسی علیہ السلام اپنی وفات کے بعد اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔ دیکھئے:
اب آپ عیسی علیہ السلام کا ایک اور مکالمہ اللہ تعالی سے دیکھئے: 5:116 وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ اور جب اﷲ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا دو معبود بنا لو، وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے، میرے لئے یہ (روا) نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو یقیناً تو اسے جانتا، تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں۔ بیشک تو ہی غیب کی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے 5:117 مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام رسول اللہ سے سوال کررہے ہیں۔ اور جب اﷲ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا دو معبود بنا لو،؟ وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے، میرے لئے یہ (روا) نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو یقیناً تو اسے جانتا، تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں۔ بیشک تو ہی غیب کی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے جب وفات دے دی تو پھر اللہ تعالی ہی اس بات پر گواہ رہے کہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کی عبادت کرتے رہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے قیامت تک کی صورت حال اللہ تعالی نے بیان کردی ہے۔ اس میں کہیں نہیں ہے کہ میری وفات کے بعد سے میرے دوبارہ زمین پر نزول تک کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن یہ لوگ میرے دوبارہ نزول کے بعد سدھر گئے تھے۔۔ قرآن کے اس صاف اور وضاحتی بیان کے بعد آپ کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور وفات سے قیامت تک واپس نہ آنے کی گواہی موجود ہے۔ لیکن آپ پھر بھی اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں لوگوں کے بہکانے میں آ کر۔ قرآن پڑھئے بھائی کہ مسلمان کی کتاب صرف قرآن ہی ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#95 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
dxbgraphix بھائی جان
پاک نیٹ پر خوش آمدید بہت اچھا لگا آپ کو یہاں دیکھ کر بڑی عجیب سی آئی ڈی ہے آپ کی۔ اگر آپ اپنا تعارف کروا دیں تو آپ کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#96 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا آپ نے اس حدیث کو نہیں سنا "آپ(ص) کا ارشاد مبارک ہے کہ 'کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں مگر صرف تقوا کی بنیاد پر'" والسلام |
|
|
|
|
|
|
#97 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم!
یہاں اختلاف اس بات کا ہے کہ حضرت مسیح علیہ سلام زندہ اوپر اٹھائے گئے تھے یا نہیں، اس بحث سے قطع نظر،، کیا قرآن مجید میں اس بات کی نفی موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ سلام دوبارہ واپس آئیں گے، جبکہ حدیث مبارکہ میں توان کا نزرل واضع ہے۔ ۔ ۔ ۔ واضع رہے کہ حضرت مسیح علیہ سلام امتی کی حیثیت سے آئیں گے، اور دیں اسلام کا نفاذ کریں گے۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#98 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#99 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مبشر بھائی
آپ درست فرما رہے ہیں۔ بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ ان حضرات کے نزدیک خلاف قرآن ہونے کا معیار کچھ عجیب سا ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#100 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ آیات قیامت کے دن کی طرف سے واپس عیسی رسول اللہ کی وفات کی طرف دیکھتی ہیں اور قیامت سے وفات تک کے دورانیہ میں جو کچھ پیش آیا ہے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ ان معلومات میں سے ایک معلومات ہے ، عیسی علیہ السلام کی وفات ، دوسرے عیسائیوں کا عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کی پرستش و عبادت اور تیسرا قیامت تک کا وقت۔ اس سارے عرصہ میں عیسی علیہ السلام --- ایک بہت اہم واقعہ --- کہ ان کا دوبارہ نزول ہوا اور پھر سب سدھر گئے ----- کا رذکرہ بالکل نہیں کرتے نظر آتے۔۔۔۔ یعنی بقول شخصے عیسی علیہ السلام کو واپس دنیا میں آنے کا موقع ملا، سب کو سدھار دیا ، سب ایک اللہ کی پرستش کرنے لگے ۔۔۔۔ لیکن رسول اللہ اس اپہم واقعے کی نشاندہی قطعاً نہیں کررہے ہیں۔ اس کی دو ممکنہ وجوہات ہیں۔ یا تو اللہ تعالی اور عیسی علیہ السلام اس غیر اہم اور غیر ضروری واقعہ کا تذکرہ بھول گئے ۔۔۔ یا پھر ایسا حضرت عیسی کی وفات کے بعد قیامت تک ایسا ہونا ہی نہیں ہے۔ چونکہ یہ آیت قیامت یعنی مستقبل سے وفات تک کے واقعات کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارا واپسی کا تذکرہ نہ ہونا ایک بڑی ہی اہم بات ہے۔ وہ اہم بات یہ ہے کہ وفات سے قیامت تک ، عیسائی ، حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی ماںکی پوجا ایسے ہی کرتے رہیں گے جیسا کہ آج کرتے ہیں۔ تمام قرآن میں حضرت عیسی کی قیامت سے پہلے واپسی کا کوئی تذکرہ نہیںہے۔ اگر کوئی آیت صراحت سے یہ بیان کرتی ہے تو جناب وہ پیش کیجئے تاکہ ہم سب کا بھلا ہو۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#101 |
|
Senior Member
![]() |
فاروق بھائی میں آپ سے دوسرے فورم پر بھی پوچھاتھا کہ " لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ" کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے ۔لیکن میرے خیال میں شاید آپ کو موقع نہیں ملا اس فورم پر جانے کا ۔ لہذا میں یہاں پوچھنے کی جسارت کرونگا۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#102 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشا اللہ۔ اللہ تمام ساتھیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے۔ عقیدہ ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام واقعی ایک مسلمان کے لیے کافی ذہنی اشکالات کا باعث ہیں۔ان کو تسلیم کرنے میں یہ چیز بھی رکاوٹ بنتی ہے کہ قرون اولیٰ میں ان کو بیان کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔پھر قرآن میں ان کے بارے میں واضح آیات موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی احادیث میں ان کے ماننے کا کوئی حکم آیاہے۔ اگر ان کا تسلیم کرنا ضروری ہوتا تو کیا قرآن و احادیث میں دوسرے عقائد کی طرح ان کی وضاحت نہ ہوتی۔
ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ حدیث مبارکہ کی پہلی جامع اور صحیح کتاب موطا امام مالک میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے بارے میں کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے۔ اگر یہ عقیدہ اتنا ہی اہم اور مشہور ہوتا تو کیا اس کتاب میں بھی اس کا ذکر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ عقیدہ اس کے بعد نمودار ہوا ہو۔ اسی طرح یہ آیت:وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا اس میں ان الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ کو کیسے متعین کیا گیا ہے۔کیا اس کا یہ مفہوم کہ اپنی موت سے قبل زیادہ قرین قیاس نہیں لگتا۔ ساتھیوں سے گزارش ہے کہ مزید وضاحت یہ بھی کی جائے کہ دین اسلام بھی مکمل ہے اور نبوت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کاانتظار کرنا اتنا ہی ضروری ہے۔علمائے اسلام جن کو انبیائے بنی اسرائیل کے برابر قرار دیا گیا ہے، کیا ان دینی امور کے لیے وہ کافی نہیں تھے۔عادل سہیل اور فاروق بھائی بہت شکریہ ۔ آپ لوگوں کی بحث سے ہم لوگوں کو حقائق تک پہنچنے میں کافی آسانی ہوتی ہے۔ ۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-01-10), shafresha (09-09-10), فیصل ناصر (09-09-10), فاروق سرورخان (04-01-10), کنعان (09-09-10), نورالدین (02-03-10), محمدمبشرعلی (06-01-10), مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#104 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
والسلام |
|
|
|
|
|
|
#105 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,040
شکریہ: 26,773
3,500 مراسلہ میں 11,235 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رفع ڈپلیکیٹ پوسٹنگ ڈیلیٹ Last edited by مرزا عامر; 10-09-10 at 01:51 PM. وجہ: Duplicate posting deleted |
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال الراعی (10-09-10) |
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 11:32 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 14 | 30-06-09 08:32 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 07-04-08 09:22 AM |