ٹوئنٹی 20 اسکواڈ سے باہر ہونا دھچکا ہوگا۔محمد یوسف
ٹوئنٹی 20 اسکواڈ سے باہر ہونا دھچکا ہوگا۔محمد یوسف
سپراسٹار بیٹسمین محمد یوسف نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹورنٹو کے چار قومی ٹورنامنٹ کی ٹیم سے مجھے ڈراپ کیا گیا تو یہ خبر میرے لئے دھچکے سے کم نہیں ہوگی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کارکردگی پر نہیں، ذاتیات پر ٹیم بن رہی ہے۔ مجھے صرف یہ بتایا جائے کہ ٹوئنٹی20 کرکٹ کے لئے پاکستان ٹیم کے انتخاب کا کیا طریقہ کار ہے۔ اگر میری فیلڈنگ اچھی نہیں ہے تو پاکستانی ٹیم میں کتنے جونٹی رہوڈز ہیں۔ 34 سالہ بیٹسمین جمعرات کو لاہور سے نمائندہ جنگ کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ محمد یوسف اس وقت پاکستان کے نمبر ایک بیٹسمین ہیں۔ گزشتہ سیزن کے دوران انہوں نے68 کی بیٹنگ اوسط سے1160 رنز بنائے اور انہیں آئی سی سی ون ڈے پلیئر آف دی ایئر کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق قومی سلیکشن کمیٹی اس بار پھر محمد یوسف کو ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ کی ٹیم سے ڈراپ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ محمد یوسف نے79 ٹیسٹ میں55.49 کی اوسط سے6770 رنز 23 سنچریوں کی مدد سے بنائے ہیں۔ 269 ون ڈے میچوں میں انہوں نے9242 رنز 43.18 کی اوسط سے اسکور کئے ہیں جس میں15 سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے ایک ٹوئنٹی20 میچ میں105.26 کے اسٹرائیک ریٹ سے20 رنز بنائے ہیں جب کہ ون ڈے میں ان کا اسٹرائیک ریٹ75.34 ہے۔ محمد یوسف نے کہاکہ موجودہ حالات میں اگر پاکستان ٹیم میں کوئی مجھ سے بہتر بیٹسمین ہے تو میں کرکٹ چھوڑ دوں گا۔ پاکستان کی جانب سے اتنی زیادہ کرکٹ کھیلنے کے بعد اگر میری ٹوئنٹی20 کرکٹ کی کارکردگی کی بات کی جاتی ہے تو پھر ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے سے قبل میرا ٹرائل لیا جائے میری ٹیسٹ اور ون ڈے کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ ون ڈے کرکٹ کی کارکردگی پر اس سال مجھے آئی سی سی ایوارڈز کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستان کے لئے11 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد مجھے قومی ٹوئنٹی20 کھیل کر اپنی کارکردگی ثابت کرنا پڑ رہی ہے۔ میں واضح کردوں کہ میں کسی سے منوانے کے لئے قومی ٹورنامنٹ نہیں کھیل رہا ہوں۔ ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ میرے لئے ٹیسٹ کیس نہیں ہے۔ محمد یوسف نے کہاکہ انڈین پریمیئر لیگ سے پتہ چل گیا ہے کہ 20 اوورز کی کرکٹ مار دھاڑ والی کرکٹ نہیں ہے۔ بھارت کی ون ڈے ٹیم نے ہی ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ جیتا ہے جب کہ پاکستان میں20 اوورز کی ٹیم تبدیل کردی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انضمام الحق، وسیم اکرم اور وقار یونس پاکستان کے عظیم کرکٹرز ہیں، اگر تینوں کہہ دیں کہ میں20 اوورز کی کرکٹ کے قابل نہیں ہوں تو میں انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ دوں گا۔ 20 اوورز کی کرکٹ میں طویل اننگز کھیلنے کے لئے اونچے نہیں، اچھے اسٹروکس کھیلنا ہوتے ہیں۔ محمد یوسف نے کہاکہ مجھ پر الزام ہے کہ میری فیلڈنگ اچھی نہیں ہے۔ یہ الزام لگانے والے بتائیں کہ پاکستان کے پاس کون سا ایسا فیلڈر ہے جو جونٹی رہوڈز ہے۔ 20 اوورز میں فیلڈنگ کی کہاں ضرورت ہوتی ہے۔ سارے فیلڈر سرکل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ15 کھلاڑی تو دور کی بات میرا نام 11 کی فہرست میں خود بخود آتا ہے۔ مجھے ڈراپ کرنے سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان ٹیم کو ہوگا۔ ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف اور متعدد ون ڈے میچوں میں جب بھی مجھے کہا گیا میں نے تیز بیٹنگ کی۔ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ون ڈے بارش سے متاثر ہوا۔ میں نے تیزرفتاری سے رنز بنائے۔ پھر مجھے اپنے ڈراپ کرنے کی وجہ ذاتی عناد، پسند ناپسند کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتی۔
|