| کشمیری فورمز کشمیری فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر:حافظ محمد سعید
مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کے بعد پیدا ہونے والے مسائل میں سے ایک ہے۔ اگرچہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کے بعد 1948ءمیں پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے 85 ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کروالیا تھا۔ مجاہدین سری نگر تک پہنچنے والے تھے کہ بھارت اپنی شکست چھپانے کے لیے خود ہی اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا۔ یوں کشمیر میں جنگ بند کردی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو نہ روکا جاتا تو پورا کشمیر اسی وقت آزاد ہوچکا ہوتا.... لیکن اس وقت کے سادہ دل پاکستانی حکمران دھوکا کھاگئے اور میدان میں جیتی ہوئی بازی کو مذاکرات کی میز پر ہار دیا گیا۔ اس کے بعد بھارت نے ہمیشہ اس مسئلے پر روایتی ٹال مٹول سے کام لیا۔ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا کبھی پاس رکھا۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم بھی بڑھتے گئے۔ کشمیر میں استصواب رائے کی یقین دہانیاں کروانے والا بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سرے سے ہی اپنے اس وعدے سے مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا۔ بھارت کا یہی ہٹ دھرمی والا رویہ اور نہتے کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا نتیجہ تھا کہ 1989ءمیں کشمیری مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ بھارت کو اس کی فطرت کے مطابق جواب دیے بغیر ان کے لیے آزادی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ مظلوم کشمیریوں نے گن اٹھائی اور اپنی لٹی ہوئی عزتوں و عصمتوں، شہدا کے خون کے انتقام اور گھر بار و املاک کی تباہی کا بدلہ لینا شروع کیا۔ اس سے چند برسوں میں خطے کا منظر تبدیل ہونے لگا۔ کشمیریوں کی قربانیوں نے بھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری کردیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے کے تمام تر بھارتی منصوبے ناکام ہوچکے تھے۔ پے درپے جہادی زخموں سے اٹھنے والی تکلیف کی شدت نے بھارت کا چہرہ مسخ کرڈالا تھا۔ آزادی کشمیر کی منزل قریب دکھائی دے رہی تھی کہ امریکا میں نائن الیون کا واقعہ ہوا اور سابق صدر پرویز مشرف ایک ٹیلیفون کال پر ڈھیر ہوگئے جس سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی نے ایک نیا موڑ لیا اور امریکی و بھارتی دباﺅ پر تحریک آزادی کشمیر کمزور ہوتی چلی گئی۔ امریکا بھارت کا اتحادی ہے۔ خطہ میں دونوں ملکوں کے مفادات مشترکہ ہیں اس لیے اس کا جھکاﺅ شروع دن سے بھارت کی طرف رہا ہے جبکہ نائن الیون کے بعد بھارت امریکا تعلقات ایک نئی جہت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ امریکا پاکستان اور چین کو کنٹرول کرنے کے لیے اس خطہ میں ایک بڑی قوت بناکر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ہمیشہ پاکستان پر انڈیا سے دوستی و تعاون کے لیے دباﺅ بڑھایا اور بھارت کو اس بات کی کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے پاکستان کو نقصان پہچانے اور عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوششیں کرتا رہے تاکہ جنوبی ایشیا میں انہیں اپنے مفادات کی تکمیل میں کوئی مشکل در پیش نہ ہو اور پاکستان کی طرف سے انہیں کسی قسم کی مضبوط مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ امریکا نے 11 ستمبر 2001ءمیں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ٹھہراکر جب افغانستان پر چڑھائی کا فیصلہ کیا تو پرویز مشرف حکومت نے یہ کہہ کر اپنی زمین، فضا اور سمندر امریکا کے حوالے کردےے کہ ہم کشمیر اور پاکستان بچانا چاہتے ہیں۔ ہم نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ پاکستان اور اس کے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو بھی دہشت گردی قرار دے دیا جائے گا۔ ہم کشمیری جدوجہد ،اپنے ایٹمی پروگرام، اسٹرٹیجک اثاثوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکا کا ساتھ دینے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ انڈیا کواس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے سے روکا جائے جو عالمی دباﺅ پاکستان پر ہوسکتا ہے۔ اس کا رخ انڈیا کی جانب کرکے ہم اپنے گرد مضبوط حصار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف تو یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ جن کا آج ہم ساتھ دیں گے کل وہ ہمارے ساتھ ہوکر انڈیا کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں گے۔ مذکورہ حکمت عملی اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پالیسی کی زد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر پڑے گی۔ آپ اپنے ہاتھ کاٹ کر دشمن کے حوالے کررہے ہیں مگر افسوس اس وقت حکمرانوں نے کسی کی بات سننا گوارا نہ کی جس کی وجہ سے تمام حکومتی تدبیریں ناکام ہوگئیں۔ انڈیا نے اس صورتِ حال سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کشمیری مجاہدین اس کے لیے سر درد بنے ہوئے تھے۔ وہ مجاہدین سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔ اسے شاندار موقع مل گیا۔ اس نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دے کر پاکستان سے در اندازی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیااور بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کی آڑ میں لاکھوں کی تعداد میں فوج کو پاکستان کے بارڈر پر لاکھڑا کیا جس کے نتیجے میں پاکستانی حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر پر وہ پرانا 62 سالہ اصولی اور قومی موقف.... جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیری قوم کی خواہشات کے عین مطابق تھا.... اس پر یو ٹرن لیا اور پھر امریکا کی غلامی اور بھارتی دباﺅ کا شکار ہوتے چلے گئے۔ آگرہ کے ہیرو پرویز مشرف.... جو جہاد اور دہشت گردی میں فرق کرتے نہیں تھکتے تھے.... نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دینا شروع کردیا۔ نہتے کشمیریوں کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا۔ کشمیری جہادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، شبیر شاہ ، یٰسین ملک، مسرت عالم، سعد اللہ تانترے جیسے کشمیری لیڈروں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ شیخ عبدالعزیز جیسے راہنماﺅں کو شہید کیا گیا تو پاکستان میں بھی کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جاتا رہا غرضیکہ پاکستان اور کشمیر بچانے کے دعوے کرنے والوں نے ہی سب سے زیادہ پاکستان اور کشمیر کو نقصان پہنچایا۔ کشمیر پالیسی میں تبدیلی کو حکمت عملی کا نام دے کر پرویز مشرف نے ایسے ایسے اقدامات کیے جن کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ نائن الیون کے بعد حکومت پاکستان کی امریکی دباﺅ کے تحت بننے والی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو جس قدر نقصان پہنچا، ماضی میں کسی دورِ حکومت میں نہیں ہوا۔ جب حکومتیں دباﺅ قبول کرنے کی عادی ہوجائیں تو پھر دشمن کے مطالبات بھی دن بدن بڑھتے جاتے ہیں۔ پرویز مشرف نے بھارت وامریکا کو خوش کرنے کے لیے کنٹرول لائن پر یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو کنٹرول لائن پر باڑ لگانے کا موقع ملا۔ اس سے نہ صرف کشمیریوں کی تحریک کو شدید نقصان پہنچا بلکہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان ایک غیرفطری آہنی دیوار حائل کردی گئی۔ اسی طرح ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے دورہ¿ پاکستان کے دوران پرویز مشرف نے تاریخ کے سب سے متنازع معاہدے ”اعلان اسلام آباد“ پر دستخط کیے جس میں یہ کہا گیا کہ ہم اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو خود ہی دہشت گردی تسلیم کرلیا گیا۔ اس پورے عرصے میں حکومت پاکستان سے باہمی اعتماد سازی کے نام پر انڈیا مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہا۔ پاکستانی حکومت بھارتی ثقافتی وفود کی پاکستان آمد اور انڈیا کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دینے کے اقدامات کرتی رہی تو دوسری طرف انڈیا مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاﺅں پر ڈیم بنانے اور سرنگیں کھودکر پانی کا رخ موڑنے میں مصروف ہوگیا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکمران طبقہ بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر عالمی سطح پر احتجاج کرنے یا عملاً بھارت کا ہاتھ روکنے کی بجائے آخر وقت تک یہی کوشش کرتا رہاکہ ان کے دورحکومت میں ”بگلیہار“ اور ”کشن گنگا“ ڈیم جیسے منصوبے صحیح طرح سے منظرعام پر نہ آئیں تاکہ ان کو اس حوالہ سے زیادہ تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آج ہر محب وطن پاکستانی اس بات سے سخت پریشان ہے کہ بھارت 212 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستانی دریاﺅں پر 62ڈیم تعمیر کررہا ہے تاکہ ایک طرف پاکستان کی زرعی زمینوں کو بنجر بنادے اور دوسری جانب جب چاہے ڈیموں میں ذخیرہ پانی چھوڑکر پاکستان میں سیلاب کی صورتِ حال پیدا کردے۔ وہ پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کرکے اور دریاﺅں کا رخ موڑکر دنیا کی سب سے بڑی آبی دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے۔ پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زمینیں ہر سال بنجر ہورہی ہیں۔ ہرے بھرے لہلہاتے ہوئے کھیت ویرانیوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ملکی زراعت تباہ اور مہنگائی آسمان کی حدوں کو چھورہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح افغانستان میں بھی امریکا کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈیا نے دریائے کابل پر بند باندھنے کاٹھیکہ لے رکھا ہے تاکہ ہر طرف سے پاکستان کا پانی روک کر اس کی معاشی ناکہ بندی کی جاسکے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں بھی پاکستانی حکمران وہ جرا¿ت مندانہ کردار ادا نہیں کررہے جو انہیں اداکرنا چاہیے۔ انڈیا پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کرکے بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ارباب حل و عقدپاکستان کے لیے زندگی اور موت کی حیثیت رکھنے والے اس انتہائی اہم مسئلہ پر بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے خاموشی اختیار کرکے ملکی سلامتی و خودمختاری کو داﺅ پر لگارہے ہیں۔ یہ بھی نائن الیون کے بعد اختیار کی گئی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت نے خطے میں امریکا کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں تعمیر وترقی کے نام پر اپنے قدم جمائے اور وہاں قائم اپنے قونصل خانوں کے ذریعہ ایجنٹوں کو تربیت دے کر پاکستان بھجوانا شروع کردیا جس پر وطن عزیز پاکستان میں بم دھماکوں، تخریب کاری ودہشت گردی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ بھارت نے ممبئی دھماکوںکے بعد بھی کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی اور بغیر کسی ثبوت کے محض جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعہ پاکستان کی تنظیموںکو بھی اس میں ملوث قرار دینا شروع کردیا۔ بھارت اپنے اس الزام کو آج تک نہ کسی عدالت میں ثابت کرسکا ہے اور نہ آیندہ کسی فورم یا عدالت میں ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھارت کی سازشوں اور مقبوضہ کشمیر و پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کو کھل کردنیاکے سامنے بے نقاب کرے اپنے سفارت خانوں کو متحرک کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں زمین کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں بھارت نے 8لاکھ فوج داخل کررکھی ہے لیکن کشمیری مسلمان ایک لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود حوصلہ نہیں ہارے بلکہ بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ اگرچہ پاکستانی حکمرانوں کے پسپائی والے رویے سے کشمیری مسلمانوں کے حوصلے پست ہوئے۔ تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچا۔ کشمیریوں کی نمایندہ تنظیم حریت کانفرنس تقسیم ہوئی۔ اتحاد ویکجہتی کے ماحول میں دراڑیں پیدا ہوئیں، مگر اس سب کے باوجود کشمیری تھکے نہیں ہیں۔ وہ پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ کشمیر کی گلیوں میں اب بھی پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں۔ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیری مسلمانوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کشمیری مسلمان 63برس سے عزم استقلال کا پہاڑ بن کر بھارت کے ظلم وتشدد کو برداشت کررہے ہیں مگر ان کی بھارت سے نفرت اور پاکستان سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پانچ فروری کو پوری دنیا کے مسلمان کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری سطح پر بھی کشمیریوںکے لیے پروگرام منعقد کےے جارہے ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اگر آپ ان کی کشمیریوں کی اخلاقی مدد کرنا فرض سمجھتے ہیں تو پھر یہ کوئی اخلاق نہیں ہے کہ آپ کشمیری مسلمانوں کو ہندوﺅں کے ہاتھوں پستا ہوا چھوڑ دیں۔ ایک مظلوم کی اخلاقی مدد ظالم کے سامنے چند الفاظ کہہ دینا نہیں ہوتا بلکہ مظلوم کو ظالم کے پنجہ سے نجات دلانا ہی اس کی اخلاقی مدد ہوتا ہے۔ یہاں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پرویز مشرف پر تنقید تو ہر کوئی کرتا ہے مگر اس شخص کی پالیسیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر، اسلام و پاکستان کو جس قدر نقصانات ہوئے ہیں انہیں تبدیل کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ محض کشمیریوں کے حق میں دوچار بیانات دے دینا کافی نہیں ہے۔ کشمیریوں کی محرومیاں دور کرنے اور انہیں ہندو کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ امریکا کی اس خطہ میں آمد کے بعد بھارت نے بہت فائدے اٹھالیے۔ امریکا اور نیٹو افواج کی واپسی کی خبروں پر انڈیا کی عسکری و سیاسی قیادت بہت زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون نے آزادی کی منزل کو بہت زیادہ قریب کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کشمیری مجاہدین کی کارروائیاں شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ اب وہ وقت ہے کہ پاکستانی حکمران کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تجدید عہد کریں۔ اپنی کشمیر پالیسی کو قومی مفادات کے تابع کیا جائے اور ایک مضبوط و مستحکم کشمیر پالیسی ترتیب دی جائے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کشمیری مسلمان محض ایک زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ پاکستان کے تمام آبی ماہرین واضح طور پر کہہ چکے ہیں اگر کشمیر آزاد نہ کروایا جاسکا تو 2013ءتک پاکستان کی طرف پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں آئے گا اور ملک ایتھوپیا و صومالیہ بن کر رہ جائے گا۔ اس لیے بھارت سے یک طرفہ دوستی اور مذاکرات کی باتیں کرنا چھوڑ یں۔ قوم کو متحد و بیدار کرنے فریضہ سرانجام دیں۔ خطے میں امن بھی بھارت کی طرف یک طرفہ دوستی کی پینگیں بڑھانے سے نہیں، کشمیریوں کو مکمل آزادی سے ہوگا۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے وہ حکومت پر دباﺅ پر بڑھائیں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور قومی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دے اور شہ رگ کشمیر کو ظالم ہندو کے پنجے سے چھڑانے کی کوشش کرے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے ۔ بشکریہ: یکجہتی کشمیر کے عملی تقاضے (حافظ محمد سعید) - KARACHI UPDATES, Karachi News, Urdu News, Column, Features, Islam, Khawateen, Rehnumai Karachi, Tanz O Mazah
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (06-02-10) |
![]() |
| Tags |
| column, php, فورم, فرض, پاکستانی, پسندیدہ, وزیراعظم, نفرت, چین, مہنگائی, مکمل, موت, ممکن, محبت, مسائل, آج, اقوام متحدہ, اللہ, الزام, احتجاج, اسلام, جواب, خون, سیاست, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی | گلاب خان | خبریں | 0 | 21-02-11 07:52 AM |
| Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ | Real_Light | شعبہ طب | 3 | 03-05-09 01:52 PM |
| سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے | عبدالقدوس | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 07-01-08 09:30 AM |
| واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:46 AM |
| جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 21-11-07 09:29 AM |