واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-07, 06:21 PM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

السلام علیکم ،
چند دِن پہلے توحید کے تعارفی رواں خاکہ جات ارسال کیے تھے ، جِن پر کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ایسا لگتا ہے یا تو کسی نے ادھر توجہ ہی نہیں کی ، یا جس جس نے دیکھا وہ پہلے ہی جانتا تھا یا اس کے لیے کوئی ضروری یا اہم بات وہاں میسر نہیں تھی ، اللہ ہی بہتر جانے ،
توحید کی دعوت کا ہمشیہ ایسا ہی استقبال ہوتا ہے ، اور دعوت دینے والا بہر حال اپنے رب کی رضا کے لیے دعوت دیتا رہتا ہے ،
پس ، اگلے رواں خاکہ جات ، جن میں مختصر طور پر کسی کی زندگی میں سے توحید کو ختم کر دینے والے کاموں کا ذَکر ہے ارسال کر رہا ہوں ، انشا اللہ ان کے بعد توحید کو کم کر دینت والے کاموں کا تعارف ارسال کروں گا
السلام علیکم
Attached Thumbnails
f_chart_4_shirk_1_2-jpg  
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10)
پرانا 20-03-10, 09:29 PM   #151
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
مجھے سمجھ نہی آیا کہ جو آپ دیکھانا چاہ رہے ہیں وہ ہے کہاں ؟؟؟؟
مثال ۔۔۔
ایک فلم ساز کو ایک لڑکے کے لیے بہت سی سفارشی فون کالز موصول ہوئیں کہ اس کو فلم میں کوئی کام مل جائے
تو فلم ساز نے لڑکے سے کہا کہ تمھارے لیے فلم میں ایک سین شامل کیا ہے ۔ ۔
لڑکا بہت خوش ہوا کہ اتنی بڑی فلم میں مجھے بھی کام مل گیا ۔
سین یہ تھا کہ دروزہ کے پیچھے کھڑے ہونا تھا اور اگر کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرے تو وہ کھول نہ سکے۔

ایسا ہی سین اپ نے اس جگہ پیدا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔اور کچھ نہی ۔ ۔ ۔۔


جواب واضع ہونا چاہیے اور (ایت کا جواب ایت سے)۔۔عابد بھائی کا بھی اور میرے سوال کا بھی ۔


اپنے قیاس سے بد عقل لوگوں نے یعنی دشمنان محمد(ص) و ال محمد(ع) نے اور خود اپ نے اتنی بڑی بات کی اور حمایت/ضد کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔واضع طور پر کافر قرار دیا ہے تو واضع طور پر دلیل بھی دیں ۔ ۔ ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت خوب ریحان بھائی ، ایسی مثالیں آپ کو ہی بھلی لگتی ہیں ، سچ کہا کسی نے جس برتن میں‌ جو ہوتا ہے وہی باہر نکلتا ہے ،
میرے بھائی آپ نے میرے جس مراسلے کا پہلا حصہ لے کر اپنا یہ مراسلہ جڑ دیا ہے اسی کا بغور مطالعہ فرمایے اگر پھر بھی سمجھ نہیں آتی تو ((((( وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ::: اور اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ))))) ،
بھائی اگر دو چار دفعہ پڑھنے سے بات کی سمجھ نہیں آتی تو جب تک سمجھ نہ آئےسمجھنے کی کوشش کرتے رہا کیجیے ،
ریحان بھائی توجہ فرمایے شاید بصیرت کے ساتھ ساتھ اب بصارت بھی کمزور پڑنے لگی ہے کہ آیت کے حوالے سے دیا گیا جواب آپ کو دکھائی بھی نہیں دیا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-03-10, 01:37 AM   #152
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
حدیث مذکورہ مراسلہ(131)بھی آپکی توجہ کی طالب ہے عابد بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویلے ہو کے اک نظر اھر بھی یااااااااااااااااشیخ
میرے پیارے سفاہت کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ اس سے خلط مبحث واقع ہوتا ہے آپ نے بزعم خود مراسلہ نمبر 131 میں جو تیر مارا ہے ناں اس سے آپکی حدیث دانی کی قلعی کھلتی ہوئی نظر آرہی ہے آپکو اتنی بھی لیاقت نہیں کہ کونسی دلیل کو کہاں بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کیا آپ کو معلوم ہے ہے کہ یہاں محل نزاع کیا ہے ؟؟؟؟؟؟

ہم تو چاہ رہے تھے کہ آپ کا رہا سہا بھرم قائم رہے مگر جب خود آپ ہی کو نامظور ٹھرا تو بندہ کیا کرسکتا ہے ۔ ۔

لہزا برائے مہربانی اپنی پیش کردہ روایت کی وجہ استدلال کا تحقق فرمائیے محل نزاع میں اس روایت سے استدلال کو بیان فرمایئے نیز یہ وضاحت کیجیئے کہ کس مسئلہ کہ معارض میں آپ نے اس روایت سے دلیل پکڑی اور کس مسئلہ کا مذکورہ روایت سے استنباط فرمایا ہے
بندہ انتظار کرے گا والسلام
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-03-10), اویسی (23-03-10), حیدر Rehan (22-03-10), عبداللہ آدم (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 11:20 AM   #153
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Smile سفاہت

السلام و علیکم عابد بھائی
ایک بار پھر دخل در اندازی پر معافی چاہوں گا
پھر ایک لفظ کی وضاحت چاہتا ہوں ۔۔

اقتباس:
میرے پیارے سفاہت کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ اس سے
خلط مبحث واقع ہوتا ہے
میں نے آپ کے تجویز کردہ آن لائن لغت سے سفاہت کے معنی دیکھے ہیں

سَفاہَت [سَفا + ہَت] (عربی)
اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی اور حالت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً 1780ء سے "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
1. بے وقوفی، حماقت۔
"قاری اس کی باقاعدگی سے مرعوب ہو کر اس کے مندرجات کی سفاہت اور ذہنی افلاس سے واقف نہ ہو سکے۔" ( 1970ء، برش قلم، 327 )
2. گھٹیا پن، کمینہ پن۔
 یہ طیش و سفاہت یہ کذب و خنا
فہم فی الریا ستہ متنا فسون ( 1969ء، مزمورِ میر مغنی، 51 )


سفاہت کا لفظ تو منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے پھر آپ نے یہ لفظ کس معنوں میں استعمال کیا ہے
امید ہے آپ ہمارے علم میں اضافے کا باعث ہوں گے۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 11:37 AM   #154
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
ریحان بھائی توجہ فرمایے شاید بصیرت کے ساتھ ساتھ اب بصارت بھی کمزور پڑنے لگی ہے کہ آیت کے حوالے سے دیا گیا جواب آپ کو دکھائی بھی نہیں دیا ، و السلام علیکم۔
بھائی جان ۔ ۔ ۔ امید ہے کہ اپ خیریت سے ہونگے ۔ ۔
پہلی بات ؛ـ اتنی لمبی بات لکھنے کہ بجائے آپ وہ ہی بات جو ہمیں مراسلے میں ڈھونڈنے کہ لیے کہہ رہے ہیں وہ لکھ دیتے ۔تو شاید زیادہ بہتر ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔
دوسری بات :-
میرے سوال کا جواب اگر کہیں ہوتا تو یقینا میں خاموش ہوجاتا ۔ ۔ کیونکہ میں اپنے سوال سے زیادہ مانوس ہوں ۔ ۔خشبو سونگھ کرہی اندازہ لگا لیتا ۔ ۔ ۔
پھر مجھے بصارت اور بصیرت کی ضرورت ہی نہی پڑتی (اللہ جانے کتنی بصارت و بصیرت کی ضرورت پڑے گی اپ کے جواب کو ڈھنڈنے کے لیے ۔۔۔۔یہ بھی نہ اندازہ کرنا پڑے گا۔)
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 02:34 PM   #155
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
السلام و علیکم عابد بھائی
ایک بار پھر دخل در اندازی پر معافی چاہوں گا
پھر ایک لفظ کی وضاحت چاہتا ہوں ۔۔


1. بے وقوفی، حماقت۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-03-10, 03:44 PM   #156
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,626
شکریہ: 22,614
4,758 مراسلہ میں 13,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عابد بھائی آپ کا جواب حقیقت بدعت والے دھاگے میں لگا دیا ہے کہ اسی کے متعلقہ ہے

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 06:39 PM   #157
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
عابد بھائی آپ کا جواب حقیقت بدعت والے دھاگے میں لگا دیا ہے کہ اسی کے متعلقہ ہے

والسلام
اول تو یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہاں جواب دینے میں کیا امر مانع تھا خیررررررر ۔ ۔ ۔
قارئین کرام واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں ہمارے موصوف عبداللہ آدم بھائی کس کس طرح سے قلا بازیاں کھا رہے ہیں اور یون خلط مبحث کرکے اصل موضوع یعنی نفس مسئلہ سے توجہ ہٹانے کا موجب بن رہے ہیں ہم زیل میں حجرت کے تمام مراسلات کو ترتیب وار پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کرام پر حقیقت واضح ہوسکے ۔ ۔ ۔لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید تاکہ نفس مسئلہ واضح ہوسکے ۔ ۔
عادل سہیل بھائی نے عبدالرسول اور غلام رسول ناموں کو شرک جلی قرار دیا
ہم نے اس پر اعتراض کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ۔ ۔ جس کہ جواب میں عادل بھائی نے عقلی دلیل پیش کی اگر یہ نام جائز ہوتے تو صحابہ کرام ضرور رکھتے جسکے جواب میں ہم نے عرض کی کہ صحابہ کرام کا کسی کام کو نہ کرنا یعنی ترک فعل کسی بھی کام کی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ صحابہ تو کجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک فعل بھی ممانعت کی دلیل نہیں ہاں البتہ وہ اباحت کی دلیل ضرور ہے اور ہم نے اس پر دلائل رقم کیئے جس کہ بعد اسلام کا قانون اباحت زیر بحث آیا ۔ ۔
کیونکہ مطلق ترک سے ممانعت مراد لینے سے اسلام کے قانون اباحت کا قلع قمع ہوتا تھا اس لیے ہم نے اباحت کی وضاحت کی ۔ ۔ جس پر پہلے ساہج بھائی کو پھر عبداللہ آدم صاحب کو اعتراض ہوا جس پر عبداللہ آدم صاحب نے درج زیل رپلائی ارقام فرمایا ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
((((((((((((اسکا مطلب تو یہ بنتا ھے جس عمل کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا وہ جی بھر کے کرو کوئی پکڑ نہیں؟

جی بالکل اس کا مطلب یہی ہے))))))))))))))
انا للہ و انا الیہ راجعون

ماشاءاللہ میں نے آپکے ((یہاں ) کا بھی مطالعہ کیا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا(((کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں جنت کے قریب اور جھنم سے دور کر دینے والی ہو اور میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جھنم سے قریب کر دینے والی اور جنت سے دور کر سینے والی ہو اور میں نے تمہیں نہ بتائی ہو)))))
عابد بھئی بات سیدھی سی ہے کہ عبادات کا معاملہ سراسر توقیفی ہے،جہاں جہاں جتنا جتنا بتا دیا گیا ہے اب ہمارا کام اس کو کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
توقیفی کا مطلب ہی یہ ہے کہ((لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ))(الحجرات)
نہ آگے بڑھو اللہ اور اس کے رسول ہے

مباح کام وہ نہیں ہوتے جو خود سے بنا کر دیں میں نقب لگانے کی کوشش کی جائے( اور ان پر پھر ثواب بھی ڈکلیر کر دیا جائے)۔۔۔۔۔بلکہ وہ کام ہیں جو دینی امور میں نہین آتے بلکہ ان دنیاوی امور میں سے ہیں جن پر اسلام نے سکوت کیا ہے۔

والسلا
م
اور اس پر ہم نے درج زیل مراسلہ ارسال کیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
بھئی یہ تو ماننا پڑے گا کہ اہل ظاہر خلط مبحث کے ماہر ہیں اور نت نئے پینترے بدل کر بات کو اصل موضوع سے دور لے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
بات چلی تھی غلام رسول یا عبدالرسول کے ناموں کے شرک ہونے کی جس پر عادل سہیل بھائی اور تو کوئی دلیل نہ دے سکے اور قرآن و سنت کے مقابلے میں یہ کہہ دیا کہ ایسے نام صحابہ نے نہیں رکھے اس لیے یہ شرک ہے ۔ ۔ سبحان اللہ
اس پر ہم نے عرض کی حجور صحابہ کا عدم تعمل کسی فعل کی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا صحابہ تو کُجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک فعل بھی اس سپیسفک فعل کی حرمت کی دلیل نہیں ہے اور یہی اصول ہے ۔ ۔ ۔
جس پر آپ نے یہ پھبتی کسی کہ ۔۔۔اسکا مطلب تو یہ بنتا ھے جس عمل کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا وہ جی بھر کے کرو کوئی پکڑ نہیں؟
۔ ۔ ۔
تو ہم نے عرض کی جی بالکل وما سکت فھو مما عفا عنہ کی نص ہے اس پر ۔ ۔
اب آپ نے ایک اور پینترا بدلا ہے اور عبادات کی بحث لے آئے ہیں بیچ میں ۔ ۔ آپ پہلے مجھے یہ بتائیں عبادت کی تعریف کیا ہے اور آیا کسی نام کا رکھنا عبادت میں سے ہے یا دیگر امور میں سے ؟؟؟؟؟؟
پھر اگلی بات میں آپ سے بعد میں کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ والسلام
پھر جناب کی طرف سے درج زیل جواب آیا ۔ ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
بات واقعی دور نکل رہی ہے۔
ہونے والی بحث سے قطع نظر مجھے عابد صاحب والا
(((نظریہ مباحآت))) ھی بالکل انوکھا لگا تھا اس لیے بات کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابد بھائی میں مناظرہ پسند بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ خود کروں،
جو حدیث مجھے پتہ تھی گوش گزار کر دی، امید ہے کہاس کی بھی کوئی ایسی ہی تشریح فرمائیں گے جیسی آپ نے ((یہاں)) میں احادیث پر احسانات فرمائے ہیں۔۔۔۔۔
لیکن شاید حدیث اتنی صریح ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اب آنجناب نے عبادت کی تعریفات کی بات کر دی ہے۔تو
((عبادت ہر اس کام کو کرنا جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ہو اس بات سے رک جانا جس سے اللہ نے روکا ہے))
آپ کی نظر میں کوئی اور تعریف ہے تو بسم اللہ۔۔۔۔۔۔
پھر اسکے بعد اب درج زیل رپلائی آیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
(((((((((((((خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنا اس کی حرمت کی دلیل نہیں )))))))))))))))


1۔ما ٰاتٰکم الرسول فخذوہ وما نھٰکم عنہ فانتھوہ) (الحشر)
جو تمہیں رسول دیں وہ لی لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ

2۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا(جس نے ہمارے امر(دین)میں ایسا نیا کام کیا جس
جو اس میں نہیں تھا تو وہ رد ہے۔(مسلم کتاب۔ الاقضیہ)
بخاری کے لفظ ہیں کہ (جس نے ایسا عمل کیا جس پر ھمارا حکم نہیں تھا تو وہ رد ہے)

عابد بھائی دین کے ساتھ تو یوں نہ کریں،اور بڑی چیزیں ہیں طبع آزمائی کے لیے۔۔۔۔۔۔
پھر ہمارا جواب درج زیل ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم ! حضرت کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمیں کہیں اور طبع آزمائی کا مشورہ دینے کی بجائے آپ خود اپنی ہی پیش کردہ آیت میں ہلکا سا بھی تدبر فرما لیتے ۔ ۔ حضور آیت آپکے مؤقف کی بجائے ہمارے مؤقف کی دلیل ہے اور صاف صاف اعلان کرہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمہیں دے دیں یعنی جس کا کام کا حکم دیں وہ بجا لاؤ کیونکہ آپکا حکم ماننا اللہ ہی کا حکم ماننا ہے اور جس کام سے روک دیں یعنی منع کریں اس سے باز رہو ۔ ۔
یہاں ترک فعل کا کوئی ذکر نہیں ہے یعنی اللہ پاک یہ نہیں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام نہیں کیئے وہ تم بھی نہ کرو ۔ ۔
اور حقیقت یہ ہے کہ دین میں تمام احکام کا مدار اوامر و نواہی اور پھر اسکے بعد اباحت پر ہے ۔ ۔
امر :- ایسا کام کہ جسکا حکم دیا گیا ہو
نہی :- ایسا کام کہ جس سے منع کیا گیا ہو

اباحت :- یعنی جس فعل کے کرنے کا نہ تو حکم ہو اور نہ ہی اس سے روکا گیا ہو ۔ ۔

مزید تفصیل کہ یہاں دیکھیئے ۔ ۔

اس کا انتہائی تفصیلی رد ہم یہاں کرچکے ہیں وہاں رجوع فرمایئے ۔ ۔ ۔
اور اب آخر میں جناب کی طرف سے یہ جواب آیا ہے ۔ ۔ ۔

اقتباس:
ماشاءاللہ کافی اصطلاحات آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محل نزاع ((سرکار صلی اللہ علیہ و سلم سے غیر ثابت شدہ اعمال کے ثابت ہونے یا نہ ہونے))میں
(
یہ حدیث مبارکہ جامع و مانع حیثیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس میں اعمال کو دو ہی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ہے؛
1۔وہ جو موجب ثواب ہیں
2۔وہ جو باعث عذاب و عقاب ہیں

اور فرمایا یہ گیا ہے کہ ہر دونوں قسم کے جملہ امور میں بتلا کر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
اب نیکی وہ ہو گی جو آقا علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بتلائی ہوئی ہو اور برائی بھی وہی ہے جس سے روکا گیا ہو۔۔۔۔
اپنی مرضی،چاہت ،اور خواہش سے جو مرضی ایجاد کیا جائے اب وہ ((ما ترکت)) کے زمرے میں نہیں آسکتا کہ سرکار اس کو چھوڑ کر نہیں گئے اور بعینہ کوئی گناہ بھی نیا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ آقا علی الصلٰوۃ والسلام نے اس سے نہیں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک وضاحت یہ کر دوں کہ (((عمل)) بمعنٰی وہ عمل ہیں جن پر ثواب کی امید ہو یا عذاب کی وعید ہو۔ایک مثال پیش خدمت ہے کہ کیسے ایک (عمل)جس کی اصل اگرچہ دین میں موجود بھی کیوں نہ ہو بدعت بن جاتا ہے:



اب یہ عمل فی نفسہ غلط نہ تھا صرف اذکار کرنے کے نئے یا (محدث) طریقے نے اسے نیکی برباد گناہ لازم بنا دیا۔
جلی عبارات پر ذرا زیادہ غور فرما لیجئے گا عابد بھائی۔امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی کہ بدعت کیا ہوتی ہے۔

اب اس میں سے وجہ استدلال،مسئلہ معارض وغیرہ وغیرہ سب تلاش کر لیں،امید ہے مل جائے گا۔۔۔۔

والسلام
جب آپکو ہمارے پیش کردہ اسلام کے قانون اباحت پر اعتراض ہے تو پھر آپ ہی اسلام کے قانون اباحت کی وضاحت فرمایئے اور قانون اباحت کا اطلاق کن کن امور میں کس کس طرح سے اور کن کن دلائل کی وجوہ پر ہوگا یہ بھی تعین فرمایئے ۔
آپ کہتے ہیں کہ تمام کی تمام نیکیاں اور برائیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلادیں لہذا فی زمانہ اب کوئی نہ تو کوئی اچھا کام ہوسکتا ہے کہ جس پر نیکی کا اطلاق کیا جائے اور نہ ہی کوئی نیا برا کام ہوسکتا ہے کہ جس پر برائی کا اطلاق ہو آپکے الفاظ درج زیل ہیں ۔ ۔
اقتباس:
اور فرمایا یہ گیا ہے کہ ہر دونوں قسم کے جملہ امور میں بتلا کر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
اب نیکی وہ ہو گی جو آقا علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بتلائی ہوئی ہو اور برائی بھی وہی ہے جس سے روکا گیا ہو۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔
آپکی یہ دلیل کتنی بودھی ہے اس کا اندازہ کوئی معمولی عقل والا بھی با آسانی لگا سکتا ہے یعنی اگر آج کہ دور میں کوئی کچھ بھی کرتا پھرے برائی کہ نت نئے طریقے ایجاد کرئے مگر وہ چونکہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھے اس لیے ان پر کوئی پکڑ ہی نہیں ہوگی ۔ ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ قربان جاؤں میں آپکی حدیث دانی پر فرماتے ہیں کہ ۔ ۔۔ اپنی مرضی،چاہت ،اور خواہش سے جو مرضی ایجاد کیا جائے اب وہ ((ما ترکت)) کے زمرے میں نہیں آسکتا کہ سرکار اس کو چھوڑ کر نہیں گئے اور بعینہ کوئی گناہ بھی نیا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ آقا علی الصلٰوۃ والسلام نے اس سے نہیں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔
حدیث کی صحیح تفہیم
اصل میں یہ حدیث ہمارے معارض نہیں بلکہ ہمارے موئد ہے کیونکہ اس میں یہ صراحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلال و حرام کو وضاحت سے بیان کردیا اور وہ وضاحت اسلام کے جملہ قوانین کی صورت میں سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام نے حرام چیزوں کی تفصیل بیان کی ہےجیسے کہ قد فصل لکم کی آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے اور حلال کو بھی قرآن و سنت نہیں کہیں مجملا حلال قانون اباحت کی صورت میں اور کہیں صحابہ کرام کے سوال پوچھنے پر تفصیلا حلال فرما دیا لہزا اب اگر اس حدیث کو قرآن و سنت کے تمام نصوص کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا کہ میں نے تم کو ہر ہر شئے بتلا دی سے مراد احکام کی تفصیل بایں معنٰی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ میں تمام کی تمام اشیاء مذکور ہوں بلکہ قانون و اصول و قواعد کی تفصیل ہے کہ جس میں کسی بھی شئے کی حرمت کا قانون حلت کا قانون اور اباحت کا قانون بھی شامل ہے ۔ ۔۔ یعنی دوسرے لفظوں میں آپ کا یہ کہنا کہ میں نے تمیں جنت کہ قریب اور دوزخ سے دور کرنے والے تمام احکام بطور اصول دین بتلادیئے کہیں فسلفہ حلال و حرام کی صورت میں اور کہیں اصول اباحت کی صورت میں لہذا اسلام کا اصول اباحت بھی اسی حدیث کے زیر عنوان ہی آتا ہے ۔ ۔ ۔
عبداللہ آدم بھائی ۔ ۔ آپ کتنی قلا بازیاں کھائیں گے کبھی آپ مطلقا ترک رسول کو سنت قرار دیتے ہیں اور یوں قانون اباحت پر پڑنے والی زد میں ساتھ شامل ہوتے ہیں اور جب ہم آپکی اس امر میں گرفت کرتے ہیں تو آپ قلا بازی کھا کر یہ فرماتے ہیں کہ قانون اباحت کا اطلاق عبادات میں نہیں ہوتا اور جب ہم اسکی بھی وضاحت کرتے ہیں تو اب پھر آپ امور کہ دینی اور دنیاوی تفریق کو لے آتے ہیں اور جب ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ بچوں کا نام رکھنا کیا آیا دینی کام ہے یا دنیاوی آیا عبادت یے یاغیر عبادت ؟ تو ہم آپکی زبان کو یہاں کسی بھی جواب سے گنگ پاتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ یہ جتنے بھی بے بودھے اعتراضات آپ فرما رہے ہیں یہ اتنے بودھے ہیں کہ آپ خود ہی ان کا شکار ہورہے اور بار بار پینترا بدل کر فقط خلط مبحث کا وقوع فرما رہیے ہیں دیگر کچھ نہیں ۔ ۔
باقی آپ نے جو اثر عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پیش فرمایا ہے اسکا تفصیلی رد ہم اسی فورم پر کرچکے ہیں پٹے ہوئے مہروں کو میدان استدلال میں لانا کسی ایسی ہی شخصیت سے متصور ہوسکتا ہے جو کہ بار بار فقط قلا بازیاں ہی کھاتی ہو ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-03-10), اویسی (23-03-10), حیدر Rehan (24-03-10)
پرانا 22-03-10, 10:02 PM   #158
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
عادل سہیل بھائی نے عبدالرسول اور غلام رسول ناموں کو شرک جلی قرار دیا
ہم نے اس پر اعتراض کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ۔ ۔ جس کہ جواب میں عادل بھائی نے عقلی دلیل پیش کی اگر یہ نام جائز ہوتے تو صحابہ کرام ضرور رکھتے جسکے جواب میں ہم نے عرض کی کہ صحابہ کرام کا کسی کام کو نہ کرنا یعنی ترک فعل کسی بھی کام کی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ صحابہ تو کجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک فعل بھی ممانعت کی دلیل نہیں ہاں البتہ وہ اباحت کی دلیل ضرور ہے اور ہم نے اس پر دلائل رقم کیئے جس کہ بعد اسلام کا قانون اباحت زیر بحث آیا ۔ ۔
کیونکہ مطلق ترک سے ممانعت مراد لینے سے اسلام کے قانون اباحت کا قلع قمع ہوتا تھا اس لیے ہم نے اباحت کی وضاحت کی ۔ ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی ، میں پہلے بھی گذارش کر چکا ہوں کہ میں اپنی عدیم الفرصتی کی وجہ سے آپ سے گفتگو نہیں کر پا رہا ، لیکن آپ اس کی وجہ سے کچھ غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں ،
میرے بھائی آپ کے اعتراضات کے جوابات پہلے ارسال کر چکا ہوں ، اور بارہا میرے سابقہ مراسلات کے مطالعہ کی درخواست بھی کر چکا ہوں ، پھر اس کے بعد منقولہ ذیل تفصیل بھی ارسال کر چکا ہوں :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی عابد عنایت آپ سے بار بار گذارش کی کہ میرے سابقہ مراسلات کا بغور اور تحمل سے مطالعہ کیجیے لیکن شاید آپ ایسا نہیں کر سکے ،
میں نے کہا تھا کہ آپ کی باتوں کے جواب ، اُن باتوں کے جنہیں آپ دلائل سمجھ رہے ہیں میرے ان مراسلات میں موجود ہیں ، لیکن ،،،،،،،،،،
جی میرے بھائی میں نے بھائی ریحان حیدر صاحب کو جواب دیتے ہوئے لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
یہ اللہ کا کلام ہے کسی تخیلاتی معبود خدا کا نہیں ((((( فَلَمَّآ آتَاهُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ::: پس جب اللہ نے ان دونوں کو نیک بیٹا دیا تو انہوں نے اُس میں اللہ کے لیے شریک بنا لیے جو اللہ نے انہیں دیا تھا اور اللہ اس سے بلند ہے جسے وہ شریک بناتے ہیں ))))) سورت الاعراف / آیت ۱۹۰ ،
ہم اہل سنت و الجماعت کے پاس تو اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا یہ مذکورہ بالا فرمان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا صحیح ثابت شدہ فرمان ہے جن کی بنا پر ایسے نام رکھنا شرک میں شمار ہوتے ہیں ، جن کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں ،
لہذا میرے بھائی کہیں میرے قیاس پر مبنی کوئی بات نہیں ، بلکہ نصوص قطعیہ پر مبنی ہے ،
جی اس آیت مبارکہ کی تفیسر میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علیہما السلام کے بارے میں ہے ، لیکن اس روایت کو علماء نے درست نہیں مانا ، اس کی تمام تفصیل آسانی سے مسیر """تفیسر ابن کثیر """میں دیکھی جا سکتی ہے ، جہاں کافی لمبی گفتگو کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علیہما السلام کا نہیں ہے ، اور اس کے علاوہ """ تفیسر القرطبی """ اور """ تفیسر بحر العلوم """ اور دیگر تفاسیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے ،
تفیسر ابن کثیر ، تفیسر القرطبی ، تفیسر الطبری،تفسیر التسھیل لعلوم التزیل اور تفیسر بحر العلوم ، وغیرہ میں اس آیت مبارکہ کی تفیسر میں آپ کو وضاحت سے یہ ملے گا کہ اس آیت مبارکہ میں میاں بیوی کے جس شرک کا ذکر کیا گیا ہے وہ شرک اللہ کے ناموں میں کیے جانے والا شرک ہے ،
یعنی """ الأسماءالتعبدیۃ ::: عبادت والے نام """ ایسے نام جن میں بندے کی بندگی نسبت اللہ کے ساتھ ظاہر ہو ، اُن ناموں میں شرک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے نام رکھے جائیں جن میں بندے کی بندگی کی نسبت اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کی طرف ظاہر ہو ،
تفسیر القرطبی ، اور تفسیر الطبری میں یہ عبارت مکتوب ہے :::
((((( ففعلوا فذلك حين يقول الله """جعلا له شركاء فيما آتاهما""" يعني في التسمية :::تو انہوں یہ وہ کام کر لیا جو کہ اللہ نے یوں بتایا """ تو اُن دونوں کو جو اللہ نے دیا اُس میں اُن دونوں نے اللہ کے لیے شریک بنا لیے"""یعنی نام رکھنے میں (شرک کیا ) )))))
اورتفسیر القرطبی میں یہ عبارت بھی :::
(((((واختلف العلماء في تأويل الشرك المضاف إلى آدم وحواء وهي الثالثة قال المفسرون كان شركا في التسمية والصفة لا في العبادة والربوبية وقال أهل المعاني إنهما لم يذهبا إلى أن الحارث ربهما بتسميتهما ولدهما عبد الحارث ،،،،، ::: عُلماء اُس شرک کی تفسیر میں مختلف ہیں جس شرک کی نسبت آدم اور حواء (علیہما السلام ) کی طرف کی گئی (کہ)اُن دونوں نے نام رکھنے میں اور صفت میں شریک بنایا نہ عبادت اور ربوبیت میں ، اور اھل معانی کا کہنا ہے کہ اُن دونوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث یہ سمجھ کر نہیں رکھاکہ حارث اُن کا رب ہے ،،،،، ))))) یہ تاویل اس صورت میں ہے جب یہ بات ثابت ہو کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علہیا السلام کا ہے تو چونکہ انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہیں لہذا اُن سے شرک سرزد ہونا ممکن نہیں ،
تفیسر التسھیل لعلوم التنزیل کی عبارت یہ ہے :::
""""" فقوله """جعلا له شركاء فيما آتاهما """ أي في التسمية لا غير لا في عبادة غير الله ::: پس اللہ کا فرمان """ تو اُن دونوں کو جو اللہ نے دیا اُس میں اُن دونوں نے اللہ کے لیے شریک بنا لیے""" سے مراد صِرف نام رکھنے میں شرک کرنا ہے اللہ کے عِلاوہ کسی کی عِبادت کرنے میں نہیں """""
یہ دلیل ہے قران پاک میں سے ، بھائی عابد عنایت ، اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو ان تفاسیر میں سے مکمل نصوص ترجمے کے ساتھ اِن شاء اللہ تعالیٰ ایک الگ دھاگے میں ذکر کروں گا ،
آپ اور تمام قارئین کرام سے گذارش ہے کہ اس آیت کریمہ کی تفسیر اُن تفاسیر میں پڑھیں جن کا میں نے ذکر کیا یعنی تفیسر ابن کثیر ، تفیسر القرطبی ، تفیسر الطبری،تفسیر التسھیل لعلوم التزیل اور تفیسر بحر العلوم ،
اور جو بھائی یا بہنیں عربی نہیں پڑھ سمجھ سکتے تو وہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہ توفیق عطاء فرمائے کہ میں ان تفاسیر میں وہ عبارات بمع ترجمہ پیش کر سکوں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ،
اس کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ اُس حدیث مبارک کے بارے میں بات کروں گا جس کو آپ نے اپنے زعم میں معاذ اللہ """ باطل """ قرار دے لیا ہے ،
عابد بھائی آپ نے لکھا تھا کہ آپ مجھے بڑا سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے ، اِن شاء اللہ ، تو میرے بھائی اپنے بھائی کی نصیحت پر غور کیجیے ، کہ ، اپنے جوش کی زمام بدست ہوش کیجیے ، اور اس طرح کے بلند و بانگ دعوے مت کیا کیجیے ،
وقت کی قلت آپ کو فوری جواب دینے میں مانع ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سے آپ اور بھائی ریحان حیدر عجیب و غریب غلط فہمیوں کا شکار ہو کر طرح طرح کے دعوے کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جلد ہی اس موضوع پر بھی بات مکمل کر دوں گا ، ((((( وَما عَلینا الا البلاغ ::: اور ہمارے ذمے بات پہنچا دینا ہی ہے )))))
((((( وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ::: اور اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ))))) و السلام علیکم۔
عابد بھائی ، آپ کے ساتھ """ حقیقت بدعت """ اور """ سنت کے معنی ، تعریف اقسام اور جہات """ میں بات چیت ہو رہی ہے ، اور وہاں بھی تقریبا یہی کچھ زیر گفتگو ہے جو یہاں ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنے کا شرعی حکم بھی وہیں بیان ہو رہا ہے ، اور ان شاء اللہ اسلام کے قانون اباحت کی تفصیل بھی وہیں بیان ہو جائے گی ،
فی الحال اس معاملے میں صرف بار بار کہی گئی بات دہراتا ہوں کہ اسلام کا قانون اباحت عبادات اور عقائد کے لیے نہیں ،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے کسی کام کو ترک کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے وہ بھی فقہ حنفی کے ایک امام رحمہ اللہ کی کتاب میں‌سے ذکر کر چکا ہوں اور کہہ چکا ہوں کہ ان شاء اللہ دیگر معلومات بھی مہیا کر دوں گا ،
عابد بھائی ، آپ تقریبا اپنے ہر مراسلے میں """ خلط مبحث """ کا ذکر کر رہے ہیں ، ذرا توجہ کیجیے کہیں آپ خود بھی تو اس کام میں‌مشغول نہیں ؟ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), کنعان (23-03-10), نورالدین (24-03-10), آبی ٹوکول (22-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:36 AM   #159
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,626
شکریہ: 22,614
4,758 مراسلہ میں 13,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بجا فرمایا اپ نے عابد بھائی:
احادیث ہم پیش کر رہے ہیں اور علم کلام آپ کو مبارک ہو۔
اسی لیے مراسلہ حقیقت بدعت والے تھریڈ میں لگایا تھا کہ میں بدعت اور اس کے ضمن میں آنے والی چیزوں کی بابت آپ کے نظریے سے اختلاف کرتا ہوں اور یہاں جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا کہ بات اور موضوع پر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناموں کے موضوع پر میں نے بات ہی نہیں کی کہ عادل سھیل صاحب بات کر رہے ہیں،
باقی پڑھنے والے بھی دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہر دلیل کے جواب میں خلط مبحث کا رولا کون ڈال رہا ہے۔۔۔۔۔

(((سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔))))

دین یہی تھا اور یہی رہے گا،نیکی کے بارے میں تو آپ کا مبلغ علم ظاہر ہو ہی چکا کہ کوئی بھی نئی چیز نیت ثواب سے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس بلے بلے۔میرے بھائی پھر سنت اور بدعت کی تقسیم کی کیا ضرورت تھی؟
بھئی واقعی آپکا جواب نہیں۔اور ھاں کچھ بدعات بھی گنوا دیں جو آپکی نظر میں بدعات
ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور رہی بات برائی کے نئے ہونے کی تو جناب والا برائی کی صورتیں بدلتی رہی ہیں ہر دور میں گناہ وہی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کوئی نیا گناہ آپ بتائیں تو سھی جو پہلے ادوار میں نہ رہا ہو،
بدل کر بھیس پھر آتے ہیں زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
والی بات ہے۔چوری،سود،بے حیائی،قیل وغیرہ وغیرہ میں سے کونسا نئی برائی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی پتا چلے کہ کچھ ایسی جدید ترین برائیاں بھی ہیں جن کی اس دین ھدٰی میں
تنبیہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by عبداللہ آدم; 23-03-10 at 03:39 PM. وجہ: replacing a word(special thanks to aabid bhai)
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 01:54 AM   #160
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بجا فرمایا اپ نے عابد بھائی:
احادیث ہم پیش کر رہے ہیں اور علم کلام آپ کو مبارک ہو۔
پیارے کلامی مسائل آپکے بس کی بات نہیں پہلے بنیادی اصول دین سے تو شناسائی حاصل کرلو پھر کلامی مسائل پر بھی آجانا سردست تو اتنا عرض ہے
کہ شریعت کے قانون پر جس طرح سے اہل علم نے غور کیا ہے اس کا ایک طریق فقہ کہلاتا ہے کہ جس میں مسائل و جزئیات کا تفصیلی نقشہ کھینچا جاتا ہے اور شریعت اسلام کی وسعتوں کی جو جو بھی جزئیات و تفریعات ہوں ان کا احاطہ کيا جاتا ہے۔ یہی فقہ ہے اور اس کے جاننے والے کو فقیہ کہتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر غور و فکر کا جو دوسرا نہج ہے وہ یہ ہے کہ ان جزئیات و فروعات کے پیچھے جو اصول جو قانونی روح اور اصول و قواعد بصورت قانون کار فرما ہیں ان کا سراغ لگایا جاۓ لہزا اس سراغ رسانی کو یعنی اس فن کو اصول کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے جاننے والے کو اصولیین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے رہ گیا علم الکلام تو اس کا بھی شریعت کے ساتھ بڑا گہرا ربط ہے اس لحاظ سے کہ شریعت و فقہ کی جزئیات کو عقل و خرد اور فلسفہ و حکمت کی کسوٹیوں پر پرکھنے کا کام اسی علم الکلام سے ہی لیا جاتا ہے اور تاریخ اسلامی میں اس فن کے ماہرین کو متکلمین کہا جاتا ہے، جو دین و دانش میں ربط و توافق تلاش کرتے ہیں اور مذہب کے لیے ایسے عقلی و فکری پیمانے مہیا کرتے جو مغربی فلسفہ و اصول سے پراگندہ ذہنیت سے شکوک و شبہات کہ ورود کا خروج کرسکیں تاکہ ایسی ذہنیتیں طمانیت پا سکیں ۔ ۔ ۔
یہ ساری تمہید اس لیے باندھی کہ اول ہماری گفتگو کا محور علم الکلام نہیں بلکہ علم اصول تھا اور دوم اگر علم الکلام سے بھی مدد لی جائے تو وہ کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے باقی آپکی بصیرت تو روز بروز ترقی کے مراحل طے کررہی کہ کرنے چلیں دین پر بحث اور لیاقت اتنی ہے کہ علم اصول دین اور کلامی مباحث کا فرق نہیں معلوم خیر کوئی بات نہیں ہوتا ہے جب دین کو آپ جیسے لوگ بازیچہ اطفال بنا لیں کہ جن کا شیوہ ہی بات بات پر شرک اور بدعت کے فتوے لگانا ہوتو پھر ایسا ہی ہوتا ہے میرے پیارے
۔ ۔ ۔ ۔



اقتباس:
اسی لیے مراسلہ حقیقت بدعت والے تھریڈ میں لگایا تھا کہ میں بدعت اور اس کے ضمن میں آنے والی چیزوں کی بابت آپ کے نظریے سے اختلاف کرتا ہوں اور یہاں جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا کہ بات اور موضوع پر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تھریڈ میں محترم عادل سہیل بھائی کو ہی گفتگو کرنے دیں آپ خود کو خوامخواہ میں وہاں پر تکلیف نہ دیں اگر پھر بھی رہا نہ جائے تو عادل بھائی کی ہمنوائی فقط شکریہ کا بٹن داب کر فرمائیں ۔ ۔ ۔للوز

اقتباس:
ناموں کے موضوع پر میں نے بات ہی نہیں کی کہ عادل سھیل صاحب بات کر رہے ہیں،
ہاہاہاہا تو آپ یہاں انب لینے آئے تھے ؟؟؟؟ خیر مذاق برطرف ٹھیک ہے آپ کا عذر قبول کیا جاتا ہے ۔ ۔
اقتباس:
باقی پڑھنے والے بھی دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہر دلیل کے جواب میں خلط مبحث کا رولا کون ڈال رہا ہے۔۔۔۔۔
ہا ہاہاہا بھئی دلیل کی خوب کہی ۔ ۔ ۔

(((سبحان اللہ ۔ ۔ ماشاء اللہ سے خوب دین کی تفہیم ہورہی ہے یعنی جو چاہے جتنی مرضی نئی نئی برائیاں کرتا پھرے اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ کیسا دین ہے بھئی کہ جس میں ہر کوئی بھی نیا کام فقط اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نیا ہے لہذا اس کا کوئی ثواب نہیں ملنے والا اور برائی جتنی مرضی ہے چاہے کرتے پھرو اس پر کوئی پکڑ کوئی قباحت کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ برائی تو اصل میں برائی ہی نہیں کیونکہ اس کا ظہور زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں تھا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔))))

اقتباس:
دین یہی تھا اور یہی رہے گا،نیکی کے بارے میں تو آپ کا مبلغ علم ظاہر ہو ہی چکا کہ کوئی بھی نئی چیز نیت ثواب سے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس بلے بلے۔میرے بھائی پھر سنت اور ضرورت کی تقسیم کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ہر پرانی چیز بھی نیکی اور نئی بھی۔۔۔واہ واہ
بھئی واقعی آپکا جواب نہیں۔اور ھاں کچھ بدعات بھی گنوا دیں جو آپکی نظر میں بدعات
ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب کیا دقت نظر ہے اصول دین پر واہ واہ ماشاء اللہ یعنی ضرورت اور سنت کی تقسیم سبحان اللہ کیا مفروضہ نکالا ہے ضرورت اور سنت کی تقسیم ہاہاہاہاہاا
اماں کیا ہوگیا بھئیے خود بھی نشے میں ہو اور قلم کو بھی بہکا رہے ہو

رہ گئی بدعتیں تو جناب والا گنواتا ہوں ناں سب سے بڑی بدعت تو یہ ہے کہ دین کی الف بے بھی نہیں آتی لوگوں کو اور چلے آتے ہیں مباحثے کرنے دوسری یہ کہ بات بات پر شرک و بدعت کے فتوے لگانا اور پھر شرک اور بدعت کی تعریف نہ کر سکنا اور جو تعریف کرنا اس پر پر بھی طرح طرح کی خود ساختہ حدود و قیود کا لگانا وغیرہ یہ سب بدعات سیئہ ہی ہیں

اقتباس:
اور رہی بات برائی کے نئے ہونے کی تو جناب والا برائی کی صورتیں بدلتی رہی ہیں ہر دور میں گناہ وہی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
کوئی نیا گناہ آپ بتائیں تو سھی جو پہلے ادوار میں نہ رہا ہو،

میرے حضور آپ کا یہ اصول تسلیم تو پھر کیا وجہ ہے حجور کہ اسی اصول پر چل کر آپ حسنات کو نہیں اپناتے ؟؟؟؟؟ اگر بقول آپ کے برائی صورتیں بدل بدل کر آتی ہے تو کیا فقط نیکی کے دامن میں ہی جبر ہے اور وہ اتنا محدود و تنگ ہے کہ وہ اپنی صورت و ہیئت بدل کر نہ آسکے جب آپکو برائی کے شکل بدل کر آنے سے برائی کے وجود کا تحقق آج بھی ہوجاتا ہے اور آپ اپنی پہلی کہی گئی بات ( یعنی برائی یا گناہ فقط وہی ہوگا کہ جسکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتا دے دیا تھا ) سے بالکل یو ٹرن لیتے ہوئے آج کے زمانے میں بھی برائی کو برائی اور گناہ سمجھ رہے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ نیکی کی صورت و ہیئت کا تبدیل ہوجانا آپکو قابل قبول نہیں ؟؟؟؟؟ نیکی بیچاری نے آپ کا ایسا کیا گناہ کردیا وہ بیچاری اگر آج کے دور میں اپنی ہیئت بدل کر بھی آئے تو اسے شرف پزیرائی نہیں بخشتے جبکہ برائی کے لیے آپ کا دامن بڑا وسیع ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اصل میں حقیقت یہ ہے کہ اچھائی ہو یا برائی دنوں کے وجود کا تحقق انسانی فطرت میں ودیعت کردہ ہے اور یہ قرآنی فلسفہ ہے جو وھدینہ النجدین کی نص سے ثابت ہے ۔ ۔ ۔ اب جو بھی اچھی بات ہوگی وہ ضرور بالضرور دین کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہوگی اور جو بھی برائی ہوگئ اسکا لازم دین اور اصول دین کے ساتھ ٹکراؤ پیدا ہوگا نہ کہ کسی بھی برائی اور اچھائی کا تحقق کسی بھی خاص زمان و مکان کی قید کے ساتھ خاص ہے اور یہ ایک اسی بدیہی بات ہے کہ جسکا انکار کوئی نہ کرئے گا مگر وہ جو کہ بدعقل اور کور باطن ہو ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-03-10), اویسی (23-03-10), حیدر Rehan (25-03-10)
پرانا 23-03-10, 02:04 AM   #161
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی ، میں پہلے بھی گذارش کر چکا ہوں کہ میں اپنی عدیم الفرصتی کی وجہ سے آپ سے گفتگو نہیں کر پا رہا ، لیکن آپ اس کی وجہ سے کچھ غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں ،
میرے بھائی آپ کے اعتراضات کے جوابات پہلے ارسال کر چکا ہوں ، اور بارہا میرے سابقہ مراسلات کے مطالعہ کی درخواست بھی کر چکا ہوں ، پھر اس کے بعد منقولہ ذیل تفصیل بھی ارسال کر چکا ہوں :::
وعلیکم السلام پیارے بھائی جان پہلی بات تو یہ ہے کہ مذکورہ مراسلہ فقط عبداللہ آدم بھائی کے جواب میں تھا اور مقصود بات کی وضاحت تھی تاکہ اصل نفس مسئلہ کا تحقق قائم رہ سکے دوسری بات یہ ہے کہ عدیم الفرصتی کے مرض میں آپ تنہا نہیں ہیں ہمیں بھی یہی روگ ہے اور تیسری اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میرے کرمفرماؤں کی تعداد آپ سے کہیں بڑھ کر ہے اسی لیے ان سب کو نظر انداز کرکے براہ راست آپ کے مراسلات کا جواب نہیں دیا جاسکتا آپکے مراسلے کا بھی جواب باقی ہے اور عبداللہ بھائی کہ ایک مراسلے کا بھی انشاء کل ضرور کوشش کروں گا اگر میرے کرمفرماؤں کا مزید کرم نہ ہوا توووووووو والسلام
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (25-03-10), عادل سہیل (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 10:41 AM   #162
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


: ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور کہا کہ

جو کوئی دعویٰ کرے کہ ہمارے پاس ( یعنی اہل بیت کے پاس ) کتاب اللہ اور اس صحیفہ ، راوی نے کہا کہ صحیفہ ان کی تلوار کے میان میں لٹکا ہوا تھا ، کے سوا کوئی اور چیز ہے تو اس نے جھوٹ کہا اور اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں ( زکوٰۃ کے متعلقات ) اور کچھ زخموں کا بیان ہے ( یعنی قصاص اور دیتوں کا بیان ) اور اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کا جبل عیر سے جبل ثور تک کا علاقہ حرم ہے ۔ پس جو شخص مدینہ میں کوئی نئی بات یعنی بدعت نکالے یا نئی بات نکالنے والے کو یعنی بدعتی کو جگہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی بھی ۔ اللہ تعالیٰ اس کا نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ سنت ۔ اور امان دینا ہر مسلمان کا برابر ہے کہ ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے ۔ اور جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی غیر کا فرزند ٹھہرایا ، یا اپنے آقاؤں کے سوا کسی دوسرے کا غلام اپنے آپ کو قرار دیا تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ کوئی سنت ۔ ( یہاں ” حدث “ سے مراد کوئی بھی جرم ہے اور اس میں یہ ( بات یعنی بدعت ) بھی شامل ہے )



صحیح مسلم
حج کے مسائل
باب : حرم مدینہ اور اس کے شکار اور درخت کی حرمت اور اس کے لئے دعا کا بیان ۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-03-10), عادل سہیل (24-03-10), عبداللہ آدم (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 10:46 AM   #163
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا تو لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی ۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی ، یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا ۔ پھر ایک انصاری شخص روپوں کی ایک تھیلی لے کر آیا ، پھر دوسرا آیا ، یہاں تک کہ ( صدقہ اور خیرات کا ) تار بندھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے ( یعنی عمدہ کام کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہو اور اس کا نمونہ قرآن و سنت میں موجود ہو ) پھر لوگ اس کے بعد اس کام پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی اور جو اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا ۔


صحیح مسلم
علم کے بیان میں
باب : جو شخص اسلام میں اچھا یا برا طریقہ جاری کرے ۔
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-03-10), عادل سہیل (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 10:53 AM   #164
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ابوالطفیل عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو چھپا کر کیا بتلاتے تھے ؟

یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں بتلائی جو اور لوگوں سے چھپائی ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چار باتیں فرمائیں ۔

وہ شخص بولا کہ اے امیرالمؤمنین ! وہ کیا ہیں ؟

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

1 ۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ پر لعنت کرے ۔

2 ۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو اللہ کے سوا اور کسی کے لئے ذبح کرے ۔

3 ۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو جگہ دے ۔

4 ۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو زمین کے نشان کو بدل دے




صحیح مسلم
قربانی کے مسائل
باب : اس کے متعلق جو غیراللہ کے نام پر ذبح کرے ۔
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-03-10), عادل سہیل (24-03-10), عبداللہ آدم (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 03:55 PM   #165
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,626
شکریہ: 22,614
4,758 مراسلہ میں 13,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

عابد بھائی اس تھریڈ کا لنک بھی دے دیں جھاں اپ نے عبد اللہ بن مسعود والے اثر کا رد کیا ہے۔ہم بھی تو دیکھیں کہ فہم صحابہ کا رد کس انداز میں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ ہی تو آپ نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق پائی جانے والی کچھ بدعات گنوائی ہیں اور نہ ہی کچھ نئی برائیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو زمانہ نبوی میں نہ پائی جاتی تھیں اور آج ہیں۔۔۔۔۔۔۔

در اصل آپکا مزعومہ قانون اباحت اسلام میں کسی بھی نئی چیز کو بدعت کہنے کی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں ہے،جو بھی اچھا سمجھو کرو،بس ہر اچھی چیز دیں ہے،چاہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو نہ بتائی ہو،اس طرح تو آپ (نعوذ باللہ)بنی صلی اللہ علیہ و سلم پر بالواسطہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انہیں کچھ حسنات کا پتہ تو تھا لیکن انہوں نے امت کو نہیں بتلایا جو کہ قرآن کے صریحا خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ))المائدہ)

احادیث کا آپ رد کرتے ہیں،صحابہ کا فہم آپکو سمجھ نہیں آتا،پھر آپ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟

بھرحال خوش رہیں

والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 24-03-10 at 11:24 PM.
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-03-10), فیصل ناصر (23-03-10), نورالدین (24-03-10), آبی ٹوکول (23-03-10), عادل سہیل (24-03-10), عبداللہ حیدر (23-03-10)
جواب

Tags
ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: عادل سہیل کفروشرک 8 02-02-12 07:18 PM
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: عادل سہیل کفروشرک 6 05-03-10 08:21 PM
پانچ چیزیں اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 08:00 PM
پانچ چیزیں میاں شاہد اسلام اور معاشرہ 0 01-06-09 11:32 AM
پانچ چیزیں ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 07-10-07 10:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger