واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


غامدی "منکر نزول عیسٰی علیہ السلام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-09, 04:53 PM  
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default غامدی "منکر نزول عیسٰی علیہ السلام

غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام


قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔




یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو
ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔
Understanding Islam - Urdu))
جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں:

آیتِ ترجمہ
'' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔''
(سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩)

اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ:
''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے''
(سورہ ال عمران آیت١٨٥)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔
(بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر)

اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا
(نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں:

آیتِ ترجمہ
''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا''
(سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥)
(عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے:
آیتِ ترجمہ''
یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی''
(سورۃ الاحقاف آیت١٧)

اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔

آیت:
'' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔''
(سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١)

اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ،
دیکھئے
(تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

مفہوم حدیث:
''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے''
(صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢)

نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔
مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔''
(صحیح بخاری کتاب الانبیاء)
مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے''
(سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣)

مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی)

مفہومِ حدیث:
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔

تمہید:
قرآن
مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11)
پرانا 17-10-09, 01:20 AM   #61
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
باذوق بھائی، سلام علیکم،

قرآن کی بہت سی آیات کی تشریح و تفسیر رسول اکرم نے فرمائی ہے ، اگر ہم کو سمندری گوشت کھانے کے بارے میں تفصیل رسول اکرم سکھاتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی آیت ہوتی ہے، مثال کے طور پر آپ مچھلی یعنی سمندری گوشت کی بابت دریافت کررہے ہیں تو اس کے پیچھے آپ کو یہ آئت ملے گی۔ گویا بات موافق القرآن ہی ہورہی ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی یہ بات آپ کچھ مخلتف الفاظ میں میرے ساتھ ایک گفتگو میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں ،
کیا ہم اس سے یہ سمجھ لیں کہ ہر وہ معاملہ ، موضوع ، مسئلہ جس کا ذکر قران کریم میں نہیں ،لیکن صحیح احادیث مبارکہ میں ہے وہ احادیث ، اور ان میں بیان کردہ معاملہ ، موضوع ، مسئلہ آپ کے نزدیک خلاف قران ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ان سب مثالوں سے آپ دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم کی سنت، قرآن حکیم کے احکامات سے مطابقت رکھتی ہے۔ رہ گیا معاملہ ٹڈی کا تو اگر کوئی اس کو نہ کھائے تو خدانخواستہ کافر تو نہیں ہوجائے گا۔ مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون ، کاش آپ میری نصیحت پر تھوڑا سا ہی عمل کر لیں اور دینی علوم کا کم از کم تعارف ہی سیکھ لیں ، بڑے بھائی ٹڈی کھانا """ سُنت """" کیسے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
کوئی ٹڈی کھائے یا نہ کھائے یہ ایک الگ معاملہ ہے ، اور کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی حکم ، کسی فرمان ، کسی عمل مبارک کو نہ مانے ، اپنی لا علمی کی بنا پر ، اس لا علمی پر مبنی ، ذاتی افکار کے پروردہ فلسفوں کی بنا پر ان کا نکار کرے ، یہ ایک الگ معاملہ ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی حکم کے صحیح ثابت شدہ طور پر سامنے آنے کے بعد بھی کوئی اپنی جہالت ، ضد ، فلسفے کے بنا پر نہ مانے تو ((((( وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيراً ::: اور جس نے ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) کو الگ کیا (یعنی ان کی سنت کو نہ مانا) اور ایمان والوں (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت ) کی راہ کے علاوہ کسی اور راہ کی پیروی کی تو ہم اسے اسی طرف موڑ دیں گے جس طور وہ مُڑا اور اسے جہنم سے ملا دیں گے اور وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے ))))) سورت النساء / آیت115 ،
اور جس کام پر اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں ڈال دینے کی وعید دے رہا ہو اسے کیا کہیں گے ؟؟؟؟؟ اور ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے کرنے والے کیا کہیں گے ؟؟؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
لیکن صاحب عیسی علیہ السلام کی وفات اور موت کے بارے میں اگر آیات موجود ہوں اور ہم ان کو زندہ قرار دیں تو یہ کیا اللہ کے فرمان کے مطابق ہوگا؟ اگر ہاں تو بھائی کیسے؟
جی بڑے بھائی ، """ موت """ کے لیے لفظ """ وفات """ استعمال ہوتا ہے لیکن ہمیشہ """ وفات """ کا معنی اور مفہوم """ موت """ ہی نہیں ہوتا ، قران کی تفسیر فقط لغت کے معانی اور مفاہیم کی بنا پر کرنا کبھی بھی درست بات تک نہیں پہنچاتا ،
مودبانہ درخواست ہے کہ آپ اسی دھاگے میں عبداللہ حیدر کے مراسلہ رقم 14 کا دھیرے دھیرے سکون اور تحمل کے ساتھ مطالعہ کیجیے ، صرف ترجموں کے مطالعے کی بنا پر آپ کو """ وفات """ سے متعلقہ الفاظ کے مفہوم میں جو غلط فہمی ہو رہی ہے جس کی بنا پر آپ سے صحیح ثابت شدہ احادیث کا انکار وارد ہو رہا ہے ، ان شاء اللہ اس کا ازالہ ہو جائے گا ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت میں ہوا تو میں بھی کچھ مزید باتیں پیش کروں گا ، باذن اللہ تعالیٰ ، و السلام علیکم ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (17-10-09)
پرانا 17-10-09, 01:21 AM   #62
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ کیوں‌مصر رہتے ہیں‌کہ آیات کی نفی روایت سے کی جائے؟ جیسا کہ اس صورت میں ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، یہاں ایسا کوئی بھی نہیں جو معاذ اللہ کسی """ روایت """ کی بنا پر قران کریم کی نفی کرنے کا کہتا ہو چہ جائیکہ اصرار کرنے ، بڑے بھائی آپ نے ہم سب پر ایک اور الزام وارد فرما دیا !!!
پہلے بھی کہہ چکا ہوں """ روایت """ اور """ حدیث """ میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے ، مناسب اور واضح الفاظ استعمال کیا کیجیے ،
بڑے بھائی اللہ کے واسطے دین کے کچھ علوم کی الف ب ہی سیکھ لیجیے ، """ نفی """" اور """ شرح """ اور """ استثناء """ کا فرق جان لیجیے اور اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کی طرف سے ایسے بے ڈھب اعتراضات وارد ہونے میں کافی کمی ہو سکتی ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس کا دین اس طرح سمجھنے کی کوشش کیجیے جس طرح اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے ہمیں قولی اور علمی طور پر بیان کر دیا ، نہ کہ اپنی لا علمی پر مبنی سوچ اور فلسفوں کے مطابق ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-10-09), مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 17-10-09, 01:23 AM   #63
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم


والسلام
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اھلاً و سھلاً و مرحبا ،
خوش آمدید ،
جی آیاں نوں ،
پخیر راغلے ،
ویلکم ،
اور نہیں آتا
کنعان بھائی یہ کس طرح کی آمد ہے ،
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 17-10-09, 12:23 PM   #64
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,250
کمائي: 25,753
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان
اقتباس:
ان سب مثالوں سے آپ دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم کی سنت، قرآن حکیم کے احکامات سے مطابقت رکھتی ہے۔ رہ گیا معاملہ ٹڈی کا تو اگر کوئی اس کو نہ کھائے تو خدانخواستہ کافر تو نہیں ہوجائے گا۔ مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔
اقتباس:
انا للہ و انا الیہ راجعون ، کاش آپ میری نصیحت پر تھوڑا سا ہی عمل کر لیں اور دینی علوم کا کم از کم تعارف ہی سیکھ لیں ، بڑے بھائی ٹڈی کھانا """ سُنت """" کیسے
برادر من ، کیا آپ کو سچ مچ پڑھنے میں‌ دشواری ہوتی ہے؟
دو عدد جملہ ہیں۔ جس جملہ میں ٹڈی کی بات ہورہی ہے، اس کا پچھلے جملے سے کوئی تعلق نہیں ۔ احتیاط سے پڑھا کریں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 17-10-09, 01:11 PM   #65
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,250
کمائي: 25,753
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
فاروق بھائی یہ بات آپ کچھ مخلتف الفاظ میں میرے ساتھ ایک گفتگو میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں ،
کیا ہم اس سے یہ سمجھ لیں کہ ہر وہ معاملہ ، موضوع ، مسئلہ جس کا ذکر قران کریم میں نہیں ،لیکن صحیح احادیث مبارکہ میں ہے وہ احادیث ، اور ان میں بیان کردہ معاملہ ، موضوع ، مسئلہ آپ کے نزدیک خلاف قران ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
السلام علیکم

سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن سے ہم کو کوئی دلیل نہیں ملتی کہ عیسی علیہ السلام زندہ اوپر لے جائے گئے اور زندہ واپس آئیں گے۔ بلکہ اس کے مخالف دلیل ملتی ہے- اسی موضوع پر رہئیے۔

اگر اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور موت (دونوں) کے بعد اوپر اٹھائے جانے کا موجود ہے تو پھر ایسی روایات جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ اوپر اٹھایا جارہا ہے اور زندہ واپس نازل کیا جارہا ہے ۔ خلاف قرآن ثابت ہوتی ہیں۔ کہ زندہ ---- کسی طور --- موت و وفات --- کے برابر نہیں ہوسکتے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے بارے میں بھی آیت بھی پیش کی جاچکی ہے۔ دیکھ لیجئے

جس طرح‌کی تاویلات پیش کی جارہی ہیں کہ اگر ایسا ہوگا تو پھر کیا ہوگا وہ غیر ضروری ہیں۔ اگر آپ کے پاس قرآن حکیم سے دلائل نہیں‌ہیں‌تو تضحیک آمیز لہجے پر نہ اترئے۔ آپ نے جو کچھ میرے بارے میں کہا اس کو نظر انداز کررہا ہوں۔ مجھے آپ نصیحت کی چنداں ضرورت نہیں بھائی۔ ہم سب کو چاہئیے کہ رسول اکرم کی نصیحت پر عمل کریں اور قرآن حکیم سے ہدایت حاصل کریں۔ رسول اکرم یا اللہ تعالی نے کہاں کہا ہے کہ ان کتب روایات پر کامل ایمان رکھنا ہے؟ جو کچھ ان کتب روایات میں لکھا ہے اس پر صدق دل سے یقین رکھنا ہے کوئی سوال نہیں کرنا ہے؟

آپ سے اس معاملہ پر سیر حاصل بحث ہوچکی ہے ، آپ کے اور میری خیالات دونوں کے علم میں‌ہیں تو پھر بار بار اس موضوع کو اٹھانے کی کیا ضرورت؟ آپ خلاف قرآن روایات پر یقین رکھتے ہیں‌، میں‌نہیں‌ رکھتا ہوں۔ یہ الزام نہیں ۔ اسی دھاگہ میں دیکھ لیجئے کہ آیات کی نفی روایات سے کی جارہی ہے اور آپ اس معاملے میں ان خلاف قرآن روایات کے ساتھ ہیں۔ تاویلات سے وفات و موت کو زندہ ثابت کرنے کی کوششوں‌میں‌مصروف،

ایسا خلاف قرآن ، اہانت رسول پرنور سے بھرپور کتب روایات پر مشتمل دین ، میں‌کیسے سیکھ لوں ؟ لکم دینکم ولی دین۔

افسوس ناک مقام یہ ہے خلوص‌ کی کمی، ہر معاملہ میں آیات کی نفی - روایات سے کرنے کی بحث، "کچھ سیکھ لیجئے" کی مدد سے کردار کشی ، بے معانی تاویلات اور زبردستی کتب روایات پر ایمان دلانے کی مہم ، نہ تو مسلمان کی اقدار ہیں اور نہ ہی اس سے کسی کی عزت بڑھتی ہے بلکہ الٹی بندہ کی قدر آنکھوں سے گھٹتی جاتی ہے۔

بھائی جو کچھ بھی خلاف قرآن ہے وہ حدیث نبوی نہیں ہے۔ یہ خود نبی اکرم کا پیغام ہے ، حدیث مبارک ہے۔

میں یہ سمجھ رہا ہوں‌کہ یہاں‌کسی کے پاس قرآن حکیم سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے حضرت عیسی علیہ السلام زندہ اوپر اٹھائے گئے اور زندہ واپس آئیں‌گے۔ آپ سے ان آیات کی استدعا بارہا کرچکا ہوں جو اس طرح کا فرمان الہی رکھتی ہوں۔ لیکن ہر بار اصحاب و احباب تاویلات سے کچھ روایات سے ان مصدقہ آیات کی نفی کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

آپ کی آسانی کے لئے موت والی آیات ایک بار پھر:
وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو یقیناً ایمان نہ لایا ہواس (مصلوب نہ ہونے اور قتل نہ ہونے )‌ پر اس (مسیح) کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا (مسیح) ان پر گواہ۔

اس آیت میں بھی نہ زندہ اٹھانے اور نہ ہی زندہ واپس آنے کا کوئی تذکرہ ہے۔

بنیادی طور پر اس آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ

قیامت کے دن ، عیسی علیہ السلام ان اہل کتاب لوگوں پر گواہ ہوں گے جو عیسی علیہ السلام کی (طبعی)‌ موت سے پہلے عیسی علیہ السلام پر اور اس بات پر ایمان لائے جو اس سے پہلے کی آیات میں بیان کی گئی ہے ‌( کہ نہ ان کا قتل ہوا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا)۔

جب کہ روایات پر یقین رکھنے والے فرقہ اس آیت کو مستقبل میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زندہ آمد کے بعد ہونے والی موت سے مراد لیتے ہیں۔ اس آیت میں‌کہیں بھی یہ نہیں‌کہا گیا کہ وہ زندہ آئیں گے بھی۔

یہ کہنا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں‌ہوگا جو عیسی کی موت سے پہلے ان پر اور اس حقیت پر ایمان نہ لے آیا ہو کہ ان کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا -------- ہم کو یہ بتاتا ہے کہ کہا جارہا ہے کہ اہل کتاب کو ایسا یقین ان کی موت سے پہلے ہوا، یہ نہیں‌کہا جا رہا کہ ان کی موت ان کے زندہ نازل ہونے کے بعد ہوگی۔

صاف بات ہے کہ جو اہل کتاب اس وقت زندہ تھے، اس بات کو جانتے تھے کہ نہ عیسی علیہ السلام قتل ہوئے اور نہ ہی مصلوب ، اس لئے کے یہ اہل کتاب عیسی علیہ السلام کے ساتھ اس واقعے کے بعد بھی تھے ۔ لہذا عیسی علیہ السلام کی طبعی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے اوران امور (نہ قتل ہونے اور نہ مصلوب ہونے ) کے گواہ رہے۔

1۔ ایسا کہنا کہ اس آیت میں درج ہے کہ عیسی علیہ السلام دوبارا زندہ آسمان سے نازل ہونگے ، اس آئت میں کہیں‌ نہیں‌ لکھا۔
2۔ ایسا کہنا کہ "اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا، جو عیسی علیہ السلام کی مستقبل میں‌ہونے والی موت پر ایمان نہ لے آئے ، بھی درست نہیں
اس لئے کہ بہت سے اہل کتاب آج بھی عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اسی حالت میں‌مر جاتے ہیں۔ ان کا شمار کس طرف ہوگا؟

لہذا اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی برائی نہیں کہ عیسی علیہ السلام کی وفات یعنی موت واقع ہوئی اور اس کی وجہ نہ قتل تھی اور نہ ہی مصلوب ہونا۔

ان کی وفات کی تفصیل ان دو آیات میں مزید دی گئی ہے جہاں‌ ان کی وفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پہلے فراہم کی جاچکی ہیں۔۔ یہاں بھی لفظ "موتہ" سے یہ بتایا جارہا ہے کہ مسیح کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور قیامت کے دن مسیح ان لوگوں‌پر گواہ ہونگے جو ان پر اور ان سے متعلق اس بات کو جانتے اور ایمان رکھتے تھے کہ ان کی موت نہ قتل سے ہوئی اور نہ مصلوب ہونے سے ۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-10-09, 02:28 PM   #66
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,250
کمائي: 25,753
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم۔

میری عربی بہت کمزور ہے، اس آیت کا حرف بہ حرف تجزیہ اپنی کم علمی کے ساتھ کررہا ہوں۔ اگر کسی احباب یا اصحاب کو کوئی غلطی نظر آئے تو درستگی فرمادیں۔

اس تجزیہ میں ہر لفظ کی عربی اور انگریزی گرامر ، ہر لفظ کے اردو اور انگریزی معانی اور آخر میں اس آٰیت کے انگریزی اور اردو معانی دئے گئے ہیں۔

4:159 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

وَإِن --- الواو عاطفہ و حرف - اور نہیں کوئی And (there is) not
prefixed conjunction wa (and) PART – particle

مِّنْ --- حرف جر --- میں -- سے from
preposition

أَهْلِ --- اسم مجرور --- لوگوں the People
genitive masculine noun

الْكِتَابِ --- اسم مجرور -- کتاب والے of the book
genitive masculine noun

إِلاَّ --- حرف -- لیکن - ماسوائے - مگر but
particle

لَيُؤْمِنَنَّ -- اللام لام التوكيد ، فعل مضارع -- یقیناً وہ ایمان رکھتا ہے surely he believes
prefixed emphatic particle lām and – 3rd person masculine singular - imperfect verb

بِهِ -- جار ومجرور -- اس (شخص ) میں In him
prefixed preposition bi and – 3rd person masculine singular personal pronoun

قَبْلَ --- ظرف زمان منصوب --- قبل یا اس سے پہلے before
accusative time adverb

مَوْتِهِ --- اسم مجرور والھاء ضمير متصل في محل جر بالاضافہ --- اس (شخص) کی موت His Death
genitive masculine noun --- 3rd person masculine singular possessive pronoun

وَيَوْمَ --- الواو عاطفۃ -- اسم منصوب --- اور اُس دن and (on) the day
prefixed conjunction wa (and) – accusative masculine noun

الْقِيَامَةِ -- اسم مجرور --- اٹھائے جانے کے / قائم ہونے کے / قیامت (کے دن) of the Resurrection
genitive feminine plural noun

يَكُونُ --- فعل مضارع --- وہ ہوگا He will be
3rd person masculine singular imperfect verb

عَلَيْهِمْ --- جار ومجرور --- ان کے لئے یا ان کے سامنے - Against them
preposition – 3rd person masculine plural object pronoun

شَهِيدًا --- اسم منصوب --- گواہ a witness
accusative masculine singular indefinite noun


اس آیت کے ممکنہ اردو تراجم عربی زبان کی معمولی شدھ بدھ کے مطابق:
اور نہیں کوئی کتاب والے لوگوں میں سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اِس (عیسی علیہ السلام کے بارے)‌ میں اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اِس کا گواہ۔
اور نہیں کوئی اہل کتاب میں‌سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اُس (عیسی علیہ السلام)‌ پر اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اُن کے گواہ۔

And there is not from the people of book but surely he believes in him before his death and on the day of the resurrection, he will be a witness for them.

اس آیت میں یہ کہیں‌نہیں‌ملتا کہ عیسی علیہ السلام مستقبل میں زندہ آئیں گے بلکہ پچھلی دو آیات کے واقعات کی تصدیق میں‌یہ بتایا جارہا ہے کہ جو اہل کتاب ان کے ساتھ تھے وہ ان کی موت سے قبل اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ نہ وہ مصلوب کئے گئے اور نہ ہی ان کا قتل ہوا بلکہ ان کو وفات دے کر اللہ تعالی نے اوپر اٹھا لیا ۔ اللہ تعالی نے ان (عیسی علیہ السلام ) کو موت بصورت وفات دی یعنی عمر پوری کرکے دی۔

خود ان اہل کتاب لوگوں پر حضرت عیسی علیہ السلام گواہ ہونگے۔

جیسا کہ میں نے عرض‌کیا کہ میں طالب علم قرآن ہوں ، عربی میری پہلی یا مادری زبان نہیں ہے اس لئے قواعد و گرامر میں کمزور ہوں۔ جو حضرات بہتر عربی جانتے ہیں اس آیت کے تجزیہ میں اگر کوئی خامی پاتے ہیں‌ تو ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائیں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 17-10-09, 02:47 PM   #67
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,250
کمائي: 25,753
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام و علیکم،

بھائی آپ کے پندرہ عدد سوالات صرف اور صرف اس موضوع کو بگاڑنے کے لئے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر سنت رسول سے ثابت ہیں اور سنت جاریہ ہیں۔ ایسی سنت رسول سے قطعاً یہ ثابت نہیں‌ہوتا کہ جس امر کی قرآن میں صراحت و وضاحت کے ساتھ تصدیق و توثیق آئی ہو اس کے خلاف روایات کو خلاف قرآن کیوں نہ مانا جائے؟

آپ کے بیان کردہ امور میں سے خلاف قرآن کونسا امر ہے‌؟ کیا اس میں سے کسی سنت کے بارے میں قرآن حکیم میں مخالف حکم موجود ہے؟

لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور موت کے بارے میں قرآن کی واضح اور صریح‌ آیات موجود ہیں۔ جبکہ زندہ اٹھائے جانے یا واپس نازل کئے جانے کی ایک بھی آیت موجود نہیں سرف روایات موجود ہیں وہ بھی غیر تصدیق شدہ، مجھے یقین ہے کہ ہمارے محدثین کا کام ایسی روایات شامل کرنا نہیں رہا ہوگا۔ ایسی روایات دشمنان اسلام کا کارنامہ نظر آتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ فرق نظر نہیں‌ آتا تو برادر عزیز صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ پر مجھے دل سے یقین سے بڑھ کر عین الیقین ہوجائیگا۔

اس مراسلہ کو اس بحث کا میری طرف سے آخری مراسلہ تصور کیجئے۔ جو میں نے کہنا تھا وہ مکمل کرلیا، تمام حوالہ جات مع تجزیہ وہ ترجمہ حاضر ہیں ۔ جو شئیر کرنا تھا وہ ہوگیا۔ میرا مقصد آپ کو قائیل کرنے کا ہرگز نہیں‌ ہے۔ آیات شئیر کرنا میرا کام تھا ، غور خوض‌کرنا آپ کا کام ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-10-09, 05:53 PM   #68
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اھلاً و سھلاً و مرحبا ،
خوش آمدید ،
جی آیاں نوں ،
پخیر راغلے ،
ویلکم ،
اور نہیں آتا
کنعان بھائی یہ کس طرح کی آمد ہے ،
و السلام علیکم۔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ


جزاک اللہ عادل بھائی جان

میں نے مثبت انداز میں بہت کچھ لکھا تھا مگر بعد میں سوچا کہ کہیں موصوف ناراض نہ ہو جائیں تو پھر ڈلیٹ کر دیا۔

آپ نے جو جوابات دئے ہیں میں امید کرتا تھا کہ فاروق صاحب کو کوئی اس طرح کے جوابات لکھے اس سے پہلے جتنے بھی بھائیوں نے فاروق صاحب کے ساتھ مباھلے کئے ہیں اس میں قرآن اور احادیث مبارکہ کا ہی استعمال کیا جو کہ ان کے لئے ناکافی ھے۔

فاروق صاحب کو جو آپ نے اب جوابات دئے ہیں اس میں آپ نے ساتھ ساتھ اپنی تھیوری اور کیمسٹری بھی استعمال کی ھے، یقین جانین فاروق صاحب کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے ان کا استعمال کرنا بھی بہت ضروری ھے۔

عادل بھائی ایک اور بات سے پردہ بھی اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں جو جس کا جاننا آپ کو بہت ضروری ھے اب میں آپ سے مخاطب ہوں اور شائد کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

عادل بھائی دبئی سعودی میں پاکستانی ویزہ پر جاتے ہیں اور جب تک ان کا ویزہ ویلڈ ہوتا ھے وہ وہاں پر رہتے ہیں

اور جو پاکستانی مسلم بھائی یورپ، بریطانیہ، امریکہ ، کینیڈا میں جاتے ہیں ان کے پاس ٹرانزٹ، وزٹ ویزا ہوتا ھے جس کی مدت زیادہ سے زیادہ 6 مہینے کی ہوتی ھے۔

اس کے ختم ہونے کے بعد وہ اللیگل ہو جاتے ہیں اور پاکستانی ہوٹلوں، کساب کی دکانوں ، اور سٹوروں میں کام کرتے ہیں جس کی مدت 3 سال سے 5 سال تک ہوتی ھے اس کی وجہ یہ ھے کہ پہلے وہ اپنی وہ رقم پوری کرتے ہیں جو وہ یہاں پہنچنے کے لئے لگا کر آئے ہوتے ہیں ، جو وہ ادھار کی رقم پوری ہو جاتی ھے تو اس کے بعد 3 یا 5 سال کی مدت کے بعد وہ پھر اپنے لیگل سٹیٹس کے بارے میں سوچتے ہیں۔

لیگل سٹیٹس کے لئے یہاں کچھ آپشن ہیں، یہاں کسی نیشنل سے شادی کر لیں ، یا اسائلم کیس کر لیں۔

شادی کرنے والا فارمولا یہ ہوتا ھے۔ اور تھوڑا مہنگا ھے اس لئے اس کی پہلے ضرورت نہیں محسوس کی جاتی،

اسائلم کا طریقہ : یہ طریقہ میں بہت فائدے ہوتے ہیں اور اس کے 6 آپشن ہوتے ہیں۔

اسائلم کرنے سے بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ گونمنٹ گھر کا کرایہ دیتی ھے اور ساتھ میں کھانے کے پیسے بھی دیتی ھے اور جب تک کیس چلتا رہتا ھے وکیل کی فیس کورٹ کی فیس، بعنی یوں کہہ لیں بندے کی نہ ہینگ لگتی ھے نہ پھٹکری۔ یہ اسائلم کے 5 آپشن میں شامل ھے اس میں فیصلہ ہار جیت پر ہوتا ھے۔

اب آتے ہیں 6 آپشن جو کہ مذھبی اسائلم ھے

ہر 50 فی صد پاکستانی مسلمان ان حادثوں کا شکار ہوتے ہیں اور پھر وہ آہستہ آہستہ مسلمان کم مرزائی- مسلمان کم پرویزی- مسلمان کم وغیرہ وغیرہ ہو جاتے ہیں۔

اور ان کو ان اداروں تک پہنچانے میں بھی اپنے ہی بندوں کا ہاتھ ہوتا ھے جس کا فاروق صاحب بھی 1982 میں شکار ہو چکے ہوئے ہیں۔
اور یہ ایک فاروق صاحب ہی نہیں ہیں اور بھی میرے بہت سے بھائی ہیں جو آنلائن پر ہیں مگر وہ دوسرے فارمز میں ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور وہ مجھے نہیں جانتے۔

اب ہو سکتا ہے فاروق صاحب کو میری یہ بات پسند نہ آئے تو میں آپ کو میرے ساتھ ہوئے ہوئے ایسے حادثات کے بارے میں بتاتا ہوں۔

میں دبئی سے انگلیند 2 سال تک آتا رہا صرف یہ سروے کرنے کہ یہاں پر کس طرح سیٹ ہوا جا سکتا ھے ۔ ہر 3 مہینے بعد میرا ایک ہفتہ کا وزٹ ہوتا تھا انگلینڈ میں اور اسی دوران جو ہوا وہ تھوڑا عرض کرتا ہوں سمجھانے کے لئے۔

میں سیالکوٹ کے ایک بٹ صاحب جو شیفرڈ بش علاقہ میں رہتے تھے میں ان کے پاس قیام پذیر تھا وہ مجھے اپنے ایک دوست کے پاس لے گئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک جماعت ھے ان کی مسجد میں صرف جمعہ ہی پڑھنا ھے اور ان کا وکیل میرا کیس لڑے گا اور وہ مالی امداد بھی ساتھ ساتھ کریں گے گورنمنٹ سے بھی ملے گا اور ان سے بھی، اور وہ تم کو سیٹ کروائیں گے گارنٹی ھے اس کی،آپ مسلمان ہی رہو گے جھوٹ موٹ وہاں ہر جمعہ کو جا کر ان کے ساتھ جمعہ پڑھنا ضروری ھے۔ وہ بٹ صاحب بھی یہی تھے اور انہوں نے کہا کہ کسی کو بتانا نہیں یار۔

پھر آئے تو اپنے کسی رشتہ دار کے پاس مانچسٹر رہا۔ وہ مجھے وہاں اپنے ایک وکیل چوھدری بشیر سولیسٹر کے پاس لے گئے انہوں نے بھی یہی مشورہ دیا میں نے قبول نہیں کیا یہ رشتہ دار بھی یہی نکلے۔

پھر ایک چغتائی صاحب جو کرائڈن میں رہتے تھے جو دبئی میں جب آتے تھے تو میرے پاس رہا کرتے تھے وہ بھی کسی کے پاس لے گئے وہ بھی ایسے ہی تھے چغتائی صاحب نے بتایا کہ کرائڈن ایریا تو گڑھ ھے ان کا۔

پھر آئے تو کسی نے کہا کہ اقبال سولیسٹر بہت پاورفل وکیل ھے جو کہ کارڈیف میں ہوتا ھے اس کے پاس جاؤ جب اس کے پاس گیا تو اس نے بھی یہی مشورہ دیا

ایک بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر آپ کوئی بھی کیس کرو تو اس میں چانس بہت کم ہوتے ہیں مگر یہ مذھب بدلنے والا کیس اس لیے قبول کرتے ہیں کہ اس میں انگریز خوش ہو کر سٹے بھی دے دیتے ہیں کہ چلو ایک مسلمان تو کم ہوا۔

پھر ایک ایشین کمیونٹی سینٹر والوں کے پاس گیا اور ان کو کہا کہ مذھبی چھوڑ کے کسی بھی قسم کا کیس مجھے دے دو میں اس کو ون کر لوں گا انہوں نے بھی کہا کہ بہت مشکل ھے کیونکہ وہ بہت مشکل ہوتے ہیں ، میں نے کہا میرے لئے مشکل نہیں تو انہوں نے پولیٹیکل کیس کہا۔ اور اس میں کامیابی ہوئی بفضل الہی۔

قرآن کتاب باعث رحمت ھے اور ان کو ان اداروں میں وہ آیات پڑھائی جاتی ہیں وہ رحمت کی جگہ زہمت نشاندہی کروائی جاتی ہیں۔

اللہ سبحان تعالی مسلمانوں کو مسلمان کم وغیرہ وغیرہ ہونے سے بچائے آمین ثم آمین
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 18-10-09, 12:56 AM   #69
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
قرآن کریم کی کوئی بھی آیت عیسیٰ علیہ السلام کی "موت" پر صراحت نہیں کرتی۔ اس بارے میں اوپر کافی وضاحت ہو چکی ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا بھتیجے ، بھائی فاروق سرور کی خود فہمی پر مبنی باتوں کے کچھ جوابات ارسال کرنے والا ہوں اللہ اسے تمام قارئین کے لیے اور میرے لیے خیر والا بنا دے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 18-10-09, 01:01 AM   #70
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان
برادر من ، کیا آپ کو سچ مچ پڑھنے میں‌ دشواری ہوتی ہے؟
دو عدد جملہ ہیں۔ جس جملہ میں ٹڈی کی بات ہورہی ہے، اس کا پچھلے جملے سے کوئی تعلق نہیں ۔ احتیاط سے پڑھا کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم فاروق بھائی ، الحمد للہ مجھے اردو پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور آپ کے فلسفے پڑھ پڑھ کر آپ کی تحریر کو سمجھنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی ، و للہ الحمد
آپ نے فرمایا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ان سب مثالوں سے آپ دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم کی سنت، قرآن حکیم کے احکامات سے مطابقت رکھتی ہے۔ رہ گیا معاملہ ٹڈی کا تو اگر کوئی اس کو نہ کھائے تو خدانخواستہ کافر تو نہیں ہوجائے گا۔ مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔
اب آپ کی نئی تاویل کے مطابق اگر اس فقرے کے حصے بخرے کر لیے جائیں اور پہلا جملہ نکال دیا جائے تو یوں ہو گا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
رہ گیا معاملہ ٹڈی کا تو اگر کوئی اس کو نہ کھائے تو خدانخواستہ کافر تو نہیں ہوجائے گا۔ مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔
اور اگر اس میں بھی ڈیش سے جدا ہونے والے دو جملوں کو الگ کر دیا جائے تو آخری جملہ یوں ہو جائے گا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔
اب آپ صرف یہ بتا دیجیے کہ اس جملے میں """ یہ سنت ہے """" کس کو قرار دیا جا رہا ہے ،
""" یہ """ اسم اشارہ ہے جو کسی فعل کی طرف اشارہ کر رہا ہے کیونکہ آپ کے آخری دوجملوں میں کسی فاعل کا ذکر نہیں ، بلکہ مندرجہ ذیل افعال کا ذکر ہے :::
(1) مانے (2) نہ مانے (3) کھائے (4) نہ کھائے ،
ان چار افعال میں سے کس کو """ یہ سنت ہے """ کہا گیا ہے ، اور یہ چارواں افعال اصل میں کس ایک فعل سے متعلق ہو کر ذکر کیے گئے ہیں ،
اس لیے بڑے بھائی میرے مشورے پر پھر غور فرمایے ،
اور ابھی جایے مت بھائی جی ، آپ نے حسب عادت سارے سوالات کے جوابات یہ کہہ کر گول کر دیے کہ """""" بھائی آپ کے پندرہ عدد سوالات صرف اور صرف اس موضوع کو بگاڑنے کے لئے ہیں """""""
الحمد للہ جس نے ایک دفعہ پھر میری توقع پوری فرمائی ، مجھے یقین تھا کہ آپ ایسا ہی کریں گے ،
ماشاء اللہ آپ کے راسلہ رقم 66 میں آیت کی صرفی تشکیل دیکھ کر کافی خوشی ہوئی ، ان شاء اللہ اس کے بارے میں بھی بات میرے اگلے مراسلات میں ہو جائے گی ،
فاروق بھائی آپ نے اپنے اسی مراسلہ رقم 67 میں لکھا """""" اس مراسلہ کو اس بحث کا میری طرف سے آخری مراسلہ تصور کیجئے۔ جو میں نے کہنا تھا وہ مکمل کرلیا، تمام حوالہ جات مع تجزیہ وہ ترجمہ حاضر ہیں ۔ جو شئیر کرنا تھا وہ ہوگیا۔ میرا مقصد آپ کو قائیل کرنے کا ہرگز نہیں‌ ہے۔ آیات شئیر کرنا میرا کام تھا ، غور خوض‌کرنا آپ کا کام ہے۔""""""
تو گذراش ہے بھائی جی کہ جیسا کہ میں نے کل کہا تھا ، اب میں آپ کے تجزیے کا تجزیہ پیش کرنے والا ہوں ان شاء اللہ ، لہذا آپ فی الحال یہاں رکیے ، میرا مقصد ہر ایک کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کی طرف مائل کرنا ہی ہے ، اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہی میں چھوڑ دے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 18-10-09, 01:10 AM   #71
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

فاروق سرور خان صاحب

جب آپ ہر فارم میں اور اپنے بلاگوں میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ برھان قرآن کا ترجمہ بہت اچھا ھے اسے استعمال کریں تو پھر آپ کو اپنی کوئی بھی بات ثابت کرنے کے لئے دوسرے قرآن کا سہارہ لینے کی کیوں ضرورت پیش آتی ھے یہ عجیب بات ھے۔ میں ایک تفصیلی پوسٹ بنا رہا تھا تو میرے نظر سے یہ آیت گزری تو سوچا اس کا علیحدہ جواب آپ کی نظر کر دوں۔




اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن سے ہم کو کوئی دلیل نہیں ملتی کہ عیسی علیہ السلام زندہ اوپر لے جائے گئے اور زندہ واپس آئیں گے۔ بلکہ اس کے مخالف دلیل ملتی ہے- اسی موضوع پر رہئیے۔

آپ کی آسانی کے لئے موت والی آیات ایک بار پھر

وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں
جو یقیناً ایمان نہ لایا ہو
اس (مصلوب نہ ہونے اور قتل نہ ہونے )‌ پر
اس (مسیح) کی موت سے پہلے
اور قیامت کے دن ہوگا
(مسیح) ان پر گواہ۔

اس آیت میں بھی نہ زندہ اٹھانے اور نہ ہی زندہ واپس آنے کا کوئی تذکرہ ہے۔
بنیادی طور پر اس آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ
قیامت کے دن ، عیسی علیہ السلام ان اہل کتاب لوگوں پر گواہ ہوں گے جو عیسی علیہ السلام کی (طبعی)‌ موت سے پہلے عیسی علیہ السلام پر اور اس بات پر ایمان لائے جو اس سے پہلے کی آیات میں بیان کی گئی ہے ‌( کہ نہ ان کا قتل ہوا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا)۔
جب کہ روایات پر یقین رکھنے والے فرقہ اس آیت کو مستقبل میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زندہ آمد کے بعد ہونے والی موت سے مراد لیتے ہیں۔ اس آیت میں‌کہیں بھی یہ نہیں‌کہا گیا کہ وہ زندہ آئیں گے بھی۔
یہ کہنا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں‌ہوگا جو عیسی کی موت سے پہلے ان پر اور اس حقیت پر ایمان نہ لے آیا ہو کہ ان کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا -------- ہم کو یہ بتاتا ہے کہ کہا جارہا ہے کہ اہل کتاب کو ایسا یقین ان کی موت سے پہلے ہوا، یہ نہیں‌کہا جا رہا کہ ان کی موت ان کے زندہ نازل ہونے کے بعد ہوگی۔
[/COLOR]

برھان قرآن


وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

Tahir ul Qadri
اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا
مگر وہ عیسٰی (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے) ایمان لے آئے گا،
اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے
4:159


Ahmed Raza Khan
کوئی کتابی ایسا نہیں
جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے (ف402)
اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا (ف403)


Shabbir Ahmed
اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے
مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر
اس کی موت سے پہلے
اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔


Fateh Muhammad Jalandhary
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر
ان کی موت سے پہلے
ان پر ایمان لے آئے گا۔
اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے


Mehmood Al Hassan
اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے
سو عیسٰی پر یقین لاویں گے
اس کی موت سے پہلے
اور قیامت کے دن ہو گا ان پر گواہ


Yusuf Ali
And there is none of the People of the Book
but must believe in him before his death;
and on the Day of Judgment
he will be a witness against them;-



جناب من یہ سارے ترجمے آپ کے برھان قرآن سے کاپی کئے گئے ہیں اور جو ترجمہ آپ دکھا رہے ہین وہ آیت کا ترجمہ آپ نے پتہ نہیں کہاں سےلیا ھے کیا آپ کا ایسا کرنا یہ ثابت تو نہیں کرتا کہ آپ بھی مانتے ہیں‌ کہ عیسی علیہ السلام نے واپس آنا ھے مگر مجبور ہیں کہ اقرار کہنا مہنگا پڑ رہا ھے۔

آپ کی اس حرکت سے ایک بات یاد آ گئی کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ، اور دکھانے کے اور۔

جناب من میں بھی برھان قرآن کا ہی ترجمہ استعمال کرتا ہوں مگر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے کوئی بات ثابت کرنے کے لئے باہر سے کوئی ترجمہ لینا پڑا ہو۔

جناب من یہ آپکی پسندیدہ ایک ہی آیات جو مختلف تراجم سے پیش کی گئی ھے یہی اس بات کی گواہی دے رہی ھے کہ عیسی علیہ السلام واپس آئیں گے۔

اھل کتاب کے بھی دو بڑے گروہ ہیں آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور ان دونوں کی کیا ایکٹوٹی ہیں وہ بھی جانتے ہونگے۔

اسی آیت کو لے لیں تو ابھی تک تو ان میں ایسی کوئی بات نہیں ثابت ہوتی جو ابھی تک ھے ان میں۔

عیسی علیہ السلام اٹھا لئے گئے ہیں اور وہ دوبارہ آئیں گے اس آیت سے بھی اور دوسری آیات سے بھی جن کا ہمیں مکمل ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاتعداد احادیث مبارکہ سے ملتا ھے

فاروق صاحب اب آپ جیسا مفکر بقول آپ کے یہ کہے کہ قرآن میں جانے کا ذکر ھے آنے کا ذکر نہیں تو یہ بچوں والی باتیں ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-10-09), مرزا عامر (01-05-11), عادل سہیل (19-10-09)
پرانا 18-10-09, 01:17 AM   #72
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم فاروق بھائی اس دھاگے میں اصل موضوع کے علاوہ کافی باتیں ہو چکی ہیں ، اور حسب عادت آپ نے میرے اور بھائیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے کنی کترائی ہے ، اور اپنے اسی پرانے """خلاف ء قران """ فلسفے کے مطابق ، اپنی لا علمی کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ، اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے ،
اس دفعہ تو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک آیت کی صرفی تشکیل بھی بیان کرنے کی سعی فرمائی ہے ، اور اس کے علاوہ آپ بار بار اپنی غلط فہمیوں کے بارے میں خوش فہمیوں کی بنا پر بہت کچھ کہتے رہے ہیں ، لہذا میں نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی عطا کردہ توفیق سےآپ کے سارے مراسلات پر کچھ بات کی جائے ،
سب سے پہلے آپ نے بھتیجے عبداللہ کے مراسلہ رقم 13 کے جواب میں مراسلہ رقم 14 میں لکھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
عبداللہ حیدر بھائی ، سلام مسنون
میں‌ قادیانی نہیں ہوں اور رسول اکرم کے آخری نبی ہونے پر یقین رکھتا ہوں۔ قرآن حکیم کو انسانیت کے لئے اللہ کا فرمان جو کہ رسول اکرم لے کر آئے۔ یہی کتاب میرے لئے ایک مکمل دلیل ہے۔ میری معلومات کے مطاب ، قرآن ان کے واپس آنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کہتا۔
جی فاروق بھائی الحمد للہ ہم سب کو پتہ ہے کہ آپ قادیانی نہیں ہیں اور قولی طور پر محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں ، لیکن عملاً ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ، ان کی صحیح ثابت شدہ سُنّت (بشمول قولی ، فعلی اور تقریری) کا انکار کرتے ہیں ، اور کسی برہان کے بغیر صرف لا علمی پر مبنی فلسفوں کی وجہ سے کرتے ہیں ،
آپ کے اس مذکورہ بالا قول کے بارے میں مزید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اُردو کا ایک شاہکار ہے ، بڑے بھائی جس قاری کو یہ پتہ نہ ہو کہ کس موضوع پر بات ہو رہی ہے وہ آپ کی اس بات سے کیا سمجھے گا !!!!!!
یہ ہی ناں ، کہ قران میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے واپس آنے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے ،
اسی لیے بار بار آپ کو سمجھا چکا ہوں بھائی کہ بات مکمل اور واضح کیا کیجیے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات جاری ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-10-09), کنعان (18-10-09)
پرانا 18-10-09, 01:27 AM   #73
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,262
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر نزول عیسیٰ ہو بھی گیا تو ہمنے کونسا مان لینا ہے۔ مین میخ نکالنے میں ہم سے بڑا چیمپئن اور کون ہو سکتا ہے؟!
arifkarim آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
پرانا 18-10-09, 01:42 AM   #74
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
چلیے فاروق بھائی اب آپ کے اگلے اقوال کے تجزیے کی طرف چلتے ہیں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اور اٹھائے جانے والی آیت کو ایک بار پھر دیکھ لیجئے۔ غامدی نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

3:54 إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں متوفی کروں گا اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں سے نجات دلادں گا، اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا
فاروق بھائی اللہ تبارک و تعالیٰ کی باتیں تو اشارے نہیں """ بینات """ ہوتی ہیں ، لہذا انہیں سمجھنے کے لیے اشارے اور وہ بھی کاکو شاہ جیسے """ تعلیم یافتہ مولوی """ لوگوں کے ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
یہ اشارے آپ کے لیے ہوں گے ، ہمارے لیے نہیں ، بلکہ کسی بھی صاحب ایمان کے لیے نہیں ہمارے لیے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے وہ فرامین ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں صاف صاف واضح ترین طور پر یہ بتایا ہے کہ ہمیں اللہ کی نازل کردہ کتاب ، اور اس کی نازل کردہ وحی جو اس کتاب میں نہیں ، ان دونوں کے معانی اور مفاہیم کہاں سے سیکھنے ہیں ،

فاروق بھائی ، معذرت اور دُکھ کے ساتھ پھر سے کہنا پڑ رہا ہے کہ محترم بڑے بھائی ، صرف ترجموں کی بنا پر خود سے قران کی تفسیر کرنے کی کوشش مت کیا کیجیے ، عربی لغت سیکھیے ، اور اہل زبان کے قواعد اور قوانین اور استعمال اور فہم کے مطابق سیکھیے ، کسی اور زبان کے مطابق نہیں ،
اصل عربی کتابوں میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کا مطالعہ فرمایے ، صحابہ رضی اللہ عہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ فرمایے ان کے فہم قران کا مطالعہ فرمایے ، ان شاء اللہ بہت فائدہ مند ہو گا ،
ان شاء اللہ جلد ہی الگ دھاگوں کی صورت میں قران کی تفیسر اور تاویل کے بارے میں کچھ معلومات ارسال کروں گا ، اللہ انہیں قارئین کے لیے نفع مند بنائے ، انہیں ضرور پڑہیے گا فاروق بھائی ،
جی ، تو فاروق بھائی یہ نظر آ رہا ہے کہ اس مذکورہ بالا آیت کو جب آپ نے اپنے انداز میں کچھ تراجم کی روشنی میں کچھ عربی الفاظ کو سمجھنے کی کوشش میں اور کچھ آیت کے عبارت کی ترتیب کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی ہو گی تو آپ کو وہ سمجھ آیا ہو گا جو آپ نے لکھا ، اگر یہ واقعتاً آپ کی سمجھ کا نتیجہ ہے اور اگر کسی اور کا چربہ کر رہے ہیں تو پھر اس کی سمجھ کا ہوا ، بہرحال اسی غلط سمجھی نے آپ سے اس موضوع پر وارد صحیح ثابت شدہ احادیث کا انکار کروایا ، اللہ اس کو غلط سمجھی کو درست فرمائے ،
اپنے طور پر اُس آیت کی تفیسر میں آپ رقم طراز ہوئے کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ پہلے تم کو "متوفی کروں گا" وفات دوں گا اور دوم تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا؟
لفظ متوفی کیا قرآن میں وفات یعنی موت واقع ہوجانے کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے کہ ایک شخص کا وقت پورا ہوگیا، تکمیل ہوگئی، پورا ہوگیا۔ اگر پورا ہوگیا تو باقی کیا بچا؟
فاروق بھائی آپ کی قران فہمی کا ایک اندازہ تو """ آیت نہیں کہتی""" سے ہوتا ہے ،
اور دوسرا """ متوفیک """ کے ترجمے سے ،
اور تیسرا صرف اسی ایک آیت میں بیان کردہ واقعات کی قولی ترتیب کے اعتبار سے سارے ہی موضوع کو سمجھنے سے ،
فاروق بھائی ، ہمارے پاس اس آیت مبارکہ کو اس طرح سمجھنے کے لیے قران میں سے ہی دلائل ہیں جس طرح کہ صحیح ثابت شدہ احادیث میں عیسی علیہ السلام کے بارے میں خبر موجود ہے ، آیے دیکھتے ہیں :::
(۱) لفظ """ متوفی """ کا اصل مادہ """ وفیٰ """ ہے اور اس مادے سے """ وفات دینے """ یا """ وفات ہونے """ کے مفہوم میں قران میں صرف """ موت واقع ہو جانے """ کے بارے میں ہی تو استمعال نہیں ہوا ،
بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے قران میں سے ہی مثالیں دی ہیں ، اور لغت میں سے بھی ، اُس نے مراسلہ رقم 13 میں لکھا تھا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمد للہ جس نے ہمیں اور آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والا بنایا۔ بلاشبہ یہ اللہ کی ہدایت ہے جسے اللہ کے احسان کے بغیر ہم نہ پا سکتے تھے۔
آپ کے مراسلے کا خلاصہ یہ نظر آتا ہے کہ "متوفیک" ، "توفیتینی" میں وفات کا لفظ استعمال ہوا ہے جو موت کا مترادف ہے اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور اب وہ دنیا میں تشریف نہیں لانے والے ہیں۔ اس اشکال کو رفع کرنے کے لیے یہی امر کافی ہے کہ قرآن مجید میں "وفات" کا لفظ موت کے علاوہ نیند کے لیے بھی استعمال ہوا ہے مثلا:
وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ (الانعام)
"اور وہی ہے جو تمہیں رات کو "وفات" دیتا ہے"
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا [ الزمر : 42 ]
"اللہ وفات دیتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جو مری نہیں ہیں انہیں نیند میں"
عربی زبان کی گہرائی سے آپ بخوبی واقف ہوں گے اس لیے اشارہ ہی کافی ہے کہ اس بے مثل زبان میں ایک ہی لفظ بسا اوقات ستر ستر معنوں میں استعمال ہوتا ہے جسے سیاق و سباق سے سمجھا جاتا ہے، "وفات" ہی کو لے لیجیے، ایسے ایسے استعمال ملتے ہیں کہ غیر عرب حیران ہو کر رہ جائے۔ عربی کی معتبر ترین لغت لسان العرب سے دو مثالیں پیش خدمت ہیں:
تَوَفَّيْتُ المالَ منه
لفظی مطلب: "میں نے اس کے مال کو "وفات" دے دی"
حقیقی مراد: "میں نے اس کا سارا مال لے لیا"
ایک اور مثال:
تَوَفَّيْتُ عَدَد القومِ
لفظی مطلب: "میں نے قوم کے سب افراد کو وفات دی"
حقیقی مراد: "میں نے قوم کے سب افراد کو شمار کیا"
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیےکہ محض لغت کی مدد سے قرآن کی تفسیر نہیں کی جا سکتی۔ قرآن کریم کی تفسیر ایک انتہائی نازک اور مشکل کام ہے جس کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی نہیں بلکہ تمام متعلقہ علوم میں مہارت ضروری ہے۔ افسوس ہے کہ کچھ عرصے سے مسلمانوں میں یہ خطرناک وبا چل پڑی ہے کہ بہت سے لوگوں نے صرف عربی پڑھ لینے کو تفسیر قرآن کے لیے کافی سمجھ رکھا ہے، چنانچہ جو شخص بھی معمولی عربی زبان پڑھ لیتا ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر میں رائے زنی شروع کر دیتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ عربی زبان کی نہایت معمولی شدبد رکھنے والے لوگ، جنہیں عربی پر بھی مکمل عبور نہیں ہوتا، نہ صرف من مانے طریقے پر قرآن کی تفسیر شروع کر دیتے ہیں بلکہ پرانے مفسرین کی غلطیاں نکالنے کے درپے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض ستم ظریف تو صرف ترجمے کا مطالعیہ کر کے اپنے آپ کو قرآن کا عالم سمجھنے لگتے ہیں اور بڑے بڑے مفسرین پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے لیے "وفات" کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا اصل مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بتائی ہوئی تفسیر سے کیا جائے گا یا کسی متجدد کے فہم و دانش پر؟
اور آپ حسب معمول یا تو ان سب باتوں کو دیکھے بغیر اپنی ہی دُھن میں مگن اپنی بات کرتے چلے گئے یا پھر آپ کو ان باتوں کی سمجھ ہی نہیں آئی ،
یہاں صرف اتنا پوچھنا چاہوں گا کہ بھتیجے عبداللہ نے جو آیات ذکر کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے """ توفیٰ """ کا استعمال """ نیند """ کے لیے بھی کیا ہے ، اور موت کے لیے بھی ، پھر آپ عیسی علیہ السلام سے متعلق بات کرتے ہوئے """ توفیٰ """ کا معنی اور مفہوم صرف """ موت ""' کے لیے کیسے """ مُقیّد """ کر رہے ہیں، ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیوں آپ اپنی بے دلیل بات منوانے پرمصر ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیوں آپ اپنی اس غلط فہمی کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث کے انکار کا مرتکب ہو کر اہانت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مرتکب ہو رہے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

فاروق بھائی ، آغاز امر سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ، تبع تابعین ، اور ساری امت کے عُلماء کی بہت بڑی اکثریت نے یہاں اس آیت میں """ متوفیکَ """ میں """ وفات """ کا معنیٰ """ نیند """ لیا ہے ،
اور وہ مفہوم لیا ہے جس کا ابھی ان شاء اللہ میں ذکر کروں گا
پس محترم بھائی ، اگر کہیں کوئی کسی جہالت کی بنا پر ، اور دوسروں پر الزام لگا لگا کر ، """ عیسائیوں اور یہودیوں """ کے عقائد کو قران سے ثابت کرنے کی کوشش میں صحیح ثابت شدہ سنّت مبارکہ کا انکار کرے تو کسی سلیم العقل مسلمان کو اس کی بات نہیں ماننی چاہیے ، بلکہ دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی فرمان کا مفہوم اللہ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ان کے شاگردوں رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور ان کے شاگردوں رحمہم اللہ جمعیاً نے کیا بیان کیا ہے ، ان شاء اللہ ، و ذلک احسن تاویلا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات جاری ہے ،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-10-09), کنعان (18-10-09), مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 18-10-09, 01:57 AM   #75
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی فاروق بھائی آپ کی اگلی بات یا یہ کہہ لیتے ہیں کہ سابقہ بات کے اگلے حصے کی طرف چلتے ہیں :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ پہلے تم کو "متوفی کروں گا" وفات دوں گا اور دوم تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا؟
لفظ متوفی کیا قرآن میں وفات یعنی موت واقع ہوجانے کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے کہ ایک شخص کا وقت پورا ہوگیا، تکمیل ہوگئی، پورا ہوگیا۔ اگر پورا ہوگیا تو باقی کیا بچا؟
(2) قران کریم میں سے ہی """ توفیٰ """ کے دوسرے معانی پر بات ہو گئی ، جو عیسی علیہ السلام کو زندہ سلامت اللہ کی طرف اٹھا یے جانے اور پھر ان کے دوبارہ اتارے جانے کے بارے میں وارد ہونے والی صحیح احادیث کے عین مطابق ہے ، پس کسی قسم کے خلاف کی کوئی بات ہی نہیں ،
خلاف صحیح احادیث میں نہیں ، خلاف ان احادیث کو اپنی لا علمی پر مبنی قران فہمی میں ہے ،
اب آٓیے لغت میں سے اس کے معانی کی بات کرتے ہیں ،
دو معانی اور مفہوم تو عبداللہ حیدر نے آپ کو بتائے ، اب کچھ بات قواعد کے رو سے بھی کرتا ہوں ، ان شاء اللہ
اس آیت مبارکہ میں """ متوفیکَ """ میں استعمال ہونے والے """ توفیٰ """ کا استعمال لغت کے حقیقی مفہوم کے مطابق ہوا ہے ،
لغت کے حقیقی مفہوم کا مفہوم یہ ہے کہ """ ایسا معنیٰ جو لغت میں بنیادی اور عام استعمال میں ہو""" اور ""' توفیٰ """ کے عام معنوں میں سے بنیادی معنی کسی چیز کو مکمل ، بغیر کسی کمی اور نُقص کے لے لینا ہے ، جیسا کہ اہل زبان ، عرب کہتے ہیں اور عبداللہ حیدر نے اپنے مراسلے میں اس کا ذکر بھی کیا ہے اور میں اس کو مکمل طور پر ذکر کرتا ہوں کہ """""" و تَوَفَّـيتُ الـمالَ مِنه و استوفَـيته إِذا أَخذتهُ كُلّهُ ::: میں نے اس سے مال لے لیا اور اس مال پر قنضہ کر لیا جب میں نے اس کو مکمل طور پر لے لیا """"" دیکھیے لسان العرب ، مادہ """ وفیٰ """ ،
اور کہا جاتا ہے """"" توفیٰ فُلانٌ دینہُ فھو مُتوفٍ لہُ اِذا قِبضہُ و حازہ اِلیہ کا ملاً مِن غیر نقصِ ::: فُلان نے اپنا قرض لے لیا پس وہ اس کو وفات دینے والا ہوا جب اُس نے اُس کو اپنی طرف لے لیا اور اس پر مکمل طور پر قابض ہو گیا """""
اور لغت کے مطابق یہ حقیقی معانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث کی موافقت کرتے ہیں ، وہ احادیث جو قران میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ((((( انی متوفیکَ و رافعک الی ،،،،، ::: میں تمہیں مکمل طور پر قبضے میں لے لوں گا اور تمہیں اپنی طرف اُٹھا لوں گا ،،،،، ))))) کی شرح اور تفسیر ہیں ،
اس انداز بیان کو کہا جاتا ہے """"" تقدیم الحقیقۃ اللغویۃ علی الحقیقۃ العُرفیۃ """""،
اس کے بعد اس معنیٰ کی طرف آتے ہیں جسے لے کر آپ نے ان تمام متواتر صحیح احادیث کا انکار کر دیا ہے ، اور وہ معنی ہے """ موت دینا """ ،
جی ہاں """ توفیٰ """ کے معانی میں ایک معنیٰ """ موت دینا """ بھی ہے جسے ، لغتاً """ الحقیقۃ العُرفیۃ """ کہا جاتا ہے ، یعنی الفاظ کا وہ معنیٰ جو عام معروف ہو چکا ہو ، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ صرف وہی معنی ہے اور دیگر معانی سے چشم پوشی کی جائے اور وہ بھی اس حد تک کہ صحیح احادیث کا انکار کر دیا جائے ،
پس اللہ کے اس فرمان ((((( إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ::: جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں سُلا کر اپنے قبضے میں لوں گا اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں سے نجات دلا دوں گا، اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے لہذا (لوگو) جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا ))))) ، میں """ متوفیکَ """ معنیٰ اور مفہوم """موت دوں گا """ نہیں ، بلکہ """ نیند دے کر مکمل طور پر جسم اور روح سمیت اپنے قبضے میں لینا ہے""" ،
فاروق بھائی ، یہ مفہوم صرف لغت کی بنا پر نہیں ، کیونکہ ہم قران اور حدیث کو صرف لغت کے مفاہیم کی بنا پر نہیں سمجھتے بلکہ لغت کے مفاہیم کو قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرتے ہیں ،
اللہ کرے ، یہ تشریح آپ کی غلط فہمی کی درستگی کا سبب بن جائے کہ عیسی علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور ان کے دوبارہ زندہ ہی واپس اتارے جانے والی صحیح احادیث کا قران کی کسی آیت سے کوئی خلاف نہیں بلکہ وہ ان آیات کی تفسیر ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنا منصبءِ بیان پورا فرماتے ہوئے بتائی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات جاری ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-10-09), احمد نذیر (29-10-11)
جواب

Tags
پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی گلاب خان خبریں 2 18-06-11 04:16 PM
اچھے عیسٰی ہو، Wahid Mahmood امیر مینائی 5 03-12-10 11:32 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 14 30-06-09 08:32 PM
چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 0 07-04-08 09:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger