| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | arslansun (27-04-09), sahj (01-08-09), میاں شاہد (30-03-09), مون لائیٹ آفریدی (26-04-09), محمد عاصم (30-11-10), مرزا عامر (20-09-10), ام غزل (30-03-09), ابو عمار (25-06-09), احمد غزنوی (09-07-09), سحر (19-06-09), طارق راحیل (06-08-09), عبداللہ آدم (27-02-10) |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْحَمَّامَ وَالْمَقْبُرَةَ "
ترجمہ:- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام روئے زمین مسجد ہے ( یعنی سب جگہ نماز جائز ہے ) سوائے قبرستان اور حمام کے ۔ ابو داؤد كتاب الصلاة باب : في المواضع التي لا تجوز فيها الصلاة حدیث : 492
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-09-10) |
|
|
#32 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ نَاعِمٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُجَصَّصَ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے یا اسے پختہ کرنے سے منع کیا ہے ۔ مسند احمد المجلد السادس حديث ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حدیث : 25344 |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-09-10) |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() |
حضور
نےتوعورتوں کو مسجدمیں آنے سے منع بھی نہیں کیاتھامگرکیوں فاروقِ اعظم نے ممنوع قرار دیااور بی بی عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایااگر حضور زندہ ہوتے اوردیکھتےہم لوگوں کاحال تو آپ یہی حکم دیتے اسی طرح کچھ قبرستانوں میں مسجدوں کاحکم ہےاور حکم سےمراد قبروں کےبیچ میں ہے نا کہ آس پاس کیا آپ یہ کہناچاھتے ہیں جنہیں زبان پرلاتے ہوئے کوئی مسلمان ایمان ضائع کرنے کےمترادف سمجھتاہےکہ آپ کی مراد ہے1400سال سے حضور کاجومزار پرانوار ہےوہ معاذ اللہ غلط جگہ پر ہےہےافسوس چاروں امام آئے کتنے مسلم حکمران آئےمگرکسی نےکوئی اختلاف نہیں کیاآپ کیاچاروں امام ابوحنیفہ امام احمد بن حنبل امام مالک اور امام شافعی سے بھی آگے نکل گیئے علم وعمل میں اناللہ واناالیہ راجعون(معاذاللہ)فقہ میں ہیکہ قبر بیچ میں ہوتو بیچ میں کوئی چیز رکھ کرجس سے قبر اور بندے کے بیچ میں فرق ہوجائےنماز پڑھنے میں حرج نہیں ہے
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! Last edited by muhammad asif virani; 01-08-09 at 10:52 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#34 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,613
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدرآباد میں دو مسجدیں ہیں ایک ہل ٹاپ پر اور ایک صدر کے علاقے میں دونوں مسجدوں میں قبریں ہیں صدر والی مسجد میں تو قبر بیچ میں ہے جبکہ ہل ٹاپ پر جو ہے وہ مسجد میں تھوڑے کونے پر ہے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام روئے زمین مسجد ہے ( یعنی سب جگہ نماز جائز ہے ) سوائے قبرستان اور حمام کے ۔ ابو داؤد كتاب الصلاة باب : في المواضع التي لا تجوز فيها الصلاة حدیث : 492 ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے یا اسے پختہ کرنے سے منع کیا ہے ۔ مسند احمد المجلد السادس حديث ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حدیث : 25344 اب جہاں تک تعلق ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کا تو کیا اس حجرے میں کوئی نماز پڑھتا ھے جہاں قبر مبارک ھے؟ کوئی نہیں پڑھتا جناب ، بھر آپ کیسے مسجد میں قبروں کا دفاع کر رہے ہیں، جب میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک موجود ھے ، شکریہ |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-09-10) |
|
|
#37 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,740
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم ویرانی صاحب
ان احادیث کے متعلق کیا رائے ہے اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#38 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#41 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دو حدیثیں پیش خدمت ہیں ساتھ میں لنک بھی ھے و حدثني زهير بن حرب حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا هشام أخبرني أبي عن عائشة أن أم حبيبة وأم سلمة ذكرتا كنيسة رأينها بالحبشة فيها تصاوير لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصور أولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وعمرو الناقد قالا حدثنا وكيع حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أنهم تذاكروا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه فذكرت أم سلمة وأم حبيبة كنيسة ثم ذكر نحوه حدثنا أبو كريب حدثنا أبو معاوية حدثنا هشام عن أبيه عن عائشة قالت ذكرن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم كنيسة رأينها بأرض الحبشة يقال لها مارية بمثل حديثهم http://hadith.al-islam.com/Display/D...Doc=1&Rec=1133 کنیسہ : یہودیوں کی عبادت گاہ کلیسہ : عیسائیوں کی عبادت گاہ مسجد : مسلمانوں کی عبادت گاہ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح بخاری میں فرماتے ہیں۔ قال البیضاویلما کانت الیھود والنصری یسجدون لقبور الانبیاء تعظیما لشانھم ویجعلونھا قبلۃ یتوجھون فی الصلوٰۃ ونحوھا واتخذوھا اوثانا لعنھم ومنع المسلمون عن مثل ذلک "بیضاوی نے فرمایا کہ جبکہ یہود و نصارٰی پیغمبروں کی قبروں کو تعظیماً سجدہ کرتے تھے اور اس کو قبلہ بنا کر اس کی طرف نماز پڑھتے تھے اور ان قبور کر انہوں نے بت بنا کر رکھا تھا لٰہذا اس پر حضور علیہ السلام نے لعنت فرمائی اور مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا گیا۔" معلوم ہوگیا کہ قبہ بنانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا۔ ہم نے توجہیں اس لیے کیں کہ بہت سے صحابہ کرام نے خاص خاص قبروں پر عمارت بنائی ہیں یہ فعل سنت صحابہ ہے چنانچہ حضرت فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کے گرد عمارت بنائی۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ تعالی نے اس پر خوبصورت عمارت بنائی۔ حسن مثنی کی بیوی نے اپنے شوہر کی قبر پر قبہ ڈالا بحوالہ مشکوٰۃ باب البکاء متقٰے شرح مؤطاء امام مالک میں ابو عبد سلیمان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ وضربہ عمر علی قبر زینب جحش وضربۃ عائشۃ علے قبر اخیھا عبدالرحمٰن وضربہ محمد ابن الحنیفۃ علی قبر ابن عباس وانما کرھہ لمن ضربہ علی وجہ السمعۃ والمباھات "حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے زینب حجش کی قبر پر قبہ بنایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن کی قبر پر قبہ بنایا محمد ابن حنیفہ (ابن حضرت علی رضی اللہ عنہم) نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قبر پر قبہ بنایا اور جس نے قبہ بنانا مکروہ کہا ہے تو اس کے لیے جو کہ اس کو فخر دریا کے لیے بنائے۔" بدائع الصنائع جلد اول 320 میں ہے۔ روی ان عباس لما مات بالطائف صلے علیہ محمد ابن الحنیفۃ وجعل قبرہ مسنما وضرب علیہ فساطا "جبکہ طائف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان پر محمد ابن حنیفہ رضی اللہ تعالی نے نماز پڑھی اور ان کی قبر ڈھلوان بنائی اور قبر پر قبہ بنایا۔" عینی شرح بخاری میں ہے ضربہ محمد ابن الحنیفۃ علی رضی اللہ تعالی قبر ابن عباس رضی اللہ تعالی ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے یہ فعل کیے اور ساری اُمت روضۃ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جاتی رہی۔ کسی محدث کسی فقیہ کسی عالم نے اس روضہ مبارک پر اعتراض نہ کیا لٰہذا اس حدیث کہ وہ ہی توجہیں کی جاویں جو کہ ہم نے کیں۔ قبر پر بیٹھنے کے معنٰے ہیں قبر پر چڑھ کر یہ منع ہے نہ کہ وہاں مجاور بننا۔ مجاور بننا تو جائز ہے۔ مجاور اسی کو تو کہتے ہیں جو قبر کا انتظام رکھے کھولنے بند کرنے کی چابی اپنے پاس رکھے وغیرہ وغیرہ یہ صحابہ کرام سے ثابت ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی مسلمانوں کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کی منتظمہ اور چابی والی تھیں۔ جب صحابہ کرام کو زیارت کرنی ہوتی تو ان سے ہی کھلوا کر زیارت کرتے۔ دیکھو مشکوٰۃ باب لدفن۔ آج تک روضہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر مجاور رہتے ہیں کسی نے ان کو ناجائز نہ کہا۔ واللہ اعلم
__________________
|
|
|
|
|
|
|
#42 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ قابل احترام محترم معذرت کے ساتھ، جو آپ نے اوپر مقالمہ لکھا ھے اسے کسی بھی آدمی کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے، جو چیز ممکن نہیں اس پر ایسا سوال کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ اور رہا سوال یہ کہ آپ جو لکھیں اور اس پر کہیں کہ کوئی تسلیم کر لے تو میں آپ کو آپ کے لکھے پر مزید احادیث مبارکہ دکھا کر کہوں کہ اب آپ کا کیا خیال ھے آپ کس کو تسلیم کریں گے۔ اس کے لئے بہتر یہی ہوتا ھے کہ آپ کے پاس جو انفارمیشن ھے آپ وہ شیئر کریں دوسرے کے پاس ہو سکتا ھے اس سے بھی اچھی تفصیلً انفارمیشن ہو۔ میرا کام یہ ھے کہ میرے پاس جو معلومات ھے میں اسے شیئر کروں یہ میرا کام نہیں کہ کسی کو زبردستی کوئی بات تسلیم کرواؤں۔ تسلیم تو بندہ اپنے گھر والوں کو نہیں کچھ کروا سکتا، باپ کسی اور مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ھے اور بیٹا کسی اور مسجد میںِ۔ اقتباس:
جناب محترم جن کے نام ابھی بھی زندہ ہیں اور جنہوں نے اپنی زندگی اللہ تعالی کی عبادت میں گزاری ھے ان کے قبریں کچی مٹی کی ہی ہوتی ہیں پکی نہیں ہوتیں ۔ نہ تو آپ گئے ہیں اور نہ ہی آپ نے دیکھا ھے۔ سنی سنائی بات کر دی ھے آپ نے۔ میں آپ کا یہ گلہ بھی دور کر دیتا ہوں۔ پاکستان میں اور دنیا میں جہاں جہاں اسلام کی دعوت دی گئی ان سب ممالک میں جس بھی ولی اللہ کا مزارت مبارک ہیں وہ سب زمین سے انچے ہوتے ہیں اور اوپر صرف کجاوہ سا بنا ہوتا ھے قبر کی سمت میں ۔ اصل قبر نیچے زمیں میں ہوتی ھے اور وہ کچی مٹی کی اصلی حالت میں ہوتی ھے۔ اور نیچے قبر تک پہنچنے کے لئے راستہ بنایا ہوتا ھے۔ اگر آپ نے تجربہ کرنا ہو تو آپ ان جگہوں پر تو نہیں جائیں گے مگر ایک حل ھے اس کا وہ یہ کہ آپ لاہور میں مقبرہ جہانگیر چلے جائیں اور وہاں پر جو مجور ہو گا اسے 100 روپے کا نوٹ دیں اور کہیں کہ اس کجاوہ کی نیچے جو قبر ھے وہ دکھائے۔ تو وہ ایک مشال کو آگ لگا کے آپ کو خفیہ راستے س تہہ خانہ میں لے جا کر اصلی قبر دکھا دے گا۔ اس سے آپ کا شک بھی دور ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں صرف ایک مزار ھے بری امام ان کا مزار پر نیچے جانا پڑتا ھے اور وہ کچی قبر ہی ھے۔ یہ وہ مزارات کی ذکر کیا ھے جن کے نام ابھی بھی زندہ ھیں۔ اقتباس:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کا گھر مبارک اور مسجد نبوی ساتھ ساتھ ہوتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد انور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر مبارک کے اندر ھے، جس پر اب بڑی بڑی مضبوظ دیواریں کھڑی کر کے اسے دروازے لگا کر بند کر دیا ہوا ھے جس کو ہم روضہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کہتے ہیں۔ اب چونکہ اس مسجد کو توصیح ہو گئی تو وہ روضہ انور مسجد کے اندر آ گیا ہوا ھے۔ یہاں پر ایک بات قابل غور ھے وہ یہ کہ روضہ انور کا پیچھے کا آدھا حصہ عورتوں کی طرف ھے اور آدھا حصہ مردوں کی طرف ھے۔ جو لوگ روضہ انور کے پیچے کی طرف نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو قبلہ رخ کے بیچ میں روضہ انور ان کے سامنے ہوتا ھے۔ ایک بار پھر غور کریں کہ جب نماز کی نیت کی جاتی ھے تو اس میں یہ کہا جاتا ھے کہ مثلاً "2 رکعت فرض نماز فجر واسطے اللہ کے منہ قبلہ رخ" اللہ اکبر اب یہ نیت کرنے کے بعد آپ کے بیچ میں روضہ انور ھے تو آپکی نماز اللہ تعالی کے لئے ہو گی جو آپ نے نیت کی ھے نہ کہ روضہ انور کو سجدہ ہو گا۔ یا بندہ مسجد میں یا کسی کھلی جگہ پر مجمع کے ساتھ نماز پڑھتا ھے تو اس کا سجدہ اگلے والے کے پاؤں میں ہوتا ھے تو اس کو کیا کہیں گے کہ مسلمان ایک دوسرے کے پاؤں پر سجدے کرتے ہیں، یا مسجدوں میں اگے والی صف میں لوگوں نے اپنے آگے جوتیاں رکھی ہوتی ہیں تو اس کو کیا کہیں گے یہ تو کم عقلی والی بات ہو گی۔ ساری نماز اس نیت پر ھے جو پڑھنے سے پہلے کی گئی ھے اور جو نماز کا طریقہ بتایا گیا ھے اس کے مطابق نماز پڑھی جائے۔ کوئی بھی مسجدوں کے اندر بنی ہوئی قبروں کو دفاع نہیں کر رہا۔ جو قبریں مسجدوں کے اندر بنی ہوتی ھیں وہ پیچھے کی طرف یا سائیڈ کی طرف بنی ہوتی ہیں آگے محراب کی طرف نہیں ہوتیں۔ سجدہ سامنے قبلہ رخ کی طرف منہ کر کے کیا جاتا ھے۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جہاں ناپاک اور گندی چیزیں ڈالی جاتی ہیں۔ جانوروں کے ذبح کرنے کی جگہ، راستوں کے درمیان، مویشی باندھنے کی جگہ، حمام، مقابر اور خانہٴ کعبہ کی چھت پر بھی نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ) جندب رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار ہو کر پہلے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مقبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا، خبردار تم لوگ مقبروں کو عبادت گاہیں نہ بنانا میں تم کو منع کرتا ہوں۔ (بخاری و مسلم) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی، ارشاد فرماتے ہیں جعلت لی الارض مسجدا وطھورا (مسلم) یعنی میرے لیے ساری زمین مسجد گاہ او ر طاہر و مطہر (پاک کرنے والی) قرار دی گئی ۔ یہودی اپنے کنیسہ اور عیسائی اپنے کلیسا کے بغیر نماز نہ پڑھا کرتے تھے، مجوسی بھی آتشکدہ کے بغیر اور ہندوں مندروں کے بغیر سرگرمِ عبادت نہ ہوا کرتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ کے مطابق، مسلمانوں کی نماز نہ محرابِ عبادت کی محتاج ہے ، نہ کسی مکان و مسجد کی موجودگی پر ان کی سجدہ ریزی موقوف ، ان کا گرمایا ہوا دل اور روشن آنکھیں آگ کی حرارت و رشنی سے بے نیاز ہیں اس لیے روئے زمین کا ہر ایک بقعہ اور ہر ایک قطعہ ان کی سجدہ ریزی کے لیے موزوں ہے اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کو حضور کی مسجد بنا دیا ہے ۔ یونہی طہارت نماز کے لیے شرط ہے لیکن کیا نماز ، پانی کی غیر موجودگی کی صورت میں ان مسلمانوں پر معاف ہو جاتی جو گھاس کے پتے پتے اور زمین کے ذرہ ذرہ سے معرفتِ الٰہی کے خزانے سمیٹتے ہیں اور ڈالی ڈالی ، پتہ پتہ ان کی نگاہوں میں معرفتِ الٰہی کا سرچشمہ ہے۔ انسان مٹی ہی سے بنا ہے ،مٹی ہی اس کی اصل ہے اور مٹی ہی اس کو بن جانا ہے، مٹی ہی مخلوقات کا گہوارہ ہے اور مٹی ہی سے زمین کی کائنات اپنی خوراک حاصل کرتی ہے، اس لیے مٹی ہی کو طہور، پانی کے قائم مقام ، طاہر و مطہر بنا دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جوامع الکلم کا عطیہ بخشا گیا۔ عالِم اعلم سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں اعطیت بجو امع الکم’’ مجھے جامع کلام دیا گیا(لفظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ) (بخاری و مسلم) محترم برادر یہ جو بھی لکھا گیا ھے وہ صرف معلومات فراہم کرنے کے لئے ھے تسلیم کروانے کے لئے نہیں۔ والسلام |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#43 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 35
کمائي: 994
شکریہ: 86
33 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صحیح بخاری حدیث نمبر 409 کتاب الصلاۃ باب هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الْجَاهِلِيَّةِ وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المومنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بھی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ وہ لوگ ہیں کہ ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہیتصویریں بنا دیتے۔ پس یہ لوگ اللہ کے ہاں قیامت کے دن بدترین مخلوق ہوں گے"۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ صحیح مسلم کتاب الجنائز باب النھی عن تجصیص القبر و البناء علیہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر بیٹھنے اور ان پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ آپ نے جن مزارعات کا ذکر کیا ہے کیا وہ ان اشخصاص کے مرنے کے بعد ان کی قبروںپر نہیں بنائے گئے؟؟؟ میرے بھائی کسی کی وفات کے بعد اسے مسجد سے ملحقہ جگہ دفن کرنے اور دفن کئے ہوئے شخص کی قبر پر مزار یا مسجد کھڑی کر دینے میں بہت فرق ہے۔ اور اسی دوسری چیز سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کیا ہے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آصف وسیم کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (20-09-10), بلال الراعی (26-11-11) |
|
|
#44 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے کیا پڑھا ھے اور آپ نے کیا پڑھا ھے اس پر تو بات ہی نہیں ہو رہی خیر آپ نے جو پڑھا ھے تو ایک مرتبہ پھر پڑھیں اور بتائیں کہ قبر کس کو کہتے ہیں اور قبر میں قبر کونسا حصہ ہوتا ھے اپنے قلم سے لکھ کر بتا دیں۔ میں آپکے جواب پر آپکی علمی کیفیت کا انتظار رہے گا۔ اور جو حدیث مبارکہ آپ نے پیش کی ھے اس پر بھی بعد میں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#45 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 35
کمائي: 994
شکریہ: 86
33 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام
اقتباس:
حالانکہ میں نے اس میںآپ کی طرح ’’اپنے قلم سے لکھ کر بتانے ‘‘ کی کوئی شرط عائد نہیں کی تھی۔ (اس فرمائش سے بھی علمی، بلکہ ذہنی کیفتیت کا اندازہ ہوتا ہے) اگر آپ کی ’’علمی کیفیت‘‘ میرے سوال کو سمجھ نہیں سکی تو دوبارہ کوشش کرتا ہوں میں نے پوچھا ہے جن مزارعات کا آپ نے ذکر کیا وہ قبروں پر بنائے گئے تھے یا پھر مزارعات کی عمارتیں پہلے سے موجود تھیں اور ان شخصیات کو ان کے بازو میں دفن کیا گیا تھا؟؟؟ اب آپ اپنے عقیدے کو درست ثابت کرنے کیلئے قبروں کے حصے کریں یا منزلیں بنا لیں مجھے اس سے غرض نہیں۔ میں نے تو سیدھا سادھا سوال پوچھا تھا اپنے علم میں اضافے کیلئے مگر آپ نے جواب دینے کی بجائے علمی کیفیت ماپنا شروع کر دی؟؟؟؟؟؟؟ بھائی جواب نہیں آتا تو نا سہی اگر آتا ہے تو برائے مہربانی سوال کی طرح سیدھا سادھا ہو، لفظوں کا ہیر پھیر نہیں۔ شکریہ Last edited by آصف وسیم; 20-09-10 at 10:44 PM. |
|
|
|
|
| آصف وسیم کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-09-10) |
![]() |
| Tags |
| arabic, color, com, لوگ, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آدمی, اللہ, احتجاج, بھائی, تلاش, جواب, جلد, حکم, حدیث, خان, خرم, شہزاد, عبادت, صفحہ, صحیح, صحیحبخاری, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دنیا میں شوق نہ کرنے اور اس دنیا کی اللہ تعالیٰ کے ہاں وقعت نہ ہونے کے متعلق۔ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 3 | 07-08-10 10:59 AM |
| Muta Ki Mumaniat متعہ کی ممانعت | میاں شاہد | ازدواجی زندگی | 50 | 05-05-09 11:55 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:28 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |