واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-07, 06:21 PM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

السلام علیکم ،
چند دِن پہلے توحید کے تعارفی رواں خاکہ جات ارسال کیے تھے ، جِن پر کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ایسا لگتا ہے یا تو کسی نے ادھر توجہ ہی نہیں کی ، یا جس جس نے دیکھا وہ پہلے ہی جانتا تھا یا اس کے لیے کوئی ضروری یا اہم بات وہاں میسر نہیں تھی ، اللہ ہی بہتر جانے ،
توحید کی دعوت کا ہمشیہ ایسا ہی استقبال ہوتا ہے ، اور دعوت دینے والا بہر حال اپنے رب کی رضا کے لیے دعوت دیتا رہتا ہے ،
پس ، اگلے رواں خاکہ جات ، جن میں مختصر طور پر کسی کی زندگی میں سے توحید کو ختم کر دینے والے کاموں کا ذَکر ہے ارسال کر رہا ہوں ، انشا اللہ ان کے بعد توحید کو کم کر دینت والے کاموں کا تعارف ارسال کروں گا
السلام علیکم
Attached Thumbnails
f_chart_4_shirk_1_2-jpg  
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10)
پرانا 12-03-10, 03:50 PM   #61
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 993
کمائي: 17,595
شکریہ: 8,775
718 مراسلہ میں 1,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post شان علی کرم اللہ وجہہ کریم السیف الجلی علٰی منکر ولایۃ علی سے اقتباس

میں ایک بار پھر آپ لوگوں کے سامنے یہی اقتباس پیش کر رہا ہوں۔اگر یہ بات غلط ہے تو جواب دیں۔اگر صحیح ہے تو امتی ہونے کا حق ادا کرو فرمانے نبی پر عمل کرونفرت عداوت اور تعصب کی عینک اتردو۔ بات سمجھ میں آجائگی۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں

مندرجہ بالا عنوان سے علامہ طاہر القادری صاحب نے جو کتاب لکھی ہے اسکا مقدمہ سے اقتباس پیش خدمت ہے جو عظمت علی کی گواہی دیتا ہے۔
آج 18 ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا :
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘
یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللہ عنہ تھا، جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اہلِ ایمان پر ہوتا ہے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو ولایتِ علی رضی اللہ عنہ کا منکر ہے وہ ولایتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے۔ اِس عاجز نے محسوس کیا کہ اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رہتے ہیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب۔ سو یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ اندریں حالات میں نے ضروری سمجھا کہ مسئلۂ وِلایت و اِمامت پر دو رِسالے تالیف کروں : ایک بعنوان ’السَّیفُ الجَلِی عَلٰی مُنکِرِ وِلایۃِ عَلیّ رضی اللہ عنہ‘ اور دوسرا بعنوان ’القولُ المُعتَبَر فِی الامام المُنتَظَر‘۔ پہلے رسالہ کے ذریعے فاتحِ ولایت حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام کو واضح کروں اور دوسرے کے ذریعے خاتمِ ولایت حضرت امام مہدی علیہ السلام کا بیان کروں تاکہ جملہ شبہات کا اِزالہ ہو اور یہ حقیقت خواص و عوام سب تک پہنچ سکے کہ ولایتِ علی علیہ السلام اور ولایتِ مہدی علیہ السلام اہلِ سنت و جماعت کی معتبر کتبِ حدیث میں روایاتِ متواترہ سے ثابت ہے۔ میں نے پہلے رسالہ میں حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکیاون (51) روایات پوری تحقیق و تخریج کے ساتھ درج کی ہیں۔ اِس عدد کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اِمسال اپنی عمر کے 51 برس مکمل کئے ہیں، اس لئے حصولِ برکت اور اِکتساب خیر کے لئے عاجزانہ طور پر عددی نسبت کا وسیلہ اختیار کیا ہے تاکہ بارگاہِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں اِس حقیر کا نذرانہ شرفِ قبولیت پاسکے۔ (آمین)
اس آگے میں اور کیا کہوں۔
پس ہدایت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-03-10, 03:57 PM   #62
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں

پھر ولایت کا سلسلۃ الذہب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلِ بیت اور آلِ اَطہار میں ائمہ اِثنا عشر (بارہ اِماموں) میں جاری کیا گیا۔







اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں


یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاآنکہ امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آخری امامِ برحق اور مرکزِ ولایت کا ظہور ہوگا۔ یہ سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام ہوں گے جو بارہویں امام بھی ہوں گے اور آخری خلیفہ بھی۔ اُن کی ذاتِ اَقدس میں ظاہر و باطن کے دونوں راستے جو پہلے جدا تھے مجتمع کر دیئے جائیں گے۔ یہ حاملِ وِلایت بھی ہوں گے اور وارثِ خلافت بھی، ولایت اور خلافت کے دونوں مرتبے اُن پر ختم کر دیئے جائیں گے۔ سو جو امام مہدی علیہ السلام کا منکر ہو گا وہ دین کی ظاہری اور باطنی دونوں خلافتوں کا منکر ہو گا۔


جناب اویسی صاحب طاھر القادری سے پوچھ کر یا ان کی کسی تحریر میں سے ڈھونڈ کر ان بارہ اماموں میں سے صرف 12ویں امام صاحب کے والد محترم کا اور والدہ محترمہ کا نام یہاں لکھ دیں، اور پھر ریحان صاحب سے تصدیق بھی کروا لیجئے گا،

شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (12-03-10), عادل سہیل (14-03-10), عبداللہ آدم (13-03-10)
پرانا 12-03-10, 03:58 PM   #63
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انھیں عبد یا غلام کا لفظ کے معنی پریشان کررہے ہیں ۔۔۔۔ غلام اور عبد کے معنی ہیں پیروی کرنے والہ،
اطاعت کرو اللہ کی، رسول کی اور صاحب امر کی (القران ) تو اسکا مطلب تو صاف صاف یہی ہوا کہ پیروی کرو اللہ کی اور رسول (صلی علیہ والہ وسلم ) کی اور صاحب امر کی۔۔
مگر ان کو اور ان جیسے لوگوں کو تو لفظ مولا کے معنی بھی پریشان کررہے ہیں اب کیا کیا جائے ؟؟؟ یعنی یہ دونوں طرف لگے ہوئے ہیں کہ ادھر لفظ مولا کے معنی جس کی پیروی کی جائے یہاں بھی معنی بدل رہے ہیں اور یہاں لفظ عبد و غلام کہنے والوں کو کافر قرار دیے رہے ہیں ۔۔۔
ان کی سمجھ میں اتنی سی بات نہی آرہی کہ عبد الرسول اور غلام رسول یا غلام نبی یا غلام علی جیسے ناموں سے اپ مطلب نکال رہے ہیں ان کے وہی معنی ہیں جن معنوں میں خود رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے خود کو مولا کہا اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ کن معنوں میں مولا کہا خود کو بس انھیں معنوں میں اللہ ہمارے ناموں میں لگے ہوے غلام اور عبد کا بھی مطلب سمجھتا ہے۔۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (12-03-10)
پرانا 12-03-10, 04:07 PM   #64
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post چلیے یوں ہی سہی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
کیا خوب ذہانت پائی ہے آپ نے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔سوالوں کا جواب دیں یا حدیث کا غلط ثابت کریں جو آپ کر نہیں سکتے ہیں، یا پھر اقرار کریں علی کے مولا ہونے کا، کیوں حدیث میں حکم دیا جارہا ہے۔
کوئی بات نہیں ایسے ہے تو ایسے ہی سہی
آپ کے سوال کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ جس طرح ہر وقت خاموش نہیں رہنے کا نہیں ہوتا اور ہر وقت بولنے کا نہیں ہوتا ۔۔ اسی طرح ہر روایت (جسے بعض لوگ اپنی کم علمی سے حدیث سمجھ لیتے ہیں )قابل اعتبار نہیں ہوتی ۔۔۔ علماء و محدثین نے احادیث کے قابل اعتبار ہونے یا نہ ہونے کے لیے بعض معیار مقرر کیے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کا ہر کلمہ گو ہر جھوٹی بات کو حدیث سمجھ کر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا چکا ہوتا اور صحیح اسلام کا کہیں نام و نشان نہ ہوتا لیکن اللہ رب العالمین کی مہربانی سے عبد اللہ بن سباء کی تمام کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اللہ نے نبی اور صحابہ کے نام سے جھوٹ پھیلانے والوں کو پکڑنے کے لیے اپنے منتخب بندوں کو کام پر لگایا ہے اور صدیوں پہلے وہ کام کر گئے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ جھوٹ کی دم پکڑ کر لٹکنے والے ان تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر شخصی بت پرستی پر زور دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا بھی ان کے پیچھے چلے اور ایک انسان کو خدا کے برابر ٹھہرا لیا جائے ۔۔
عبد اللہ بن سبا ء اپنی کوششوں میں کس حد تک ناکام ہوا یا کامیاب اور محدثین کے تحقیقی کاموں کا امت مسلمہ نے کیا فائدہ اٹھایا اس کا خوب پتہ چلتا ہے آپ کی بے سروپا باتوں سے اور عادل سہیل اور ان جیسے دیگر لوگوں کے جذبے سے ۔۔۔

آپ جیسے لوگوں کے لیے ہی میں نے اس فورم پر چند مراسلات پوسٹ کیے تھے چاہیں تو پورا پڑھ لیں ورنہ میں زیر بحث سے متعلقہ اقتباسات آپ کے لیے یہاں پیسٹ کرتا ہوں ۔۔

سبق 1 (درایت حدیث)احادیث اور جھوٹی باتیں

سبق 2: شاذ حدیث

سبق 3: علم و عقل کے مسلمات کے خلاف حدیث

سبق 4: حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل

سبق 5: حدیث کو تمام متعلقہ آیات و احادیث کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی اہمیت

سبق 6: موضوع حدیث کی پہچان

گزشتہ 6 موضوعات درج ذیل کتابوں سے حوالے




اور اقتباسات کے آئينے میں اپنی من پسند روایت کی حقیقت دیکھیں
اقتباس:
جلال الدین سیوطی، جعلی احادیث کا ذکر کرتے ہوئے ابوبکر بن طیب کا قول نقل کرتے ہیں۔

حدیث کے جعلی ہونے کے دلائل میں سے یہ بات شامل ہے کہ یہ عقل کے اس طرح خلاف ہو کہ اس کی توجیہ ممکن ہی نہ ہو۔ اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حدیث میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہو جو حس و مشاہدے کے خلاف ہو۔ اسی طرح حدیث اگر قرآن مجید کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی کے منافی ہو (تو وہ بھی جعلی حدیث ہو گی۔) اگر تضاد کو دور کرنا ممکن ہو تو پھر ایسا نہ ہو گا۔ (جعلی احادیث) میں سے بعض ایسی ہوتی ہیں جن کے جھوٹ ہونے کی گواہی تمام راوی تواتر سے دیتے ہیں۔ بعض ایسی ہوتی ہیں جن میں کوئی ایسا بہت عظیم واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے جسے کثیر تعداد میں لوگوں کو بیان کرنا چاہیے لیکن اسے صرف ایک ہی شخص نقل کر رہا ہوتا ہے۔ بعض ایسی احادیث ہوتی ہیں جن میں چھوٹی سی غلطی پر بہت بڑے عذاب کی وعید سنائی گئی ہوتی ہے یا چھوٹی سی نیکی پر بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا ہوتا ہے۔ قصے کہانیاں بیان کرنے والوں کی اکثر احادیث ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ (تدریب الراوی، موضوع حدیث کی بحث)
اقتباس:
امام سیوطی، محدث ابن جوزی کا قول نقل کرتے ہیں۔

اگر آپ کوئی ایسی حدیث دیکھیں جو عقل کے خلاف ہو، یا (قرآن و حدیث کے) نقل شدہ (احکام) کے خلاف ہو یا (دین کے) اصولوں کے متضاد ہو تو جان لیجیے کہ یہ موضوع (جعلی) حدیث ہے۔ (تدریب الراوی، موضوع حدیث کی بحث)
اقتباس:
ابن القیم سے سوال کیا گیا کہ کیا موضوع حدیث کو اس کی سند کی چھان بین کے بغیر پہچانا جا سکتا ہے؟ انہوں نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے "المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف" تصنیف کی۔
حدیث میں نامعقول سی بات بیان کی گئی ہو
حدیث میں ایسی نامعقول بات کہی گئی ہو جس کی مثال کسی صحیح حدیث میں نہ ملتی ہو۔
اقتباس:
حدیث میں ظلم یا برائی کی تلقین کی گئی ہو
ایسی ہر حدیث جس میں دین سے تضاد پایا جاتا ہو، جس میں فساد، ظلم، بے کار باتوں کی دعوت دی گئی ہو یا حق کی برائی یا باطل کی تعریف کی گئی ہو، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بری ہیں۔
اقتباس:
حدیث میں کوئی حکم دیا گیا ہو اور تمام صحابہ کرام کا عمل اس کے خلاف ہو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کوئی ایسا حکم دیا ہو جس پر عمل کرنا تمام صحابہ کے لئے لازم ہو۔ اس کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ ان سب کے سب نے اس حکم کو چھپا لیا ہو اور اس پر عمل نہ کیا ہو۔ ایسی احادیث جھوٹ کی بدترین شکل ہوا کرتی ہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل تھے۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی پر تمام صحابہ کو اکٹھا کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متعلق فرمایا، "یہ میرا بھائی ہے اور میں ان کے بارے میں وصیت کر رہا ہوں۔ میرے بعد یہی خلیفہ ہو گا۔ اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔" اسی طرح وہ حدیث کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے سورج کو پلٹا دیا گیا تھا۔

(ظاہر ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کرنا تھی تو اس کا بہترین موقع حجۃ الوداع تھا۔) اسی طرح سورج اگر پلٹا ہوتا تو یہ ایسا واقعہ تھا کہ جس کی خبر ہر ہر شخص کو دینا چاہیے تھی مگر سوائے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے اور کسی کو اس واقعے کا علم نہیں ہے۔
اقتباس:
حدیث قرآن کے صریحا خلاف ہو
مولا ہونے کے متعلق قرآن کہتا ہے
رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿286﴾
ترجمہ
اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

اقتباس:
حدیث میں مخصوص صحابہ اور علماء کے فضائل بیان کئے گئے ہوں
اہل سنت کے بہت سے جاہل افراد نے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق احادیث گھڑ کر پھیلائی ہیں۔ انہوں نے یہ معاملہ اہل تشیع کے ان افراد کے جواب میں کیا جو سیدنا علی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل میں احادیث گھڑا کرتے تھے۔اسی طرح انہوں نے سیدنا معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی مذمت میں احادیث ایجاد کیں۔

امام ابوحنیفہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے فضائل میں ان کے مقلدین نے احادیث وضع کیں۔ بعض لوگوں نے بنو امیہ کی مذمت اور بنو عباس کے بادشاہوں کی تعریف میں احادیث ایجاد کیں۔ بعض احادیث میں تو بنو عباس کے بچے بچے کو جہنم سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح بغداد، دجلہ، بصرہ، کوفہ، مرو، قزوین، عسقلان، اسکندریہ، نصیبن اور انطاکیہ کے رہنے والوں نے بھی اپنے اپنے شہر کی فضیلت میں حدیثیں ایجاد کیں۔ ایسی تمام احادیث جعلی ہیں۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (12-03-10), عادل سہیل (14-03-10)
پرانا 12-03-10, 04:22 PM   #65
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نورالدین بھائی نے پھر وہی صفحہ چپکا دیے جو پہاڑوں پر ملتے ہیں
بات کیا ہورہی ہے صفحہ چپکانے کو اتنا شوق ہے تو موزوں کے اعتبار سے چپکا دیں ۔
اپنے قیاس سے کسی کو بھی کافر کہنے والے آپ جیسے اور کتنے ہیں۔۔۔ بھای نورلدین ہمیں بتا دیں ۔۔۔۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-03-10, 04:22 PM   #66
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 993
کمائي: 17,595
شکریہ: 8,775
718 مراسلہ میں 1,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post حوالہ پیش خدمت ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
[COLOR="DarkRed"]

اسی طرح ہر روایت (جسے بعض لوگ اپنی کم علمی سے حدیث سمجھ لیتے ہیں )قابل اعتبار نہیں ہوتی ۔۔۔ علماء و محدثین نے احادیث کے قابل اعتبار ہونے یا نہ ہونے کے لیے بعض معیار مقرر کیے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کا ہر کلمہ گو ہر جھوٹی بات کو حدیث سمجھ کر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا چکا ہوتا اور صحیح اسلام کا کہیں نام و نشان نہ ہوتا لیکن اللہ رب العالمین کی مہربانی سے عبد اللہ بن سباء کی تمام کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اللہ نے نبی اور صحابہ کے نام سے جھوٹ پھیلانے والوں کو پکڑنے کے لیے اپنے منتخب بندوں کو کام پر لگایا ہے اور صدیوں پہلے وہ کام کر گئے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ جھوٹ کی دم پکڑ کر لٹکنے والے ان تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر شخصی بت پرستی پر زور دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا بھی ان کے پیچھے چلے اور ایک انسان کو خدا کے برابر ٹھہرا لیا جائے ۔۔
عبد اللہ بن سبا ء اپنی کوششوں میں کس حد تک ناکام ہوا یا کامیاب اور محدثین کے تحقیقی کاموں کا امت مسلمہ نے کیا فائدہ اٹھایا اس کا خوب پتہ چلتا ہے آپ کی بے سروپا باتوں سے اور عادل سہیل اور ان جیسے دیگر لوگوں کے جذبے سے ۔۔۔
نور دین صاحب گویا آپ اس حدیث کا انکا کر رہے ہیں:
آج 18 ذی الحج ہے، جس دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہجوم میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم کا ہاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا :
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔
کیا آپ کے نزیک یہ حدیث من گھڑت ہے صاف اور واضع جواب دیں ہاں یا نہ میں پھر بات آگے چلی گی
میں آپکو اس کا ثبوت فراہم کروں گا کہ یہ حدیث اصل ہے۔
حدیث نمبر : 1

عن شعبة، عن سلمة بن کهيل، قال : سمعتُ أبا الطفيل يحدّث عن أبي سريحة. . . أو زيد بن أرقم، (شک شعبة). . . عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم، قال : مَن کنتُ مولاه فعلیّ مولاه.

(قال : ) و قد روي شعبة هذا الحديث عن ميمون أبي عبد اﷲ عن زيد بن أرقم عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم.

شعبہ، سلمہ بن کہیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے سنا کہ ابوسریحہ۔ ۔ ۔ یا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما۔ ۔ ۔ سے مروی ہے (شعبہ کو راوی کے متعلق شک ہے) کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔‘‘

شعبہ نے اس حدیث کو میمون ابو عبد اللہ سے، اُنہوں نے زید بن ارقم سے اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

1. ترمذی، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 569، رقم : 959
3. محاملي، امالي : 85
4. ابن ابي عاصم، السنه : 603، 604، رقم : 1361، 1363، 1364، 1367، 1370
5. طبراني، المعجم الکبير، 5 : 195، 204، رقم : 5071، 5096
6. نووي، تهذيب الاسماء و اللغات، 1 : 347
7. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 163، 164
8. ابن اثير، اسد الغابه، 6 : 132
9. ابن اثير، النهايه في غريب الحديث والاثر، 5 : 228
10. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 463
11. ابن حجر عسقلاني، تعجيل المنفعه : 464، رقم : 1222

ترمذی نے اسے حسن صحیح غریب کہا ہے، اور شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبد اللہ کے طریق سے زید بن ارقم سے بھی روایت کی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے یہ حدیث اِن کتب میں مروی ہے :

1. حاکم، المستدرک، 3 : 134، رقم : 4652
2. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 78، رقم : 12593
3. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 12 : 343
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 77، 144
5. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 451
6. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 108

یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما سے مندرجہ ذیل کتب میں مروی ہے :

1. ابن ابي عاصم، السنه : 602، رقم : 1355
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 366، رقم : 32072

یہ حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی درج ذیل کتب میں منقول ہے :

1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1354
2. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 173، رقم : 4052
3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 229، رقم : 348

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :

1. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 88، رقم : 80
2. ابن ابي عاصم، السنه : 602، 605، رقم : 1358، 1375
3. ضياء مقدسي، الاحاديث المختاره، 3 : 139، رقم : 937
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 20 : 114

یہ حدیث حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :

1. عبدالرزاق، المصنف، 11 : 225، رقم : 20388
2. طبراني، المعجم الصغير، 1 : 71
3. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 143

4۔ ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 143)‘ میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔

یہ حدیث ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں منقول ہے :

1. ابن ابي عاصم، السنه : 601، رقم : 1353
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 146
3. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 457
4. حسام الدين هندي، کنز العمال، 11 : 602، رقم : 32904

یہ حدیث حُبشیٰ بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :

1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1359
2. حسام الدبن هندی، کنزالعمال، 11 : 608، رقم : 32946

یہ حدیث حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :

1. طبرانی، المعجم الکبير، 19 : 252، رقم : 646
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 177
3. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 106

طبرانی نے یہ حدیث ’المعجم الکبیر (3 : 179، رقم : 3049)‘ میں حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے۔

ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 176، 177، 17‘ میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت انس بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھم سے بالترتیب روایت کی ہے۔

ابن عساکر نے یہ حدیث حسن بن حسن رضی اللہ عنہما سے بھی ’تاریخ دمشق الکبیر (15 : 60، 61)‘ میں روایت کی ہے۔

ابن اثیر نے ’اسد الغابہ (3 : 412)‘ میں عبداللہ بن یامیل سے یہ روایت نقل کی ہے۔

ہیثمی نے ’موارد الظمآن (ص : 544، رقم : 2204)‘ میں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے ’فتح الباری (7 : 74)‘ میں کہا ہے : ’’ترمذی اور نسائی نے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی اسانید کثیر ہیں۔‘‘

البانی نے ’سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (4 : 331، رقم : 1750)‘ میں اس حدیث کوامام بخاری اور امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث نمبر : 2

عن عمران بن حصين رضي الله عنه، قال، قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما تريدون مِن علي؟ ما تريدون مِن علي؟ ما تريدون مِن علي؟ إنّ علياً مِني و أنا منه، و هو ولي کل مؤمن من بعدي.

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے متعلق کیا چاہتے ہو؟‘‘ پھر فرمایا : ’’بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن کا ولی ہے‘‘۔

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 78، ابواب المناقب، رقم : 3712
2. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 77، 92، رقم : 65، 86
3. نسائي، السنن الکبریٰ، 5 : 132، رقم : 8484

4۔ احمد بن حنبل کی ’المسند (4 : 437، 43‘ میں بیان کردہ روایت کے آخری الفاظ یہ ہیں : و قد تغیر وجہہ، فقال : دعوا علیا، دعوا علیا، ان علی منی و انا منہ، وھو ولی کل مؤمن بعدی (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک متغیر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی (کی مخالفت کرنا) چھوڑ دو، علی (کی مخالفت کرنا) چھوڑ دو، بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولی ہے)۔

5۔ ابن کثیر نے امام احمد کی روایت ’البدایہ والنہایہ (5 : 45‘ میں نقل کی ہے۔

6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 620، رقم : 1060
7. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 80، رقم : 12170

8۔ حاکم نے ’المستدرک (3 : 110، 111، رقم : 4579)‘ میں اس روایت کو مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے، جبکہ ذہبی نے اس پر خاموشی اختیار کی ہے۔

9۔ ابن حبان نے ’الصحیح (15 : 373، 374، رقم : 6929)‘ میں یہ حدیث قوی سند سے روایت کی ہے۔

10۔ ابو یعلی نے ’المسند (1 : 293، رقم : 355)‘ میں اسے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح ہیں، جبکہ ابن حبان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

11۔ طیالسی کی ’المسند (ص : 111، رقم : 829)‘ میں بیان کردہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما لھم و لعلیّ (اُنہیں علی کے بارے میں اِتنی تشویش کیوں ہے)؟

12. ابو نعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، 6 : 294
13. محب طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، 3 : 129
14. هيثمي، موارد الظمآن، 543، رقم : 2203
15. حسام الدين هندي، کنزالعمال، 13 : 142، رقم : 36444

نسائی کی بیان کردہ دونوں روایات کی اسناد صحیح ہیں۔

حدیث نمبر : 3

عن سعد بن أبي وقاص، قال : سمعتُ رسولَ اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : مَن کنتُ مولاه فعلیّ مولاه، و سمعتُه يقول : أنت مني بمنزلة هارون من موسي، إلا أنه لا نبي بعدي، و سمعتُه يقول : لأعطينّ الرأية اليوم رجلا يحب اﷲ و رسوله.

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جس کا میں ولی ہوں اُس کا علی ولی ہے۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تم میری جگہ پر اسی طرح ہو جیسے ہارون، موسیٰ کی جگہ پر تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (غزوۂ خیبر کے موقع پر) یہ بھی فرماتے ہوئے سنا : ’’میں آج اس شخص کو علم عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘

1۔ ابن ماجہ نے يہ صحيح حديث ’السنن (1 : 90، المقدمہ، رقم : 121)‘ ميں روايت کي ہے۔
2۔ نسائي نے يہ حديث ’خصائص اميرالمؤمنين علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ (ص : 32، 33، رقم : 91)‘ میں ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔

3. ابن ابي عاصم، کتاب السنه : 608، رقم : 1386
4. مزي، تحفة الاشراف بمعرفة الأطراف، 3 : 302، رقم : 3901
اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (12-03-10), حیدر Rehan (12-03-10)
پرانا 12-03-10, 04:37 PM   #67
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 993
کمائي: 17,595
شکریہ: 8,775
718 مراسلہ میں 1,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Smile ایمان والے کے لیے ایک حدیث ہی کافی ہے مگر اللہ جسکو چائے ہدایت دیے

ایمان والے کے لیے ایک حدیث ہی کافی ہے مگر اللہ جسکو چائے ہدایت دیے
کتنی کتب احادیث کا انکار کرو گے۔ کتنے محدیث پر ابن سباء ہو کا الزام لگوے کسی طرح تو تمام محدیث پر آپکو شک ہے۔ کسی ایک روایت کوغلط کہو کیا تمام کی آپکی نظر میں غلط ہیں، یہ تمام راویات سنی کتب سے پیش کیں ہیں۔اگر آپ اب بھی انکار کریں تو آپکو اللہ ہدایت دیے۔آمین
عن البراء بن عازب رضي الله عنه، قال : کنا مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في سفر، فنزلنا بغدير خم فنودي فينا الصلاة جامعة و کسح لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم تحت شجرتين فصلي الظهر و أخذ بيد علیّ، فقال : ألستم تعلمون أني أولي بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا : بلي، قال : ألستم تعلمون أني أولي بکل مؤمن من نفسه؟ قالوا : بلي، قال : فأخذ بيد علیّ، فقال : من کنتُ مولاه فعلیّ مولاه، اللّٰهم! والِ من والاه و عادِ من عاداه. قال : فلقيه عمر رضی الله عنه بعد ذٰلک، فقال له : هنيئاً يا ابن أبي طالب! أصبحتَ و أمسيتَ مولي کل مؤمنٍ و مُؤمنة.

براء بن عازب سے روایت ہے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، (راستے میں) ہم نے غدیر خم میں قیام کیا۔ وہاں ندا دی گئی کہ نماز کھڑی ہو گئی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دو درختوں کے نیچے صفائی کی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر ادا کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں مومنوں کی جانوں سے بھی قریب تر ہوں؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن کی جان سے بھی قریب تر ہوں؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! راوی کہتا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ’’جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اُسے تو دوست رکھ جو اِسے (علی کو) دوست رکھے اور اُس سے عداوت رکھ جو اِس سے عداوت رکھے۔‘‘ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اُن سے کہا : ’’اے ابن ابی طالب! مبارک ہو، آپ صبح و شام (یعنی ہمیشہ کے لئے) ہر مومن و مومنہ کے مولا بن گئے۔‘‘

1۔ احمد بن حنبل نے ’المسند (4 : 281)‘ ميں حضرت براء بن عازب رضي اللہ عنہ سے يہ حديث دو مختلف اسناد سے بيان کي ہے۔

2. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 78، رقم : 12167
3. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي : 125
4. محب طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، 3 : 126، 127

5۔ مناوی نے ’فیض القدیر (6 : 217)‘ میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ’من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ‘ سنا تو (حضرت علی رضی اللہ عنہ سے) کہا : ’’اے ابوطالب کے بیٹے! آپ صبح و شام (یعنی ہمیشہ کے لئے) ہر مؤمن اور مؤمنہ کے مولا قرار پائے۔‘‘

6. حسام الدين هندي، کنز العمال، 13 : 133، 134، رقم : 36420
7. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 167، 168

8۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب ’فضائل الصحابہ (2 : 610، رقم : 1042)‘ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ، و احب من احبہ۔ قال شعبۃ : او قال : و ابغض من ابغضہ ( (اے اللہ!) جو (علی) سے عداوت رکھے اُس سے تو عداوت رکھ جو (علی) کی مدد کرے اُس کی تو مدد فرما، جو اِس سے محبت کرے تو اس سے محبت کر۔ شعبہ کا کہنا ہے کہ اِس کی جگہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو (علی) سے بغض رکھے تو (بھی) اُس سے بغض رکھ)۔

9. ابن اثير، اسد الغابه، 4 : 103

10۔ ذہبی نے ’سیر اعلام النبلاء (2 : 623، 624)‘ میں کہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ’ھنیئاً لک یا علیّ‘ (اے علی! آپ کو مبارک ہو)‘ کے الفاظ کہے۔

11. ابن کثير، البدايه والنهايه، 4 : 169
12. ابن کثير، البدايه والنهايه، 5 : 464
اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-03-10, 04:52 PM   #68
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,401
کمائي: 20,633
شکریہ: 2,607
975 مراسلہ میں 2,112 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب بھائیوں کا شکریہ،
ایک بات اور ہے ولی تو اللہ کا دوست ہوتا ہے، لیکن حضرت علی سے متعلق جو اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جاتا ہے اس کی کیا سند ہے جبکہ ہم روزانہ نماز میں پڑہتے ہیں کہ
ایاک نعبد و ایاک نستعین
ترجمہ : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں،
جبکہ
نعبدو و نسعین

ترجمہ : ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں"
یہ بھی آیت نعوذباللہ ہو سکتی تھی، اور اس میں یہ پہلو نکلتا تھا کہ تیرے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے،،

ہاتو برہانکم ان کنتم صادقیں
السلام
__________________
سارےسنم مسمارکر، بس اک خداسےپیاکر
رکھ کرنبی کو سامنے، آرائش کردار کر
محمدمبشرعلی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-03-10), نورالدین (12-03-10), عبداللہ آدم (13-03-10)
پرانا 12-03-10, 04:55 PM   #69
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سو سنار کی ایک لوہار کی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
نور دین صاحب گویا آپ اس حدیث کا انکا کر رہے ہیں:



کیا آپ کے نزیک یہ حدیث من گھڑت ہے صاف اور واضع جواب دیں ہاں یا نہ میں پھر بات آگے چلی گی
میں آپکو اس کا ثبوت فراہم کروں گا کہ یہ حدیث اصل ہے۔


1. ترمذی، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 569، رقم : 959
3. محاملي، امالي : 85
4. ابن ابي عاصم، السنه : 603، 604، رقم : 1361، 1363، 1364، 1367، 1370
5. طبراني، المعجم الکبير، 5 : 195، 204، رقم : 5071، 5096
6. نووي، تهذيب الاسماء و اللغات، 1 : 347
7. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 163، 164
8. ابن اثير، اسد الغابه، 6 : 132
9. ابن اثير، النهايه في غريب الحديث والاثر، 5 : 228
10. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 463
11. ابن حجر عسقلاني، تعجيل المنفعه : 464، رقم : 1222


1. حاکم، المستدرک، 3 : 134، رقم : 4652
2. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 78، رقم : 12593
3. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 12 : 343
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 77، 144
5. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 451
6. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 108

یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما سے مندرجہ ذیل کتب میں مروی ہے :

1. ابن ابي عاصم، السنه : 602، رقم : 1355
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 366، رقم : 32072

یہ حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی درج ذیل کتب میں منقول ہے :

1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1354
2. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 173، رقم : 4052
3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 229، رقم : 348

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :

1. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 88، رقم : 80
2. ابن ابي عاصم، السنه : 602، 605، رقم : 1358، 1375
3. ضياء مقدسي، الاحاديث المختاره، 3 : 139، رقم : 937
4. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 20 : 114

یہ حدیث حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے :

1. عبدالرزاق، المصنف، 11 : 225، رقم : 20388
2. طبراني، المعجم الصغير، 1 : 71
3. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 143

4۔ ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 143)‘ میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔

یہ حدیث ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل کتب میں منقول ہے :

1. ابن ابي عاصم، السنه : 601، رقم : 1353
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 146
3. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 457
4. حسام الدين هندي، کنز العمال، 11 : 602، رقم : 32904

یہ حدیث حُبشیٰ بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :

1. ابن ابی عاصم، السنه : 602، رقم : 1359
2. حسام الدبن هندی، کنزالعمال، 11 : 608، رقم : 32946

یہ حدیث حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے اِن کتب میں مروی ہے :

1. طبرانی، المعجم الکبير، 19 : 252، رقم : 646
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 177
3. هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 106

طبرانی نے یہ حدیث ’المعجم الکبیر (3 : 179، رقم : 3049)‘ میں حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے۔

ابن عساکر نے ’تاریخ دمشق الکبیر (45 : 176، 177، 17‘ میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت انس بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھم سے بالترتیب روایت کی ہے۔

ابن عساکر نے یہ حدیث حسن بن حسن رضی اللہ عنہما سے بھی ’تاریخ دمشق الکبیر (15 : 60، 61)‘ میں روایت کی ہے۔

ابن اثیر نے ’اسد الغابہ (3 : 412)‘ میں عبداللہ بن یامیل سے یہ روایت نقل کی ہے۔

ہیثمی نے ’موارد الظمآن (ص : 544، رقم : 2204)‘ میں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے ’فتح الباری (7 : 74)‘ میں کہا ہے : ’’ترمذی اور نسائی نے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی اسانید کثیر ہیں۔‘‘

البانی نے ’سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (4 : 331، رقم : 1750)‘ میں اس حدیث کوامام بخاری اور امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 78، ابواب المناقب، رقم : 3712
2. نسائي، خصائص امير المؤمنين علي بن ابي طالب رضي الله عنه : 77، 92، رقم : 65، 86
3. نسائي، السنن الکبریٰ، 5 : 132، رقم : 8484

5۔ ابن کثیر نے امام احمد کی روایت ’البدایہ والنہایہ (5 : 45‘ میں نقل کی ہے۔

6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 620، رقم : 1060
7. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 80، رقم : 12170

8۔ حاکم نے ’المستدرک (3 : 110، 111، رقم : 4579)‘ میں اس روایت کو مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے، جبکہ ذہبی نے اس پر خاموشی اختیار کی ہے۔

9۔ ابن حبان نے ’الصحیح (15 : 373، 374، رقم : 6929)‘ میں یہ حدیث قوی سند سے روایت کی ہے۔

10۔ ابو یعلی نے ’المسند (1 : 293، رقم : 355)‘ میں اسے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح ہیں، جبکہ ابن حبان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

12. ابو نعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، 6 : 294
13. محب طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، 3 : 129
14. هيثمي، موارد الظمآن، 543، رقم : 2203
15. حسام الدين هندي، کنزالعمال، 13 : 142، رقم : 36444

نسائی کی بیان کردہ دونوں روایات کی اسناد صحیح ہیں۔

1۔ ابن ماجہ نے يہ صحيح حديث ’السنن (1 : 90، المقدمہ، رقم : 121)‘ ميں روايت کي ہے۔
2۔ نسائي نے يہ حديث ’خصائص اميرالمؤمنين علي بن ابي طالب رضي اللہ عنہ (ص : 32، 33، رقم : 91)‘ میں ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔

3. ابن ابي عاصم، کتاب السنه : 608، رقم : 1386
4. مزي، تحفة الاشراف بمعرفة الأطراف، 3 : 302، رقم : 3901
تو اور میں اتنی دیر سے کیا عرض کر رہا ہوں
کیوں کہ یہ حدیث نہیں ہے غیر تابعین کی باتیں ہیں آپکی درج تمام حوالہ شدہ کتابیں ایک طرف

اور کائنات کی سب سے عظیم کتاب "قرآن مجید " فرقان حمید کی یہ ایک آیت ایک طرف

رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

سورۃ البقرہ ﴿286﴾
ترجمہ
اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

اور یہی طریقہ ہے اہل ایمان کا اور سچ اور جھوٹ کو انصاف کی نظر سے دیکھنے والوں کا ۔۔
باقی اللہ سے دعا ہے کہ آپ کا سینہ کھول دے تا کہ ہدایت آپ کے دل میں اتر سکے ورنہ اللہ آپ کا حافظ۔۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-03-10), عادل سہیل (14-03-10)
پرانا 12-03-10, 06:18 PM   #70
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب اویسی صاحب
آپ کی جانب سے جواب کا انتظار ھے

مراسلہ نمبر 62

کو پڑھ لیں اگر نہیں پڑھا تھا تو

شکریہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (12-03-10)
پرانا 12-03-10, 10:33 PM   #71
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,740
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

روایات کہانیاں قصے خواب
یہ سب دین نہیں
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا دین کو داستان الف لیلہ بنانے کے بجائے حقائق کو سمجھیں
ان کہانیوں اور روایات کے سحر سے نکلیں اور کتاب اللہ پر غور و فکر کریں یہی آپ کے لئے اچھا ہے
حضرت علی کا درجہ اللہ نے طےکیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتی
اب اس میں جھوٹے سچے من گھڑت قصے لگا کر غلو کی آمیزش سے کیا فائدہ

یہود اور نصاریٰ اسی غلو کی ہی وجہ سے اس کائنات کے سب سے بڑے جرم کے مرتکب ہوئے ، یہود نے حضرت عزیر2 کو اﷲ کا بیٹا قرار دیا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ 2کو ، اور پھر اپنے علماءاور درویشوں کو بھی مافوق الفطرت ہستیاں قرار دے کر انکی عبادت میں مشغول ہوگئے: ”اور یہود نے کہا کہ عزیر اﷲ کے بیٹے ہیں ، اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اﷲ کے بیٹے ہیں ، ان لوگوں کے قول کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا تھا ، اﷲ انہیں ہلاک کردے کہ ، کس طرح حق سے پھرے جارہے ہیں ۔ان لوگوں نے اپنے عالموں اور اپنے عابدوں کو اﷲ کے بجائے معبود بنالیا اور مسیح بن مریم کو بھی ، حالانکہ انہیں تو صرف ایک اﷲ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے،،

اسی لئے رسول کائنات جناب محمد نے اپنی امت کو اپنی ذات میں غلو کرنے سے صاف الفاظ منع فرمایا : ” تم مجھے میرے مقام ومرتبہ سے اتنا نہ بڑھاو جتنا کہ عیسائیوںنے حضرت عیسی بن مریم کو بڑھایا ، میں صرف بندہ ہوں اسلئے تم مجھے اﷲ کا بندہ اور اسکا رسول کہو.(متفق علیہ)

مانا کے علی سے محبت آپ کی مجبوری ہے
لیکن کیا کریں یہی محبت ہماری بھی مجبوری ہے

آپ اس محبت میں حدود کو تجاوز کرتے ہیں اور ہم اس محبت کو اللہ کی عائد کی گئی حدود کے اندر رکھتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (13-03-10), نورالدین (15-03-10), محمدمبشرعلی (13-03-10), عادل سہیل (14-03-10), عبداللہ حیدر (12-03-10)
پرانا 13-03-10, 12:12 AM   #72
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,626
شکریہ: 22,614
4,758 مراسلہ میں 13,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لوگو ہم علی المرتضیٰ کو مولا بھی مانتے ہیں اور خلیفہ بھی مانتے ہیں صرف الٰہی صفات نہیں دے دیتے جیسا کہ بھت سے نام نھاد مسلمانوں نے خود جناب محمد (ص) کو دے رکھی ہیں یا کچھ اوروں نے جناب علی (ر ض) کو ((و ھو العلی العظیم) سے ملانا
شروع کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر صاحب آپ صرف اتنا بتائیں کہ کیا اللہ کی کوئی صفت بندوں میں ہو سکتی ہے؟؟؟
((لیس کمثلہ شیئ:اس جیسی کوئی بھی چیز نہیں(الشورٰی))
اگر نہیں ہو سکتی تو ((العلی))تو اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے تو جناب علی (رض)سے کسطرح جوڑا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اور اگر نبی(ص) اور علی(رض) بھی اسی طرح مولا ہیں جس طرح اللہ مولا ہیں ((ذٰلک بان اللہ مولٰٰی الذین آمنوا ))تو پھر تو اللہ اور علی(ر ض) مین کوئی فرق نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔نعوذ باللہ
جی بسم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (13-03-10), فیصل ناصر (13-03-10), نورالدین (15-03-10), محمدمبشرعلی (13-03-10), عادل سہیل (14-03-10)
پرانا 13-03-10, 10:39 AM   #73
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدمبشرعلی مراسلہ دیکھیں
سب بھائیوں کا شکریہ،
ایک بات اور ہے ولی تو اللہ کا دوست ہوتا ہے، لیکن حضرت علی سے متعلق جو اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جاتا ہے اس کی کیا سند ہے جبکہ ہم روزانہ نماز میں پڑہتے ہیں کہ
ایاک نعبد و ایاک نستعین
ترجمہ : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں،السلام

السلام و علیکم ۔۔۔۔بھائی مبشر علی۔
دراصل کچھ ہاتھ کی صفائیاں اور کمالات ہوتے ہیں جو نظر نہی آتے ۔۔۔۔۔ انھیں سمجھنا پڑتا ہے جیسا کہ آپ نےلکھا ہے تو اسے ہی لیے لیتے ہیں اور ہاتھ کی صفائی جو لوگوں نے کی دیکھاتے ہیں کہ کیسے۔۔۔ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔

ایاک ۔۔۔۔۔۔۔۔تیری
نعبد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبادت کرتے ہیں
و ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور
ایاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیری
نستعین ۔۔۔۔۔۔۔۔مدد چاہتے ہیں،


جب ایاک ۔۔۔ ایاک 2 دفعہ آیا اور ایک ہی طرح آیا تو ترجمہ بھی ایک جیسا ہی ہونا چاہیے ؟؟

مثال :- تم بہت اچھے ہو۔۔۔۔مگر آپ دیر سے سوتے ہیں۔ (تم کی جگہ اپ کا استعمال کتنا غلط ہوگیا)

یعنی ترجمہ کو ایسے ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
(اے اللہ) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں ۔

اب اللہ مدد کے لیے خو تو کرئےگا نہی یقینا کسی کو مدد کے لیے بھیجےگا اور اب اللہ کی مدد کسی کے زریعے بھی ہو۔۔۔۔ کسی بھی طرح ہو ۔۔۔ اللہ چاہیےتو کوئی فرشتہ بھیجے یا مولا علی کو ہی حکم ہو کہ جاو مدد کے لیے۔۔۔۔
جیسے کئی مقامات پر اللہ نے مولا علی (ع) کو اپنے آخری نبی (صلی علیہ والہ وسلم ) کی مدد پر کے لیے بھیجا۔۔۔۔۔کیونکہ انھونے کہا تھا کہ(اے اللہ ) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔

اسے 2۔۔۔۔3 دفعہ پڑھنا کیونکہ پوری زندگی کچھ اور پڑھا ہے مشکل نہ ہو سمجھنے میں یاد رکھنے میں شکریہ
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 01:31 PM   #74
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 993
کمائي: 17,595
شکریہ: 8,775
718 مراسلہ میں 1,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ نے حدیث کا انکار کیا ہے؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
تو اور میں اتنی دیر سے کیا عرض کر رہا ہوں
کیوں کہ یہ حدیث نہیں ہے غیر تابعین کی باتیں ہیں
تو گوایا آپ کھلے الفاظ میں حدیث کا انکار کر رہے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ آپ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں مسلمانوں والا نام رکھا کر تبلیغ کر رہے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا ہو سکے۔ میں اس حدیث کے جتنے بھی حوالے دیے وہ تمام کے تمام سنی روایات پر مشتمل ہیں۔اور شیعہ اور سنی مسلک کا ان پر اتفاق ہے۔ اس حدیث سے انکار کا مطلب ہے کہ آپ حضرت علی سے عداوت رکھتے ہیں۔ جبکہ سنی ہو یا شیعہ کوئی بھی حضرت علی سے عداوت نہیں رکھتا اور دونوں طرف ہے عالم اس حدیث کو مانتےہیں۔ تعصب کی عنیک اتر دیں۔ایسا عمل خوارج کا تھا ۔تاریخ اسلام گواہ ہے خوارج ان لوگوں کو کہا گیا علی کرم اللہ وجہہ کے منکر تھے اور انکی شان میں گستاخیاں کرتے تھے۔اور شان علی میں موجود تمام احادیث کے انکار کرتے تھے۔ اور یہی کہتے تھے کہ یہ تمام احادیث جو شان علی میں ہیں تمام غلط ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سنی اور شعیہ فتنہ خوارج کے خلاف مل کر جدو جہد کرتے رہے۔اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔میں ایک بار پھر درخواست کروں گا کہ حدیث کا انکار مت کریں ایسا عمل خوارج کا تھا۔آپ امت محمدی میں انتشار پیدا مت کریں۔
آپ پاس اس حدیث کا غلط ہونا کا کوئی ثبوت ہے تو فراہم کریں۔اگر یہ ابن سباء کی ایجاد کردہ حدیث ہے تو اسکا ثبوت فراہم کریں۔ کہ چودہ سو سال کی تاریخ اسلام میں کسی محدث نے اس حدیث کومن گھرٹ لکھا ہے۔مگر خاراجی عالم کی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی سنی شعیہ اہلحدیث دیوبندی محدیث نے اگر اس حدیث کو من گھرت لکھا ہو تو ثبوت فراہم کریں۔رونہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ خارجی ہیں۔نور دین صاحب حدیث کے من گھرت ہونے کا ثبوت دو۔
اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (13-03-10)
پرانا 13-03-10, 02:03 PM   #75
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 993
کمائي: 17,595
شکریہ: 8,775
718 مراسلہ میں 1,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post نبی کی امت کو مشرک کہنا چھوڑ دو

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں

ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے نکلے ( میدان احد پہنچے ) اور شہدا احد کی قبروں پر نماز جنازہ ادا فرمائی پھر واپس تشریف لا کر منبر پر جلوہ افروز ہوئے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے " فرط " ہوں اور میں تم پر شہید ہوں
اور بیشک اللہ کی قسم ! میں اب اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا زمین کی چابیاں عطا کر دی گئیں ـ اور اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ تم طلب دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کروگے ـ



صحیح البخاری رقم الحدیث ( 1344 ) ج 1 ص 399


صحیح ابن حبان رقم الحدیث ( 3198 ) ج 7 ص 472
اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (13-03-10)
جواب

Tags
ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: عادل سہیل کفروشرک 8 02-02-12 07:18 PM
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: عادل سہیل کفروشرک 6 05-03-10 08:21 PM
پانچ چیزیں اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 08:00 PM
پانچ چیزیں میاں شاہد اسلام اور معاشرہ 0 01-06-09 11:32 AM
پانچ چیزیں ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 07-10-07 10:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger