کولکتہ ٹیسٹ:مصباح الحق کاریسکیو آپریشن جاری،فالو آن ٹالنے کیلئے پاکستان کو59رنزدرکار
کولکتہ ٹیسٹ:مصباح الحق کاریسکیو آپریشن جاری،فالو آن ٹالنے کیلئے پاکستان کو59رنزدرکار
کولکتہ، بھارت (عبدالماجد بھٹی،نمائندہ خصوصی) مصباح الحق اور کامران اکمل نے وہ کردکھایا جس کی کسی کو توقع نہ تھی ۔عجیب و غریب اتفاقات کے کھیل کرکٹ میں پاکستان کے سپراسٹارز ایک بار پھر ناکام رہے اور نسبتاً ناتجربہ کار مصباح الحق اور وکٹ کیپر بیٹسمین کامران پاکستان کو فالو آن سے بچانے کے لیے ڈٹ گئے ، مصباح الحق کا ریسکیو آپریشن تو جاری ہے، لیکن دن کے اختتامی اوورز میں کامران اکمل ہمت ہار گئے ۔تاہم دونوں نے یادگار بیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف تماشائیوں کو بھر پور تفریح فراہم کی بلکہ ان کی شاندار اور پراعتماد سنچریوں نے سیریز میں دلچسپی پیدا کردی ہے ۔ میچ ڈرا ہونے کی صورت میں بنگلور ٹیسٹ فیصلہ کن معرکہ ہوسکتا ہے ۔ دونوں بیٹسمین فائٹر کے انداز میں بھارتی بولرز پر حملہ آور ہوئے ۔ایڈن گارڈنز میں 150رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد بھارت کی جیت کے جشن کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں لیکن مصباح اور کامران اس کی راہ میں مزاحم ہوگئے ۔کولکتہ ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل مصباح اور کامران اکمل کے نام رہا ۔اتوار کو کھیل ختم ہونے پر پاکستان نے6 وکٹ کے نقصان پر358 رنز بنائے تھے، مصباح الحق108رنز پر ناقابل شکست تھے ،فالو آن سے بچنے کے لیے پاکستان کو مزید59 رنزکی ضرورت ہے ۔ سمیع صفر پر کھیل رہے تھے ۔150رنز پر آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد33 سالہ مصباح نے اننگز کی کمان سنبھالی اور پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کرڈالی ۔کامران اکمل نے37 ویں ٹیسٹ کیریئر میں پانچویں سنچری ، بھارت کے خلاف اپنے دسویں ٹیسٹ میں چوتھی اور بھارتی سر زمین پر دوسری سنچری اسکور کی ۔ مصباح اور کامران سنچریاں بنانے کے بعد سجدہ ریز ہوگئے ۔موہالی اور کراچی میں سخت نا مساعد حالات میں وکٹ پر کھڑے ہوجانے والے کامران اکمل نے ایک بار پھر اپنی بیٹنگ صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہ انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان بیٹنگ کے نئے مرد بحران بن گئے ہیں۔ چٹان کی مانند ڈٹ جانے والے مصباح اورکامران کے قدم اکھاڑنے کے لیے کمبلے نے زیادہ اسپن بولنگ کے ہتھیار پر بھروسہ کیا ،بعدازاں دوسری نئی گیند ملی تو فاسٹ بولرز کے ذریعے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔کامران اکمل نے سنچری197منٹ میں173گیندوں پر 16چوکوں کی مدد سے بنائی ۔ کامران اکمل کا بیٹنگ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ جب بھی پاکستانی ٹیم بحران میں آئی وہ مرد میدان بن گئے ۔ کامران نے بحران میں تیسری سنچری بنائی ہے۔ اس سے قبل 2005 میں موہالی میں انہوں نے سنچری کے دوران عبدالرزاق کے ساتھ ساتویں وکٹ پر184رنز بنائے تھے ۔مصباح الحق اور کامران اکمل نے چھٹی وکٹ پر207 رنز378 گیندوں اور259 منٹ میں بنائے ۔اس طرح انہوں نے بھارت کے خلاف چھٹی وکٹ سابقہ کا ریکارڈ برابر کردیا جو1983میں فیصل آباد میں عمران خان اور سلیم ملک نے قائم کیا تھا۔مصباح نے نویں ٹیسٹ میں ہر بھجن سنگھ کو چوکا مارکر ایک سو رنز کا سنگ میل عبور کیا۔ 25 سالہ کامران اکمل نے ایک سنچری انگلینڈ کے خلاف بنانے کے علاوہ چار سنچریاں بھارت کے خلاف بنائی ہیں ۔ان کی آخری سنچری کراچی ٹیسٹ میں 2006 میں تھی جب عرفان پٹھان کی ہیٹ ٹرک کے بعد انہوں نے فائٹنگ سنچری اسکور کی تھی ۔کامران اکمل کھیل ختم ہونے سے قبل ہر بھجن سنگھ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔جس وقت وہ آؤٹ ہوئے پاکستان فالو آن سے60 رنز دور تھا ۔مصباح نے اپنے پچاس رنز106منٹ میں64 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے بنائے ۔کامران اکمل جن پر کارکردگی کے لیے دباؤ تھا انہوں نے نصف سنچری مناف کو چوکا مارکر مکمل کی ۔مصباح کو 18رنز پر چانس ملا جب انیل کمبلے کی گیند پر ٹنڈولکر ان کیچ لینے میں ناکام رہے ۔66 رنز پر مناف کی ایک گیند مہندر سنگھ دھونی کے آگے گر گئی ۔کامران اکمل کو87 رنز پر چانس ملا ۔دوسری نئی گیند پر مناف پٹیل ،ظہیر خان کی گیند پر فائن لیگ باؤنڈری پر کیچ لینے میں ناکام رہے ۔ پاکستان نے50 رنز ایک وکٹ سے اپنی پہلی نا مکمل اننگز شروع کی۔سلمان بٹ اور یونس خان کریز پر موجود تھے ۔بھارت کو پہلی کا میابی کے لیے41 منٹ انتظار کرنا پڑا ۔سلمان بٹ نے پرانی غلطی دھرائی اور ہر بھجن سنگھ کی باہر جاتی ہوئی گیند کو کھلینے کی کوشش کی اور سلپ میں ڈریوڈ کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے چھ چوکوں کی مدد سے 86 گیندوں پر 42 رنز بنائے ۔انہوں نے چھ چوکے مارے ۔ہر بھجن سنگھ نے پاکستان کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچایا جب ٹیم کے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین محمد یوسف ایک بہت اچھی گیند پر بولڈ ہوگئے ۔ 85رنز پر تین وکٹ گرنے پر یونس خان اور مصباح نے ٹیم کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی ۔یونس خطرات مول لے رہے تھے لیکن ان کے اسٹروک قابل دید تھے ۔وہ مناف پٹیل کی ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔یونس خان دو گھنٹے کریز پر رہے انہوں نے82 گیندوں پر43 رنز اسکور کیے ۔انہوں نے مصباح کے ساتھ 49 رنز کی شراکت قائم کی ۔تین اوورز کے بعد فیصل اقبال انیل کمبلے کی گیند کو وکٹ کے سامنے کھیلے ۔امپائر روڈی کوئٹزن نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا ۔شعیب ملک کی جگہ پاکستانی ٹیم میں آنے والے فیصل اقبال کوئی رن نہ بنا سکے ۔پاکستان کی پانچویں وکٹ150رنز پر گری ۔کھانے کے وقفے پر پاکستان کا اسکور154رنز تھا ۔پہلے سیشن میں پاکستان کے چار وکٹ104رنز پر گرے ۔جبکہ چار وکٹ73 رنز کے درمیان گرے ۔چائے کے وقفے پر پاکستان نے پانچ وکٹ پر 256 رنز بنائے تھے جبکہ287 رنز پر بھارت نے دوسری نئی گیند لی ۔بھارت کی طرف سے آف اسپنر ہر بھجن سنگھ نے86 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا انیل کمبلے نے2 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|