| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() |
غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام
قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔ یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔ Understanding Islam - Urdu)) جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں: آیتِ ترجمہ '' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔'' (سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩) اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ: ''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے'' (سورہ ال عمران آیت١٨٥) اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر) اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا (نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں: آیتِ ترجمہ ''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا'' (سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥) (عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے: آیتِ ترجمہ'' یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی'' (سورۃ الاحقاف آیت١٧) اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔ آیت: '' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔'' (سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١) اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ، دیکھئے (تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ مفہوم حدیث: ''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے'' (صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢) نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔ مفہومِ حدیث: ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔'' (صحیح بخاری کتاب الانبیاء) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے'' (سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی) (صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی) مفہومِ حدیث: جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔ تمہید: قرآن مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#46 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اب تک کوئی برادر محترم، ہم کو ایک بھی آیت عیسی علیہ السلام کو زندہ اوپر اٹھائے جانے کے بارے میں یا ان کی زندہ واپسی کے بارے میںفراہم نہیں کرسکا ہے۔ جو آیات پیش کی گئی ہیں وہ ان کی موت اور وفات کو ثابت کرتی ہیں۔ تو پھر ان روایات کا کیا مقام ہے جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہم کو عیسی علیہں السلام کے زندہ اٹھا ئے جانے والے عیسائی نظریہ کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں ۔ کیا ان کے بارے میں سوال کرنا اور حقیقت جاننے کی کوشش کرنا گناہ ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر گناہ یہ ہے کہ رسول ارکم سے ایسی روایات منسوب کی جائیں جو کہ قرآن کے مضمون کے صریح خلاف ہیں۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#47 |
|
Senior Member
![]() |
ببرادر محترم، آپ نے میرے ایک بھی سوال کو دور سے بھی نہیں دیکھا اور شکوہ آپ کا یہ ہے کہ میں جواب نہیں دیتا۔ بھائی سوال تو میں اٹھا رہا ہوں۔ آپ کے پاس جواب نہیں۔ کہ اللہ تعالی کا فرمان، قرآن کی وہ آیات پیش کردیجئے جو عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اور واپس زندہ لاتی ہوں۔ ورنہ مان لیجئے کہ یہ عیسائی نطریہ قرآن حکیم کے خلاف ہے۔
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (24-04-11) |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() |
الحمد للہ ، میں رب کریم کا عاجزی سے شکر گزار ہوں کہ پچھلے کئی دنوںسے دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالی کے فرمان، رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے قرآن حکیم کی آیات مبارکہ پیش کرنے کے بعد کسی کے پاس قرآن حکیم سے ان قرآن مخالف نطریات کی حمایت میں کوئی آیت نہیں ۔
پھر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ لوگوں کے حواسوں پر معمولی انسان اور طالب علم سوار ہیں ، ان کا تمام تر فوکس اب معمولی طالب علموں پر ہے۔ اللہ کی کتاب پر نہیں، یہ دیکھ کر بھی دکھ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک معمولی طالب علم کو نیچا دکھانے کے لئے اللہ تعالی کے فرمان کا مذاق اڑاتے ہیں، اس کتاب کو کمزور ثابت کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور اس کتاب مبارک پر توجہ دینے کے بجائے اس کا ارتداد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اے رب کریم ان فرزاندان اسلام کو اپنی کتاب مبارک سے ہدایت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اپنے قرآن کی طرف توجہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اللہ تعالی ان کو ہدایت دے کہ یہ معمولی طالب علم انسانوں کو توجہ دینے کے بجائے رب عظیم ، اللہ تعالی کی کتاب ، جس کا لفظ لفظ رسول اکرم کی زبان سے ادا ہوا ، اس کتاب پر توجہ دینے کی توفیق عطا فرما۔ ان کو اسی کتاب عظیم قرآن حکیم کی جو کہ رسول پرنور کی زبان مبارک سے ادا ہوا سے دلائیل دینے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#49 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,204
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,955 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تعریف اس بات کی جس نے مجھے اایسا مسلمان بنایا جو ایک اللہ پر، اسکے تمام نبیوں پر ، اسکی بھیجی گئی تمام کتابوں پر اور اس کے تمام احکامات پر بعینہ ویسا ہی یقین و ایمان رکھتا ہے جیسا شارع اسلام نے حکم دیا۔ یہ مسلمان اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ قرآن ہی راہ ہدایت ہے۔ اس مسلمان کو اپنی چلتی ہوئی سانس سے بڑھ کر یہ یقین ہے کہ قرآن کی اول اور درست وضاحت وہی کر سکتا ہے جس نے اسکو بیان کیا۔ اس مسلمان کا یہ بھی ایمان ہے اللہ ہی اپنے اسلام اور قرآن کی حفاظت کرنے والا ہے۔ چناچہ یہ مسلمان اس بات کو یقین سے کہہ سکتا ہے کہ جو فتنے آج (مثال کے طور پر حضرت عیسیٰ سے متعلق) پیدا کیے جا رہے ہیں ان سے متعلق اگر قرآن میں کوئی واضح حکم موجود ہے تو بھی اسکی تشریح و توضیح ۔ ۔ ۔ کسی نہ کسی طور شارع قرآن نے ضرور کی ہوگی۔ تاہم اگر شارع اس سلسلہ میں خاموش ہے تو اس کی تشریح کے سلسلہ میں صحابہ کرام کی سنت کو سمجھنا اور اسکو تسلیم کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ وہ حضرات براہ راست نبی سے تعلیم یافتہ تھے۔ تاہم اگر نبی کے بعد صحابہ کرام میں بھی کسی سلسلہ میں خاموشی پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنی رائے قائم کرنے سے قبل ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کی آرا کو بغور پڑھ لیا جائے اور سمجھ لیا جائے جنہوں نے ان صحابہ یا صحابہ کے شاگردوں سے تربیت حآصل کی تھی۔ امام اربعہ کے سلسلے کے پہلے امام نعمان رحمۃ اللہ علیہ (امید ہے جناب کو امام نعمان کا پتا ہی نہیں ہوگا۔ تاہم تلاش کر لیں انکو ۔باآسانی مل جائیں گے) کے ساتھ ساتھ باقی امام بھی اس سلسلہ میں وہی موقف رکھتے ہیں جس پر آج ان کے فقہ کے پیروکار عمل پیرا ہیں۔ اسلام کی سنت ہے کہ جو کوئی قانون یا فقہ تلاش کرنا چاہے اسکو اسی طریقہ پر عمل کرنا ہوگا۔ جو کہ بد قسمتی سے آج کے جدیدیت پرست سمجھنے سے قاصر ہیں۔ قانون کی تشریح انہی بنیادوں پر کرتے ہیں جو وہاں پر الفاظ بیان کئیے گئے ہیں۔ جبکہ قرآن کی تشریح کرنا ۔ ۔ ۔ ۔وہ بھی از خؤد۔ ۔ ۔ ۔تب تک ممکن نہیں جب تک آپ عربی کے رموز و اوقاف سے ویسی ہی واقفیت حآصل نہ کر لیں جیسی ماہر عربی دان رکھتے ہیں۔ عربی کو جتنا میں جانتا ہوں اس کے مطابق "الحمد للہ" اور الََحمد للہ" کے الفاظ کے معنی میں زیمن آسمان کا فرق ہے۔ جس زبان میں محض ادائیگی کے معمولی فرق سے مطالب میں فرق پڑ جائے وہاں پر اگر کوئی یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ محض الفاظ کے معنوں کو رٹا مار لینے سے قرآن کا معنیکُلی طور پر آشکارا ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ رہی میری ایمانیات کی بات۔ یہ وضاحت اس لیے دی کہ فاروق بھائی اس بار بھی میرے الفاظ کا مقصد نہیں سمجھ سکے (حالانکہ قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں) اور یہ سمجھ بیٹھے کہ میں معاذ اللہ قرآن کو کمزور پیش کرنے کی9 جسارت کر رہا ہوں ۔ یہ وضاحت میں نے اس لیے بھی دی کہ میرا بھائی میرے بارے میں بد گمانی کا شکار نہ ہو۔ کیونکہ میں نے اپنی بد کلامیوں کے بارے میں خود ہی جواب دہ ہونا ہے ۔
مزے کی بات ہے کہ "ملا" کو تنگ نظر کہنے کا دعوی ٰ کرنے والے بھائی ۔ ۔ ۔ خؤد اچانک سے ہی تنگ نظری کا شکار ہو گئے اور ۔ ۔ ۔ قرآن جو ہر کسی کے لیے ہدایت ہے (کبھی کبھی گمراہی بھی) سے مجھے اپنی مرضی سے مسائل اخز کرنے دینے کے بجائے ۔ ۔ ۔ اچانک سے ہی الزام تاشی کرنا شروعہ ہو گئے۔ جبکہ "وہی تنگ نظر، جاہل ، فتنہ پرور ملا" میری باتوں پر ہنس رہے تھے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ مُلا گنڈاسہ لے کر میرے پیچھے پڑ جاتے کہ تم اسلام کا بتنگڑ بنا رہے ہو۔ مگر ایسا نہ ہوا وہ تنگ نظر مُلا تو مسکراتے رہے لیکن کھلے دل والے قرآن سے ہدایت لینے والے بھائی ۔ ۔ ۔ مجھ پر چڑھ دوڑے۔ اسی سلسلہ میں مزید بات آتی ہے کہ میں نے جو جو اعتراضات کیے وہ قرآن پر تو نہیں کیے۔ میں نے تو تسلیم کیا کہ قرآن میں یہ احکامات یوں یوں موجود ہیں اس لیے میں انکو ویسا ہی تسلیم کروں گا۔ چونکہ اس میں موجود اضافی چیزیں قرآن میں موجود نہیں ۔ ۔ ۔وہ تو ملا کی بتائی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ تو میں کیوں کر تسلیم کروں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جب انکے سامنے کوئی حدیچ پیش کی جاتی ہے تو وہ اسکو قرآن سے منافی قرار دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔لیکن جب میں یہی استدلال کرتا ہوں تو میرے ایمان پر ہی شک کر دیا جاتا ہے۔ حالانہ کرنا تو ملاوؤں کو چاہیے تھا کہ جنکو اسلام کا ٹھیکیدار تک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ۔ ۔مگر انہوں نے تو کوئی ٹینشن نہ لی۔ جاری ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#50 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,204
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,955 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2:
مزید یہ بات بھی پیدا ہوئی کہ ۔ ۔ ۔ یہ بات کون طے کرے گا کہ کونسی حدیث قرآن کے مطابق ہے اور کون سی نہیں؟ جب محترم۔ ۔ ۔ ۔ خود ہی سے امام بخآری ،مسلم و دیگر کی پیش کردہ کئی احادیث کو منافی قرآن کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ تو کیا وجہ ہے کہ ان حضرات نے باقی حدیثیں بھی خود سے ہی نہ گھڑ لی ہونگی؟ کیا حدیث کے اختیار کرنے کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے تنہا ۔ ۔ ۔ یا پھر اس سلسلہ میں پھر سے اسلامی تاریخ سے استفادہ کرنا پڑے گا؟ جب پھر سے ہمیں اسلامی تاریخ سے استفادہ کرناپڑے گا تو پھر فاروق بھائی کے باقی استدالات کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ کون مجھے منا سکے گا کہ نماز میں بیٹھنے کا حکم اسلام کا ہی منشا ہے بے شک قرآن میں نہ بھی ہو ؟ کون مجھے منا سکے گا کہ ہاتھ باندھنے کا حکم بھی نماز کے سلسلے میں ہی ہے۔ جناب ۔ ۔ ۔ ۔اگر احادیث کو ہم اپنی مرضی سے یونہی چھانتے رہے ۔ ۔ ۔ تو پھر تو اسلام کی بنیاد ہی ہل جائے گی۔ میرا خیال ہئ قرآن میں ہی ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو کہ جو بات تم کو پسند ہو وہ تو تم اپنا لو اور جو بات تم کو ناگوار گزرے یا پسند نا آئے تو اسکو تم چھوڑ دیتے ہو۔ تو جناب میں تو کسی حدیث کو پکڑنے اور کسی کو چھوڑنے والے استدلال کو استعمال کرتے ہوئے اگر اپنے لیے ہوائی جزیرے والی حالات پیدا نہ بھی کر سکا تو بھی ۔ ۔ ۔ اتنی آزادی حاصل ضرور کر لوں گا کہ "رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی " جناب نے میری بات (شراب و زنا)کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے انسانوں کو بھی قوانین کے حقوق دئیے ہیں اور وہ حسب ضرورت سزاوؤں کو بڑھا کم بھی کر سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام کون کرے گا؟ جب کسی سزا کا وجود قران میں ہے ہی نہیں تو کیا سزا تجویذ کرنے والے اللہ سے بڑھ کر ہیں؟ کیا اللہ کو پتا نہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے یا ویسا ہو سکتا ہے؟ جب کوئی ایسی قانون سازی ہو رہی ہو گی تو کیا انسان کو آزادی ہو گی کہ وہ سابقہ تجربات کو بالکل ملحوظ خآطر نہ لائے؟ اس بات کی کوئی پروا نہ کرے کہ اس کے پیش روؤں نے ۔ ۔ ۔اسکے بزرگوں نے، اسکے بزرگوں کے بزرگوں نے ۔ ۔۔ ۔ یا صحابہ نے اس سلسلہ میں کیا کیا؟ کیا وہ ان سب کا رد کرتے ہوئے بالکل نئی بات تخلیق کر دے گا؟ اگر یقیناََ نہیں تو پھر اس سلسلہ میں مُلا کیوں بُرے ہیں؟ جو چیز دوسروں کے لیے جائز ہے وہ مُلا کے لیے کیوں نا جائز ہے؟ گھوم پھر کر بات پھر سے احادیث پر آ جاتی ہے۔ جناب کان کو جدھر سے مرضی پکڑ لیں۔ ۔ ۔ ۔پکڑا کان ہی جانا ہے۔ آپ بھی صحیح احادیث کے چکر میں ۔ ۔ ۔صحیح احادیث کا ہئ رد کر دیں ۔ ۔ ۔یا ضیعف کا ۔ ۔ ۔ رد آحادیث کا ہی نکلنا ہے۔ آپ اگر یہ کہتے کہ حضرت عیسی سے متعلق پیش کردہ احادیث ضیعف ہیںً تو کوئی منطق بھی تھی۔ مگر افسوس آپ انکو کسی خاطر ہی نہ لائے یہی کہتے رہے کہ قرآن سے دلیل لاؤ (جسکا مطلب واضح ہے کہ آپ ان احادیث کا انکار کر رہے تھے) تو میرا بھی آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ بھی میرے اعتراضآت کا جواب قرآن سے لاؤ۔ میرے ہر اعتراض کا جواب ہونا چاہیے نہ کہ گھمانے پھرانے کی بات۔ اُس پوسٹ میں ۔ ۔ ۔تو میں نے چند اعتتراضات پیش کیے تھے اس منطق پر کہ قرآن کی تشریح ۔ ۔ ۔محض قرآن سے۔ اب اپ اسی گورکھ دھندے میں الجھ جاؤ گے۔ میں تو اتنے سوالات لاؤں گا کہ یہ سارا فورم ہی بھر جائے گا۔ میرا کہنا پھر وہی ہے کہ قرآن کی تشریح ۔ ۔ ۔ نبی پاک سے پھر صحابہ سے پھر تابیعن وآغآز علما سے ۔ ۔ ۔ پھر بعد میں آنے والے علما سے ۔ ۔ ۔ ۔اور اگر پھر بھی کسی مسئلہ کا حل نہ ملے تو اجماع/اجتہاد/قیاس سے۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (10-09-11) |
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() |
بدر الزماں صاحب۔
موضوع تھا جناب حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا۔ ان کی وفات پر مشتمل آیات آپ کو پیش کردی گئی ہیں۔ اگر ایسا درست نہیں تو جناب جو آیات رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو واجح طور پر زندہ اٹھائے جانے اور زندہ واپس آنے کے بارے میں ہیں عنایت فرمائیے۔ رہ گئی روایات کی بات تو جو روایت بھی خلاف قرآن ، اہانت رسول سے بھرپور، اللہ تعالی پر بہتان عظیم ہو ۔ وہ روایت کیوں قابل قبول ہوگی ۔۔۔ وضاحت فرما دیجئے۔ آپ نے قرآن کی آیات کو غلظ ثابت کرنے کے لئے روایات کا راستہ کیوں اپنایا ہے؟ کیا قرآن حکیم اور سنت رسول پرنور ایک دوسرے کے مخالف ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیںکے قرآن حکیم یعنی رسول اللہ کی زبان سے ادا ہوئے اللہ تعالی کی فرامین کچھ اور ہیں اور ان نظریات کی ضد روایات کی کتب میں پائی جاتی ہے؟ ٹھوڑی دیر سوچئے، اپنے پچھلے مراسلہ کو پڑھئیے اور مجھے بتائیے کہ جو روایات قرآن حکیم کے معانوںکے خلاف پیغام دے رہی ہیں ان میں سے قرآن کو مانا جائے یا پھر ان روایات کو؟ اوپن برہان پر تراجم میںنے نہیں کئے وہ 23 عدد اردو اور انھریزی کے تراجم جن لوگوں نے کئے ان کو دنیا مانتی ہے۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ وہ راجم سب ایک ہی بات کہتے ہیں۔ تو پھر اتنی بحث کیسی؟ قرآن حکیم سے صرف ایک عدد آیت عیسی علیہ السلام کے زدہ واپس آنے کی فراہم کردیجئے جناب۔ والسلام۔ Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 06:39 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#52 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 172
کمائي: 5,413
شکریہ: 99
143 مراسلہ میں 521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم فاروق بھائی
کافی عرصہ بعد آپ کو دیکھ کر ایک طرف خوشی ہوئی تو دکھ بھی ہوا کہ آج تک بھی آپ کا وہی رویہ جاری ہے۔ اللہ ہم تمام کو ہدایت سے نوازے ، آمین۔ اقتباس:
دوسری بات یہ کہ ۔۔۔ یہاں آپ نے یہ بالکل جھوٹ کہا ہے کہ جو روایات خلاف قرآن ہیں ، آپ ان کو سامنے لاتے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ آپ ان تمام ہی روایات کو سامنے نہیں لاتے چاہے اس کے پیچھے آپ کی جو بھی مجبوری رہی ہو۔ مثلاَ ایک مشہور روایت ہے کہ سونا (gold) امت مسلمہ کے مَردوں پر حرام ہے۔ جبکہ قرآن کہتا ہے : فرما دیجئے: اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے اور کھانے کی پاک ستھری چیزوں کو (بھی کس نے حرام کیا ہے)؟ فرما دیجئے: یہ (سب نعمتیں جو) اہلِ ایمان کی دنیا کی زندگی میں (بالعموم روا) ہیں قیامت کے دن بالخصوص (انہی کے لئے) ہوں گی۔ اس طرح ہم جاننے والوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں (الاعراف:32 ، ترجمہ طاہر القادری) فاروق بھائی ، کیا آپ اس آیت کے حوالے سے ہم مسلمانوں کو gold یا ریشم پہننے کی اجازت دے سکتے ہیں؟؟ اگر نہیں تو کیوں جبکہ آپ کی ہی عقل کے مطابق جب میں قرآن کو سمجھنے جاؤں تو گولڈ اور ریشم جیسی زینت و آرائش اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے۔ اسی طرح ایک مشہور حدیث ہے کہ دو مردار یعنی ٹڈی اور مچھلی اور دو خون یعنی کلیجی اور تلی حلال ہیں۔ جبکہ قرآن کہتا ہے : تم پر مرا ہوا جانور ، خون ، سور کا گوشت اور جس پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام پکارا جائے حرام ہے (المائدہ :3) تو پھر فاروق بھائی ، کیا اس آیت کے حوالے سے آپ ہم مسلمانوں کو ٹڈی ، مچھلی ، تلی اور کلیجی کے حرام ہونے کا فتویٰ دے سکتے ہیں؟؟ رہ گئی تھریڈ کے اصل موضوع سے متعلق آپ کا یہ تقاضا کہ صرف ایک عدد آیت عیسی علیہ السلام کے زندہ واپس آنے کی فراہم کیا جائے۔ فاروق بھائی ! اگر قرآن اس ضمن میں خاموش ہے تو کیا ہم کو حدیث کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہئے؟ قرآن میں تو عبادات کے بیشمار طریقے بیان نہیں ہوئے ہیں تو کیا ہم اپنی مرضی سے دو رکعت نماز میں دس رکوع ، پندرہ سجدے وغیرہ وغیرہ ادا کر سکتے ہیں؟ اگر تدفین کا طریقہ قرآن میں نہیں ملتا تو کیا ہم اپنی مرضی سے مردے کو دفن کر سکتے ہیں؟ اگر حج ، عمرہ ، زکوٰۃ وغیرہ کی تفصیل قرآن میں نہیں ملتی تو کیا ہم اپنی مرضی چلا سکتے ہیں؟؟ فاروق بھائی ! آپ کہتے ہیں کہ آپ "حدیث صحیح" پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر یقین کیجئے کہ میں جتنا آپ کے فہم پر غور کرتا ہوں اتنا ہی یقین ہوتا ہے کہ آپ "حدیث صحیح" پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ اپنے "فہم" پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ حدیث کے "صحیح" ہونے کے لئے آپ کے پاس شرط یہ ہے کہ وہ اس "قرآن فہمی" سے نہ ٹکرائے جس کو آپ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ورنہ کیا بات ہے کہ دنیا بھر کے ائمہ و علما gold اور ریشم کو مسلمان مَرد کے لئے حرام کہیں مگر آپ کو یہ چیز قرآن کے خلاف اس لئے نظر آئے کہ آپ قرآن کو اپنے فہم سے سمجھنا شرط مانتے ہیں۔ بتائیے کہ ہم پھر یہ کیوں کر نہ مانیں کہ آپ کا ایمان "حدیث صحیح" پر نہیں بلکہ اپنے "فہم" پر ہے !! یہ تو بس آپ ہمیں مغالطہ دینے کہہ دیا کرتے ہیں کہ حدیثِ صحیح پر آپ کا ایمان ہے۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (16-10-09), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مرزا عامر (10-09-10), عادل سہیل (16-10-09), عبداللہ حیدر (16-10-09) |
|
|
#53 |
|
Senior Member
![]() |
دوبارہ اس تھریڈ کو پڑھ لیجئے۔ خلاف موضوع آپ کے بیان نظر انداز کررہا ہوں۔ جب بھی کسی روایت میں شبہ ہو قران حکیم کی آیت اولین حیثیت رکھے گی۔ اس معاملے میں قرآن حکیم کی واضح آیات موجود ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات کے بعد اوپر اٹھایا گیا، اور ان کی واضح موت کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ ان آیات کو دیکھ لیجئے۔ سوچئیے اور جواب دیجئے کہ کیوں ایک حقیقت کو نظر انداز کیا جائے اور کیوں ایسی روایات پر یقین کیا جائے جو خلاف قرآن ہیں؟
نکاح کا انسٹی تیوشن اسلام میں بہت ہی مظبوط ہے ، اس کے بارے میں رسول اکرم کے بیانات و روایات اور قرآن کی آیات سے نکاح کے ہر رخپر روشنی پڑتی ہے۔ اسی طرح وہ عورتیں جو جنگوںکی صورت میں ہتیم ہوجائیں ان کو مناسب سرپرستی میں دینے کے واضح احکامات ، آیات اور روایات موجود ہیں۔ اس روشنی میں آپ متعہ کے بارے میں مراسلہ میں ایسی روایات جن میں رسول اللہ پر اہانت آمیز الزام لگایا گیا، اسی فورم میں پڑھئیے اور دیکھئے کہ رسول اللہ پر کس طرح اہانت آمیز الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں کے متعہ کی اجازت دی۔ اس طرح روایات کے بھیس میں رسول اکرم پر بہتان عظیم لگائے گئے۔ دشمنان اسلام سے آپ کیا توقع رکھتےہیں؟ قرآن کے واضح آیات اکی موجودگی میں کہ رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوگئی ، ایسا کیوں کہ مسلمان عیسائی ایمان پر یقین رکھیں؟ قران حکیم سے اس کا حوالہ عنایت فرمائیے۔ پڑھئیے اور سوچئیے۔ اللہ تعالی مجھ سے میرا ھساب لے گا۔ میرے دل میںاس رب کا خوف ہر وقت ہے۔ آپ سے یہ نہیںپوچھے گا کہ میں کیا کہتا تھا۔ لیکن ہم سب سے یہ ضرور پوچھے گا کہ اس کتاب پر ایما رکھا تھا کہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی غیر مستند روایات کی کتاب کی مدد دے قران کی تردید کریں؟ ، ایسی کتب جس پر نہ رسول اکرم نے ایمان رکھنے کو کہا اور نہ ہی اللہ تعالی نے ایمان رکھنے کو کہا ؟ والسلام |
|
|
|
|
|
#54 |
|
Senior Member
![]() |
آپ کیوںمصر رہتے ہیںکہ آیات کی نفی روایت سے کی جائے؟ جیسا کہ اس صورت میں ہے؟
|
|
|
|
|
|
#55 |
|
Senior Member
![]() |
باذوق بھائی، سلام علیکم،
قرآن کی بہت سی آیات کی تشریح و تفسیر رسول اکرم نے فرمائی ہے ، اگر ہم کو سمندری گوشت کھانے کے بارے میں تفصیل رسول اکرم سکھاتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی آیت ہوتی ہے، مثال کے طور پر آپ مچھلی یعنی سمندری گوشت کی بابت دریافت کررہے ہیں تو اس کے پیچھے آپ کو یہ آئت ملے گی۔ گویا بات موافق القرآن ہی ہورہی ہے۔ 16:14 وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُواْ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُ اور وہی تو ہے جس نے مسخّر کررکھا ہے سمندر کو تاکہ کھاؤ تم اس میں سے گوشت، تروتازہ اور نکالو تم اس میں سے سامانِ زینت جسے تم پہنتے ہو اور دیکھتے ہو تم کشتیوں کو کہ چلتی ہیں وہ پانی کو چیرتی ہُوئی اس میں، اور اس لیے بھی تاکہ تلاش کرو تم اس کا فضل (اپنا معاش) اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔ 5:100 قُل لاَّ يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ فَاتَّقُواْ اللّهَ يَا أُوْلِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ فرما دیجئے: پاک اور ناپاک (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے (اے مخاطب!) اگرچہ تمہیں ناپاک (چیزوں) کی کثرت بھلی لگے۔ پس اے عقلمند لوگو! تم (کثرت و قلت کا فرق دیکھنے کی بجائے) اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ اسی طرح کلیجی اور تلی ہوئے کہ اگر رسول اکرم اس کی اجازت دیتے ہیں تو اس کے پیچھے "بہتا ہوا خون" حرام کیا گیا کی آیت موجود ہے۔ 6:145 قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ان سب مثالوں سے آپ دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم کی سنت، قرآن حکیم کے احکامات سے مطابقت رکھتی ہے۔ رہ گیا معاملہ ٹڈی کا تو اگر کوئی اس کو نہ کھائے تو خدانخواستہ کافر تو نہیں ہوجائے گا۔ مانے یا نہ مانے کھائے یا نہ کھائے یہ سنت ہے فرض نہیں۔ لیکن صاحب عیسی علیہ السلام کی وفات اور موت کے بارے میں اگر آیات موجود ہوں اور ہم ان کو زندہ قرار دیں تو یہ کیا اللہ کے فرمان کے مطابق ہوگا؟ اگر ہاں تو بھائی کیسے؟ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() |
گی الحال اگر بات چیت کو صرف موضوع تک محدود رکھئے تو بہتر۔ باقی موضوعات سے ہم یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ اگر یہ نکتہ ہم نے روایات سے اٹھایا ہے تو اب ان کتب میں موجود ہر بات پر ایمان رکھنا ہے۔ یہ تو ہم پہلے بھی طے کرچکے ہیں۔
Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 08:17 PM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#58 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#59 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا احساس بھی کچھ ایسا ہی ہے ، باذوق بھائی ، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے ۔ اقتباس:
لیکن ، اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوں ، اللہ ہی کی انگلیوں میں لوگوں کے دل ہیں جسے چاہتا ہے ان دلوں کو پلٹاتا ہے ، وہ چاہے تو فاروق بھائی کے دل کو بھی ان کے حلاف قران فلسفے سے ، ااپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارک کی طرف پلٹا دے ، اب شاید بھائی فاروق اس پر بھی اعتراض وارد فرما دیں گے کہ قران میں تو اس کا ذکر نہیں ، میں نے بھی فاروق بھائی سے بہت ہی دفعہ کہا کہ اُن کے فلسفے کے مطابق جو جو احادیث قران کے خلاف ہیں انہیں سامنے لایے تا کہ ان پر بات کی جائے ، آخر کار جو ایک دو رویات سامنے لائے ان کا حال یہ تھا کہ وہ ضعیف تھیں ، فاروق بھائی کا حال بے حال ہے ، جس روایت کو چاہیں خلاف قران کہہ دیں کہ قران میں اس کی موافقت میسر نہیں ، اور جس روایت کو چاہیں اپنے لیے دلیل بنا لیں ، قران میں سے مواقفت تو دور ٹہری اس روایت کی درستگی اور صحت کا بھی پھر انہیں خیال نہیں رہتا ، یقین رکھیے وہ کسی بھی روایت کو سامنے لانے والے نہیں ، اور میرا خیال ہے کہ ان کی مجبوری قران فہمی میں ان کی انتہائی کم علمی ، اور حدیث اور علوم ء حدیث میں مکمل لا علمی ہے ، اقتباس:
فاروق بھائی ، عربی لغت کی تو شاید ابجد بھی نہیں جانتے ، لہذا بے چارے قران میں مذکور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین اور احکامات کو ٹھیک سے کبھی بھی نہیں سمجھ سکیں گے ، ابھی ابھی انہوں نے آپ کو جو جواب لکھا ہے اس میں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے میں جس کا ذکر قران میں نہ ہو اسے حدیث میں نہیں لیتے ، اور جب جواب نہ بن پڑے تو مزید فلسفوں کا اظہار فرماتے ہیں ، جیسا کہ ، ٹڈی کھانے کو سنت کہ دیا ہے ، اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اس کے بعد فاروق بھائی کہ انہوں نے کس طرح یہ کہا ہے ، آپ کے تمام سوالات میں سے انہوں نے کئی کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی وہ دے سکتے ہیں ، اس طرح میرے بھی ایک سو سے زائد سوال ان کی طرف ادھار ہیں ، یہ ان کی لا عملمی کا علمی ثبوت ہے کہ خود نہیں جانتے کہ وہ کہاں گم ہیں ، اقتباس:
آپ کے سوالات کے جوابات کے بارے میں کچھ گذارشات اب ان شاء اللہ میں براہ راست ان ہی کی خڈمت میں پیش کروں گا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
||||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#60 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم فاروق بھائی ، بھائی باذوق نے آپ سے مندرجہ بالا چھ سوال پوچھے لیکن آپ نے اپنی روایت کی پاس داری کرتے ہوئے صرف دو سوالات کے جوابات دیے اور وہ بھی ایسے کہ ان سے آپ کی """ قران فہمی """ مزید آشکار ہوتی ہے ، گذارش ہے کہ بازوق بھائی کے باقی سوالات کے جوابات بھی عنایت فرما دیجیے ، اور ان کے ساتھ میرے ان سوالات کو بھی شامل کر لیجیے ::: سوال رقم ( 1 ) ::: کیا آپ مسلمان کے ہاں پیدا ہونے والے نو مولود بچے اور بچیوں کے ختنے کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 2 ) ::: کیا آپ مسلمان کے ہاں پیدا ہونے والے نومولود بچوں کے سر کے بال منڈوا کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 3 ) ::: کیا آپ نماز کی ادائیگی کی وہ کیفیت جس پر ساری امت عمل کرتی چلی آ رہی ہے اسے خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 4 ) ::: کیا آپ نمازوں کے اوقات کا تقرر خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 5 ) ::: کیا آپ نمازوں کی مقرر شدہ رکعات کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 6 ) ::: کیا آپ حج اور عمرہ کے مناسک کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 7 ) ::: کیا آپ میاں بیوی کے خآص تعلقات کے طریقوں میں سے کسی طریقے کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 8 ) ::: کیا آپ مسلمان مردے کو غسل دینا خلاف قران قرار دے سکتے ہیں؟ سوال رقم ( 9 ) ::: کیا آپ مسلمان مردے کو کفن دینا خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 10 ) ::: کیا آپ مسلمان مردے کی نماز جنازہ کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ سوال رقم ( 11 ) ::: کیا آپ مسلمان مردے کو دفن کرنے کو خلاف قران قرار دے سکتے ہیں ؟ ابھی مزید بھی بہت ہیں ، فی الحال ان کے بارے میں کچھ بتایے ، اور اب فرار اختیار کرتے ہوئے یہ مت کہیے گا کہ یہ سوالات موضوع سے متعلق نہیں ہیں ، یہاں اب چونکہ میرے اور بھائی بازوق کے سوالات ملا کر کل پندرہ سوال ہو گئے ہیں اورمیں آپ کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہوں لہذا فی الحال صرف ہاں یا نہیں میں جواب دے دیجے ، باقی باتیں ان شا اللہ اس کے بعد ، بلکہ بہتر ہے کہ میری اور آپ کی اسی موضوع پر جہاں گفتگو ہو رہی تھی اور آپ کے جوابات کے انتظار میں رکی ہوئی ہے وہیں تشریف لے آیے ، وہاں آپ کے """ خلاف قران """ فلسفے اور آس فلسفے کی بیان کردہ تعریفوں کے ساتھ خود آپ کا تصادم پہلے بھی واضح ہو چکا اور ان شا اللہ اب مزید واضح ہو جائے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 11:32 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 14 | 30-06-09 08:32 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 07-04-08 09:22 AM |