| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10) |
|
|
#151 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت خوب ریحان بھائی ، ایسی مثالیں آپ کو ہی بھلی لگتی ہیں ، سچ کہا کسی نے جس برتن میں جو ہوتا ہے وہی باہر نکلتا ہے ، میرے بھائی آپ نے میرے جس مراسلے کا پہلا حصہ لے کر اپنا یہ مراسلہ جڑ دیا ہے اسی کا بغور مطالعہ فرمایے اگر پھر بھی سمجھ نہیں آتی تو ((((( وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ::: اور اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ))))) ، بھائی اگر دو چار دفعہ پڑھنے سے بات کی سمجھ نہیں آتی تو جب تک سمجھ نہ آئےسمجھنے کی کوشش کرتے رہا کیجیے ، ریحان بھائی توجہ فرمایے شاید بصیرت کے ساتھ ساتھ اب بصارت بھی کمزور پڑنے لگی ہے کہ آیت کے حوالے سے دیا گیا جواب آپ کو دکھائی بھی نہیں دیا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#152 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہم تو چاہ رہے تھے کہ آپ کا رہا سہا بھرم قائم رہے مگر جب خود آپ ہی کو نامظور ٹھرا تو بندہ کیا کرسکتا ہے ۔ ۔ لہزا برائے مہربانی اپنی پیش کردہ روایت کی وجہ استدلال کا تحقق فرمائیے محل نزاع میں اس روایت سے استدلال کو بیان فرمایئے نیز یہ وضاحت کیجیئے کہ کس مسئلہ کہ معارض میں آپ نے اس روایت سے دلیل پکڑی اور کس مسئلہ کا مذکورہ روایت سے استنباط فرمایا ہے بندہ انتظار کرے گا والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#153 | |
|
Senior Member
![]() |
السلام و علیکم عابد بھائی
ایک بار پھر دخل در اندازی پر معافی چاہوں گا پھر ایک لفظ کی وضاحت چاہتا ہوں ۔۔ اقتباس:
سَفاہَت [سَفا + ہَت] (عربی) اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی اور حالت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً 1780ء سے "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔ اسم کیفیت ( مؤنث - واحد ) 1. بے وقوفی، حماقت۔ "قاری اس کی باقاعدگی سے مرعوب ہو کر اس کے مندرجات کی سفاہت اور ذہنی افلاس سے واقف نہ ہو سکے۔" ( 1970ء، برش قلم، 327 ) 2. گھٹیا پن، کمینہ پن۔ یہ طیش و سفاہت یہ کذب و خنا فہم فی الریا ستہ متنا فسون ( 1969ء، مزمورِ میر مغنی، 51 ) سفاہت کا لفظ تو منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے پھر آپ نے یہ لفظ کس معنوں میں استعمال کیا ہے امید ہے آپ ہمارے علم میں اضافے کا باعث ہوں گے۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (22-03-10) |
|
|
#154 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
پہلی بات ؛ـ اتنی لمبی بات لکھنے کہ بجائے آپ وہ ہی بات جو ہمیں مراسلے میں ڈھونڈنے کہ لیے کہہ رہے ہیں وہ لکھ دیتے ۔تو شاید زیادہ بہتر ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری بات :- میرے سوال کا جواب اگر کہیں ہوتا تو یقینا میں خاموش ہوجاتا ۔ ۔ کیونکہ میں اپنے سوال سے زیادہ مانوس ہوں ۔ ۔خشبو سونگھ کرہی اندازہ لگا لیتا ۔ ۔ ۔ پھر مجھے بصارت اور بصیرت کی ضرورت ہی نہی پڑتی (اللہ جانے کتنی بصارت و بصیرت کی ضرورت پڑے گی اپ کے جواب کو ڈھنڈنے کے لیے ۔۔۔۔یہ بھی نہ اندازہ کرنا پڑے گا۔) |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | اویسی (22-03-10) |
|
|
#155 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#157 | ||||||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
قارئین کرام واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں ہمارے موصوف عبداللہ آدم بھائی کس کس طرح سے قلا بازیاں کھا رہے ہیں اور یون خلط مبحث کرکے اصل موضوع یعنی نفس مسئلہ سے توجہ ہٹانے کا موجب بن رہے ہیں ہم زیل میں حجرت کے تمام مراسلات کو ترتیب وار پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کرام پر حقیقت واضح ہوسکے ۔ ۔ ۔لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید تاکہ نفس مسئلہ واضح ہوسکے ۔ ۔ عادل سہیل بھائی نے عبدالرسول اور غلام رسول ناموں کو شرک جلی قرار دیا ہم نے اس پر اعتراض کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ۔ ۔ جس کہ جواب میں عادل بھائی نے عقلی دلیل پیش کی اگر یہ نام جائز ہوتے تو صحابہ کرام ضرور رکھتے جسکے جواب میں ہم نے عرض کی کہ صحابہ کرام کا کسی کام کو نہ کرنا یعنی ترک فعل کسی بھی کام کی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ صحابہ تو کجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک فعل بھی ممانعت کی دلیل نہیں ہاں البتہ وہ اباحت کی دلیل ضرور ہے اور ہم نے اس پر دلائل رقم کیئے جس کہ بعد اسلام کا قانون اباحت زیر بحث آیا ۔ ۔ کیونکہ مطلق ترک سے ممانعت مراد لینے سے اسلام کے قانون اباحت کا قلع قمع ہوتا تھا اس لیے ہم نے اباحت کی وضاحت کی ۔ ۔ جس پر پہلے ساہج بھائی کو پھر عبداللہ آدم صاحب کو اعتراض ہوا جس پر عبداللہ آدم صاحب نے درج زیل رپلائی ارقام فرمایا ۔ ۔ ۔ اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
آپ کہتے ہیں کہ تمام کی تمام نیکیاں اور برائیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلادیں لہذا فی زمانہ اب کوئی نہ تو کوئی اچھا کام ہوسکتا ہے کہ جس پر نیکی کا اطلاق کیا جائے اور نہ ہی کوئی نیا برا کام ہوسکتا ہے کہ جس پر برائی کا اطلاق ہو آپکے الفاظ درج زیل ہیں ۔ ۔ اقتباس:
آپکی یہ دلیل کتنی بودھی ہے اس کا اندازہ کوئی معمولی عقل والا بھی با آسانی لگا سکتا ہے یعنی اگر آج کہ دور میں کوئی کچھ بھی کرتا پھرے برائی کہ نت نئے طریقے ایجاد کرئے مگر وہ چونکہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھے اس لیے ان پر کوئی پکڑ ہی نہیں ہوگی ۔ ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ قربان جاؤں میں آپکی حدیث دانی پر فرماتے ہیں کہ ۔ ۔۔ اپنی مرضی،چاہت ،اور خواہش سے جو مرضی ایجاد کیا جائے اب وہ ((ما ترکت)) کے زمرے میں نہیں آسکتا کہ سرکار اس کو چھوڑ کر نہیں گئے اور بعینہ کوئی گناہ بھی نیا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ آقا علی الصلٰوۃ والسلام نے اس سے نہیں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ حدیث کی صحیح تفہیم اصل میں یہ حدیث ہمارے معارض نہیں بلکہ ہمارے موئد ہے کیونکہ اس میں یہ صراحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلال و حرام کو وضاحت سے بیان کردیا اور وہ وضاحت اسلام کے جملہ قوانین کی صورت میں سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام نے حرام چیزوں کی تفصیل بیان کی ہےجیسے کہ قد فصل لکم کی آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے اور حلال کو بھی قرآن و سنت نہیں کہیں مجملا حلال قانون اباحت کی صورت میں اور کہیں صحابہ کرام کے سوال پوچھنے پر تفصیلا حلال فرما دیا لہزا اب اگر اس حدیث کو قرآن و سنت کے تمام نصوص کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا کہ میں نے تم کو ہر ہر شئے بتلا دی سے مراد احکام کی تفصیل بایں معنٰی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ میں تمام کی تمام اشیاء مذکور ہوں بلکہ قانون و اصول و قواعد کی تفصیل ہے کہ جس میں کسی بھی شئے کی حرمت کا قانون حلت کا قانون اور اباحت کا قانون بھی شامل ہے ۔ ۔۔ یعنی دوسرے لفظوں میں آپ کا یہ کہنا کہ میں نے تمیں جنت کہ قریب اور دوزخ سے دور کرنے والے تمام احکام بطور اصول دین بتلادیئے کہیں فسلفہ حلال و حرام کی صورت میں اور کہیں اصول اباحت کی صورت میں لہذا اسلام کا اصول اباحت بھی اسی حدیث کے زیر عنوان ہی آتا ہے ۔ ۔ ۔ عبداللہ آدم بھائی ۔ ۔ آپ کتنی قلا بازیاں کھائیں گے کبھی آپ مطلقا ترک رسول کو سنت قرار دیتے ہیں اور یوں قانون اباحت پر پڑنے والی زد میں ساتھ شامل ہوتے ہیں اور جب ہم آپکی اس امر میں گرفت کرتے ہیں تو آپ قلا بازی کھا کر یہ فرماتے ہیں کہ قانون اباحت کا اطلاق عبادات میں نہیں ہوتا اور جب ہم اسکی بھی وضاحت کرتے ہیں تو اب پھر آپ امور کہ دینی اور دنیاوی تفریق کو لے آتے ہیں اور جب ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ بچوں کا نام رکھنا کیا آیا دینی کام ہے یا دنیاوی آیا عبادت یے یاغیر عبادت ؟ تو ہم آپکی زبان کو یہاں کسی بھی جواب سے گنگ پاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ یہ جتنے بھی بے بودھے اعتراضات آپ فرما رہے ہیں یہ اتنے بودھے ہیں کہ آپ خود ہی ان کا شکار ہورہے اور بار بار پینترا بدل کر فقط خلط مبحث کا وقوع فرما رہیے ہیں دیگر کچھ نہیں ۔ ۔ باقی آپ نے جو اثر عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پیش فرمایا ہے اسکا تفصیلی رد ہم اسی فورم پر کرچکے ہیں پٹے ہوئے مہروں کو میدان استدلال میں لانا کسی ایسی ہی شخصیت سے متصور ہوسکتا ہے جو کہ بار بار فقط قلا بازیاں ہی کھاتی ہو ۔ ۔ ۔ |
||||||||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#158 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عابد بھائی ، میں پہلے بھی گذارش کر چکا ہوں کہ میں اپنی عدیم الفرصتی کی وجہ سے آپ سے گفتگو نہیں کر پا رہا ، لیکن آپ اس کی وجہ سے کچھ غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں ، میرے بھائی آپ کے اعتراضات کے جوابات پہلے ارسال کر چکا ہوں ، اور بارہا میرے سابقہ مراسلات کے مطالعہ کی درخواست بھی کر چکا ہوں ، پھر اس کے بعد منقولہ ذیل تفصیل بھی ارسال کر چکا ہوں ::: اقتباس:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنے کا شرعی حکم بھی وہیں بیان ہو رہا ہے ، اور ان شاء اللہ اسلام کے قانون اباحت کی تفصیل بھی وہیں بیان ہو جائے گی ، فی الحال اس معاملے میں صرف بار بار کہی گئی بات دہراتا ہوں کہ اسلام کا قانون اباحت عبادات اور عقائد کے لیے نہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے کسی کام کو ترک کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے وہ بھی فقہ حنفی کے ایک امام رحمہ اللہ کی کتاب میںسے ذکر کر چکا ہوں اور کہہ چکا ہوں کہ ان شاء اللہ دیگر معلومات بھی مہیا کر دوں گا ، عابد بھائی ، آپ تقریبا اپنے ہر مراسلے میں """ خلط مبحث """ کا ذکر کر رہے ہیں ، ذرا توجہ کیجیے کہیں آپ خود بھی تو اس کام میںمشغول نہیں ؟ و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
|
|
#159 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بجا فرمایا اپ نے عابد بھائی:
احادیث ہم پیش کر رہے ہیں اور علم کلام آپ کو مبارک ہو۔ اسی لیے مراسلہ حقیقت بدعت والے تھریڈ میں لگایا تھا کہ میں بدعت اور اس کے ضمن میں آنے والی چیزوں کی بابت آپ کے نظریے سے اختلاف کرتا ہوں اور یہاں جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا کہ بات اور موضوع پر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناموں کے موضوع پر میں نے بات ہی نہیں کی کہ عادل سھیل صاحب بات کر رہے ہیں، باقی پڑھنے والے بھی دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہر دلیل کے جواب میں خلط مبحث کا رولا کون ڈال رہا ہے۔۔۔۔۔ (((سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔)))) دین یہی تھا اور یہی رہے گا،نیکی کے بارے میں تو آپ کا مبلغ علم ظاہر ہو ہی چکا کہ کوئی بھی نئی چیز نیت ثواب سے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس بلے بلے۔میرے بھائی پھر سنت اور بدعت کی تقسیم کی کیا ضرورت تھی؟ بھئی واقعی آپکا جواب نہیں۔اور ھاں کچھ بدعات بھی گنوا دیں جو آپکی نظر میں بدعات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور رہی بات برائی کے نئے ہونے کی تو جناب والا برائی کی صورتیں بدلتی رہی ہیں ہر دور میں گناہ وہی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کوئی نیا گناہ آپ بتائیں تو سھی جو پہلے ادوار میں نہ رہا ہو، بدل کر بھیس پھر آتے ہیں زمانے میں اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات والی بات ہے۔چوری،سود،بے حیائی،قیل وغیرہ وغیرہ میں سے کونسا نئی برائی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی پتا چلے کہ کچھ ایسی جدید ترین برائیاں بھی ہیں جن کی اس دین ھدٰی میں تنبیہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Last edited by عبداللہ آدم; 23-03-10 at 03:39 PM. وجہ: replacing a word(special thanks to aabid bhai) |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (24-03-10) |
|
|
#160 | ||||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہ شریعت کے قانون پر جس طرح سے اہل علم نے غور کیا ہے اس کا ایک طریق فقہ کہلاتا ہے کہ جس میں مسائل و جزئیات کا تفصیلی نقشہ کھینچا جاتا ہے اور شریعت اسلام کی وسعتوں کی جو جو بھی جزئیات و تفریعات ہوں ان کا احاطہ کيا جاتا ہے۔ یہی فقہ ہے اور اس کے جاننے والے کو فقیہ کہتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر غور و فکر کا جو دوسرا نہج ہے وہ یہ ہے کہ ان جزئیات و فروعات کے پیچھے جو اصول جو قانونی روح اور اصول و قواعد بصورت قانون کار فرما ہیں ان کا سراغ لگایا جاۓ لہزا اس سراغ رسانی کو یعنی اس فن کو اصول کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے جاننے والے کو اصولیین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے رہ گیا علم الکلام تو اس کا بھی شریعت کے ساتھ بڑا گہرا ربط ہے اس لحاظ سے کہ شریعت و فقہ کی جزئیات کو عقل و خرد اور فلسفہ و حکمت کی کسوٹیوں پر پرکھنے کا کام اسی علم الکلام سے ہی لیا جاتا ہے اور تاریخ اسلامی میں اس فن کے ماہرین کو متکلمین کہا جاتا ہے، جو دین و دانش میں ربط و توافق تلاش کرتے ہیں اور مذہب کے لیے ایسے عقلی و فکری پیمانے مہیا کرتے جو مغربی فلسفہ و اصول سے پراگندہ ذہنیت سے شکوک و شبہات کہ ورود کا خروج کرسکیں تاکہ ایسی ذہنیتیں طمانیت پا سکیں ۔ ۔ ۔ یہ ساری تمہید اس لیے باندھی کہ اول ہماری گفتگو کا محور علم الکلام نہیں بلکہ علم اصول تھا اور دوم اگر علم الکلام سے بھی مدد لی جائے تو وہ کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے باقی آپکی بصیرت تو روز بروز ترقی کے مراحل طے کررہی کہ کرنے چلیں دین پر بحث اور لیاقت اتنی ہے کہ علم اصول دین اور کلامی مباحث کا فرق نہیں معلوم خیر کوئی بات نہیں ہوتا ہے جب دین کو آپ جیسے لوگ بازیچہ اطفال بنا لیں کہ جن کا شیوہ ہی بات بات پر شرک اور بدعت کے فتوے لگانا ہوتو پھر ایسا ہی ہوتا ہے میرے پیارے ۔ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
![]() اقتباس:
اقتباس:
![]() (((سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔)))) اقتباس:
ضرورت اور سنت کی تقسیم ہاہاہاہاہاا![]() اماں کیا ہوگیا بھئیے خود بھی نشے میں ہو اور قلم کو بھی بہکا رہے ہو رہ گئی بدعتیں تو جناب والا گنواتا ہوں ناں سب سے بڑی بدعت تو یہ ہے کہ دین کی الف بے بھی نہیں آتی لوگوں کو اور چلے آتے ہیں مباحثے کرنے دوسری یہ کہ بات بات پر شرک و بدعت کے فتوے لگانا اور پھر شرک اور بدعت کی تعریف نہ کر سکنا اور جو تعریف کرنا اس پر پر بھی طرح طرح کی خود ساختہ حدود و قیود کا لگانا وغیرہ یہ سب بدعات سیئہ ہی ہیں اقتباس:
میرے حضور آپ کا یہ اصول تسلیم تو پھر کیا وجہ ہے حجور کہ اسی اصول پر چل کر آپ حسنات کو نہیں اپناتے ؟؟؟؟؟ اگر بقول آپ کے برائی صورتیں بدل بدل کر آتی ہے تو کیا فقط نیکی کے دامن میں ہی جبر ہے اور وہ اتنا محدود و تنگ ہے کہ وہ اپنی صورت و ہیئت بدل کر نہ آسکے جب آپکو برائی کے شکل بدل کر آنے سے برائی کے وجود کا تحقق آج بھی ہوجاتا ہے اور آپ اپنی پہلی کہی گئی بات ( یعنی برائی یا گناہ فقط وہی ہوگا کہ جسکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتا دے دیا تھا ) سے بالکل یو ٹرن لیتے ہوئے آج کے زمانے میں بھی برائی کو برائی اور گناہ سمجھ رہے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ نیکی کی صورت و ہیئت کا تبدیل ہوجانا آپکو قابل قبول نہیں ؟؟؟؟؟ نیکی بیچاری نے آپ کا ایسا کیا گناہ کردیا وہ بیچاری اگر آج کے دور میں اپنی ہیئت بدل کر بھی آئے تو اسے شرف پزیرائی نہیں بخشتے جبکہ برائی کے لیے آپ کا دامن بڑا وسیع ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اصل میں حقیقت یہ ہے کہ اچھائی ہو یا برائی دنوں کے وجود کا تحقق انسانی فطرت میں ودیعت کردہ ہے اور یہ قرآنی فلسفہ ہے جو وھدینہ النجدین کی نص سے ثابت ہے ۔ ۔ ۔ اب جو بھی اچھی بات ہوگی وہ ضرور بالضرور دین کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہوگی اور جو بھی برائی ہوگئ اسکا لازم دین اور اصول دین کے ساتھ ٹکراؤ پیدا ہوگا نہ کہ کسی بھی برائی اور اچھائی کا تحقق کسی بھی خاص زمان و مکان کی قید کے ساتھ خاص ہے اور یہ ایک اسی بدیہی بات ہے کہ جسکا انکار کوئی نہ کرئے گا مگر وہ جو کہ بدعقل اور کور باطن ہو ۔ ۔ ۔ والسلام |
||||||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#161 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (25-03-10), عادل سہیل (24-03-10) |
|
|
#162 |
|
Senior Member
![]() |
: ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور کہا کہ جو کوئی دعویٰ کرے کہ ہمارے پاس ( یعنی اہل بیت کے پاس ) کتاب اللہ اور اس صحیفہ ، راوی نے کہا کہ صحیفہ ان کی تلوار کے میان میں لٹکا ہوا تھا ، کے سوا کوئی اور چیز ہے تو اس نے جھوٹ کہا اور اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں ( زکوٰۃ کے متعلقات ) اور کچھ زخموں کا بیان ہے ( یعنی قصاص اور دیتوں کا بیان ) اور اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کا جبل عیر سے جبل ثور تک کا علاقہ حرم ہے ۔ پس جو شخص مدینہ میں کوئی نئی بات یعنی بدعت نکالے یا نئی بات نکالنے والے کو یعنی بدعتی کو جگہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی بھی ۔ اللہ تعالیٰ اس کا نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ سنت ۔ اور امان دینا ہر مسلمان کا برابر ہے کہ ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے ۔ اور جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی غیر کا فرزند ٹھہرایا ، یا اپنے آقاؤں کے سوا کسی دوسرے کا غلام اپنے آپ کو قرار دیا تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ کوئی سنت ۔ ( یہاں ” حدث “ سے مراد کوئی بھی جرم ہے اور اس میں یہ ( بات یعنی بدعت ) بھی شامل ہے ) صحیح مسلم حج کے مسائل باب : حرم مدینہ اور اس کے شکار اور درخت کی حرمت اور اس کے لئے دعا کا بیان ۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#163 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا تو لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی ۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی ، یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا ۔ پھر ایک انصاری شخص روپوں کی ایک تھیلی لے کر آیا ، پھر دوسرا آیا ، یہاں تک کہ ( صدقہ اور خیرات کا ) تار بندھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے ( یعنی عمدہ کام کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہو اور اس کا نمونہ قرآن و سنت میں موجود ہو ) پھر لوگ اس کے بعد اس کام پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی اور جو اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا ۔
صحیح مسلم علم کے بیان میں باب : جو شخص اسلام میں اچھا یا برا طریقہ جاری کرے ۔ |
|
|
|
|
|
#164 |
|
Senior Member
![]() |
ابوالطفیل عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو چھپا کر کیا بتلاتے تھے ؟
یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں بتلائی جو اور لوگوں سے چھپائی ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چار باتیں فرمائیں ۔ وہ شخص بولا کہ اے امیرالمؤمنین ! وہ کیا ہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 1 ۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ پر لعنت کرے ۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو اللہ کے سوا اور کسی کے لئے ذبح کرے ۔ 3 ۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو جگہ دے ۔ 4 ۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو زمین کے نشان کو بدل دے صحیح مسلم قربانی کے مسائل باب : اس کے متعلق جو غیراللہ کے نام پر ذبح کرے ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#165 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:
عابد بھائی اس تھریڈ کا لنک بھی دے دیں جھاں اپ نے عبد اللہ بن مسعود والے اثر کا رد کیا ہے۔ہم بھی تو دیکھیں کہ فہم صحابہ کا رد کس انداز میں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہی تو آپ نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق پائی جانے والی کچھ بدعات گنوائی ہیں اور نہ ہی کچھ نئی برائیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو زمانہ نبوی میں نہ پائی جاتی تھیں اور آج ہیں۔۔۔۔۔۔۔ در اصل آپکا مزعومہ قانون اباحت اسلام میں کسی بھی نئی چیز کو بدعت کہنے کی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں ہے،جو بھی اچھا سمجھو کرو،بس ہر اچھی چیز دیں ہے،چاہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو نہ بتائی ہو،اس طرح تو آپ (نعوذ باللہ)بنی صلی اللہ علیہ و سلم پر بالواسطہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انہیں کچھ حسنات کا پتہ تو تھا لیکن انہوں نے امت کو نہیں بتلایا جو کہ قرآن کے صریحا خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ))المائدہ) احادیث کا آپ رد کرتے ہیں،صحابہ کا فہم آپکو سمجھ نہیں آتا،پھر آپ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بھرحال خوش رہیں والسلام Last edited by عبداللہ آدم; 24-03-10 at 11:24 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: | عادل سہیل | کفروشرک | 8 | 02-02-12 07:18 PM |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: | عادل سہیل | کفروشرک | 6 | 05-03-10 08:21 PM |
| پانچ چیزیں | اخترحسین | ایس ایم ایس | 1 | 18-10-09 08:00 PM |
| پانچ چیزیں | میاں شاہد | اسلام اور معاشرہ | 0 | 01-06-09 11:32 AM |
| پانچ چیزیں | ابو عمار | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 07-10-07 10:03 AM |