| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() |
غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام
قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔ یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔ Understanding Islam - Urdu)) جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں: آیتِ ترجمہ '' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔'' (سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩) اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ: ''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے'' (سورہ ال عمران آیت١٨٥) اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر) اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا (نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں: آیتِ ترجمہ ''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا'' (سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥) (عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے: آیتِ ترجمہ'' یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی'' (سورۃ الاحقاف آیت١٧) اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔ آیت: '' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔'' (سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١) اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ، دیکھئے (تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ مفہوم حدیث: ''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے'' (صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢) نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔ مفہومِ حدیث: ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔'' (صحیح بخاری کتاب الانبیاء) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے'' (سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣) مفہومِ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی) (صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی) مفہومِ حدیث: جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔ تمہید: قرآن مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#31 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,199
شکریہ: 50,011
10,106 مراسلہ میں 31,954 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"وہی ہے جس نے تم پت کتاب نازل کی۔ اسکی کچھ آیات محکم ہیں اور وہی کتاب کی اصل و بنیاد ہیں ۔ دوسری متشابہات ہیں۔ سو۔ ۔ ۔ جن لوگوںً کے دلوں میں تیڑھ ہے وہ اس کتاب کی ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہہں۔ تاکہ فتنہ برپا کریں اور معنی پہنائیں۔"
آیات متشابہات سے مراد ایسی آیات ہیں جن میں انسانی حواس سے ماورا حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حقیقتیں چونکہ براہ راست انسان کے تجربے اور مشاہدے میں نہیں آئی ہیں، اسی بنا پر انسانی زبان میں ان کے لیے ایسے الفاظ موجود نہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہووں۔ اس لیے لامحالہ انکو بیان کرنے کے لیے وہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو دراصل محسوس چیزوں کے لیے وضع کیے گئے ہوں۔ مثلاََ اللہ تعالی کے لیے زندگی، بینائی،سماعت اور گویائی وغیرہ کے الفاط کا استعمال یا اس کے لیے عرش اور کرسی کا ثابت کرنا یا یہ کہنا کہ وہ آسمان میں ہے یا یہ کہنا کہ وہ محبت کرتا ہے، یا غضب ناک ہوتا ہے۔ اس طرح کے الفاظ اور اسالیبِ بیان حقیقت کا ایک مجمل تصور تو دے سکتے ہیں اور وہی دینا مقصود بھی ہے لیکن ان الفاظ اور بیانات کی مدد سے حقیقت کا کُلی اورتفصیلی تصور حآصل کرنا اور ان ماورائے حواس واقعات کی پوری پوری کیفیت اور نوعیت معلوم کر لینا بہر حال ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن انکی تاویل کرنے والوں کی کوشش کرنے والوں کو غلط ذہنیت قرار دیتا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہے جو مسئلہ مسلمانوں میں اجماع کی حیثیت رکھتا ہے یعنی اس پر مسلمانوں میں کوئی تنازعہ نہیں رہا۔ ۔ ۔ کیونکر اس کو متنازع کیا جا رہا ہے۔ اگر تو موصوف محترم امام اربعہ کو "ملا" نہیں علما تسلیم کرتے ہیں جس طرح انکی کچھ پوسٹس سے ظاہر ہوا تو کیا غامدی صاحب ان امام حضرات سے بڑھ کر عالم نکلے ہیں کہ جس مسئلہ یا قرآن کی جس تعبیر کا انکو علم نہ ہو سکا ۔ ۔ ۔ اسکا علم 1400 سال بعد غامدی صاحب کو ہو گیا (اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو)۔ کیا غامدی صاحب ۔ ۔ ۔ صحابہ کرام سے بڑھ کر قرآن کو جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ تو انکے درمیان بھی کبھی متنازعہ فی نہ رہا ۔ ۔ ۔ مگر گزشتہ ساٹھ سالوں سے ایک مخصؤص طبقہ اسکو اچھال رہا ہے۔ یہی حضرات یہ مسئلہ بھی چھیڑ دیتے ہیں کہ جب ایک آیت کے معنی اور مفہوم بالکل واضح ہوں اور وہ اسکا مفہوم صاف صاف محسوس کر رہا ہو تو اسکو حدیث کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی شخص خؤاہ قرآن کو محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھتا ہو یا اللہ کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی کتاب دونوں صورتوں میں اس کا دعوی غلط ہوگا کہ اس کتاب کو سمجھنے کے لیے محًمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تشریح سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ اسکو محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف مانتا ہوگا تو اسکو ماننا ہو گا کہ مصنف نے اپنی کتاب کی جو تشریح کی ہے وہی اسکا مدعا ہے۔ اور اگر وہ یہ مانتا ہے کہ قرآن اللہ کی طرف سے محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی تھی اور خدا ہی نے محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تعلیم دینے پر مامور کیا تھا تب بھی اسے ماننا پڑے گا کہ خدا کے کلام کا جو مفہوم نبئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے وہی مستند مفہوم ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کوئی حدیث جو محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہ صحیح ہے یا ضیعف، اور اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے دلائل کیا ہیں۔ مگر بجائے خؤد یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ہم حدیث سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ (یہ پیرا گراف سید مودودی سے ایک انگریز کے سوال کے جواب سے نکالے گئے ہیں۔ گو کہ سوال کافی سارے اور اس ٹاپک سے مختلف مختلف اور جواب بہت طویل تھا لیکن بظاہر اس موضؤع سے مطابقت نہ رکھنے کے باوجود اس ٹاپک میں جاری بحث سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں ۔ عقل والوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے) |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (08-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), رضی (10-09-11), شاہد جمیل حفیظ (08-10-09), عادل سہیل (11-10-09) |
|
|
#32 |
|
Senior Member
![]() |
نشاندہی کا شکریہ۔ امام مالک کا ریفرینس درست کردیا ہے۔
موطا امام مالک پر ہی کیا منحصر ، میں تو رسول صلعم کی ہر حدیث پر ایمان رکھتا ہوں، شرط صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کے مخالف نہ ہو۔ یہاں قرآن صاف صاف کہہ رہا ہے ( جی قرآن زندہ نہیں ہے، اللہ تعالی قرآن حکیم میں فرماتے ہیں، اردو زبان میں یہ عام رواج ہے ، قانون کہہ رہا ہے ، آئین کہتا ہے وغیرہ وغیر، آپ کی اردو بہتر ہوجائے گی تو بہتر سمجھ میں آئے گا)۔ تو کہہ رہا تھا کہ جو قرآن حکیم کہہ رہا ہے (یعنی جو اللہ تعالی فرما رہے ہیں، اردو زبان کی کم استطاعت رکھنے والوں کے لئے وضاحت) کہ ان کی وفات ہوئی ، اور وہ اٹھا لئے گئے۔ اب ہم کو وہ معرکہ دکھائیے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی متوفی کرتا ہے ، وفات دیتا ہے تو اس کئے معانی ہوتے ہیں کہ اللہ زندہ کرتا ہے۔ ایسا عربی کے کس کس کلئیے سے ہوتا ہے قرآن کو عربی کی کومسی بھی ترکیب سے پڑھیں گے تو متوفی ہونا زندہ ہونے کے مترادف ہوجائیگا؟ اور کہ جو کچھ اللہ تعالی نے اس اہم موضوع کے بارے میں نہیں کہا ---- کہ عیسی علیہ السلام واپس زندہ آئیں گے ----- وہ بھی قرآن سے نکال کر دکھائیے، تاکہ اس کی تفسیر میںروایات پیش کی جاسکیں؟ کیوں آپ اپنا وقت میری خراب عربی پر برباد کرتے ہیں۔ لوگوں کی معلومات میں اضافہ فرمائیے۔ آپ سے قرآن اور حدیث دونوں کے لئے سوال کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اب تک ساری توجہ مجھ پر ہے ، جو ریفرنسز دیے ان پر کوئی ایک نکتہ بھی نہیں۔ موضوع کی طرف آئیے ، میں تو ایک معمولی طالب علم ہوں، اتنی توجہ کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر حدیث کی کتب میں ہے۔ تو بھائی ان آیات کے بارے میں جو تفسیر رسول اللہ صلعم سے منسوب کی گئی ہے وہ بھی درج فرما دیجئے کہ یہ آیات پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلعم نے کیا فرمایا ؟ اس طرح ان آیات کا ریفرنس بھی حدیث کی کتب میں کہا کہاںہے فراہم کردیجئے تو بہت نوازش ہوگی۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#33 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,199
شکریہ: 50,011
10,106 مراسلہ میں 31,954 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں تو پہلے ہی کہہ چُکا کہ تجربے کے باوجود ابھی کچے ہیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#34 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سورۃ النساء میں فرمایا:
وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (157) بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (15 وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (159) سورۃ النساء“انہوں نے مسیح کو یقین کےساتھ قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا” (159) یہ اس معاملہ کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب رہا یہ سوال کہ اٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی۔ قرآن میں نہ اس کی تصریح ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا اور نہ یہی صاف بیان ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔ اس لیے محض قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جا سکتی ہے اور نہ اثبات۔ لامحالہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اسی لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کی طرف نازل کیے جانے والے اس “ذکر” کو کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کر دیں اور اس کے اجمال کی شرح فرما دیں۔ لیکن افسوس کہ صحیح احادیث کو فلسفوں اور عقلی تاویلوں اور من چاہی تعبیروں سے رد کرنے کا رواج چل نکلا ہے۔ بہر حال، جیسا میں نے کہا کہ صرف قرآن میں مذکور الفاظ سے تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی صراحت بھی نہیں ہوتی بلکہ یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ “اٹھائے جانے” کی نوعیت اور کیفیت خواہ کچھ بھی ہو بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ اس غیر معمولی پن کا اظہار تین چیزوں سے ہوتا ہے: ایک یہ اللہ تعالیٰ نے “رفع” کا لفظ استعمال کیا، باوجود اس کے کہ عیسائیوں میں رفع مسیح کے عقیدے کی وجہ سے ایک بڑا گروہ الوہیت مسیح کا قائل ہوا ہے۔ کتاب مبین کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ کسی خیال یا عقیدے کی تردید میں ایسی زبان استعمال کرے جو اس خیال کر مزید تقویت پہنچانے والی ہو۔ دوسرے یہ کہ اگر اس سے مراد محض درجات کی بلندی ہوتی تو اس مضمون کو بیان کرنے کا انداز یہ نہ ہوتا جو ہم یہاں دیکھ رہے ہیں بلکہ زیادہ مناسب الفاظ یہ ہو سکتے تھے کہ “یقینا انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے زندہ بچا لیا، پھر اسے طبعی موت دی، یہودیوں نے اسے ذلیل کرنا چاہا مگر اللہ نے اسے بلند درجہ عطا فرمایا”۔ تیسرے یہ کہ اگر یہ رفع عام قسم کا معمولی رفع ہوتا تو اس کا ذکر کرنے کے بعد یہ فقرہ بالکل غیرموزوں تھا کہ “اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے” یہ تو صرف کسی ایسے واقعہ کے بعد ہی موزوں ہو سکتا ہے جس میں اللہ کی قوت قاہرہ اور اس کی حکمت کا غیر معمولی ظہور ہوا ہو۔ اس کے جواب میں “صرف قرآن” سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں “متوفیک” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کی کچھ وضاحت پچھلے مراسلے میں کر چکا ہوں۔ کہ یہ لفظ طبعی موت کے معنی میں صریح نہیں ہے۔ بلکہ قبض روح اور قبض روح و جسم دونوں پر دلالت کر سکتا ہے۔ قرآن میں موت کے صریح لفظ کو چھوڑ کر وفات کے لفظ کو ایسے موقع پر استعمال کرنا ان قرائن میں ایک اور اضافہ کر دیتا ہے جس سے عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے اور قیامت کے نزدیک دوبارہ آمد کے عقیدہ کو تقویت ملتی ہے۔ یہ عقلی دلائل محض آپ کی تسلی کے لیےلکھے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہمیں ان کی دوبارہ آمد میں کوئی شک نہیں ہے اور نہ اس پر ایمان کے لیے ہمیں کسی عقلی دلیل کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے وہ کثیر التعداد صحیح احادیث ہی کافی ہیں جو قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے اور دجال سے جنگ کرنے کی تصریح کرتی ہیں۔ فللہ الحمد و المنۃ۔ عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد، یہودیوں سے ان کی جنگ، صلیبیت کا خاتمہ اور ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جو برے سے برے حالات میں بھی ان کے عزم جوان رکھتا ہے کہ کوئی بھی قیامت ٹوٹ پڑے بالآخر اللہ کا گروہ ہی غالب رہے گا۔ غامدی اور ہمنواؤں کے بوئے ہوئے فتنوں کو بین الاقوامی حالات کے تناظر میں دیکھیں گے تو بہت سی گتھیاں آپ سے آپ سلجھتی چلی جائیں گی ان شاء اللہ۔ کچھ عرصہ قبل ایک نظم کسی ویب سائٹ پر سنی تھی، اس کے چند شعر ابھی تک یا د ہیں: تکمیل جہاد حق کے لیے جب حضرت عیسیٰ آئیں گے اللہ کے لیے لڑنے والے، اللہ کی زمین پر چھائیں گے کچھ وقت و ہنر، کچھ خون جگر ان راہوں میں قربان تو ہو تا وقت نزول عیسیٰ ہم اس لشکر میں مل جائیں گے۔ و السلام علیکم |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (08-10-09), shafresha (08-10-09), فاروق سرورخان (08-10-09), مرزا عامر (10-09-10), شاہد جمیل حفیظ (08-10-09), عادل سہیل (09-10-09) |
|
|
#36 |
|
Senior Member
![]() |
لاحول ولاقوۃ، لوگ اب اللہ کے فرمان کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں، اللہ تعالی کی آیات کو قطع قطع کرکے، آگے پیچھے کی آیات کو جوڑ کر اپنی مرضی کا تاثر پیش کرنے ہیں۔
النساء 157 4:157 وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا اس آیت میں صرف اور صرف ان لوگوں کے فخریہ دعوی کی نفی کی گئی ہے جن کا دعوی تھا کہ انہوں نے عیسی علیہ السلام کو قتل کردیا ہے۔ یہ ترجمہ اور اوپن برہان پر تمام ترجمہ صرف اور صرف اس دعوی قتل یا دعوی صلیب پر چڑھانے کی نفی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی اس وضاحت سے صرف یہ مطلب ہے کہ کوئی ان کو قتل نہیں کرسکا۔ اس آیت میںکہیں نہیں کہا جارہا کہ ان کو زندہ اٹھا لیا گیا۔ اب اس سے اگلی آیت کو دیکھتے ہیں۔ بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے اس آیت میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کو زندہ اٹھا لیا گیا۔ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔ اس آیت میں بھی نہ زندہ اٹھانے اور نہ ہی زندہ واپس آنے کا کوئی تذکرہ ہے۔ بنیادی طور پر اس آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ قیامت کے دن ، عیسی علیہ السلام ان اہل کتاب لوگوں پر گواہ ہوں گے جو عیسی علیہ السلام کی (طبعی) موت سے پہلے عیسی علیہ السلام پر اور اس بات پر ایمان لائے جو اس سے پہلے کی آیات میں بیان کی گئی ہے ( کہ نہ ان کا قتل ہوا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا)۔ یہ کہنا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیںہوگا جو عیسی کی موت سے پہلے ان پر اور اس حقیت پر ایمان نہ لے آیا ہو کہ ان کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا -------- ہم کو یہ بتاتا ہے کہ کہا جارہا ہے کہ اہل کتاب کو ایسا یقین ان کی موت سے پہلے ہوا، یہ نہیںکہا جا رہا کہ ان کی موت ان کے زندہ نازل ہونے کے بعد ہوگی۔ صاف بات ہے کہ جو اہل کتاب اس وقت زندہ تھے، اس بات کو جانتے تھے کہ نہ عیسی علیہ السلام قتل ہوئے اور نہ ہی مصلوب ، اس لئے کے یہ اہل کتاب عیسی علیہ السلام کے ساتھ اس واقعے کے بعد بھی تھے ۔ لہذا عیسی علیہ السلام کی طبعی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے اوران امور کے گواہ رہے۔ 1۔ ایسا کہنا کہ اس آیت میں درج ہے کہ عیسی علیہ السلام دوبارا زندہ آسمان سے نازل ہونگے ، اس آئت میں کہیں نہیں لکھا۔ 2۔ ایسا کہنا کہ "اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا، جو عیسی علیہ السلام کی مستقبل میںہونے والی موت پر ایمان نہ لے آئے ، بھی درست نہیں اس لئے کہ بہت سے اہل کتاب آج بھی عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اسی حالت میںمر جاتے ہیں۔ ان کا شمار کس طرف ہوگا۔ لہذا اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی برائی نہیں کہ عیسی علیہ السلام کی وفات یعنی موت واقع ہوئی اور اس کی وجہ نہ قتل تھی اور نہ ہی مصلوب ہونا۔ ان کی وفات کی تفصیل ان دو آیات میں مزید دی گئی ہے جہاں ان کی وفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پہلے فراہم کی جاچکی ہیں۔۔ یہاں بھی لفظ موتہ سے یہ بتایا جارہا ہے کہ مسیح کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور قیامت کے دن مسیح ان لوگوںپر گواہ ہونگے جو ان پر اور ان سے متعلق اس بات کو جانتے اور ایمان رکھتے تھے کہ ان کی موت نہ قتل سے ہوئی اور نہ مصلوب ہونے سے ۔ |
|
|
|
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() |
ہم چاہے کس قدر لوگوں کو قرآن سے ثبوت فراہم کردیں کہ اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں۔ اور اگر کچھ لوگ مان بھی جائیں تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ اختلافی مسائیل ، قرآن کی آیات کے من پسند ترجمہ تو بہت زمانہ سے چلے آرہے ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ ہم مساوات، عدل و انصاف جیسے اجتماعی مسائیل پر توجہ دیں نہ کہ ان اختلافی مسائیل پر۔ |
|
|
|
|
|
#38 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,199
شکریہ: 50,011
10,106 مراسلہ میں 31,954 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھایو اتفاق سے مجھے قرآن سے شراب پینے پر کوئی سزا نہیں ملی تو آئیندہ سے میں شراب پیا کروں گا کہ کونسا مجھے سزا ملنی ہے
![]() میں نے سُنا ہے کہ زنا پر بھی کوئی اسلامی حد نہیں۔ اب تو مزے ہی مزے عادل بھائی آئیندہ آپ نے مجھے یہ نہیں کہنا کہ وضو ایسے کرنا ہے یا ویسے۔ بھیا قرآن میں تو محض چند باتیں ہیں۔ آپ لوگوں نے ایسے ہی تکیلف میں ڈال رکھا ہے ۔ آئیندہ سے میں نماز میں رکوع، سجود اور قیام اپنی مرضی سے کروں گا کیونکہ مجھے قرآن میں کوئی واضھ بات نہیں ملی کہ نماز کس طرح پڑھنی ہے۔ اب میری مرضی جس طرح مرضی پڑھوں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں آئیندہ سے نماز میں بیٹھا بالکل نہیں کروں گا کیونکہ مجھے کوئی واضح دلیل نہیں ملی اس کی قرآ ں میں سے۔ اور خبردار رہیں وہ لوگ جو ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔وہ گمراہ ہیں ۔ ۔ ۔ کینکہ قرآں تو ہر نماز سے قبل وضو کا کہتا ہے۔ میں نماز میں قرآن نہیں پڑھا کروں گا بالکہ نعتیں پڑھا کروں گا ۔ ۔ ۔ اب چونکہ غامدی صاحب نے مجھے گانوں کی بھی اجازت دے دی ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔کچھ دنوں تک گانے بھی پڑھا کروں گا ۔کیونکہ مجھے قرآن میں کہیں نہیں مل سکا کہ نماز میں پڑھنا کیا ہے۔ قرآن میں تو محض فجر کی اور عصر کی نماز کی حفاظت کا کہا گیا ہے اس کا مطلب ہے باقی نمازیں اہم نہیں ہیں۔ آئیندہ سے میںصرف یہی دو نمازیں پڑھا کروں گا۔ ویسے بھی مجھے واضح طور پر 5 نمازوں کا حکم نہیں ملا۔ اذان کو تو میں جانتا ہی نہیں ۔قرآن میں اسکا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ چونکہ قرآن میں ہے کہ جب تم کو نماز کی طرف بلایا جائے۔/اس لیے آئیندہ سے میں بلانے کے لیے اذان کے بجائے ناقوس کا استعمال کروں گا۔ کون روک سکتا ہے مجھے۔ قرآن نے اجازت دی ہیے۔ اسی طرح خبردار رہیں وہ لوگ جو حیثیت رکھنے کے باوجود صرف ایک حج کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ نے کوئی متعین نمبر نہیں بتائے اس لیے جب تک تم لوگ غریب نہیں ہو جاتے تب تک حج کرتے رہا کرو۔ روزہ کھولنے اور بند کرنے کے سلسلہ میں ۔ ۔ ۔ اب سے میں کالے دھاگوں اور سفید دھاگوں کا استعمال کروں گا کیونکہ قرآن میں یہی ہے ۔ اور میری کوشش ہوگی کہ کمرے کے اندر بیٹھ کر یہ دھاگے استعمال کروں تاکہ سفید دھاھہ کالے دھاگے میں جلدی مدغم ہو جائے۔ ہاں تو کونسا قرآن نے یہ کہا ہے کہ یہ دھاگے باہر بیٹھ کر استعمال کرو۔ آئیندہ سے مجھے جہاں بھی کوئی کافر ملا اس کو قتل کر دیا کروں گا کیونکہ قرآ ن مجھے کہتا ہے کہ جہاں بھی تم کافروں کو پاؤ انکو قتل کرو۔ اب تو ایسی کی تیسی ان کافروں کی۔ کوئی کہہ کر دکھائے مجھے کہ صاحب طعنوں سے کام نہیں چلنا دلائل لائیں۔ میرے پاس قرآن دلیل ہے۔ اور صرف انکی نہیں سیکڑوں احکامات کی دلیل ہے قرآن سے۔ استغفر اللہ ربی من کُل ذنب فی الحال اتنا ہی ۔عقل والوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (10-10-09), فاروق سرورخان (09-10-09), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), رضی (10-09-11), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (09-10-09), عادل سہیل (11-10-09), عبداللہ حیدر (09-10-09) |
|
|
#39 |
|
Senior Member
مقبول
|
یہ بڑی اہم کتاب ہے خاص طور پر فاروق بھائی کے لیے اور تمام ممبران کے لیے
امید ہے اس سے آپ کے علم میں ضرور اضافہ ہو گا حقیقت آپ کے سامنے آ جائے گی ضرور مطالعہ کریں لیکن تعصب کی عینک اُتار کر لکھنے والا کوئی بھی ہو دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے http://www.khatmenubuwwat.org/books/...s/ubook_31.pdf |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہد جمیل حفیظ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کی ہر بات کا جواب قرآن حکیم سے بہت جلد۔ والسلام |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (10-09-10) |
|
|
#41 |
|
Senior Member
![]() |
میں صرف ان لوگوں سے اسلام پر بحث کرتا ہوں جو قرآن حکیم کو اللہ کی کتاب سمجھ کر اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو لوگ اس کو کمزور سمجھتے ہیں۔ ان سے میری کوئی بحث ہی نہیں۔
مجھے اندازہ تھا کہ جب قرآن سے دلائل فراہم نہیں کرسکیں گے تو قرآن کو کمزور، مشکوک اور نا مکمل ثابت کرنے کی کوششوں کو دوبارہ دہرایا جائے گا۔ اور اس طرح خالق کائنات، اللہ تعالی کی اور اس کی اس عظیم کتاب کی توہین کی جائے گی۔ اللہ تعالی کا مذاق اڑایا جائے گا۔ بھایو اتفاق سے مجھے قرآن سے شراب پینے پر کوئی سزا نہیں ملی تو آئیندہ سے میں شراب پیا کروں گا کہ کونسا مجھے سزا ملنی ہے شراب نشہ : نشہ کرنے کے بارے میں اور نشہ کی حالت میں نماز کے پاس جانے کے بارے میں اللہ تعالی کے احکامات موجود ہیں، ان معاملات پر قابو کس طرح پایا جائے، اس کی کیا سزا ہو، اس کے لئے فیصلوں کو باہمی مشورہ سے کرنے یعنی مناسب قانون سازی کا اختیار انسانوں کو دیا گیا ہے۔ اس معاشرتی برائی جس کو اللہ تعالی قرآن میں برا کہتے ہیں، اس کو کرنے کے لئے قرآن سے دلیل لانا، اورجائز قرار دینا یا قرآن کو کمزور قرار دینا، ایک کریہہ عمل ہے۔ مثبت بحث ایک اچھا عمل ہے لیکن اس بحث میں جیتنے کے لئے قران کو کمزور قرار دینا ایک نامناسب رویہ ہے۔ 4:43 اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم وہ بات سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں (نماز کے قریب جاؤ) تا آنکہ تم غسل کر لو سوائے اس کے کہ تم سفر میں راستہ طے کر رہے ہو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے لوٹے یا تم نے (اپنی) عورتوں سے مباشرت کی ہو پھر تم پانی نہ پاسکو تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کر لیا کرو، بیشک اللہ معاف فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے 2:219 آپ سے شراب اور جوئے کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ (دنیوی) فائدے بھی ہیں مگر ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے، اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں: جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)، اسی طرح اﷲ تمہارے لئے (اپنے) احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو میں نے سُنا ہے کہ زنا پر بھی کوئی اسلامی حد نہیں۔ اب تو مزے ہی مزے زنا کے لئے اللہ تعالی نے چار گواہوں کی گواہی کے بعد کوڑوں کی سزا رکھی ہے۔ اس پر بہت بحث ہوچکی ہے۔ مزید سزا آپس کے مشورہ سے بڑھانے پر کوئی پابندی نہیں۔ معاشرہ پر اس عمل کئ منفی اثرات کا بہترین تذکرہ کیا گیا ہے اور باقاعدہ نکاح کرنے ، سب کو اس کی اطلاع دینے اور مرد و عورت کے طویل تعلقات کی ہدایت سے قرآن بھرا پڑھا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اسلامی کوئی حد نہیں صرف اور صرف ناواقفیت کی بناءپر ہے۔ رموماً لوگ قرآن کی آیات اور اس کے ترجمے کو پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ عادل بھائی آئیندہ آپ نے مجھے یہ نہیں کہنا کہ وضو ایسے کرنا ہے یا ویسے۔ بھیا قرآن میں تو محض چند باتیں ہیں۔ آپ لوگوں نے ایسے ہی تکیلف میں ڈال رکھا ہے ۔ آئیندہ سے میں نماز میں رکوع، سجود اور قیام اپنی مرضی سے کروں گا کیونکہ مجھے قرآن میں کوئی واضھ بات نہیں ملی کہ نماز کس طرح پڑھنی ہے۔ اب میری مرضی جس طرح مرضی پڑھوں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں آئیندہ سے نماز میں بیٹھا بالکل نہیں کروں گا کیونکہ مجھے کوئی واضح دلیل نہیں ملی اس کی قرآ ں میں سے۔ اور خبردار رہیں وہ لوگ جو ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔وہ گمراہ ہیں ۔ ۔ ۔ کینکہ قرآں تو ہر نماز سے قبل وضو کا کہتا ہے۔ میں نماز میں قرآن نہیں پڑھا کروں گا بالکہ نعتیں پڑھا کروں گا ۔ ۔ ۔ اب چونکہ غامدی صاحب نے مجھے گانوں کی بھی اجازت دے دی ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔کچھ دنوں تک گانے بھی پڑھا کروں گا ۔کیونکہ مجھے قرآن میں کہیں نہیں مل سکا کہ نماز میں پڑھنا کیا ہے۔ وضو بھی اللہ تعالی نے اپنے نبی (ص) کو اور اپنی نبی (ص) کے ذریعے دنیا کے ہر شخص کو سکھایا۔ کیا ابراہیم علیہ السلام بناء وضو کے نماز پڑھتے تھے؟ 5:6 اے ایمان والوں! جب کھڑے ہو تم نماز کے لیے تو دھو لو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کر لو اپنے سر کا اور (دھولو) اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم حالتِ جنابت میں تو (نہا دھوکر) اچّھی طرح پاک ہوجاؤ اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آیا ہو کوئی تم میں سے بیت الخلا سے یا مباشرت کی ہو تم نے عورتوں سے پھر نہ میسر ہو تم کو پانی تو تیّمم کرلو پاک مٹّی سے۔ سو مسح کرو اپنے منہ کا اور اپنے ہاتھوں کااس سے، نہیں چاہتا اللہ کہ مُبتلا کرے تم کو کسی قسم کی تنگی میں بلکہ چاہتا ہے کہ پاک کرے تم کو اور پُوری کرے اپنی نعمت تم پر، تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔ یہ تو ہوئی کم سے کم صفائی، اب آپ مزید کچھ دھو لیں نہا لیں تو کیا یہ غیر منطقی ہے؟ عیسی علیہ السلام کی وفات اور اس کے بعد اٹھائے جانے میں اور زندہ اٹھائے جانے میں منطقی امر کوئی نہیں صرف اور صرف اللہ تعالی کے بیان کی مخالفت ہے۔ نماز کے بارے میں کیا احکامات ہیں، وہ بھی اللہ تعالی نے رسول اکرم اور اس سے پہلے انبیاء کرام کو سکھائے۔ یہ ایک سنت جاریہ ہے ، اس پر اللہ تعالی کے احکامات ایک الگ دھاگہ میں تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ قرآن نماز کی تعلیم کس طرح دیتا ہے۔ قرآن میں تو محض فجر کی اور عصر کی نماز کی حفاظت کا کہا گیا ہے اس کا مطلب ہے باقی نمازیں اہم نہیں ہیں۔ آئیندہ سے میںصرف یہی دو نمازیں پڑھا کروں گا۔ ویسے بھی مجھے واضح طور پر 5 نمازوں کا حکم نہیں ملا۔ اذان کو تو میں جانتا ہی نہیں ۔قرآن میں اسکا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ چونکہ قرآن میں ہے کہ جب تم کو نماز کی طرف بلایا جائے۔/اس لیے آئیندہ سے میں بلانے کے لیے اذان کے بجائے ناقوس کا استعمال کروں گا۔ کون روک سکتا ہے مجھے۔ قرآن نے اجازت دی ہیے۔ شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ اس پر آپ کو ایک الگ دھاگہ میں جواب دیا گیا ہے۔ وہ دیکھ لیجئے۔ اس طرح آپ قرآن کو کمزور و نازک ثابت کرنے کی کوشش صرف اس لئے کررہے ہیں کہ اللہ تعالی قرآن میں صاف صاف عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارے میں بتاتا ہے جو کہ عیسائی ایمان پر ایک ضرب ہے۔ لہذا قرآن کو ہی غلط ثابت کردیا جائے، بھائی آپ کے دلائل بہت ہی کمزور ہیں، غلط ہیں اور بے معنی ہیں۔ روزہ کھولنے اور بند کرنے کے سلسلہ میں ۔ ۔ ۔ اب سے میں کالے دھاگوں اور سفید دھاگوں کا استعمال کروں گا کیونکہ قرآن میں یہی ہے ۔ اور میری کوشش ہوگی کہ کمرے کے اندر بیٹھ کر یہ دھاگے استعمال کروں تاکہ سفید دھاھہ کالے دھاگے میں جلدی مدغم ہو جائے۔ ہاں تو کونسا قرآن نے یہ کہا ہے کہ یہ دھاگے باہر بیٹھ کر استعمال کرو۔ اس سے بے معانی دلیل ممکن ہی نہ تھی۔ دھاگوں کے رنگ میں شناخت نہ رہ جائے اس سے بہتر نشانی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ منطقی اور باعقل شخص کے لئے یہ ایک بہت ہی اچھی نشانی ہے ، قران کو رد کردینے والے کے لئے یہ ایک بے معانی نشانی کہ ہم تو ٹیب لائٹ کی روشنی میں قطب شمالی پر بیٹھ کر سیاہ و سفید دھاگہ کو دیکھیں گے، اس ٹائم زون میں دیکھیں گے جہاں ابی دن ہے اور ہماری رات ہے۔ جی؟ بھائی نہ رکھو روزہ۔ طبع نازک پر قید رمضاں بھاری ہے؟ تمہی کہہ دو یہ آئین وفاداری ہے؟ آئیندہ سے مجھے جہاں بھی کوئی کافر ملا اس کو قتل کر دیا کروں گا کیونکہ قرآ ن مجھے کہتا ہے کہ جہاں بھی تم کافروں کو پاؤ انکو قتل کرو۔ اب تو ایسی کی تیسی ان کافروں کی۔ صرف ان لوگوں کو جہاد یعنی جنگ شروع کرنے کی اجازت ہے جن پر جنگ مسلط کی گئی۔ باقی تمام احکامات اس حکم کے بعد آتے ہیں۔ آپ اگر عقل کو ایک طرف رکھ کر بات کریں تو بھائی ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر یہ دعوی کہ عقل والوں کو اشارہ کافی ہے؟ شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ 22:39 أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے اللہ تعالی نماز کس طور تعلیم فرماتا ہے یہ دیکھنا نہ بھولئے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 12-10-09 at 12:44 PM. |
|
|
|
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم
فاروق سرور صاحب کی باتوں سے لگتا ھے ان پر بھی احادیث مبارکہ کا اثر ھو گیا ھے ،، مبارک ھو والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بدر بھائی آپ کا مراسلہ رقم 37 پڑھ کر میں ہنستا ہی رہا ، اب آپ فاروق بھائی کے جوابات دیکھیے اور دیکھتے چلیے ، کچھ باتیں آپ نے لکھی ، اور بھائی فاروق نے ان کے جوابات دیے ، بدر بھائی آپ خؤش قسمت ہیں کہ فاروق بھائی نے ُپ کو فورا جوابات دے دیے ، خواہ کیسے بھی دیے ، اس قسم کے سوالات کی ایک قطار ہے ، ایک انبار ہے جو میں نے بھی پوچھے اور بہت سے اور لوگوں نے بھی پوچھے کہ فلاں فلاں کام کی قران میں سے کیا دلیل ہے ، لیکن ،،،،،،،،،،،،،،،،،،، اللہ تعالیٰ پم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#44 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق بھائی ، وہ دن کب آئے گا جب آپ حقیقتا اپنے اس """ خلاف قران """ فلسفے کی کوئی ایک ایس تعریف پیچ کر سکیں گے جس کے بعد آپ اس پر ہی قائم رہ سکیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اقتباس:
اس موضوع پر پہلے آپ کو بہت کچھ بتا چکا ہوں ، صآف سیدہی بات کیا کیجیے ، اردو کا انداز خطاب اپنی جگہ اوراسلامی معاملات اور خاص طور پر عقیدے سے متعلقہ معاملات اپنی جگہ ، الحمد للہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی اردو سکھائی ہے میں اس میں اپنی بات سمجھا پاتا ہوں اور لغت کے قواعد کی فکر کیے بغیر بات کو واضح رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے ، باذن اللہ ، اقتباس:
لیکن محترم بھائی دوسروں کی اردوکو خراب سمجھتے سمجھتے اپنی اردو خراب مت کرتے چلیے یہ کیا لکھا ہے بھائی جی """"""" قرآن کو عربی کی کومسی بھی ترکیب سے پڑھیں گے """"""" ، چلیے خیر یہ تو یوں ہی ایک بات تھی ، """" کونسی بھی بات """" سمجھ کر جانے دیتے ہیں ، فاروق بھائی ، میرے اور آپ کے درمیان کچھ اور موضوعات پر بات چل رہی ہے جو آپ کے جوابات کے انتظار میں رکی ہوئی ہے ، کیا آپ اس موضوع پر بھی ایک نیا محاذ کھولنا چاہتے ہیں ؟ فی الحال اپنی بات کو دہراتا ہوں کہ قران کو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق سمجھنے کی کوشش کیا کیجیے ، ترجموں کی مطابق نہیں ، اگر آپ عربی سیکھنا چاہتے ہیں اقتباس:
میں تو صرف اس کے بارے میں بات کرتا ہوں جو گمراہی آپ کی باتوں میں ہوتی ہے ، اور پھر ایسی باتیں کرنے والے کا مبلغ علم ظاہر کرنے کے لیے اس کی عربی اور دیگر ایسی باتوں کا ذکر بھی ضمنا ہو جاتا ہے جو اس کے فلسفے کی قوت اور اصلیت کو آشکار کر سکیں ، ان شا اللہ ، بس اسی لیے آپ کی خراب ترین عربی ، اور ناقص معلومات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرتا ہوں کہ دیکھیے جن صاحب کو امت کے ائمہ تک کے ناموں کا ٹھیک سے پتہ نہیں ، انگلش کتابوں میں سے جو کچھ پڑا انگلش تلفظ کو اردو میں لکھ کر کیا سے کیا بنا دیتے ہیں ، اور تو اور انگلش الفاظ کی روایات کو دیکھ کر احادیث کا ترجمہ بھی کیا سے کیا کر دیتے ہیں ( اردو محفل میں موسیقی کے بارے میں گفتگو تو آپ کو یاد ہو گی ) جی تو معاملہ صرف یہ ہے بھائی جی جو ابھی بیان کیا ہے ، نہ کہ آپ کی شخصیت پر کوئی توجہ ہے ۔ اقتباس:
|
|||||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (11-10-09) |
|
|
#45 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 11:32 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 14 | 30-06-09 08:32 PM |
| چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ | فرحان دانش | موبائلز معلومات اور جائزہ | 0 | 07-04-08 09:22 AM |