واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


غامدی "منکر نزول عیسٰی علیہ السلام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-09, 04:53 PM  
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default غامدی "منکر نزول عیسٰی علیہ السلام

غامدی کاانکارِ نزو ل عیسٰی علیہ السلام


قرآن مجید میں حضرت عیسٰی کے اوپر اْٹھائے جانے کا ذکر سورہ الِ عمران کی درج ذیل آیت میں ہوا ہے۔''اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں تواللہ نے بھی اْن کا خفیہ توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے (٥٤) جبکہ اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی میں تمہں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اورجن لوگوںنے کفر کیا ان سے تمہں پاک کرنے والا ہوں ۔اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے اْن لوگوں پر غالب کرنے والا ہوںجنھوں نے تمہارا انکار کیا پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان اْن چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو''(٥٥) اس آیت میں حضرت عیسٰی کے اوپر اٹھائے جانے کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے لیکن ان کے دوبارہ واپس آنے کا ادنٰی اشارہ بھی قرآن مجید میں کسی جگہ موجود نہیں ہے مسلمانوں میں یہ تصور احادیث کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے جس کی صداقت پرمسلمان علماء میں اختلاف ہے۔




یہ عبارت جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اس عبارت کو
ادارہ الموردکی ویب سائیٹ پرایک سوال کے جواب میں بیان کیا ہے۔
Understanding Islam - Urdu))
جس کے سرپرست اعلٰی جاوید احمد غامدی ہیں اس عبارت میں عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی نفی کی جا رہی ہے اوراس بارے میں قرآن مجید کے حوالے سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ قرآ ن مجید میں کوئی ادنٰی اشا رہ بھی اس بارے میں نہیں ہےاوریہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ تصوراحادیث کےذریعے سے مسلمانوں میں منتقل ہوا ہےاورمسلمان علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو ہم (المورد،غامدی)کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کا دوبارہ باغورمطالعہ کریں بلکہ سب سے بڑے معلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم لیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کی تشریح اور تفہیم احادیث میں فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم فرمائی اْس کا مطالعہ کریں)تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ قرآن مجید نے کسی ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ عیسٰی علیہ السلام کی دوبارہ آمدکے اشارات دیئے ہیں آیئےاب ہم اْن آیات کا مطالعہ کریں:

آیتِ ترجمہ
'' اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسٰی بن مریم کو قتل کردیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پرچڑھایا بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنادی گئی تھی یقین جانو کہ عیسٰی کے بارے اختلاف کرنے والے انکے بارے میںشک میں ہیں انھیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نےانھیں اپنی طرف اْٹھا لیا ، اوراللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والاہے۔اہلِ کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچےگاجو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ا ن پر ایمان نہ لاچکےاورقیامت کےدن آپ ان پرگواہ ہوں گے۔''
(سورہ النساء آیت١٥٦۔١٥٩)

اگر ہم سورۃ النساء کا باغورجائزہ لیں تواس میں عیسٰی کی وفات کی نفی کی جارہی ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا توعیسٰی کی وفات کب ہوگی اوراگر نہیں ہو گی تو پھرقرآن مجید کی اس آیت کاکیا مطلب ہواکہ جس میں بیان ہوا ہےکہ:
''ہرجان کو موت کا مزا چکھنا ہے''
(سورہ ال عمران آیت١٨٥)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اورانکی وفات ہو گی(جیساکہ احادیث میں بیا ن ہوا ہے جس کو ہم آگے بیان کریں گے) اور آگے بیان ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب عیسٰی کی وفات سے پہلے ان پرایمان لائیں گے۔ (بعض مترجمین نے اسکا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلےعیسٰی پرایمان لے آئے گا)مگر پہلے ترجمہ ہی رائج اور صحیح ہے کیونکہ اس کی تشریح حضرت ابن عباس اورابو ہریر ہ سے منقول ہے۔
(بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی، تفسیرطبری،ابن کثیر)

اگر عیسٰی واپس نہیں آئیں گےتو یہ آیت کب پوری ہوگی جس کےمطابق تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لائیں گےاس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی قیامت کے قریب واپس آئیں گےاورپوری دنیا میں صرف دینِ اسلام ہوگا
(نوٹ: جیسا روایات میں بیان ہوا ہے)یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عیسٰی دوبارہ واپس آئیں گےاب اس کے بعد سورہ الِ عمران آیت کامطالعہ کرتے ہیں:

آیتِ ترجمہ
''وہ (عیسٰی )لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا ا ور ادھیڑعمر میں بھی ا ور وہ نیک لوگوں میں ہو گا''
(سورہ الِ عمرا ن آیت٤٥)
(عیسٰی کا گود میں کلام کرنے کاواقعہ سورہ مریم آیت٢٩تا٣٣میں بیان ہوا ہے) اس آیت میں عیسٰی کے پختگی کی عمر میں کلام کاتذکرہ کیا جارہا ہے اور قرآن مجید نے پختگی کی عمر چالیس سال بیان کی ہے:
آیتِ ترجمہ''
یہاں تک کہ وہ اپنی کمالِ عمرکو پہنچاعمر چالیس برس کی''
(سورۃ الاحقاف آیت١٧)

اب اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ عیسٰی کو ٣٣ برس کی عمر میں اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا تھااور بائیبل میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے اور احادیث کے مطابق عیسٰی سات سال زمین میں رہیں گے اور چالیس برس کی عمر میں وہ لوگوں سے کلام کریں گے پھران کی وفات ہو جائے گی تب قرآن مجید کی یہ آیت پوری ہوگی کہ عیسٰی پختگی کی عمر میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہ آیت بھی عیسٰی کی دوبارہ آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے ا ب اسکے بعداب ہم اُس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بات بلکل واضح ہو جائی گی۔

آیت:
'' وَ اِنَّہ' لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ" اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔''
(سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١)

اس آیت میں عیسٰی کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی ہیں ،
دیکھئے
(تفسیرطبری،تفسیرقرطبی،تفس ر ابن کثیر)اور ایک حدیث سے بھی ابن عباس کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

مفہوم حدیث:
''حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے ہم پر اور ہم باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے'' ان نشانیوں میں سے ایک نزول عیسٰی بھی ہے''
(صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جاناجلد٢)

نزول عیسٰی قیامت کی علامت ہے جیسارسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورابن عباس کےاس قول سے جو اس آیت کے بارے میں بیان ہواہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں(لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ) سے مرادعیسٰی کی دوبارہ آمد ہے، یہا ں نزول عیسٰی کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ (المورد،غامدی کا) یہ کہنا ہے کہ یہ تصور احادیث سے منتقل ہوا ہے تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کوئی اشارہ کسی حدیث میں بیان ہوا ہو یا کسی ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہوجس سے یہ تصور کیا گیا ہو بلکہ نزول عیسٰی کے بارے میں کثرت کے ساتھ روایات موجود ہیں اور صحابہ کرام کی کثیر جماعت نے اسے روایت کیا ہے اس کےبعد تابعین محدثین مفسرینِ قرآن سب کا اس بات(نزول عیسٰی)پراجماع ہے یہاں تک کہ ابن کثیرنے سورہ النساء آیت١٥٦،١٥٩۔کی تفسیرمیں بیان کیا ہےکہ اِن تمام روایات کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہےاوریہ روایات تواتر کے ساتھ موجود ہیںاب نہ جانے کون سےعلماء ہیں جن کا اس بارے میں اختلاف ہے ہمارے خیال سے یہ ادارہ المورد کےعلماء ہو گے جن کے آپس میں اختلاف ہوں گے کیونکہ ان کے سرپرست جاوید احمد غامدی کے اپنےموقف میں اختلاف ہوتا ہے کبھی وہ سنتوں کو چالیس قراردیتے ہیں کبھی یہ٣٧ ہوجاتی ہیں اورکبھی ٢٧اور ہرباریہ سب قطعی ہوتی ہیں ابھی تک سنتوں کے بارے میں ان کا موقف واضح نہیں ہےتو( نزول عیسٰی ) کے بارے میں رائے قائم کرنا دور کی بات ہے۔ اب ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں ۔
مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ نےبیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے عیسٰی تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سےنزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے ،سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گےاس وقت مال ودولت کی اتنی کثرت ہو جائی گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اورایک سجدہ دنیا ا ور ما فیہا سے بڑھ کر ہو گاپھرابوہریرہ نے فرمایا کہ تمھارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو اور کوئی اہلِ کتاب ایسا نہیں ہو گا جو حضرت عیسٰی کی موت سے پہلے ایمان نہ لاچکےاور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔''
(صحیح بخاری کتاب الانبیاء)
مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بیشک عیسٰی اتریں گے جب تم ان کودیکھو توپہچان لووہ ایک شخص ہیں متوسط قدوقامت کے رنگ ان کا سرخی اورسفیدی کے درمیان میں ہے وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گےان کےبالوں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا اگرچہ وہ تربھی نہ ہوں گے وہ لوگوں سے جہا د کریں گے اسلام قبول کرنےکے لئےاور توڑڈالیں گےصلیب کواورقتل کریں گے سورکو اورموقوف کردیں جزیے کواورتباہ کر دے گااللہ تعالٰی ان کےزمانے میں سب مذہبوں کو سوا اسلام کے اور ہلاک کریں گے وہ دجال مردودکو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس تک بعد اس کےان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پرجنازے کی نمازپڑھیں گے''
(سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣)

مفہومِ حدیث:
ابوہریرہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے اُتریں گے تم لوگوں میں پھر امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے''(ابن ابی ذئب نے کہا جو( راوی حدیث ہیں)امامت کریں گے تمہاری تم ہی میں سے مراد ہے کہ عیسٰی امامت کریں گے اللہ کی کتاب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے (یعنی تابع ہوں گے شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پیروی کریں گے قرآن و حدیث کی)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول بمع شرح امام نووی)

مفہومِ حدیث:
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا ۔پھر عیسٰی اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا نماز پڑھایئے وہ کہیں گے تم میں سے ایک دوسرے پر حاکم رہیں ۔یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعا لٰی عنایت فرماوے گا اس امت کو''( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی جلد اول)اس کے علاوہ یہ روایات(بخاری کتاب الانبیاء جلد دوئم،مسلم کتاب الایما ن اور کتاب الفتن باب فتح قسطنطنیہ جلد اول،سنن ابوداؤدکتاب الملاحم باب دجال کا نکلناجلد٣ ،صحیح مسلم کتاب الفتن جلد٦،ابن ماجہ کتاب الفتن باب قیامت کی نشانیاں اورخروج دجال جلد٣ ،ترمذی کتاب الفتن باب زمین کا دھنس جانا اور نزول عیسٰی اور قتل دجا ل جلددوئم ،مسند احمد،تفسیرابن کثیر)میں بیان ہوئی ہیں۔

تمہید:
قرآن
مجید میں نزول عیسٰی کے واضح اشارات ملتے ہیں اور روایات میں صراحت سے اس کا تذکرہ موجود ہے اور تمام صحابہ کرام محدثین اور مفسرین قرآن کا اس پر اجماع ہے اور اس سے انحراف کرنے والے ( خصوصن غامدی ملعون) جان لیں کہ امام مسلم نزول عیسٰی کو کتا ب الایمان میں لائیں ہیں اس سے امام مسلم یہ بات واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ عیسٰی کی دوبارہ آمد ہوگی اللہ تعالی ہمیں ایمان دے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے (آمین)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11)
پرانا 07-10-09, 12:22 AM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادران سلام علیکم،
جو کچھ آپ نے لکھا ان میں سے کوئی بھی امر اسلامی ایمان کا حصہ نہیں ہے۔ معذرت چاہتا ہوں بھائی لیکن یہ آپ کا اپنا اختراع کردہ ایمان ہے۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، میں نے سوچا تھا کہ اتنے عرصہ بعد کچھ مثبت تبدیلی کے ساتھ آئے ہوں گے لیکن ،،،،،
بھائی جی ، کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ دوسروں کے ایمان پر الزام مت لگایا کیجیے ، اللہ کو جواب دینا بہت ہی بھاری پڑے گا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحیح ثابت شدہ فرامین مبارکہ میں بیان کردہ عقائد کو آپ خارج از ایمان قرار دے رہے ہیں اور اس فاش غلطی کو درست ایمان بھی سمجھ رہے ہیں ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
1۔ حیات المیسح علیہ السلام ،
سب سے پہلے درست لفظ المسیح ہے ، المیسح نہیں۔
اس بات کا کوئی ثبوت قرآن میں موجود نہیں کہ عیسی علیہ السلام آسمانوں‌میں زندہ ہیں۔ اسی لئے یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔
محترم آپ اکثردوسروں کی اردو میں غلطیاں نکالنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں ، کچھ اپنی طرف بھی توجہ فرمایا کیجیے ،
""" حیات مسیح """" اردو کی ترکیب ہے ، کچھ یوں لکھا جائے تو درست تلفظ کے ساتھ پڑھا جائے گا اور آپ کو غلطی کا ٹھیک سے نادازہ ہو جائے گا کہ کس کی ہے ان شا اللہ ،
""" حیات ءِ مسیح """" تلفظ کی صحیح ترجمانی """ حیات اے مسیح """"
جی بھائی ، """" المسیح """ عربی ترکیب میں لکھا جانا چاہیے یعنی """ حیاتُ المسیح """ اور بھائی شاھد صدیقی اور میں نے اردو ترکیب کے مطابق اردو میں بات کر رہے تھے ،
شاید آپ کسی کی غلطی پکڑنے کے زعم میں اتنی جلدی میں تھے کہ خود واقعتاً غلطی کر بیٹھے ، دیکھیے یہ آپ نے کیا لکھا ہے ::: """"" سب سے پہلے درست لفظ المسیح ہے ، المیسح نہیں """"""
کیا یہ بھی صحیح ثابت شدہ عقائد کے انکار کی طرح کوئی فسلفیانہ کلام ہے ؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
2۔ عذاب قبر ،
حیات بعد الممات پر ایمان قیامت کے دن دوبارا اٹھائے جانے پر ہے نہ کہ قبر میں زندہ رہنے پر، قرآن میں قبر میں زندہ رہنے کے بارے میں کوئی آیت نہیں۔

3۔ دجال کی آمد تو اسلامی عقائد میں سے ہیں ،
دجال کی آمد قرآن سے ثابت نہیں، کوئی آیت یہ نہیں کہتی کہ دجال آئے گا۔
بڑے بھائی ، قران میں بہت کچھ نہیں ہے جس پر ساری امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دور مبارک سے ہی ایمان رکھتی ہے ، عقائد ، عبادات ، اور معاملات کے احکام سب میں ہی ایسا معاملہ چلتا چلا آ رہا ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایمان مفصل کی آئت دیکھئے۔

2:177 لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
فاروق بھائی ، اس آیت میں اس ایمان مفصل کی کئی باتیں مذکور نہیں جس کا ذکر صدیقی بھائی نے کیا تھا ، آپ اس آیت کو اس ایمان مفصل کی دلیل کیسے بنا رہے ہیں ، جو کچھ اس آیت میں مذکور نہیں کیا اُس ایمان مفصل میں سے ان چیزوں کو نکال دیا جائے ؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اختلافی عقائد جن کے بارے میں خود لکھنے والے قرآن حکیم سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکتے اسلامی عقائد کس طور بن گئے؟

اللہ تعالی نے اسی سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کے لئے قرآن اتارا۔
جی فاروق بھائی ، اس میں کوئی شک نہیں کہ قران سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کے لیے نازل فرمایا گیا ہے ، لیکن اس قران کو محض اپنے فسلفے کی بنا پر سمجھ کر سچ اور جھوٹ کی تمیز نہیں ہو سکتی ، اس کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے ذریعے سمجھنا ہوتا ہے ، ورنہ ((((( یضل بہ کثیراً و یھدی بہ کثیراً ::: اللہ اس قران کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے )))))
اس موضوع پر پہلے بات ہو چکی ہے ، تو بڑے بھائی قران کو اس طرح سمجھیے جس طرح اللہ نے سمجھانے کا انتظام فرمایا ہے ،
آپ کے دیگر مراسلات کا جواب ان شاء اللہ کسی فارغ وقت میں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-10-09), shafresha (07-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ایکسٹو (04-10-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 06:04 AM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,249
کمائي: 25,911
شکریہ: 6,461
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
فاروق سرور صاحب کیا آپ کھلے الفاظ میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں ؟
کیوں کہ بقول آپ کے "قرآن حکیم کو انسانیت کے لئے اللہ کا فرمان جو کہ رسول اکرم لے کر آئے۔ یہی کتاب میرے لئے ایک مکمل دلیل ہے۔ "

واضع الفاظ میں جواب دیجئے شکریہ
بہت کھلے الفاظ مین ان روایات سے انکار کرتا ہوں‌جو صاف صاف قرآن کے خلاف ہیں۔

قرآن کہتا ہے کہ "وفات" کے بعد "ارفع"‌ کیا۔ یہ وفات ، عمر کا پورا ہونا، ننیند آنا، مکمل ہونا، موت آنا تو ممکن ہے۔ لیکن یہ زندہ رہنا کیسے ہوا ؟

ایسا کیسے ہے کہ روایت صاف صاف قرآن کی مخالفت کررہی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اسے مان لو۔ من گھڑت باتوں کو رسول اللہ سے منسوب کرنے کو آپ کیا کہتے ہیں؟‌

ایک محدث امام مالک (ر) بھی ہو گذرا ہے۔ جو کہ اتفاق سے عرب بھی تھا۔ اس کی مرتب کی ہوئی روایت کی کتاب سے آپ کوئی روایت حضرت عیسی کے زندہ ہونے ، زندہ آسمان پر جانے اور زندہ واپس آنے پر فراہم کردیجئے

بھائی یہ سمجھائیے کہ جو امر نہ قرآن میں ملتا ہو اور نہ ہی کم ازم کم ایک عدد حدیث کی کتاب میں بلکی قرآن اس کے بالکل برعکس کہہ رہا ہو تو پھر ایسی روایت کہانی نہیں ہے تو پھر کیا ہے صاحب۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 08-10-09 at 01:51 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 07-10-09, 06:07 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,249
کمائي: 25,911
شکریہ: 6,461
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس سب بحث کو چھوڑئے اور قرآن کی ایک عدد آیت عیسی علیہ السلام کے زندہ اوپر اٹھائے جانے اور زند واپس زمین پر نزول کی پیش کردیجئے ، اتنا اہم مسئلہ اور اتنی اہم بات اور اللہ تعالی بالکل خاموش ؟ بلکہ ان روایات کے برعکس اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وفات دے کر اوپر اٹھایا نہ کہ زندہ رکھ کر اوپر اٹھایا۔۔۔۔ اس امر کو جھٹلانا کیا قرآن کی تردید نہیں ہے؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 07-10-09, 07:48 AM   #19
Senior Member
مقبول
 
شاہد جمیل حفیظ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Dubai
عمر: 28
مراسلات: 119
کمائي: 4,727
شکریہ: 494
91 مراسلہ میں 287 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہد جمیل حفیظ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واقعی قرآن کو سمجھنے کے لے صاحب قرآن حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم ،صحابہ اکرام ،تابعین اکرام کو سمجھنا ضروری ہے
اگر اپنی عقل سے قرآن کی تشریح کریں گے تو لازم بات ہے گمراہ ہی ہو نگے گے۔
شاہد جمیل حفیظ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شاہد جمیل حفیظ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-10-09), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مرزا عامر (10-09-10), ایکسٹو (04-10-10), شھزادباجوہ (08-09-11), عادل سہیل (08-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 07:50 AM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: karachi
مراسلات: 311
کمائي: 4,825
شکریہ: 7
166 مراسلہ میں 328 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غامدی کوئی عالم نہں، جاہل آدمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نا اسکی شکل مسلمانوں جیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصلہ آپ خود کرلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
naeemuddin آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
naeemuddin کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-10-09, 11:05 AM   #21
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,134
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : naeemuddin مراسلہ دیکھیں
غامدی کوئی عالم نہں، جاہل آدمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نا اسکی شکل مسلمانوں جیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصلہ آپ خود کرلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر چہ میں نے آپ کے مُراسلے کو بعینہ "اپرو" کردیا ہے مگر مجھے آپ کے انداز تحریر/تخاطب پر اعتراض ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), رضی (10-09-11), شھزادباجوہ (08-09-11), عادل سہیل (08-10-09)
پرانا 07-10-09, 12:56 PM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,249
کمائي: 25,911
شکریہ: 6,461
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ذہن میں‌رکھئے کہ ہم یہاں انسانوں کی برائی کرنے جمع نہیں ہوئے ہیں۔ جس نظریہ پر بات ہورہی ہے اس پر اگر آپ کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں‌تو غامدی پر کیچڑ اچھالنے سے آپ کی شمعیں کچھ زیادہ روشن نہین ہوجائیں گی

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہو؟
خود تو رکھتے نہیں۔ اور کے بجھاتے ہو چراغ؟

شاعر سے معذرت کے ساتھ۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 07-10-09, 01:02 PM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,249
کمائي: 25,911
شکریہ: 6,461
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہد جمیل حفیظ مراسلہ دیکھیں
واقعی قرآن کو سمجھنے کے لے صاحب قرآن حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم ،صحابہ اکرام ،تابعین اکرام کو سمجھنا ضروری ہے
اگر اپنی عقل سے قرآن کی تشریح کریں گے تو لازم بات ہے گمراہ ہی ہو نگے گے۔
حقیقت یہی ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے صاحب قرآن حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم سے سمجھنا ضروری ہے۔

حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھایا کہ ان کا کوئی قول فعل قرآن کے مخالف نہیں ہوسکتا۔ یہاں تو وفات کو زندہ سے تبدیل کیا گیا ہے۔ کیا متوفی میں اور زندہ میں کچھ فرق ہوتا ہے۔

پھر آپ موطا امام مالک رضی اللہ تعالی عنہہ سے کوئی حدیث پیش کیجئے ، کہ جس سے عیسی علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے کی خبر ملتی ہو۔ کہ یہ صاحب واحد عرب دان محدث ہیں اور ان کی کتاب باقی حدیث کی کتب سے پہلے لکھی گئی تھی۔ اگر نبی اکرم کا کوئی قول بھی اس کتاب میں موجود نہ ہو جو عیسی علیہ السلام کو زندہ اوپر جانے کا بتاتا ہو اور زندہ نیچے آنے کا ، تو پھر اس بات کو کس نے سمجھایا؟ کہانیوں نے؟

حوالہ فراہم کیجئے ان آیات کا جن میں‌ اتنا بڑا معاملہ درج ہو۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 08-10-09 at 01:49 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 07-10-09, 11:30 PM   #24
Senior Member
مقبول
 
شاہد جمیل حفیظ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Dubai
عمر: 28
مراسلات: 119
کمائي: 4,727
شکریہ: 494
91 مراسلہ میں 287 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہد جمیل حفیظ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معذرت کے ساتھ یہ تحریر پیش خدمت ہے میری نظر سے گزری تھی میں نے سوچا آپ بھی پڑھ لیں

جاوید احمد غامدی ( کاکوشاہ )دور حاضر کا فیضی

--------------------------------------------------------------------------------

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کاکوشاہ۔۔۔۔۔دور حاضر کا فیضی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ دین کا فہم نہیں رکھتے بلکہ یہ ہے کہ بعض قوتیں دین کا نام لے کر دین پر حملہ آور ہیں دینی اصلاحات کی آڑ لے کر دین کی روح کو کچلنے کے درپے ہیں ان کے عزائم مخفی ہیں نہ ہتھکنڈے نئے بلکہ سب کچھ واضع اور صاف نظر آنے کے باوجود تحفظ دین کے ذمداران اچکوں کی وارداتوں پر مہر بلب ہیں، بلکہ اٹھائی گیروں کی حرکتوں کو دیکھنے اور جانتے ہوئے چپ ہیں کہ انتہا پسندی کا الزام نہ لگ جائے، ہماری رواداری پر دھبہ نہ لگ جائے دین چاہئے بدنام ہو اس کا چاہئے کوئی حلیہ بگاڑ دے بس ہم پر الزام نہ آئے ہمیں کانٹا نہ چھبے ہمیں برا نہ کیا جائے۔۔۔

اس احتیاط پسندی کا نتیجہ ہے کہ آج کا کوشاہ جیسے لوگ شارح دین ہونے کے دعویدار ہیں دین کی روح سے ناواقف لوگ اجتہاد کی کبڈی میں مصروف ہیں اور حالت یہ ہے کہ کشمالہ طارق کہتی ہیں (میں اجتہاد کروں گی) اجتہاد کیا ہے؟؟؟۔۔۔ اس کی شرائط کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اور حدود و قبود کے ضمن میں کیا دیکھنا پڑتا ہے یہ ایک خالصتا علمی موضوع ہے جس کا کالم سردست متحمل نہیں ہوسکتا البتہ یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ حکومت پاکستان کا مجتہد کون ہے؟؟؟۔۔۔ جو دین میں سے روشن خیالی کا ایڈیشن نکالنے میں ہے اور حکومت کے فیضی کا کردار ادا کرتے ہوئے دین اکبری سے بھی آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔

اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار اور دینی روایات کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ ١٤سوبرس میں دین کی کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے اعمال و فیصلوں سے لے کر آئمہ احادیث تک سے اختلاف کرتے ہیں اور جہاں دال نہ گلے قرآن کو چھوڑ کر تورات اور انجیل تک سے اپنے مقصد کے احکامات نکال لینے میں ثانی نہیں رکھتے۔ خود کو علامہ کہلواتے ہیں لیکن مبلغ علمی اتنا ہے کہ بی اے کرنے کے بعد علم کا دورہ پڑا اور پھر ازخود مطالعہ کرتے کرتے مجتہدین بن بیٹھے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر چند برس بعد ان کے نظریات میں جوہری تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ان کے ساتھی انہیں چھوڑ جاتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات بلکہ ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر اگلی منزلوں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں۔۔۔

حددو اللہ کے خلاف سازش کی قیادت کے علاوہ موصوف پورے اسلامی معاشرے کو روشن خیال بنانے کی فکر رکھنتے ہیں اسی باعث ان کے نزدیک، گانا بجانا، رقص و سردوست جائز ہے پردہ جہالت کی نشانی ہے اگر مغرب پسند نہیں کرتا تو ہمیں پردہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ ستر عورت کے حوالے سے ان کے خیالات میں تغیروتبدل آتا رہتا ہے بعض اوقات جذباتی ہو کر یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ فقہ حنفی میں مرد و عورت کا ستر برابر ہے سوال کریں کہ یہ حنفی کی کونسی کتاب میں ہے تو جواب دل و دماٹ کو باغ باغ کردیتا ہے فرماتے ہیں کہ اب کسی کتاب میں مرقوم نہیں، امام یوسف نے بعد میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بدل دی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب اس بات کا کہیں تذکرہ ہی نہیں ہو و (جناب) کو کہاں سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ رحمہ پر الزام دھرنے اُٹھ کھڑے ہوئے سیدھے سیدھے اپنے دل کی کیوں نہیں کہتے؟؟؟۔۔۔ صرف ستر عورت پر ہی کیا موقوف جناب کے اکثر نظریات کا یہی عالم ہے۔۔۔

ان کے جاننے والے ایک ساتھی کا موقف ہے کہ جسے اسلام پر کوئی شک و شبہ ہو جاوید غامدی سے مل لے اور کچھ نہ ہوا تو مشکوک ضرور ہو جائے گا۔۔۔

موصوف کا تازہ ترین فرمان ہے کہ قرآن کے تمام تر احکامات عملدرآمد کی خاطر نہیں۔ اکثر کا تعلق ریاست مدینہ کے دور سے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت کو آپ نہیں مانتے بلکہ آپ کے نزدیک سنت صرف وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تواتر سے ثابت ہو یعنی سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم قابل اعتناء نہیں۔ قرآن پورے کا پورا قابل نفاذ نہیں حدیث کی ثقاہت پر آپ کو اعتراض ہے تو دین کہاں گیا؟؟؟۔۔۔ یہ دین تا قیامت رہنمائی کیسے کرے گا؟؟؟۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ١٤ سو برس بعد آپ پر یہ انکشاف کیسے ہوگیا کہ قرآن کے تمام احکامات قابل عمل نہیں اور پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا حکم آج کے لئے ہے کون سا متروک ہوچکا ہے موجودہ حکومت کے شارح دین کو جہاد سے بھی خاصی چڑ ہے ان کا نقطہ نظر ہے کہ طاقتور کو حق حاصل ہے کہ وہ کمزور کو دبالے لہذا افغانستان اور عراق پر امریکہ کا قبضہ جائز اور اس کی مزاحمت ناجائز ہے۔۔۔

جناب فیضی جدید کے یہ نظریات وہ ہیں جو ان کے بیانات، مباحث میں عام دستیاب ہیں ورنہ فکری غامدی اور دین اسلام میں اتفاق کم اور بعد المشرقین زیادہ ہے دین اسلام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور ١٤ سو برس سے نافذ اور رائج ہے اس کے مقابلہ میں فکری غامدی سراپا روشن خیالی اور امریکہ کے فرمودات کے عین مطابق ہے موجودہ حکومت کے اس فیضی کی حیثیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف احباب اور نظریات ہی نہیں بدلتے بلکہ نمایاں ہونے کے شوق میں نت نئے نام بھی اختیار کرتے رہتے ہیں۔۔۔

ماضی میں ان کے رفیق خاص رفیق چودہدری نے اپنے ایک مقابلہ میں لکھا ہے کہ علامہ جاوید غامدی کا ابتدائی نام کاکوشاہ تھا بی اے کیا تو محمد شفیق بن چکے تھے بعد ازاں ماڈل ٹاؤن میں سرکار سے پلاٹ الاٹ ہوگیا جہاں دائرۃ فکر کے نام سے ادارہ بنایا اور تحریک اسلامی کے نام سے جماعت بنا کر مولانا مودودی پر تنقید سے کار جہاں کا آغاز کیا جلدہی انہیں محسوس ہوا کہ محمد شفیق تو عام سا نام ہے اس سے علمیت کی گہری چھاپ کا اظہار نہیں ہوتا لہذا جاوید احمد کا لبادہ اوڑھ لیا اور ساتھ ہی جماعت اسلامی کی کی مخالفت چھوڑ کر مولانا مودودی کے سایہ عاطفت میں جاپناہ گزیں ہوئے جہاں انہیں پذیرائی ملی مولانا نے دارالعروبہ سے خالی ہونے والی کوٹھی ٤ ذیلدار پارک ان کے تصرف میں دے دی اور ساتھ ہی ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا انہیں دنوں انہیں عربی سیکھنے کا شوق ہوا اور یہ شوق انہیں فرقہ معتزلہ کے لٹریچر کے قریب لے گیا۔ جہاں ان کی خواہشات کی تکمیل یوں ہوئی کہ چونکہ اس دور میں معتزلہ کے عقائد سے لوگ آگاہ نہیں لہذا (جاوید غامدی) نے اپنی انفرادیت کا سکہ جمانے کی خاطر (کتاب المفصل) اور (الکشاف) نامی معروف معتزلہ تصنیفات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اس دور کسی مرحلہ پر انہیں جاوید احمد نام بھی عام سالگنے لگا تو غامدی کا لاحقہ لگا کر نام کی حد تک خود کو امام قرار دے دیا اور اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی سے بھی رخصت سفر باندھا کہ نظم کی پابندی اور مولانا مودودی جیسے شخص کی موجودگی میں فقیہہ دوراں بننے کا امکان کم تھا۔۔۔

نام کے ساتھ اپنے ادارہ کے نام میں بھی انہیں ہمشہ کسی مخصوص احساس کا سامنا رہا پہلے جسے دائرۃ الفکر کہا تھا وہ کئی رنگ اختیار کرتے کرتے آج کل المورد کے نام سے موجود ہے اس بحث میں نہیں پڑھنا چاہئے بار بار نام بدلنے والے شخص کو ماہرین نفسیات کس نام سے پکارتے ہیں اور اس کیفیت کا کوئی مکمل علاج ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔ اس سلسلہ میں غامدی جانیں ان کے ورثاء جانیں یا وہ جانیں جن کے وہ امام اور مجتہد ہیں ہمیں اس بات سے غرض ہے کہ حدود اللہ کے خلاف جس شخص کو استعمال کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلامی شعائر کے خلاف جسے استعمال ہونا ہے اس کا ماضی کیا ہے اور اس کی شخصیت استعمال کرنے والوں کیلئے کس قدر موزوں ہے۔۔۔۔

ذکر ہو رہا تھا کاکوشاہ المعرف علامہ جاوید احمد غامدی کا کہ کس طرح سے نمایاں ہونے اور (امام وقت) بننے کے شوق میں وہ اپنے نام تک کو بدلنے اور بدلتے رہنے کی حد تک چلے گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معتزلہ کی تعلیمات سے متاثر حدیث اور سنت سے غیر مطمئن، انفرادیت بلکہ خبط عظمت کے مریض اس شخص کا وائٹ ہاؤس کے منبع روشن خیالی سے کنکشن کیسے ہوا؟؟؟۔۔۔ اور یہ سانحہ کس طرح رونما ہوا کہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر کی چار دیواری میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر خود کو دارقد قرار دینے والے اچانک ملک بھر کے ٹی وی چینلز اور حکومت کے لئے محبوب تریں قرار پائے۔۔۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ٢٠٠٤ میں امریکہ محکمہ دفاع سے ایسوسی ایٹ ایک مشاورتی فرم (رینڈ) جسے اردو میں رانڈ بھی پڑھ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا اس ادارہ کے نیشنل سیکورٹی ڈویژن نے امریکی حکومت کے لئے ایک ٨٠ صفحات پر مشتمل ماورتی رپورٹ پیش کی جس کا عنوان (مہذب جمہوری اسلام) رکھا۔۔۔

رپورٹ کے مصنف اور رینڈ کے عہدیدار شیرل بنیار نے اپنی رپورٹ کا ایک خلاصہ بھی تحریر کیا مکمل رپورٹ اور اس کا خلاصہ نیٹ پر جاری کر دیئے گئے۔ عالم اسلام کے ارباب دانش نے اس کا شدت سے نوٹس لیا کیونکہ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ مسلمان اس وقت سوچ و فکر کے چاروں دھاروں میں منقسم ہیں ان میں سے ایک جسے بنیاد پرست کہا جائے وہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ گروہ مغربی کلچر کو تو مسترد کرتا ہے لیکن جدید دور کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو خالص انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کی راہ روکنے کی خاطر روایت پسند طبقے کو استعمال کرنا چاہئیے جو جدید دور کی ضروریات سے عاری ہے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس گروہ کو اسلام اور بنیاد پرستوں کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئیے لیکن اسے مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔۔۔

رینڈ کے مطابق سیکولر طبقہ مغربی انداز فکر اور طرز حیات کے سبب اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ چوتھے گروہ کی حمایت کرے جسے جدت پسند کہا جاتا ہے یہ لوگ اسلام کو جدید بنا کر اور اس میں اصلاحات کر کے موجودہ حالات کے مطابق بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ وہ اس طبقہ کی مالی، مادی، اخلاقی، سیاسی مدد کرے۔۔۔

١- ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کر کے انہیں ارزاں نرخوں پر عام کیا جائے۔۔۔
٢- انہیں عام آدمی اور نوجواں کیلئے لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔۔۔
٣- ان کی آراء اور مذہبی تشریحات پر مبنی سوالات اُٹھائیں اور اس بحث کو عوام میں عام کرنے کا ہر راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔
٤- ان کے توسط سے عام مسلمانوں کے سامنے مغربی کلچر کو متبادل کے طور پر پیش کیا جئے۔۔۔
٥- ان کے ذریعے قبل ازاسلام کی تاریخ۔۔۔غیر اسلامی تاریخ اور کلچر کی نہ صرف حوصلہ افرائی کی جائے بلکہ متعلقہ مسلمان ممالک کے نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں اسے داخل کیا جائے۔۔

یہ اور اسی طرح کے بیشمار سازشی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ جدت پسندوں کو تلاش کر کے اک نئی طرف کا مغرب کے لئے قابل قبول اسلام گھڑا جائے رینڈ کی اس رپورٹ پر ایک محفل میں بحث جاری تھی کہ ایک اخبار نویس نے ازرہ تفنن کہا (لوجی غامدی صاحب کی پانچوں گھی میں ہوگئیں) وہ اس معیار پر سو فیصد پورا اترتے ہیں اس پر شریک محفل ایک اعٰلی سرکاری افسر نے ترنت پوچھا یہ غامدی صاحب کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اصل جملہ یوں تھا (ہاو از شی) انداز ایسا تھا کہ وہ انہیں نام سے عرب خیال کر گئے اس پر اخبار نویس نے کاکوشاہ کا مکمل تعارف کروادیا۔ چند روز بعد ملکی سطح پر ایک حادثہ کے بعد سرکاری افسر پاکستان اسی اخبار نویس کے کٹیاتما غریب خانہ پر غامدی صاحب کا فون نمبر مانگنے آن پہنچے اخبار نویس جانتا تھا کہ جناب غامدی آمریت کے ناقد اور جہموریت کے دلدادہ ہیں ان کے ہتھے شاید نہ چڑھ سکیں کیونکہ ابھی یہ بھرم قائم تھا کہ وہ بکاؤ مال نہیں۔۔۔

مگر پھر ایسی ہوا چلی کہ صرف کاکوشاہ المعروف غامدی اکیلے اپنی پانچوں تانگے کی سواریوں سمیت حکومت کی آنکھ کا تارہ بن کر طلوع ہوئے ہر ٹیلویژن اسکرین انہی کے رُخ (روشن) سے (منور) نظر آنے لگی۔ اشفاق احمد فو ہوئے تو پی ٹی وی نے ان کی جگہ بھی جناب غامدی کو لا بٹھایا جو بڑے دھڑلے سے اسلام کے پردے میں فکر غامدی کی ترویج میں مصروف ہیں سرکاری غیر سرکاری الیکڑانک میڈیا میں ان کا ڈنکا بجتا ہے اور رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ جو آج بھی نیٹ پر دستیاب ہے اس کا ایک ایک حرف عملدرآمد کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔۔

قصرابیض کے روسیاہ دین حنیف کا جس طرح سے حلیہ بگاڑ کر اسے اپنے معاشرے کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ماڈل میں کاکوشاہ کا مرکز روشن خیالی اس کے عین مطابق تشریحات گھڑتا چلا جا رہا ہے امریکیوں کو پردے سے چڑ ہے۔۔۔۔ فکر غامدہ پردہ غیر ضروری فعل ہے۔۔۔

وائٹ ہاؤس کو جہاد سے دشمنی ہے۔۔۔۔ فکر غامدی کے لئے ایسی ایسی ناممکن العمل شرائط لگا کر جہاد کی راہ روک رہا ہے کہ جس کا کسی کو ماضی میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔۔۔

صدر بش کو اسلام سے افغانستان اور عراق پر حملہ کی حمایت چاہئے۔۔۔۔فکر غامدی حدیث اور سنت کو غیر معتبر قرار دے کران کی راہ ہموار کر رہا ہے۔۔۔مغربی خبث باطن توہیں رسالت پر آمادہ ہے۔۔۔۔فکر غامدی توہیں رسالت کی سزا پر معترض ہے اور اہل مغرت کو اس کا حق دیتا ہے۔۔۔ امریکی بدمعاش مسلمان اور قرآن کا تعلق توڑنا اور تقدس ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔فکر غامدی قرآن کے احکامات کو دور حاضر کے لئے ناقابل عمل قرار دیتا ہے۔۔۔مغربی صلیبی قرآن کے مقابلے میں جعلی کتاب لاتے ہیں۔۔۔فکر غامدی اسے ان کا حق مانتا ہے۔۔۔ اور اب امریکی حکمران پاکستان میں حدود قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔۔۔فکر غامدی کا سرحیل اس مہم کا نگران قرار پاتا ہے۔۔۔۔وہ مسلمان کے نصاب تعلیم میں غیر اسلامی کلچر داخل کرنا چاہتے ہیں یہ اسکولوں میں اسلامیات پڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔۔۔۔

کیا اب بھی یہ مان لیا جائے کہ فکر غامدی اور امریکی استعمار کی خواہشات میں مشترکات محض (اتفاق) ہے کی اب بھی اس دور کے فیضی کو شک کا فائدہ دیا جائے گا؟؟؟۔۔۔۔۔

شواہد چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ کاکوشاہ المعروف جاوید غامدی کسی نئے دین اکبری کی نوک پلک سنوار رہا ہے اس کی تعلیمات اور حدود قوانین کے خلاف سازش دراصل حدود اللہ اور اسلام کے خلاف سازش ہے کیا اب بھی اس کا نوٹس نہیں لینا چاہئے؟؟؟۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین، مفتیان شرح متین وہ اس پر چپ کیوں ہیں؟؟؟۔۔۔ اپنا فرض ادا کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟۔۔۔۔


جاوید احمد غامدی ( کاکوشاہ )دور حاضر کا فیضی - URDU MAJLIS FORUM
شاہد جمیل حفیظ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شاہد جمیل حفیظ کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (08-10-09), عادل سہیل (17-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 12:20 AM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اللہ کرے آپ کی محنت فاروق بھائی کو کچھ درست بات بھی سمجھانے کا سبب بن سکے ،
اللہ مزید خیر کی توفیق عطاء فرمائے ، اور مجھ سے دو چار سو چچا عطاء فرمائے ، اور مجھے آپ جسیے دو چار ہزار بھتیجے عطاء فرمائے ، تا کہ فاروق بھائی کی خوشی کے لیے """ ملاؤں """ کی ایک مزید کھیپ تیار ہو جائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), حیدر (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 12:48 AM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بہت کھلے الفاظ مین ان روایات سے انکار کرتا ہوں‌جو صاف صاف قرآن کے خلاف ہیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، فاروق بھائی آج تک آپ اپنے """ خلاف قران """ والے فلسفے کی وضاحت نہیں فرما سکے ، اس موضوع پر آپ سے بہت گفتگو ہو چکی اور آپ کی طرف میرے سوالات کا انبار جوابات کے لیے موجود ہے ، پہلے اپنے اس فلسفے کی کوئی ایسی تعریف پیش کر لیجیے جس کا آپ خود ہی انکار نہ کر چکے ہوں ، پھر اس کی بات کیجیے ،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 12:50 AM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
قرآن کہتا ہے کہ "وفات" کے بعد "ارفع"‌ کیا۔ یہ وفات ، عمر کا پورا ہونا، ننیند آنا، مکمل ہونا، موت آنا تو ممکن ہے۔ لیکن یہ زندہ رہنا کیسے ہوا ؟

ایسا کیسے ہے کہ روایت صاف صاف قرآن کی مخالفت کررہی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اسے مان لو۔ من گھڑت باتوں کو رسول اللہ سے منسوب کرنے کو آپ کیا کہتے ہیں؟‌
بھائی جی ، یہ بھی پہلے بتا چکا ہوں کہ قران اللہ کی مخلوق نہیں جسے اللہ نے کچھ کہنے کی قدرت دی ہو ، بلکہ اللہ کا کلام ہے ، لہذا قران میں اللہ کہتا ہے ، نہ قران کہتا ہے ،
اسی قران میں سے بنیادی عقیدہ بھی سیکھنے کی کوشش فرمایے ان شاء اللہ فائدہ مند ہو گا ،
فاروق بھائی ، اپنی ترجموں پر منحصر قران فہمی کو ایک طرف رکھتے ہوئے ، جس کی بنا پر آپ """ متوفی ""' کا ترجمہ بھی """ متوفی """ ہی کر رہے ہیں ، اس ترجموں کی محتاج قران فہمی کو ایک طرف رکھ کر عیسی علیہ السلام کے بارے میں اللہ طرف سے وفات دینے اور اوپر اٹھا لینے کے فرمان کی کچھ تفیسر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال سے ، اور امت کے ائمہ کے اقوال سے سیکھنے کی کوشش کیجیے ، ان شاء اللہ افاقہ ہو گا ،
بھیتجے کے سابقہ مراسلے کا دھیمے دھیمے بغور مطالعہ فرمایے ،
یہ بھی پہلے بارہا کہہ چکا ہوں کہ جتنا وقت آپ حدیث مبارک پر طعن کرنے میں لگاتے ہیں اس کا عشر عشیر ہی حدیث اور علوم حدیث کے مطالعے میں لگایے تو ان شاء اللہ اس گمراہ فلسفے سے نکل جائیں گے جس میں آپ پھنسے ہوئے ہیں اور جس کا پرچار کرنے میں اپنی قوتیں صرف کر رہے ہیں اور ایسی فاش غلطیاں بھی نہ ہوں جسیی کہ آپ کر رہے ہیں ، آگے ملاحظہ فرمایے ،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 12:53 AM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایک محدث ابن مالک بھی ہو گذرا ہے۔ جو کہ اتفاق سے عرب بھی تھا۔ اس کی مرتب کی ہوئی روایت کی کتاب سے آپ کوئی روایت حضرت عیسی کے زندہ ہونے ، زندہ آسمان پر جانے اور زندہ واپس آنے پر فراہم کردیجئے

بھائی یہ سمجھائیے کہ جو امر نہ قرآن میں ملتا ہو اور نہ ہی کم ازم کم ایک عدد حدیث کی کتاب میں بلکی قرآن اس کے بالکل برعکس کہہ رہا ہو تو پھر ایسی روایت کہانی نہیں ہے تو پھر کیا ہے صاحب۔
افسوس کرنے کے علاوہ اور کیا کہوں ، بڑے بھائی ، کسی بات کی مخالفت کرنے کے لیے بھی اس کا کچھ علم حاصل کرنا چاہیے ،
پھر کہنا پڑتا ہے کہ جتنا وقت آپ مخالفت حدیث میں لگاتے ہیں اس کا دسواں حصہ حدیث اور علوم حدیث سیکھنے میں لگاتے تو اپنے گمراہ فلسفے سے نکل جاتے ، ان شاء اللہ ،
بڑے بھائی ، یہ """ ابن مالک """ نامی محدث کون تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
افسوس صد افسوس ، ایک تو نسبی نام کو نام قرار دے رہے ہیں ، بلکہ نسب کو ہی بگاڑ رہے ہیں اور پھر اسے ایک محدث کا نام بھی کہہ رہے ہیں ، اور اس غلطی کو ایک اور مراسلے میں بھی دہرا رہے ہیں ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
جس کو محدثین اور ائمہ رحمہم اللہ کے نام تک پتہ نہیں، وہ ان کے علم کو کیا جانے گا ، اور وہ ان کی عزت و عظمت کو کیا پیچانے گا ، وہ تو اسی طرح تحقیر انداز میں ان کا ذکر کرے گا کہ """ ایک محدث ابن مالک بھی ہو گذرا ہے ""'' جیسے یہ حضرت تو امام المحدیثن ہیں ، جنہیں ترجموں کی محتاج قران فہمی کے زعم میں حدیث کا انکار کرنے میں کوئی عار نہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), حیدر (08-10-09), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 01:01 AM   #29
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

ایک محدث ابن مالک بھی ہو گذرا ہے۔ جو کہ اتفاق سے عرب بھی تھا۔ اس کی مرتب کی ہوئی روایت کی کتاب سے آپ کوئی روایت حضرت عیسی کے زندہ ہونے ، زندہ آسمان پر جانے اور زندہ واپس آنے پر فراہم کردیجئے

بھائی یہ سمجھائیے کہ جو امر نہ قرآن میں ملتا ہو اور نہ ہی کم ازم کم ایک عدد حدیث کی کتاب میں بلکی قرآن اس کے بالکل برعکس کہہ رہا ہو تو پھر ایسی روایت کہانی نہیں ہے تو پھر کیا ہے صاحب۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، کیا اگر حدیث کی کسی ایک کتاب میں کسی بات کا ذکر نہ ہو تو دیگر کتابیں صحیح اسناد کے ساتھ اس بات کو بیان کرتے ہوں تو اس بات کا انکار کیا جائے گا ؟؟؟
آپ نے جس کتاب کا ذکر کیا ہے ( اس کی بات ابھی کرتا ہوں ان شاء اللہ ) اگر یہ کتاب آپ کے لیے حجت ہے تو کیا اس میں موجود تمام روایات کو آپ مان لیں گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
محترم بھائی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قران میں عیسی علیہ السلام کے بارے میں جو فرمایا وہ وہی ہے جو ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تفسیر میں ملتا ہے اس کے خلاف کچھ بھی کہا گیا ہوا مردود ہے ، ایک دفعہ پھر گذارش ہے کہ ترجموں کی محتاج قران فہمی سے نکلیے ، کچھ قواعد لغت ہی سیکھ لیجیے اس سے بھی ان شاء اللہ تعالی آپ کے فلسفے کی ہوا اکھڑ جائے گی ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), آصف وسیم (20-09-10), حیدر (08-10-09), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 01:26 AM   #30
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ایک محدث ابن مالک بھی ہو گذرا ہے۔ جو کہ اتفاق سے عرب بھی تھا۔ اس کی مرتب کی ہوئی روایت کی کتاب سے آپ کوئی روایت حضرت عیسی کے زندہ ہونے ، زندہ آسمان پر جانے اور زندہ واپس آنے پر فراہم کردیجئے
السلام علیکم ور رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی اپنے اس انداز تخاطب اور لا علمی کی خود ہی داد دے لیجیے ، ایک امام کا ذکر آپ کس قدر حقارت اور طنزیہ انداز میں کر رہے ہیں ، جس کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے کہ ان شاء اللہ ایک کڑوڑ فاروق سرور بھی ہوں اور جو کچھ ٓپ کر رہے ہیں وہ سب وہی کچھ ہزاروں سال کرتے رہیں تو بھی اس عظیم مومن کی ایک رات کی عبادت اور اللہ کے دین کے لیے برداشت کی ہوئی ایک دن کی مشقت ، اور اللہ کے دین کو سکھانے کی ایک مجلس ،کے برابر نہیں ہو سکتے ، ان شاء اللہ و باذنہ ،
آپ کو یقینا پتہ نہیں کہ آپ سے کس شخصیت کے بارے میں اُس رویے کا اظاہر ہو گیا جو آپ کے اندر """ملاوں """ کے لیے موج زن ہے ، جسے چھپانے کے لیے آپ """ ملاء ""' کو ایک اصطلاح کہہ چکے ہیں ، اور اماموں کے خلاف بات نہ کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں ،اور یہاں اپنے اس دعویٰ کو خود ہی غلط بھی ثابت کر دیا ہے ، اللہ کا شکر ہے جو جس کا بھید چاہے افشاء کر دیتا ہے ،
آپ نے اہنے دوسرے مراسلے میں اسی """ ایک اتفاقی عرب محدث """ کی کتاب کا ذکر بھی کر دیا ہے کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پھر آپ موطہ ابن مالک سے کوئی حدیث پیش کیجئے ، کہ جس سے عیسی علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے کی خبر ملتی ہو۔ کہ یہ صاحب واحد عرب دان محدث ہیں اور ان کی کتاب باقی حدیث کی کتب سے پہلے لکھی گئی تھی۔ اگر نبی اکرم کا کوئی قول بھی اس کتاب میں موجود نہ ہو جو عیسی علیہ السلام کو زندہ اوپر جانے کا بتاتا ہو اور زندہ نیچے آنے کا ، تو پھر اس بات کو کس نے سمجھایا؟ کہانیوں نے؟
فاروق بھائی ، غلطیوں کی کوئی تو حد رکھ لیجیے ، اعتراض کرنے چلے ہیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر تو ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ اس طرح بھونچکا کیے رکھے گا ،
جناب ، اس کتاب کا نام """ موطہ """ نہیں ، """ مؤطا """ ہے ، """ مؤطا مالک """ ،
اور کتاب کے مؤلف محدث کا نام ""' ابن مالک ""' نہیں ، بلکہ """ مالک ابن أنس """ ہے ، جو مسلمانوں کے چار بڑے اور پہلے اماموں میں سے زمانے کے لحاظ سے دوسرے امام ہیں ، اور آپ نے دو دفعہ ان کا ذکر اس طرح کیا ہے گویا کہ وہ کوئی معمولی سا شخص ہوں

یہ ایک دلیل ہے آپ کی ہر ایک دین دار ملسمان کو بلا لحاظ و فرق """ ملاء """ سمجھنے کی ، اور آپ کی """ ملاء سے محبت """ تو اب ہر کسی کے لیے معروف ہو چکی ،
تو غور فرمایے ، زعم علم میں آپ نے """" امام المدینہ مالک ابن انس رحمہ اللہ """ کو کیا سے کیا بنا دیا ،
کچھ تو سیکھ لیجیے فاروق بھائی ، کبھی حوالہ جات کا ذکر کرنے سے کم از کم ان کا ٹائٹیل ہی دیکھ لیا کیجیے ، کتاب اور مصنف یا صحیح نام تو پتہ چلا جائے گا ،
پہلے بھی پوچھا تھا اب پھر پوچھ رہا ہوں ، مؤطا مالک کو آپ اپنے لیے صرف اسی معاملے میں حجت سمجھتے ہیں یا اس کی ہر روایت کو مانیں گے ؟؟؟ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-10-09), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (08-10-09), شھزادباجوہ (08-09-11), شاہد جمیل حفیظ (08-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
جواب

Tags
پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی گلاب خان خبریں 2 18-06-11 04:16 PM
اچھے عیسٰی ہو، Wahid Mahmood امیر مینائی 5 03-12-10 11:32 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 14 30-06-09 08:32 PM
چائنہ موبائل کی پیشکش"زونگ Zong " لانچ ہو گئ فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 0 07-04-08 09:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger